اندلس/اسپین ایک تاریخی وتجزیاتی مطالعہ

(اندلس اسلامی تاریخ کا ایک عجیب و غریب باب ہے۔ اس کی ابتداء ایسی ولولہ انگیز ہے جو رگوں میں خون کی گرمی کو دو چند کر دیتی ہے لیکن اس کا انجام ایسا الم ناک ہے کہ جس کو پڑھتےہوئےشرم، ندامت، بے بسی، بے چارگی، اور حیرت و استعجاب کا ایک ایسا درد انگیز منظر ابھرتا ہے جو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتاہے۔ اس جہانِ رنگ و بو میں سنت اللہ ایک ہی رہی ہے۔ مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور۔ چنانچہ غیروں نے مسلمانوں کے عروج کا بھی بغور مطالعہ کیا اور خوبیوں کو اپناکر اوجِ ثریا پر پہونچے اورمسلمانوں کی کمزوریوں کا بھی ادراک کیا اور ان کمزوریوں کا استعمال کرکے اور ضرورت پڑنے پر ان کو پیدا کرکے مسلمانوں کو قعرِ مذلت میں پہونچانے کی مسلسل ceaselessکوششیں ہورہی ہیں۔ ہندوستان میں فسطائیت نے سقوط اندلس کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور وہ ہر اس حربہ کو آزما رہی ہے اور کامیاب بھی ہورہی ہے۔ دوسری طرف مسلمانانِ ہند کو اس خوش فہمی میں مبتلا کردیا گیا ہے کہ ہندوستان میں اندلس کو نہیں دہرایا جاسکتا، ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ یہ کہا جا تا تھا کہ ہندوستان میں فسطائیت کبھی برسرِ اقتدار نہیں آسکتی۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ مختصر انداز میں اندلس کی تاریخ ہر مسلمان کو ازبر ہو تاکہ ماضی کے آئینہ میں حال کا تجزیہ کیا جاسکے اور مستقبل کا لائحۂ عمل مرتب کیا جاسکے۔ تنگ دامنی کے باعث مختصر مضمون بھی کئی قسطوں کا متقاضی ہے۔ امید ہے قارئین پورے صبر سے ہمارا ساتھ دیں گے اور اپنے تاثرات سے بھی ہمیں آگاہ فرماتے رہیں گے۔ ادارہ)
اندلس براعظم یورپ کے جنوب مشرق میں بحر اوقیانوس Atlantic Ocean، آبنائےجبل الطارق اوربحیرہ رومMediterranean Sea سے ملحق، شمالی افریقہ کے بالکل سامنےیورپ کے جنوب مغربی کنارے پر ایک حسین و جمیل جزیرہ نما ہے۔ آج کل اس میں پرتگال، اسپین اورمغربی فرانس کےکچھ علاقےشامل ہیں۔ہسپانیہ اور پرتگال کےجزیرہ نماکا قدیم نام آئبیریاتھا۔
قدیم زمانےسےیہاںای بیریIberian، کلٹCelts فنیقی Phoenicians، یونانیGreeks، رومانی Romans شیوانی Carthaginians، الانی Alans،واندال Vandals اورقوطیGoth قوموں نےاپنی آبادیاں قائم کیں۔
ان میں سوائے فنیقیوں کے سب کے سب مشرقی اوروسطی یورپ کی قومیں تھیں۔قوطیوں نے419عیسوی میں یہاں اپنی حکومت قائم کی اوران لوگوں نےعیسائیت قبول کرلی۔اس وقت اندلس میں یہودی اور بت پرست بھی رہتے تھے۔ سلطنتِ رومہ والے اس ملک کو ہسپانیہ کہتے تھے۔ یہ جرمن قوم “واندلسVandalus سے موسوم ہے۔مسلمانوں کی فتح سے پہلے یہاں کی حکومت سلطنت روم کی ہمسر تھی۔ اس حسین و جمیل خطہ زمین پر اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں قبضہ کیا گیا۔ 19 جولائی 711 ء کو موسٰی بن نصیر کے حکم سے مسلمان سپہ سالار طارق بن زیاد نے بادشاہ راڈرک (رودریگو)کو شکست دے کر فتح حاصل کی۔ اسلامی حملہ سے چند سال پہلے اسپین پر وٹیزا کی حکومت تھی۔ یہ بادشاہ یہودیوں کا بہی خواہ، غریبوں کا معاون اور شرافت کا حامی تھا۔ اس وجہ سے فوجی امراء نے اس کے خلاف بغاوت کرکے فوج کے زور سے راڈرک کو بادشاہ بنا ڈالا اور وٹیزا کو قتل کر دیا۔ اس سبب سے بہت سے امراء اور ویٹزا کے رشتہ دار اس نئے بادشاہ کے مخالف تھے اور اس کا تختہ الٹنے کے کسی بھی منصوبے میں تعاون کے لیے تیار تھے۔ کاونٹ جولین سابقہ بادشاہ وٹیزا کا قریبی رشتہ دار غالباً داماد تھا،اور مزید یہ حادثہ ہوا تھاکہ کاونٹ جولین کی لڑکی فلورنڈار اڈرک کے محل میں تھی۔فلورنڈا بہت خوبصورت تھی۔ راڈرک نے اخلاق و اعتماد کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرکے اس کی عصمت دری کی۔چنانچہ اندلس کی فتح کا ایک سبب یہ بھی ثابت ہوا کہ سبتہ کا حکمران کاونٹ جولین جس نے دو مرتبہ مسلمانوں کے حملے کو ناکام بنا دیاتھا، خود موسٰی بن نصیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسے اندلس پر حملہ کرنے کی دعوت دی۔ موسٰی نے اس کی عزت و تکریم کی۔ جولین نے اسپین کی زرخیزی کے حالات بتائے۔پھر خلیفہ سے اجازت اور غورو فکرکے بعد موسی بن نصیر نے کاونٹ جولین کے ساتھ معاہدہ کیا اور سابق مقتول بادشاہ وٹیزا کے دوسرے رشتہ داروں کو بھی معاہدہ میں شامل کر لیا۔ موسٰی بن نصیر نے پہلے صرف پانچ سو سواروں پر مشتمل ایک چھاپہ مار دستہ تیار کیا اور اپنے ایک بربر غلام طریف کو اس کا سربراہ بناکر اسپین کے ساحل پر چھاپہ مارنے کے لیے روانہ کیا۔ یہ دستہ جولائی 710ء میں الخضراء پر حملہ آور ہوا اور فتح مند اور کامران واپس لوٹا؛ اس حملہ سے اسپین کی داخلی کمزوری، فوجیوں کی بزدلی اور نظام عسکری کی خامیوں کا پتہ چل گیا اور کاونٹ جولین کی اطلاع کی بھی تصدیق ہوگئی۔اس وقت اندلس میں وہ ساری برائیاں موجود تھیں جو کسی معاشرہ کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہیں۔مثال کےطور پر عیش و عشرت،کمزوروں پرظلم،بدترین ٹیکس کا بوجھ، جاگیرداروں کا خوبصورت لڑکیوں پر قبضہ،ہرطرف انارکی و جبروغیرہ۔
موسی بن نصیر نے اس کے بعد 7 ہزار سواروں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ بربر غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر9 جولائی711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسےجبل الطارق Gibraltarکہا جاتا ہے۔ کاونٹ جولین ان کے ساتھ تھا۔ اندلس پہنچنے کے لیے بحری بیڑہ اسی نے مہیا کیا تھا۔ طارق نے ساحل اندلس پر اترتے ہی ان جہازوں کو آگ لگا دی جن پر سوار ہو کر وہ شمالی افریقہ سے یہاں آئے تھے۔
طارق کا پہلا مقابلہ تھیوڈ میر،مرسیہ کےوالی کے ساتھ ہوا۔تھیوڈ میرراڈرک کا تجربہ کار جرنیل تھا لیکن وہ شکست کھا کر اس بری طرح سے بدحواس ہوا کہ اس نے بادشاہ کے پاس پہنچ کریہ اطلاع دی کہ‘ ہمارے ملک پر ایسے لوگوں نے حملہ کیا ہے جن کانہ وطن معلوم ہے نہ اصلیت اورنہ یہ کہ وہ کہاں سے آئے ہیں زمین سے نکلے یا آسمان سے اترے۔’
راڈرک نے اس اطلاع پرشمالی اسپین کی جنگوں کو ملتوی کر دیا۔ فوراً دارالحکومت پہنچا اور ہر طرف ہرکارے دوڑائے گئے۔ جاگیر داروں اور امراء کو فوجیں لے کر پہنچنے کا حکم دیاگيا۔ پادریوں نے مذہبی جنگ کا وعظ کیا اور ایک لاکھ لشکر اکھٹا ہو گیا۔ طارق کو ان سب تیاریوں کا علم ہوا اس نے موسیٰ بن نصیر کے پاس قاصد بھیجے تو انہوں نے مزید پانچ ہزار فوج بھیج دی۔ اس طرح سے ایک لاکھ کے اندلسی لشکر کے مقابلے میں ۱۲ ہزار مجاہدین کی ایک جماعت تیار ہوگئی۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو عجیب منظر تھا ایک طرف ایک لاکھ ٹڈی دل جو ہر طرح کے اسلحہ سے لیس تھا۔ اور دوسری طرف صرف بارہ ہزار انسان جو اپنے وطن سے دور کمک و رسد سے مایوس تھے اور جن کے پاس دشمن کی بہ نسبت اسلحہ بھی بہت کم تھا۔ طارق بن زیاد نے اس صورت حال کو بھانپ کر اپنے ساتھیوں سے خطاب کیا۔
‘اے جواں مردو! جنگ کے میدان سے اب بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے۔ صبر اور مستقل مزاجی کے علاوہ اب تمہارے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ تمہارے دشمن کے پاس فوج بھی ہے اور اسلحہ جنگ بھی۔ تمہارے پاس بجز تمہاری تلواروں کے اور کچھ بھی نہیں۔ اگر تم اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرنا چاہتے ہو تو دشمن جو تمہارا مقابلہ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہاہے، اس کے دانت کھٹے کر دو۔ اس کی قوت کو ختم کردو۔ میں نے تم کو ایسے کام کے لیے نہیں پکارا جس سے میں گریز کروں۔ میں نے تم کو ایسی زمین پرلڑنے کے لیے آمادہ نہیں کیا جہاں میں خود لڑائی نہ کروں۔ اگر تم نے ذرا بھی ہمت وحوصلہ سے کام لیا تو اس ملک کی دولت و حشمت تمہارے جوتوں کی خاک ہوگی۔ تم نے اگر یہاں کے شہسواروں سے نپٹ لیا تو اللہ اوراس کےرسول کےاحکامات یہاں جاری و ساری ہو جائیں گے۔ یہ جان لو جس طرف میں تم لوگوں کو بلا رہا ہوں اس طرف جانے والا پہلا شخص میں ہوں۔ جب فوجیں ٹکرائیں گی تو پہلی تلوار میری ہوگی جو اٹھے گی۔ اگر میں مارا جاؤں تو تم لوگ عاقل و دانا ہو کر کسی دوسرے کا انتخاب کر لینا مگر خدا کی راہ میں جان دینے سے منہ نہ موڑنا اور اس وقت تک دم نہ لینا جب تک یہ جزیرہ فتح نہ ہو جائے۔ ’
کئی روز مسلسل راڈرک کا لشکر داد عیش دیتا رہا او ر مومنین سربسجود فتح و نصرت کی دعائیں مانگتے رہے۔ اسلامی لشکر بہت بہادری سے لڑ رہا تھا۔ لیکن اپنے سے آٹھ گنا لشکر کو جسے تمام سہولتیں حاصل ہوں شکست دینا اتنا آسان نہ تھا۔ آٹھویں روز طارق نے بھرپور حملہ کیا۔ سابق بادشاہ وٹیزا کے رشتہ دار راڈرک کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ راڈرک کی فوج کا دایاں و بایاں بازو انہی کے کمان میں تھا۔ قلب کی وہ خود کمان کر رہا تھا۔ طارق نے پورا زور قلب ہی پر لگا دیا اور عرب وبربر اس بہادری سے لڑے کی عیسائی لشکر بھاگ کھڑا ہوا۔ خود راڈرک بھی میدان سے بھاگ نکلا اور کہا جاتا ہے کہ دریا عبور کرنے کی کوشش کرتا ہوا لہروں کی نذر ہو گیا۔
اندلس کی مرکزی حکومت کی شکست کے بعد طارق بن زیاد نے اپنی فوج چھوٹے دستوں میں تقسیم کرکے مختلف شہروں کی طرف روانہ کی۔ اور کاونٹ جولین کی راہنمائی کے مطابق ملک کے طول و عرض میں اسلامی فوج کے دستے فتوحات حاصل کرنے لگے۔ مسلمانوں نے پہلا حملہ اسیجہ پر کیا جہاں گاڈ ایسٹ کی شکست خوردہ فوج جمع ہو رہی تھی۔ اللہ تعالٰی نے یہاں بھی مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور قرطبہ کی فتح کا سہرا مغیث رومی کے سر بندھا۔ مالقہ اورغرناطہ بھی فتح ہو گئے دارالحکومت طلیطلہ کے باشندے مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔
فتح کی بشارت ملتے ہی موسی بن نصیر اندلس روانہ ہو گئے۔ موسی نے فتح اندلس کی تکمیل کے لیے قرمونہ اشبیلیہ اور ماروہ کو فتح کیا اور اس کے بعد دارلحکومت طلیطلہ میں طارق کے ساتھ جا ملے۔ اسپین کے شمالی حصے کی تسخیر دونوں کی متحدہ فوجوں نے کی اور سرقونہ، ارغون اور برشلونہ کے علاقے فتح ہوئے۔
خلیفہ ولید جب بیمار پڑگیا تو اس نے موسی بن نصیر کو واپسی کا حکم دیا، چنانچہ موسی بن نصیر اور طارق بن زیاد ۹۵ ھ میں بے پناہ مال غنیمت کے ساتھ پایۂ تخت دمشق روانہ ہوئے۔ واپسی پر اس نے اپنے بیٹوں عبدالعزیز،عبداللہ،عبدالملک کو علی الترتیب اسپین، شمالی افریقہ اور مراکش کا والی مقرر کیا۔ موسی کی اچانک واپسی کی بنا پر مسلمانوں کے مفادات کو سخت نقصان پہنچا خلیفہ ولید کے مرنے کے بعد جانشین خلیفہ سلیمان نے محض اپنی ذاتی رنجش کی بنا پر بجائے موسی کی عزت و توقیر اور منصب میں اضافہ کے جیل میں ڈال دیا۔ بعد میں اگرچہ ایک سردار کی سفارش کی بنا پر اس کو رہا کر دیا گیا۔ لیکن سلیمان نے اس پر کئی لاکھ کا تاوان جرمانہ کی صورت میں عائد کر دیا اس قدر بڑی رقم موسی ادا نہ کر سکا اور اسلام کے اس نامور فرزند اور عظیم سپہ سالار اور فاتح نے اپنی زندگی کے بقیہ ایام انتہائی کسمپرسی اور تنگ دستی میں گزارے-
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *