گجرا ت ما ڈل (قتل خاص سے قتل عام تک)

بھارت میں پارلیمانی انتخابات ۲۰۱۴ء ؁آئندہ ماہ مئی میں مکمل ہو جائیں گے، اور نئی مرکزی حکومت کی تشکیل کا راستہ پوری طرح ہموار ہوجائے گا۔ پہلے بھی انتخابی ماحول میں بحث و تکرار اور الزامات و اعتراضات اور ان کے جوابوں کا بازار گرم ہوتا رہا ہے۔ مگر اب جیسے جیسے اخلاقی معیار گرتا جا رہا ہے اسی نسبت سے ماحول میں مزید پستی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ بعض سیاسی دعویدار تو اس میدان میں بری طرح بے لباس نظر آ رہے ہیں۔ ایک کاروباری ’بابا ‘ نے تو ہنی مون منانے کا الزام لگا کر مخالف پارٹی کے لیڈر کی توہین ہی نہیں کی بلکہ اس خاص پسماندہ طبقہ کی کردار کشی کرنے میں کوئی تکلف نہیں کیا۔ ایک اور پڑھے لکھے فسطائی لیڈر نے مسلمانوں کو طنزاً نصیحت فرمائی کہ وہ اللہ سے ڈریں، مودی (بھاجپا) سے نہ ڈریں۔ بات تو بڑے کام کی کہی مگر نیت کی خرابی سے بات بگڑ گئی۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ان پنڈت جی کو بھی اللہ سے ڈرنا نصیب ہو۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالیہ انتخابات میں کچھ ایسی باتیں بھی منظر عام پر آگئی ہیں جنہوں نے موجودہ الیکشن کو ماضی سے مختلف بنا دیا ہے۔ ان سب پر کھل کر غور و فکر اور اظہارِ خیال کی ضرورت ہے۔ اس وقت قوم پرستی کی دعویدار فسطائی جماعت نے ایک ایسے شخص کو وزیر اعظم کی حیثیت سے پیش کیا ہے جس کا دامن ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے داغدار ہے۔ عام طور پر کسی بدنام اور متنازعہ شخصیت کا نام کسی بڑے عہدے کے لئے پیش نہیں کیا جاتا۔یوں بھی اس کا کوئی موقع نہیں ہے۔ کیونکہ الیکشن وزارت عظمیٰ (پی۔ایم۔) کا نہیں پارلیمینٹ کی رکنیت (ایم۔پی۔) کا ہو رہا ہے۔ ایسے میں ہر پارٹی اپنی گزشتہ کارکردگی اور آئندہ کے لئے بہتر منصوبہ سازی پر توجہ دلایا کرتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ پارٹی کے پاس نہ تو مستقبل کا کوئی پروگرام ہے اور نہ اس کا ماضی ایسا ہے جو بیان کرنے کے قابل ہو۔ یا پھر اس کے مستقبل کے لئے کچھ مخفی ارادے ہیں جنہیں چھپا کر رکھنا فی الحال ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خریدے ہوئے ذرائع ابلاغ (میڈیا) کے کاندھے پر بیٹھ کر جس آدمی کو ملک کا نجات دہندہ بناکر پیش کیا جا رہا ہے اس سے زیادہ پارٹی کی خدمت کا ریکارڈ رکھنے والے لیڈروں کو نظر انداز کرکے ایک ایسے شخص کو وزارت عظمیٰ کا حقدار ثابت کرنا جس کا ملکی و قومی سطح پر کوئی مقام نہیں ہے، بے وجہ تو نہیں ہو سکتا۔ آخر بادشاہ گروں نے کچھ تو سوچا ہوگا۔ بابری مسجد انہدام کے بڑے مجرموں کو بھی یہ فیصلہ اچھا نہیں لگا۔ وہ اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں مگر سرِ تسلیم خم کرنے میں خیریت سمجھی گئی کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ آج انہیں پیچھے رکھ کر کام نکالا جا سکتا ہے تو کل دوسرے کسی حقدار کو آقاؤں کی حکم برداری کے نام بلی دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ یوں بھی یہ سب گھر کی باتیں ہیں، گھر میں طے ہو جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قوم پرستی کے جارحانہ تصور کے جھنڈے تلے گجرات ماڈل کو پورے ہندوستان کا ماڈل بنانے کا بھی بڑا زبردست چرچا ہو رہا ہے۔ مکرو فریب اور جھوٹا پروپیگنڈہ آج سیاست کی پہچان بنا دیا گیا ہے۔ اب نظریوں کی جگہ نعروں سے کام نکالا جاتا ہے۔ پہلے اسی پارٹی نے کئی برس تک رتھ یاترائیں نکال کر ہندوستان کو مہا بھارت کے دور میں پہنچادیا تھا اور ’مندر وہیں بنے گا‘ ’بچہ بچہ رام کا ‘ جیسے نعروں سے نفرت کے شعلے بھڑکا دئیے تھے مگر یہ سمجھانے میں ناکام تھی کہ مسجد شہید کرکے مندر بنانے کا کیا جواز ہے۔ یہی معاملہ گجرات ماڈل کا بھی ہے جسے پورے ہندوستان پر مسلط کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ آخر گجرات ماڈل کیا ہے ؟ کیا صرف سڑکوں اور پلوں کی تعمیر جو ریاستی سرکار نے نہیں کی اور صنعتوں کی ترقی گجرات ماڈل ہے۔ جو بڑی بڑی بین الملکی ( Multinational)کمپنیوں کی دین ہے۔اور اس پالیسی کا سہرا اس کے سر پر ہے جسے سب سے کمزور وزیر اعظم سمجھا جاتا ہے۔ پھر یہ ترقی گجرات میں ہی نہیں دوسری ریاستوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ گجرات ماڈل کی تفصیل اور تعریف بتائے بغیر اس کو کس طرح قابل قبول قرار دیا جاسکتا ہے؟ اتنا ہی نہیں ہندوستان کے عوام گجرات ماڈل سے متعلق بہت سے سوالوں کا جواب چاہتے ہیں۔ خاص طور پر ملک کی دوسری اکثریت یعنی مسلمانوں کے دلوں میں گجرات ماڈل کے بارے میں متعدد تلخ یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ کیا ہزاروں بے گناہوں کا قتل، عورتوں کی آبرو ریزی، ان کے برہنہ جلوس اور گمشدگی اور زبردستی انخلاء کیا یہ سب بھی گجرات ماڈل کا حصہ ہیں یا نہیں؟ہندوووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لئے مسلم ووٹ بینک کا ہوّا کھڑا کرنا بھی اس گجرات ماڈل میں شامل ہے۔ جہاں عدالتی نظام پر ریاستی حکومت کا ناجائز قبضہ ہے۔ اور دانشور طبقہ اس پر بے چینی اور اعلانیہ اظہارِ افسوس بھی کر چکا ہے۔ ملاحظہ ہو انڈین ایکسپریس کا خصوصی شمارہ ’گجرات میں انصاف‘ (Justice in Gujrat 2002) اور اس کا خصوصی مضمون (Justice is light years away from Gujarat)۔ کیا گجرات ماڈل کا حصہ وہ ریاستی پولیس بھی ہے جس نے باقاعدہ قاتل دستے بنا رکھے ہیں جو صرف گجرات میں ہی نہیں قریبی ریاستوں آندھرا پردیش، مہاراشٹر، راجستھان جاکر بھی بے گناہوں کو قتل کرتی ہے۔ ملاحظہ ہو عشرت جہاں کیس اور حیدرآباد میں مجاہد کا قتل۔ گجرات ماڈل کو پورے ہندوستان کے لئے کیا اس لئے تجویز کیا جا رہا ہے کہ ہندوتوا کی تجربہ گاہ (Laboratory)چلانے والے گجرات میں اس کا تجربہ انہیں کامیاب نظر آ رہا ہے۔ گجرات ماڈل کی پرچھائیاں مظفر نگر کے مسلم کش فسادات تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا سایہ ایک قتلِ خاص سے لیکر قتلِ عام تک دراز ہے۔ اگر یہی گجرات ماڈل ہے تو ملک کے لئے زبردست خطرہ ہے۔ ایسا نہیں ہے تو بھی اس کا شور مچانے والوں کو اس کی تفصیل ضرور سامنے لانی چاہئے۔ ’ہندوتوا ‘کا شور مچانے والے کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ ہندوتو نہرو بھی تھے اور پٹیل بھی تھے۔ گاندھی بھی تھے اور وویکانند بھی، ٹیگور بھی تھے اور ساورکر بھی۔ کیا یہ سب ہندوتو ا کے حامی تھے اور ان میں کس کس نے ہندوتوا کا نام لیا تھا؟ شاید اس لئے نہیں کہ اس وقت تک اس کا وجود ہی نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے نزدیک حالیہ پارلیمانی انتخابات صرف مسلمانوں کے لئے چیلنج نہیں ہے بلکہ ان عناصر کے لئے ایک بڑی آزمائش ہے جو واقعی ہندوستان کو فسطائیت سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس آزمائش میں کامیاب ہونا ان نام نہاد سیکولر لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے جو موقعہ پرستی کی سیاست کرتے ہیں اور جب چاہے سیاسی چولا بدل لیتے ہیں۔ اس کشمکش میں وہ مسلم سیاست داں بھی کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتے جو ہر چڑھتے سورج کے آگے سر نگوں ہو جاتے ہیں۔ اور حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی کا شکار ہیں اور جو ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح تک یہ باور کراتے رہے کہ بابری مسجد شہید نہیں کی جا سکتی۔ اور اس کے لئے سپریم کورٹ کے احکامات، دستورکی موجودگی اور اپنے سیاسی آقاؤں کے چشم و ابرو کے اشاروں پر اعتماد ظاہر کرتے رہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *