اسلام کا تصورجہاد اورمومنین کی صفات

(حضرت مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی مالیرکوٹلہ کے منبرسے نمازجمعہ سے پہلے ’درس قرآن‘ دیتے ہیں، ان کی تفسیر روح القرآن سات جلدوں میں شائع ہوچکی ہے…تفسیر روح القرآن کی روشنی میں ان کا درسِ قرآن دلچسپی سے سناجاتا ہے۔ سورۂ انفال کی ابتدائی آیات کی تفسیر کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔)

٭ اسلام میں جہاد کی تصور
اسلام میں جہاد اور جنگ کا تصور سب سے الگ ہے۔ جنگ نہ تو مادی فائدوںکے لئے ہے اور نہ ملک گیری کے لئے بلکہ جنگ کا مقصد اس زور اور قوت کو توڑنا ہے جس کے بغیر آزادی باقی نہیں رہ سکتی۔
کوئی اسلام قبول کرے یا نہ کرے یہ اس کا اپنا ذاتی معاملہ ہے لیکن اگروہ دین حق میں آناچاہتا ہے تو کوئی قوت اس کی آزادی کوروکنے والی نہ ہو…اس لئے جنگ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے نہیں ہے بلکہ ان رکاوٹوں کو دورکرنے کے لئے ہے جو لوگوں کی آزادی پرپہرے بٹھانے کے لئے کھڑی کی جاتی ہیں۔
اسلام میں فکری اور ذہنی آزادی کی بڑی اہمیت ہے کیوںکہ پہلے انسانوں کو فکری طور پرغلام بنایا جاتا ہے اور پھر یہ ذہنی غلامی،مادی سیاسی اور معاشی غلامی میںبدل جاتی ہے…اس لئے اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے اور مجاہد اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے انسانی آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔
٭ مومنین کی صفات
سورہ انفال کی دوسری اورتیسری آیات میں مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں۔
فرمایا کہ سچے مومنوں کی شان یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا حکم بیان کیا جاتا ہے تو ان کے سر فرماںبرداری کے لئے جھک جاتے ہیں۔ اللہ کے کلام کی عظمت سے ان کے دل لرز جاتے ہیں۔اللہ کا کلام سن کر ان کے ایمان میں بالیدگی پیداہوتی ہے۔سچے مومن اللہ اوراس کے رسول کی باتیں ماننے کے لئے ہمہ تن تیاررہتے ہیں۔وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام میں یہ تفریق نہیں کرتے کہ جوحکم دل کو بھائے اس پرعمل کرلیں اور جس پرعمل کرنے کے لئے آمادگی نہ ہو اس کو چھوڑدیں بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے ایسے سرشار ہوتے ہیں کہ ہرحکم پرعمل کرنے کے لئے پوری طرح تیار رہتے ہیں۔
سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے پروردگار پربھروسہ کرتے ہیں نہ کہ دنیا کے مال ومتاع پر۔مومنین صادقین کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ اس عظیم الشان فریضے کاپورا اہتمام کرتے ہیں،خشوع و خضوع کے ساتھ اس کو اداکرتے ہیں،عبادت ان کی زندگی کامحور اور مرکز ہوتی ہے نہ کہ زندگی کا اور اس کی سرگرمیوں کا صرف ایک ضمیمہ اور جزو۔
جانی عبادت کے ساتھ وہ مالی عبادت کے لئے بھی آمادہ رہتے ہیں اور اللہ کے دئے ہوئے مال کو خوشی خوشی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ اللہ کے راستے میں دیتے ہوئے نہ ان میں تنگ دلی ہوتی ہے اور نہ کاہلی اور سستی بلکہ وہ اس بات پر اپنے پروردگارکا شکرادا کرتے ہیں کہ اس نے ہم پر نوازش کی اور ہمیں توفیق عطا کی۔
سورۂ انفال کی چوتھی آیت اس مضمون پرختم ہوتی ہے کہ یہی لوگ صحیح معنی میں مومن ہیں اور ان کے لئے پروردگار کی طرف سے بلنددرجات ہیں۔ ان کے جذبۂ اطاعت کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں سے درگذر فرمائیں گے۔اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ ہے کہ بندے کی خدمات جس اجرکی مستحق ہوتی ہیں ان سے کچھ زیادہ ہی وہ اپنے فضل سے عطا فرماتے ہیں۔
٭ قرآن حکیم کی آٹھویں سورت سورۂ انفال غزوۂ بدر(۲ھ /۶۲۴ء) کے بعدنازل ہوئی، اس میں جنگ اور جنگ کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اہل ایمان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ مال غنیمت تمہارے لئے کوئی بڑی چیز نہیں ہے یہ تو اللہ کا بخشا ہواانعام ہے،اصل چیز اس نظام عدل کا قیام ہے جس میں حریت انسانی اور دین و دنیا کی فلاح کا رازپوشیدہ ہے۔ اس میں اللہ کی تائید اور نصرت کا بھی ذکر ہے کہ وہ ان مومنین صادقین کو حاصل ہوئی جنہوں نے وفاداری کا راستہ اختیار کیا۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *