انتخابی نتائج کیوں وساوس دل کو دھڑکاتے ہیں یوں انجام سے

انتخابی نتائج کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک مسلم نکتہ نظر ہے دوسرے ہندتووادی نظریہ۔ اس کے علاوہ ایک ایسے عام ہندوستانی شہری کی نظر سے جسے دین دھرم میں کوئی دلچسپی نہ ہو اور پھر ذرائع ابلاغ و کارپوریٹ کی دنیا۔ اس بار کارپوریٹ کی دنیا نے مودی کے ذریعہ سے ذرائع ابلاغ پر خوب دولت لٹائی اس لئے بی جے پی کی زبردست کامیابی میں مودی کی محنت و جدوجہد کے ساتھ وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ نتائج کے بعد میڈیا نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ملک کی عوام کا موروثی سیاست کے خلاف غم و غصہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو راہل اور سونیا کامیاب نہیں ہوتے اس لئے کہ ایمرجنسی کے بعد اترپردیش کی عوام نے اندراگاندھی اور سنجے گاندھی کو شکست فاش سے دوچارکر دیا تھا۔ مینکا گاندھی اور ورون گاندھی بھی بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیاب نہ ہوتے اس لئے اس ماں بیٹے کا تعلق بھی اسی گاندھی خاندان ہے۔ وسندھرا راجے کا بیٹا اور بھائی نیز راجناتھ اور کلیان سنگھ کا بیٹا بھی انتخاب ہار جاتے۔ پرمود مہاجن کی بیٹی جو پہلے الیکش ہار چکی تھی اور رام ولاس پاسوان کا بیٹا جو سیاست میں نووارد ہے پارلیمان کیلئے منتخب نہ ہوتا۔ ملائم سنگھ یادو اور ان کی بہو نیز چندر شیکھر راؤ کا اپنے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ کامیاب ہونا ممکن نہ ہوتا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ یوپی اے ۲ کی بدعنوانی کے خلاف احتجاج ہے اگر یہی بات ہوتی تو یدورپاّ کو کامیابی نہیں ملتی جس کو بدعنوانی کے سبب اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

مسلم نقطۂ نظر
ہندو احیاء پرستوں نے چونکہ اپنی تحریک کی بنیاد اسلام دشمنی پر رکھی ہے اس لئے ان لوگوں نے نہ صرف اسلام کے خلاف عام ہندووں کے اندر نفرت کے جذبات پیدا کئے بلکہ مسلمانوں کو قوم دشمن قرار دے دیا۔ کبھی یکساں سول کوڈ تو کبھی بابری مسجد کے نام ہندوؤں کے اندر اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کی سب سے بڑی دلیل تقسیم ہند ہے جبکہ اس تقسیم میں مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کا بھی برابر کا حصہ تھا۔ اتفاق سے تقسیم ملک کیلئے ہندوستان کا لادینی(سیکولر) ہندو ذمہ دار تھا اس لئے فسطائی طاقتوں نے اپنے حریف کو مسلمانوں کا ہمدرد بتا کر ایک تیر سے دوشکار کرنے کی کوشش کی۔
سچ تو یہ ہے کہ کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کو بھی مسلمانوں سے کوئی خاص ہمدردی نہیں ہے لیکن سنگھ پریوار کے مقابلے وہ ہمیں اپنے غمخوار اور نجات دہندہ محسوس ہوتے ہیں۔ چونکہ ہماری سنگھ دشمنی کا براہِ راست فائدہ کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتوں کو ہوتا ہے اس لئے بی جے پی کے اندر امت مسلمہ کے تئیں شدید نفرت پائی جاتی ہے اور وہ لوگ اپنے سیاسی فائدے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کرانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ فسادات بھی سیکولر جماعتوں کا بھلا کرتے ہیں اس لئے کہ مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس جس قدر بڑھتا اسی قدر شدومد کے ساتھ مسلمان اپنی ساری معاشی و سماجی محرومیوں کو بھلا کر ان سیکولر جماعتوں کی حمایت پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نام نہاد سیکولر جماعتیں فسادات کے روک تھام کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتیں بلکہ اس پر زبانی لیپا پوتی کرکے اپنا سیاسی الو سیدھا کرتی ہیں بلکہ وقتِ ضرورت فساد کرانے سے بھی پس و پیش نہیں کرتیں۔
بی جے پی کے اندر بھی دو طرح کے رہنماپائے جاتے ہیں جیسے واجپائی اور پرتھوی راج چوہان وغیرہ جو مسلمانوں کی دلآزاری سے گریز کرتے ہیں اس لئے ان کا اقتدار میں آجانا مسلمانوں کو اس قدر گراں نہیں گزرتا جتنا کہ اڈوانی یا مودی کا اقتدار پر قابض ہو جانا اس لئے کہ ان کے ہاتھ بابری مسجد کی شہادت اور معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مودی کا اس قدربڑی اکثریت سے کامیاب ہوجانا فطری طور پر مسلمانوں کو غمزدہ کردیتا ہے۔ عام طور پر جب بی جے پی کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو وہ لوگ مسلمانوں کے پیچھے نہیں پڑتے اس لئے ممکن ہے ابھی کچھ عرصہ کوئی خاص مشکل کھڑی نہ کی جائے لیکن جب ان کی مقبولیت میں کمی واقع ہوگی اور کرسی خطرے میں پڑ جائیگی تو مسلمانوں کیلئے نت نئے مسائل پیدا کرکے مایوس ہونے والے ہندورائے دہندگان کی توجہ اپنی ناکامی سے ہٹانے کی کوشش کی جائیگی۔ یہ دراصل مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی بے چینی کی بنیادی وجہ ہے جس پرابن فرید کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎
کیوں حوادث صبح کے خائف ہیں اپنی شام سے
کیوں وساوس دل کو دھڑکاتے ہیں یوں انجام سے
مسلمان عام طور پر بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کیلئے بڑی ذہانت کے ساتھ ووٹ کا استعمال کرتے ہیں لیکن اس بار مایوسی کا شکار ہوکر غالبا ً ایسا نہ کرسکے۔ اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ریاستِ آسام میں مسلمانوں کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور ان کے بل بوتے پر کانگریس اقتدار میں آتی ہے لیکن گزشتہ سالوں میں بوڈو علاقوں کے اندر مسلمانوں کے تحفظ میں کانگریس نے زبردست کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔ اس سے بددل کرہوکر مسلمانوں نے اپنے ووٹ اس طرح ضائع کئے کہ کانگریس دو اور بی جےپی دس سیٹوں پر کامیاب ہوگئی۔ اترپردیش میں بھی یہی ہوا۔ مسلمانوں نے بڑی توقعات کے ساتھ سماجوادی کو کامیاب کیا تھا مگرمظفر نگر میں سماجوادی پارٹی اقتدار کے باوجود فساد کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہی مایاوتی بھی خاموش تماشائی بنی رہی۔ ان لوگوں کو ہندو رائے دہندگان کی ناراضگی کا خوف لاحق ہوگیا تھا اس سے مایوس ہوکر مسلمانوں نے غالباً ایسی جماعتوں کو ووٹ دیا جن کی کامیابی کا امکان نہیں تھا۔ نتیجہ یہ ہوا بی جے پی ۷۳ نشستوں پر کامیاب ہوگئی۔مسلمانوں کی ہر حال میں مودی روکو تحریک کا ردعمل ہندووں پر یہ ہوا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ ہوگئے۔یہی وجہ ہے کہ تمل ناڈو بنگال اور اڑیسہ جیسی ریاستوں میں جہاں ایڑی چوٹی کا زور نہیں لگایاگیا بی جے پی کا خاص فائدہ نہیں ہوا لیکن اتر پردیش اور بہار میں اس کے وارے نیارے ہوگئے۔ مسلمانوں نے جن کو عصا بنانے کی کوشش کی وہ تو ٹوٹ گئے اب ان کیلئے حفیظ میرٹھی کے اس شعر میں اک پیغام ہے؎
بے عصا اپنی کلیمی ہے تو ہو وقت کے فرعون سے ڈر جائیں کیا

فسطائی ہندوتوا کانقطۂ نظر
آزادی کے بعد آرایس ایس نے جن سنگھ قائم کی لیکن اسے مرکز میں اقتدار کا مزہ ایمرجنسی کے بعد ہی ملا جب وہ جنتاپارٹی کا حصہ بنی۔ اس کے بعد ان کی اپنی حکومت۱۹۹۶ء میں بنی جو تیرہ دنوں کے بعد گر گئی اس کے بعد ۱۹۹۸ء اور۱۹۹۹ء میں ان لوگوں نے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ اس لئے وہ خواہش کے باوجود اڈوانی کو وزیراعظم نہیں بنا سکے اور سیکولر حلیفوں کے دباؤ میں رام مندر کے ایجنڈے پر بھی عملدرآمد نہیں کرسکےلیکن اس بار بی جے پی کسی کی محتاج نہیں ہے۔ سنگھ پریوار ممکن اس کا فائدہ اٹھا کر ہندوتوا کے ایجنڈے پر سرگرمِ عمل ہو جائے لیکن اگر ایسا کیا گیاتو وہ عوام جنہوں نے روزگار اور خوشحالی کیلئے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے برگشتہ ہوجائیں گے۔ ممکن ہے نریندر مودی اپنا اقتدار بچانے کی خاطرآر ایس ایس کو اس کی اجازت نہ دے۔ امکان یہی ہے کہ جب تک سنگھ اس کیلئے مفید ہوگا فائدہ اٹھائیگا اور جب پریشان کرے گا تو اسے نظر انداز کردے گا لیکن اگر وہ ایسا نہ کرسکا تو جلد ہی اسے اقتدار سے محروم ہونا پڑے گا۔

سیکولر عام ہندوستانی
کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ ہندوؤں نے اپنے رویہ سے ثابت کردیا ہے کہ وہ سیکولر نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ این ڈی اے کو ۴۰ فیصد سے کم ووٹ ملے ہیں گویا ۶۰ فیصد رائے دہندگان میں سے اگر ۲۰ فیصد مسلمان نکال دئیے جائیں تب بھی ۴۰ فیصد ہندو اب بھی اس کے خلاف ہیں۔ مسلمانوں کا بے دین طبقہ بھی چونکہ فسادات کا شکار ہوتا ہے اس لئے بی جے پی کی مخالفت کرتا ہے لیکن سیکولر ہندو کا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ اس کو اپنے بنیادی مسائل میں دلچسپی ہے اور وہ جس کے اندر امید کی کرن دیکھتا ہے اس کے ساتھ ہولیتا ہے۔ اس بار وہ مہنگائی اور بیروزگاری کے سبب کانگریس سے مایوس ہوچکا تھا اورچاہتا تھا کہ اس سے نجات ملے۔ ایسے میں ذرائع ابلاغ نے اپنے تجارتی مفاد کے پیش نظر نریندر مودی کو متبادل کے طور پرمؤثر انداز میں پیش کیا۔ نریندر مودی نے بھی خوب محنت کی جسے میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور عام ہندو جو بی جے پی کے مظالم کا براہ راست شکار نہیں ہوا تھا جھانسے میں آگیا۔
اس طرح کے نتائج دیکھ کرمسلمانوں کو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ دیگر مذاہب کےہم وطن ہمارا درد محسوس کیوں نہیں کرتے؟ لیکن یہ ایک عمومی سماجی مسئلہ ہے جس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اندرا گاندھی نے گولڈن ٹیمپل کی بےحرمتی کی اور پھر راجیو گاندھی نے دہلی کے سکھ فساد کا جواز پیش کردیا۔ ان دونوں واقعات کا کانگریس کو زبردست سیاسی فائدہ ہوا اور کانگریس نے بی جے پی کی حالیہ کامیابی سے بڑی فتح درج کرائی۔ واجپائی و اڈوانی تک الیکشن ہار گئے۔ ملک کے ہندو اور مسلمان دونوں نے سکھوں کے کرب کو محسوس نہیں کیا۔ اس کے بعد جب بابری مسجد شہید اور گجرات کا فساد ہوا تو سکھ مسلمانوں کے ساتھآنے کے بجائے بی جے پی کے ساتھ لگے رہے ہندووں نے گجرات میں مودی کے اقتدار کی توثیق کردی۔ یہ دراصل ہمارے معاشرے کا سب سنگین مسئلہ ہے کہ یہاں جان و مال کی حرمت پامال ہونے پر بھی لوگ صرف اپنے اوپر گزرنے والی مصیبت کو محسوس کرتے ہیں دوسروں کے غم میں شریک نہیں ہوتے۔ اس صورتحال کا بدلنا ضروری ہے۔
ویسے اس کامیابی کے پیچھے ہندوستانی انتخابی نظام کی ایک بہت بڑی خرابی بھی کارفرما ہے۔ اس کیلئے دو مثالیں بنگال اور بہار میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ بہار میں این ڈی اے محاذ کو تقریبا ً۴۰ فیصد ووٹ ملے اور ۲۶ نشستوں پر کامیابی ملی۔ جبکہ یوپی اے کو ۳۵ فیصد ووٹ ملے اور صرف ۶سیٹیں ملیں۔ بنگال میں ترنمل نے ۳۵ فیصد ووٹ لے کر ۳۲ سیٹیں جیتیں۔ کانگریس ۱۰ فیصد ووٹ لے کر ۵ سیٹیں جیت گئی جبکہ بی جے پی ۱۸ فیصد ووٹ لےکر۳ اور کمیونسٹ ۲۷ فیصدکے آس پاس ووٹ لے کر صرف۲ سیٹوں پر کامیاب ہوئے۔ دہلی میں عاپ کے ووٹ کا تناسب بڑھا اس کے باوجود اس کا صفایہ ہوگیا۔این ڈی اے کو اس بار کل ۳۹ فیصدووٹ ملے مگر ۶۰ فیصد سے زیادہ سیٹیں اس کے حصے میں آئیں۔ جبکہ یوپی اے کو ۲۳ فیصد ووٹ ملے مگر نشستیں ۱۵ فیصد سے کم ان دونوں کے علاوہ دیگر جماعتوں کو ۳۶ فیصد ووٹ ملے یعنی این ڈی اے سے صرف ۳ فیصد کم مگر وہ ۱۵۰ تک بھی نہیں پہنچ سکے۔ اس لئے یہ نشستیں رائے دہندگان کی حقیقی حمایت کی ترجمان نہیں ہیں۔
انتخاب سے قبل سیاسی سطح پر یہ صورتحال تھی کہ مودی کے سبب مختلف جماعتیں بی جے پی سے دور ہورہی تھیں لیکن پھر بھی وہ لوگ دیگر جماعتوں کو ساتھ جوڑنے کی کوشش میں لگے رہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال رام ولاس پاسوان ہے جس نے یوپی اے سے تین سیٹیں مانگیں کانگریس اور لالو نے صرف ایک کی پیش کش کی بی جے پی نے اسے ۵ سیٹیں دے دیں اور وہ پانچوں پر جیت گیا۔بی جے پی نے مہاراشٹر میں شیوسینا کے علاوہ ایم این ایس کو بھی اپنے ساتھ کیا یدورپاّ کی پارٹی کو دوبارہ بی جے پی میں ضم کیا جس کے سبب کرناٹک کے پارلیمانی نتائج اسمبلی سے مختلف آئے اور مہاراشٹر میں کانگریس کا صفایہ ہوگیا۔ تیلگو دیسم کو بہت تاخیر سے سہی بی جے پی سمجھا منا کر این ڈی اے میں لے آئی لیکن ٹی آر ایس کو کانگریس نے دور کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں کانگریس نقصان میں رہی اور بی جے پی کا فائدہ ہوا۔
اگر کانگریس چاہتی تو ٹوجی گھوٹالے کے بعد ڈی ایم کے سے ناطہ توڑ کر انا ڈی ایم کے کو قریب کرسکتی تھی، ترنمل اور سماجوادی کو ساتھ لیا جا سکتا تھا بلکہ جگنموہن کا اس قدر دباؤ تھا کہ اگر کانگریس کوشش کرتی تو ممکن ہے تیلگو دیسم بھی ساتھ ہوجاتی۔ ۲۰۰۴ء میں سونیا نے مختلف جماعتوں کو ساتھ ملا کر بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا۔ گزشتہ سال پانچ ریاستوں میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد کانگریس سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ اپنی صفوں کو درست کرے گی اور نئے حلیف تلاش کرے گی لیکن ایسا کوئی اقدام دکھائی نہیں دیا جس کی بڑی قیمت اسے چکانی پڑی۔۲۰۰۴ء میں سونیا بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود وزیر اعظم بننے کے بجائے منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنا دیا تھا لیکن۲۰۰۹ء کے بعد راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کا نادر موقع سونیا نے گنوادیا اوراس بار جب اسے آگے بڑھایا گیا تو یہ حال ہوا کہ ؎
چہرے پہ شفق تھا جو لہو ہار گئے، اک ولولۂ سوز نمو ہار گئے
کس سے کہیں کھائی ہے ہزیمت کیا کیا،جب پیاس ہوئی تیز سبو ہار گئے
عام آدمی پارٹی سے لوگوں نے بڑی توقعات وابستہ کررکھی تھیں لیکن اس سے پہلی غلطی کانگریس کی مدد سے دہلی میں حکومت قائم کرنے کی ہوئی اور پھر جلد بازی میں استعفیٰ۔ اگر ملک بھر میں کانگریس کے خلاف انتخاب لڑنا ہوتا تو یہ ضروری تھا لیکن اگر بی جے پی اور مودی کو ہی نشانہ بنانا تھا تو اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ عاپ نے کانگریس اور بی جے پی سے زیادہ امیدوار کھڑے کردئیے جس سے توجہات منتشر ہوگئیں۔ اس انتخاب میں اروند کیجریوال نریندر مودی سے زیادہ خود اعتماد تھے۔ اس لئے کہ مودی نے تو بنارس کے علاوہ بڑودہ سے بھی کاغذات داخل کئے لیکن کیجریوال نے صرف بنارس سے قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا وہ اگر کم ازکم دہلی سے بھی لڑتے تو یقینا ً وہاں سے کامیاب ہوجاتے۔ بنارس میں الیکشن لڑنے کا دوسرا نقصان یہ ہوا کہ وہ بنارس میں مقید ہوکر رہ گئے اور دیگر مقامات پر نہیں جاسکے۔
عام آدمی پارٹی کے پاس قابل اور بے لوث لوگوں کی بہت بڑی فوج اور اچھے اقدار دونوں موجود تھے۔ عاپ کی ناکامی نے تنظیمی ڈھانچے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور یہ ثابت ہوگیا کہ ڈرامہ بازی یا ڈائیلاگ کا فائدہ نہایت محدود ہوتا ہے جیسے پہلےدہلی اور اب پنجاب میں ہوا۔ ان لوگوں نے ملک کے سب سے سلگتے ہوئے بدعنوانی مسئلے پر ایک عوامی تحریک بھی چلائی تھی اس کے باوجود وسائل کا فقدان انہیں لے ڈوبا۔ ہندوستان میں انتخابات اب روپیوں کے بل بوتے پر لڑے جاتے ہیں۔ اس لئے جولوگ بغیر خاطر خواہ وسائل کے سیاست کی دنیا میں قدم رنجا فرمانے کا خواب دیکھتے ہیں ان کیلئے عام آدمی پارٹی کے انجام میں سامانِ عبرت ہے۔ دنیا کی سب بڑی جمہوریت امریکہ میں بھی یہی ہوتا ہے کہ سرمایہ دار صرف دو جماعتوں پر پیسہ لگاتے ہیں اور انہیں کی ذرائع ابلاغ سے تشہیر ہوتی ہے نیز انہیں کو زیادہ تر ووٹ ملتے ہیں باقی لوگوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ وہ انتخاب ہارنے کیلئے لڑتے ہیں اور ان کی ہار پر کوئی آنسو نہیں بہاتا۔
مودی کی آندھی کو ممتا، جئے للیتا اور بیجو پٹنائک روکنے میں کامیاب رہے اس لئے کہ ان کے پاس ریاستی اقتدار تھا اس لئے مقامی سرمایہ داروں کی سرپرستی انہیں حاصل رہی ہوگی۔ بہار میں نتیش کے سر پر سے دولتمندوں نے ہاتھ کھینچا مسلمانوں نے لالو اس پر ترجیح دی اور وہ زمین پر آگیا۔ ان انتخابی نتائج سے ذرائع ابلاغ اس لئے خوش ہے کہ اس نے مصنوعی لہر بنا کر کسی بھی فرد یا جماعت کو کامیاب کرنے کی اپنی بیش بہا صلاحیت کا مظاہرہ کردیا ہے۔ اسے توقع ہے کہ اسکی بنیاد پر وہ آئندہ انتخابات میں مارکٹنگ کی اپنی خدمات کو اونچے داموں پر فروخت کرسکے گا۔ اس میں سیاستدانوں کا بھی فائدہ ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کا جھنجٹ پالنے کے بجائے سرمایہ داروں کا اعتمادحاصل کرو اور ان کے روپیوں کے بل بوتے پر ذرائع ابلاغ کی مدد سے ہوا بنا کر انتخاب جیت لو۔
ان نتائج نے ان لوگوں کو مایوس کیا ہے جو انتخابی عمل سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کئے ہوئے تھے۔ انتخابی نتائج نے بیجا خوش فہمیوں کا خاتمہ کرکے یہ ظاہر کردیا کہ عوام کو رائے دہندگی کا حق حاصل ہونا یقینا ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن ایک فلاحی ریاست کے قیام کیلئے یہ کافی نہیں ہے بلکہ محض حقِرائے دہندگی تو ظالم کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی سکت بھی اپنے اندر نہیں رکھتا۔ اس لئے انتخاب کی سہولت کے علاوہ دیگر لوازمات بھی لازمی ہیں جن کے بغیر یہ چیز نہ صرف بے فائدہ بلکہ کبھی کبھار نقصان دہ بھی ہو جاتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہٹلر سے لے کر مودی تک سارے لوگ انتخاب میں کامیابی درج کرواکر اقتدار سنبھالتے ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ ؎
اس دور کے ٹھہرے ہیں مسیحا وہ لوگ جو روح کو زخموں کی قبا دیتے ہیں
اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے مثلاً اگر کسی مملکت میں عوام کو اس بات کا اجازت نہ ہو کہ وہ اپنی نجی گاڑی رکھ سکیں بلکہ ان کیلئے لازم ہو کہ وہ بس یا ٹرین ہی سے سفر کریں تو یہ ان کی حق تلفی ہے۔ اب اگر ان کا یہ حق بحال کر دیا جائے کہ وہ گاڑی تو رکھ سکتے ہیں مگر ان کو ذرائع وسائل سے محروم کردیا جائے کہ تو یہ اختیار بیکارہوجاتا ہے۔ اگر وسائل کے حصول میں جائز و ناجائز کی تفریق نہ ہو تو معاشرے میں لوٹ کھسوٹ اور استحصال کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ اگر سڑکیں ٹھیک نہ ہوں تو ٹرافک جام کے سبب وقت بچتا نہیں ہے بلکہ زیادہ خرچ ہوتا ہے اور اگرنظم و نسق درست نہ ہو یااس کے نفاذ میں کوتاہی پائی جائےتو حادثے ہونے لگتے ہیں۔
اس لئے گاڑی رکھنے کے اختیار کے ساتھ وسائل، سڑک اور معقول قوانین کا نفاذ مؤثر ٹرافک نظام کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ ہمارے سیاسی نظام میں پہلی چیز کے علاوہ باقی سب ندارد یا مفلوج ہیں۔ اس لئے انتخابی عمل کو مفید بنانے کیلئے مکمل نظام کی درستگی ناگزیرہے۔ محض ظاہری تبدیلیوں سے یہی ہوگا کہ واجپائی کی جگہ منموہن آجائیں گے اور منموہن کو ہٹا کر مودی جیسے لوگ آتے جاتے رہیں گے۔ انتخاب کے دوران تفریح کے علاوہ عوامی بھلائی کا کوئی ٹھوس کام نہیں ہو سکےگا۔مسلمانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ۹۰ کی دہائی میں بی جے پی اترپردیش کی بڑی پارٹی تھی اور ریاست و مرکز میں اس کی حکومت تھی لیکن پھر یہ ہوا کہ کچھ تو ہندو اس سے مایوس ہوئے اور کچھ مسلمانوں نے ذہانت کے ساتھ ووٹنگ کی جس کےنتیجے میں پچھلے پارلیمانی انتخاب میں وہ چوتھے نمبر پر پہنچ گئی اور اسمبلی میں بری طرح ناکام رہی لیکن کسی بھی کھیل میں ہمیشہ جیت نہیں ہوتی۔ اس بار بی جے پی نے ہمیں مات دےدی انتخاب کے کھیل میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے مایوسی کا شکارہونے کے بجائےقرآن کایہ فرمان یاد رکھنا چاہئے کہ ’ہرمشکل کے ساتھ آسانی ہے‘۔ہمیں ہر حال میں صبروشکر کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے بارگاہِ خداوندی سے اچھی توقع رکھنا چاہئے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *