اکشر دھام مندر حملہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ پردھان منتری نریندر دامودر بھائی مودی کے منھ پر طمانچہ؟

پیراگراف 135:ریکارڈ میں درج شہادتوں اور حقائق کی بنیاد پر اوپر ہم نے جن امور کو سلجھا کر اس کا جواب دیا ہے اس بنا پر نیز اس عدالت کے ذریعہ قائم کردہ اصولوں کی بنیاد پر ہم اس بات پر کلی طور سے مطمئن ہیں کہ ملزمان اپنے خلاف لگائے الزامات کے تعلق سے بالکل بے قصور ہیں۔ ہماری رائے میں اسپیشل پوٹا کورٹ اور گجرات ہائی کورٹ کا حکم اس قابل ہے کہ اسے درکنار کر دیا جائے۔ چنانچہ ملزم اے2،اے4 اور اے6کو دی جانے والی پھانسی کی سزا، ملزم اے3 کو دی جانے والی عمر قید کی سزا، اور ملزم اے5کو دی جانے والی 10سال قید بامشقت کی سزا کو درکنار کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہم اپنے سامنے اپیل میں موجود تمام ملزمان کو باعزت بری کررہے ہیں، جس کے دلائل اس فیصلہ میں مذکور ہیں اور چونکہ ملزم اے1کو بھی انہیں بنیادوں پر مجرم ٹھہرایا گیا تھا جن کو ہم یکسر مسترد کرچکے ہیں، اس لئے ہم اے1 کو بھی بری قرار دیتے ہیں حالانکہ اس کی اپیل ہمارے سامنے نہیں رکھی گئ تھی۔۔۔ ہم اس کے خلاف الزامات کو رد کرتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ اپنی پوری کرچکا ہے۔ تاہم ہماری خواہش کہ ہم اس داغ سے اس کو نجات دلائیں جو اسے مجرم ٹھہرائے جانے اور غلط طورپر دہشت گردی کے الزام میں مجرم قراردئے جانے سے اس کے دامن کو داغدار کررہے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے خاندان اور معاشرے میں ہر شک و شبہ سے بالاتر ہوکر زندگی گزار سکے۔
پیراگراف 136:اس فیصلہ کو مکمل کرنے سے قبل ہم اس بات پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ اس قدر سنجیدہ اور اہم معاملہ میں جس سے ملک کی سلامتی اور وقار جڑا ہوا ہے، ایسے معاملہ میں تفتیشی ایجنسیوں نے انتہائی نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔ جن لوگوں نے اس قدر قیمتی جانوں کو ضائع کیا ان اصلی مجرموں کو پکڑنے کے بجائے پولیس نے بالکل معصوم innocent لوگوں کو پکڑ لیا اور ان پر انتہائی گھناؤنے الزامات اس طرح چسپاں کئے جس کے نتیجہ میں ان کو مجرم ٹھہرایا گیا اور سزا کا حقدار ٹھہرایا گیا۔
دستخط (ڈویژن بنچ سپریم کورٹ آف انڈیا)
جسٹس اے کے پٹنائک
وی گوپال گووڈا (16مئی، نئی دہلی)
مذکورہ بالا دو پیراگراف سپریم کورٹ کی ڈویژن بنچ کے ذریعہ کریمنل اپیل نمبر 2295-2296 آف 2010 پردئے گئے فیصلہ کے آخری جزء کا اردو ترجمہ ہے۔ اس اپیل کے مطابق 24، 25ستمبر 2002 کو گاندھی نگر واقع اکشر دھام مندر پر ایک فدائین حملہ میں 33 لوگ جاں بحق ہوگئے تھے۔ دونوں حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔ بعدازاںایک ایف آئی آر درج کرکے مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ جس میںمذکورہ بالا چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 2006ء میں اسپیشل پوٹا کورٹ نے تین ملزمان کو پھانسی، ایک کو عمر قید، ایک کو 10سال قید بامشقت اور باقی ایک کو 5سال کی سزا سنائی تھی۔ فیصلہ سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی بے گناہی کے دعوے کے ساتھ تمام ملزمان ہائی کورٹ گئے تھے۔ 2010ء میں گجرات ہائی کورٹ نے پوٹا کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے تین ملزمان کو پھانسی،ایک کو عمر قید، ایک کو 10سال قید بامشقت، اور ایک کو 5 سال کی سزا سنائی تھی۔اس وقت تک ایک ملزم اپنی سزا مکمل کرکے رہا ہوچکا تھا۔ باقی پانچ ملزمان سپریم کورٹ پہونچے جہاں 16 مئی کو سپریم کورٹ نے اپنا یہ فیصلہ سنایا۔
اتفاق دیکھئے کہ یہ وہی دن تھا جب ملک کی فسطائی طاقتیں گجرات کے قاتل نریندر بھائی مودی کی قیادت میں فتح عظیم کا جشن منارہے تھے۔ کہتے ہیں کہ قدرت کی مار میں آواز نہیں ہوتی اور جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے۔ویسے تو آرایس ایس اور بی جے پی کو ڈھٹائی اور بے شرمی کا طلائی تمغہ بھی کم رہے گا لیکن اکشردھام مندرحملہ معاملہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ممکن ہے ان میں سے کچھ لوگوں کو تھوڑی تو شرم آجائے۔ یہی وجہ ہے کہ کروڑوں روپیہ خرچ کرکے خریدے گئے الیکٹرانک میڈیانے کلی طور سے (بشمولndtv)اس خبر کا بلیک آؤٹ کیا۔ تاکہ نو منتخب پردھان منتری کو فضیحت سے بچایا جا سکے۔انتخابات کے دوران یک طرفہ تصویر دکھاکر عوام کو گمراہ کیا گیا تھا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی دراز ہوگا۔ فاسق و فاجر میڈیا کا یہ طرزِ عمل حق و انصاف کے منافی بھی ہےاور ان کی فسطائیت کا غماز بھی۔ اوررجت شرما (انڈیا ٹی وی) اور ان جیسے لوگ کے خبثِ باطن کو بھی ظاہر کرتا ہے جو مودی کے لئے مسلم پریم کو اجاگر کرنے کے لئے اسٹیج مینیجڈ شو کرتے ہیں لیکن اتنے بڑے معاملہ میں سپریم کورٹ کے اتنے اہم فیصلہ کو ڈکار جاتے ہیں۔ ہم ان سبھوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہوئے اپنے قارئین کو اس فیصلہ کی اہمیت سے روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اکشردھام مندر پر حملہ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اپنےجرم کو چھپانے کے لئے سلسلہ وار تشدد کا ایک حصہ ہے جس کو سرکاری مشینری نے انجام دیا اور الزام معصوم مسلمانوں پر ڈالا گیا۔ عشرت جہاں کیس کی طرح مودی نے اور ملک کے میڈیانے اس کو خوب اچھالاتھا۔ چھ لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ ان میں سے مفتی عبدالقیوم صاحب مدظلہ العالی ذی علم اور صاحب تقوی اور مسلمانوں میں مقبول شخصیت ہیں۔ ایک اور اہم شخصیت مولانا عبداللہ یسین قادری صاحب ہیں جو دریا پور کی مسجد کے برسوں سے مقبولِ عوم امام و خطیب ہیں۔ رہائی کے بعد راقم الحروف کی ان سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے محض پولیس کے مظالم کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا تو رونگٹے کھڑے ہوگئے اور مکمل تفصیلات تو وہ غیرت مند شخص شاید ہی کسی کو کبھی بتا سکے۔انہیں میں دو لوگ وہ ہیں جو کسبِ حلال کے لئے سعودی عرب میں مقیم تھے( جہاں سے ہندوستان کو غیر ملکی زرِ مبادلہ کی خطیر رقم ملتی ہے لیکن جو ایجنسیوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور اب سعودی جانے والا ہرجوان ایک ممکنہ دہشت گرد دکھائی دینے لگا ہے۔بھلا جنہیں ماتا جی دانے دانے کو ترسا دیں انہیں کوئی دوسرا خود کفیل کیوں بننے دے!)ایک بے چارہ محنت کش رکشہ چلانے والا، اور ایک بریلی کا رہنے والا مکینک جس نے جموں میں اپنی ورکشاپ کھول رکھی تھی۔اس مختصر سے پس منظر کے بعد اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کا مذکورہ بالا حصہ پھر پڑھیے، آپ اسی نتیجہ پر پہونچیں گے کہ:
1۔ سپریم کورٹ نے سارے ملزمان کو باعزت بری کیا ہے۔ ثبوتوں کی کمی یا شہادتوں کے سلسلہ میں جھول کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ کہہ کر بری کیا ہے کہ یہ لوگ معصوم innocentہیں۔ الحمدللہ
2۔ سپریم کورٹ نے اسپیشل پوٹا کورٹ اور گجرات ہائی کورٹ کے فیصلہ کو یکسر مسترد کریا ہے۔
3۔سپریم کورٹ نے نہ صرف اپیل کنندگان کے خلاف تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے بلکہ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جس ملزم اے1 نے اپیل نہیں کی تھی اس کو بھی بری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
4۔ اس اقدام کی توجیہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ان تمام کے اوپر سے ملک دشمنی اور دہشت گردی کے الزامات کا داغ اس طرح دھل جائے کہ وہ ہر شک وشبہ سے بالاتر ہوکر معاشرے میں ایک سکون کی باعزت زندگی جی سکیں۔
5۔سپریم کورٹ نے واضح طور سے کہا ہے کہ اصل مجرموں کو نہیں پکڑا جاسکا۔
6۔ سپریم کورٹ نے گجرات پولیس کے طرزِ تفتیش پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ان کی تفتیش پر سوالیہ نشان لگایا ہے اور واضح طور سے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ اپنے اختیارت کا غلط استعمال کرتے ہوئے معصوموں لوگوں پر ایسا قانونی شکنجہ بنایا کہ دو دو کورٹیں ان کے جھانسے میں آگئیں اور موت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کا حکم تک دے ڈالا۔
پونے تین سو صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ اپنے دامن میں بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان ایسے مقام پر بیٹھے ہوئے ہیں جہاں ایک ایک لفظ مول تول کر بولنا پڑتاہے اور اس کے اثرات بہت دور تک مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس قدر واضح انداز میں ان تمام کو باعزت بری کرنا اور گجرات پولیس کو موردِ الزام ٹھہرانااپنے آپ میں بہت سنگین بات ہے۔ عام طور سے عدالت کسی ذیلی عدالت پر کوئی تبصرہ نہیں کرتی، مگر بین السطور میں اسپیشل پوٹا کورٹ اور گجرات ہائی کورٹ پر بھی بہت کچھ کہہ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کئی چہرو ں کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ گجرات میں مسلمان خواص، علماء، عوام، محنت کش، عورتیں غرض ہر طبقہ کس طرح ریاستی جبر کا شکار ہوئے ہیں اور میڈیا، پولیس اور عدالتی جبر کی چکی میں مسلسل پس رہے ہیں، یہ فیصلہ ان سب پر سے پردہ اٹھاتا ہے۔ نہ صرف یہ فیصلہ بلکہ اس سے قبل بلقیس بانو کیس کی گجرات سے باہر منتقلی اور ملزمان کو سزا، بیسٹ بیکری کیس کی گجرات سے باہر منتقلی اور ملزمان کو سزا، ہرین پانڈیا کیس میں 80 سے زیادہ لوگوں کا بری ہونا اور اس کے والد کے ذریعہ نریندر مودی کو ہی قاتل ٹھہرانا اور اس کے باوجود حیدرآباد، بہار، بنگال، اترپردیش، مدھیہ پردیش اور دہلی تک سے مسلم نوجوانوں کو جھوٹے کیسوں میں پھانس کر گجرات کی جیلوں میںبرسہا برس تک سڑانا شاید ہٹلر کے گیس چیمبر کو مات دے دے۔ وہاں تو چند ساعت تڑپ کر انسان جان دے دیتا تھا لیکن یہاں ہر لمحہ ایک نئی موت سے سابقہ ہے۔ اگر کوئی کمرِ ہمت باندھے اور بکھری ہوئی ان داستانوں کو جمع کرے تو نظر آئے گا کہ گجرات چھوٹے پیمانے پر میانمار، سنٹرل افریقہ اور فلسطین کےطرز کی لیبارٹری بن چکا ہے۔ اور ان سب کے پیچھے مودی اور امت شا کاہ دستِ غیب ہی نظر آتا دکھائی دیتا ہے۔
عدالت کے ہاتھ تو بندھے ہوتے ہیں۔ اس کے سامنے جو معاملہ آتا ہے اس کے قانونی پہلوؤں پر ہی اسے اپنی رائے دینی ہوتی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ فدائین حملہ کے مجرم نہیں تھے تو آخر کس نے اس واقعہ کو انجام دیا جس کی جانب کورٹ نے یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ اصلی مجرم نہیں پکڑے جاسکے؟پولیس نے آخر کس طرح ان معصوموں کے خلاف ثبوت اکٹھا کئے۔ کیوں ان پر تھرڈ ڈگری سے بھی زیادہ گھناؤنے تشدد کے ذریعہ بوگس اقبالیہ بیان اگلوائے۔ اردو نہ جاننے والوں سے خطوط کی تصدیق کیسے کرائی۔ پہلے سے قید لوگوں کو بعد میں گرفتار کیوں دکھایا؟ صاف محسوس ہوتا ہے کہ اکشردھام حملہ کو انجام دینے والوں سے پولیس واقف تھی اور ان کو بچانے اور چھپانے کے لئے ہی پولیس نے ان معصوموں کو پھنسایا اور بے پناہ تشدد سے اپنے من پسند بیانات حاصل کئے۔
جیسا کہ مفتی عبدالقیوم صاحب نے رہائی کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم کو جھوٹے طور سے پھنسانے والا ڈی جی ونجھارا(اعلٰی گجرات پولیس افسر) جیل میں ہمارے ساتھ ہی تھا۔ اس نے کئی بار ہم سے معافی مانگی اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔ونجھارا مودی اور امت شاہ کا بہت قریبی تھا۔ اور زیادہ تر جھوٹے انکاؤنٹر اور جھوٹے کیسز میں اسی کا استعمال کیا گیا۔ اور مقصد براری کے بعد اپنے رازوں پر پردہ ڈالنے کے لئے اس سمیت 32 اعلی پولیس افسران کو سڑنے کے لئے جیل میں چھوڑ دیا گیا۔کیوں نہ ان خاطی پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کراکر کسی غیر جانب دار ایجنسی سے (خواہ وہ غیرملکی ہی کیوں نہ ہو)اس کی تفتیش کرائی جائے تاکہ اصل مجرمان کا چہرہ بے نقاب ہوسکے؟ !!!
جمعیۃ العلماء اس کے لئے مبارک باد اور تہنیت کی حق دار ہے کہ اس نے اپنے ان مظلوم بھائیوں کی دادرسی میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور جیسا کہ ہمارے وکیل دوست خالد شیخ نے بتا یا کہ پوٹا کورٹ سے سپریم کورٹ تک بہتر سے بہتر انداز میں ان کی پیروی کی اور بالآخر مگر مچھ کے جبڑو ں سے اپنے ان بھائیوں کو عزت کی زندگی کے طرف کھینچ لائے۔البتہ میں بہت عاجزی سے ایک بات مولانا ارشد مدنی صاحب کے گوش گذار کرنا چاہتاہوں کہ آپ معاوضہ کے لئے سپریم کورٹ ضرور جائیں لیکن ہندوستانی قانون میں اس تعلق سے کوئی خاص پروویژن نہیں ہونے کے باعث وہاں سے چند ٹھیکروں کے سوا کچھ نہ ملے گا جو شاید ان معصومین کے کرب کی ایک رات کا بھی معاوضہ نہ بن سکے۔ البتہ سپریم کورٹ میں خاطی پولیس افسروں اور ان کی سرپرست گجرات سرکار کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست بھی ضرور دی جائے اور اگر وہاں سے کچھ معذرت ظاہر کی جائے تو کسی بین الاقوامی کورٹ میں اس معاملہ کو اٹھایا جائے کیونکہ یہ معاملہ سرحدوں سے ماورا انسانیت کی نجابت و شرافت کا ہے۔اور انسانیت کی طرح انصاف کو بھی سرحدوں میں محصور رکھنا خلافِ عقل و دین ہے۔
دوسری جانب اس فیصلہ کی تفصیل کی امکانی حدتک تشہیر کی جائے۔ ممکن ہو تو پورے فیصلہ کا ترجمہ شائع کیا جائے۔ ملت کو بیدار کیا جائے۔ ملت کو آمادہ کیا جائے کہ اپنے عظیم بھائیوں کے ساتھ نصرت کا معاملہ کرتے ہوئے ان کے دکھوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے۔ اور آئندہ کے لئے ملت کو تیار کیا جائے کہ وہ اپنی ملت کے ہر شخص کے دفاع کے لئے چٹان بن کر کھڑے ہوجائیں جن پر حکومت ظالمانہ طورپر ہاتھ ڈالے۔ یہی دینی، ملی اور قومی تقاضہ ہے۔ملت میں اس شعور کو عام کیا جائے کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے اور اللہ تعالی اپنے مظلوم بندوں کی غیب سے مدد کرنے پرپوری طرح قادر ہے۔ ملت توبس صبر کے ساتھ ظلم کے خلاف ڈٹی رہے۔ ان شاء اللہ بہت جلد اچھے دن آنے والے ہیں۔
پورے ملک میں آج بھی سیکڑوں انتہائی پڑھے لکھے، ذہین و فطین، فخر ملت نوجوان جیلوں میں سڑائے جارہے ہیں۔ گجرات، مہاراشٹر، ایم پی، یوپی، بہار، کرناٹک، حیدرآبادو دیگر مقامات پر سیکڑوں بھائی ملی حمیت و غیرت کی سزا بھگت رہے ہیں۔ جس طرح ان چھ لوگوں کا اصلی جرم یہ تھا کہ انہوں نے گجرات قتل عام سے متاثر افراد اور خاندانوں کی مدد میں اپنے آپ کو کھپا دیا تھا اور مثالی قربانیاں پیش کی تھی جس سے جل کر گجرات حکومت نے یہ انتہائی اقدام کیا تھا، اسی طرح ان نوجوانوں نے بھی مختلف اوقات میں اپنی دینی و ملی حمیت کا اظہار کیا تھا جس کی قیمت انہیں اپنی مظلومیت سے چکانی پڑ رہی ہے۔ یہ ظالم قتل بھی کرتے ہیں، زخم بھی دیتے ہیں اور ان کے تئیں ہمدردی کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ اس ظلم کے خلاف عدالتی چارہ جوئی اور سیاسی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایک عوامی بیداری مہم چلائی جائے اور ملت کے ساتھ ساتھ ملک کے امن پسند عوام اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو بدلائل یہ بات بتائی جائے کہ اصل دہشت گرد کون ہیں، مسلمان یا گجرات حکومت؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *