ایک عالم دین کی خدمت میں

(یہ خط مولانا عطاء الرحمان وجدیؔ صاحب نے بڑودہ جیل سے اس وقت لکھا تھا جب گودھرا کانڈ سے چند ماہ پہلے ایک تعلیمی مذاکرہ سے قبل انہیں 124 لوگوں کے ہمراہ قید کرلیا گیا تھا۔ یہ خط جہاں مولانا کے عزم و حوصلہ اور بصیرت کا غماز ہےوہیں اس کے پڑھنے سے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ مولانا نے جس فتنہ کا اس وقت چھوٹی سطح پر ذکر کیا تھا وہ اب ایک عفریت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گویا حالات ایک دم سے تبدیل نہیں ہوئے بلکہ دیکھنے والی نگاہیں اس بہت پہلے تاڑ چکی تھیں۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم بیدارہوں اور برسرِ پیکار ہوں۔ ادارہ)

از : بڑودہ سینٹرل جیل گجرات 10ستمبر2002عیسوی
مکرمی ومحترمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام مسنون! مزاج مقرون
جیساکہ آپ واقف ہوں گے،میں یہاں زائدازآٹھ ماہ سے،زندگی کےلمحات گذار رہا ہوں۔ میرےساتھ چندنفوس اوربھی ہیں،جومیری ہی طرح ناکردہ خطاؤں کی پاداش میں قیدوبند سے دو چار ہیں۔ہماراایک تعلیمی مذاکرہ کےلیےجمع ہوناارباب حکومت کواتنا خطرناک محسوس ہواکہ ارتکاب جرم یعنی مذکورہ سمینارکےانعقادسےقبل ہی سب کوبلاوجہ گرفتارکرلیاگیااوراس کےبعد سےاب تک عدالتوں میں ہمارےلیےانصاف مفقودہے۔ پولیس نے جوکیا سوکیا،اس کی تفصیل کایہ خط متحمل نہیں ہے۔آپ سےدرخواست ہےکہ ہم سب کی باعزت رہائي کےلیےدعاکریں،ہمارےباقی سترساتھی ایک دوسری جیل میں ہیں اس طرح ایک سوچوبیس کی تعدادمیں ہم لوگ ماخوذہیں۔
میرےاس خط کا مطلب آپ کوذاتی احوال سےواقف کرانایاکسی کام کےلیےزحمت دینا نہیں ہے۔آپ کی مصروفیات اورصحت کی کمزوری کودیکھتے ہوئےیہ بھی مناسب نہیں لگتاکہ مراسلت جاری رکھی جائے،اس کےباوجودیہ خط ملت کی اجتماعی حالت کےپس منظرمیں تحریرکررہاہوں۔ آپ سےتعلق خاطرکی بناء پرمیری یہ جسارت بےجانہ ہوگی کہ طبقۂ علماء کےموقرترجمان کی حیثیت میں آپ کو مخاطب ٹھہراؤں۔ توقع ہےکہ تجاوزات کوغیرشعوری اورمبنی برخلوص سمجھ کرنظراندازفرمادیں گے۔
میں ان لوگوں میں سےہوں جنہوں نےہوش سنبھالاتوتقسیم ملک اورآزادی کےنام پر بر صغیر میں ایک ہنگامۂ عظیم برپاتھا ۔قوم، مذہب اورسیاست کےنام پرانسانیت اوراخلاق کی دھجیاں اڑائی جارہی تھیں اورانتقام کی سیاست نےچنگیزوہلاکوکی یادیں تازہ کررکھی تھیں۔لاکھوں گھروں کی طرح میراگھربھی اجڑااورمیراخاندان بھی تقسیم ملک کےساتھ تقسیم ہوگیا،اس وقت سےلےکراب تک ایک سال اورایک مہینہ بھی ایسانہ گذراجس میں یہ محسوس کیاجاسکے کہ لوگوں نےراستے تبدیل کرلیے۔
اس نصف صدی میں جولوگ سب سےزیادہ خسارےمیں رہےوہ ہندوستان کےبدنصیب مسلمان ہیں۔جنہیں سب سےبڑھ کرنقصان اٹھاناپڑااور اس کےبعدبھی کچھ نہ مل سکا،نہ فی الحال کوئي ایسی توقع کی جاسکتی ہے۔یہاںگجرات میں جن لوگوں کا اقتدارہےوہ خودکواس ملک کاتنہامالک سمجھتے ہیں،اسلام اورمسلمانوں سےنفرت کی بنیاد پرہی انہوں نےاپنی سیاست کامحل تعمیرکیا۔اس ریاست کو وہ اپنے مذموم ارادوں اورخطرناک منصوبوں کی تجربہ گاہ قرار دیتے ہیں۔ پچھلےدنوں ان دیواروں کے باہرجوکچھ ہواوہ کسی قیامت صغری سےکم نہ تھا۔ہزاروں مسلمانوں کوقتل کردیاگیا، بستیاں اجاڑدی گئیں، جگہ جگہ عفت وعصمت کی ردائيں چاک کی گئيں۔دولاکھ سےزیادہ بےیارومددگارافراد کیمپوں میں پناہ لینے پرمجبور ہوئے۔یہ سب کچھ ریاست کےوزیراعلی کےایماء پراورانتظامیہ کی شرکت وتعاون سے ہوا،تقریباًدوماہ تک حالات بےقابورہےاورآج بھی ان کوکسی طرح اطمینان بخش نہیں کہاجاسکتا پس یہ حالات ہی میرےاس عریضہ کااصل محرک ہیں۔میں چاہتاہوں کہ میرےیہ احساسات آپ تک اور آپ کےواسطےسے طبقۂ علماء تک منتقل ہوجائیں۔وقت تیزی سےگذررہاہےاورمجھےنہیں معلوم کہ عرصہ اسیری کہاں تک درازہوگا۔ادھرایسالگتاہےکہ آنےوالاہر دن گذرےہوئےدنوں سےزیادہ ناخوشگوارہوسکتاہے۔ہماراتغافل مجرمانہ حدوں میں داخل ہوچکاہے، اب حالات سے ناواقفیت کا عذر تجاہل عارفانہ کےعلاوہ کچھ نہیں ہے۔
اللہ تبارک وتعالی نےاس امت کی ترکیب اورتشکیل میں علمائےدین کوایک خاص مرتبہ عطا فرمایاہے۔مگریہ مرتبہ برہمنوں اورپاپاؤں جیسانہیں ہے،یہ اعزازجوعلماءکرام کوبخشاگیاہےذمہ داریوں کابوجھ بھی ہے۔قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ١ؕ (القرآن)فضل وشرف کے اعتبار سےبھی ہےاورذمہ داریوں کی نسبت سے بھی،اب مجھے اصرارہے کہ اس بات کا ہرگز جواز نہیں کہ علماء دین اپنی فضیلت وبرتری کےمدعی توہوں مگراپنی ذمہ داریوں اورمنصبی نزاکتوں کومحسوس نہ کریں۔یہ اندازفکرنہ تودنیامیں معتبرہےاورنہ ہی آخرت میں مقبول ٹھہرےگا۔اللہ ان علماء حق کی قبروں کو نور سے بھردےجنہوں نےاپنے علم کی صحیح قدردانی کی اوراپنےعمل سےایک ایسی تاریخ مرتب کی جس پر بجا طور پرہمیں نازہے۔ ہم ان علماءکرام کوحکمرانوں سے بڑھ کرقدرومنزلت کا اہل قرار دیتے ہیںبلکہ کتنےہی بادشاہوں کوان کےمقابل حقیراورناپسندیدہ ٹھہراتےہیں۔ لیکن یہ اٹل حقیقت ہےکہ “تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ(القرآن)ہمارےعلماءدوسروں سےزیادہ اس آیت کوپڑھتےاور سمجھتےہیں،اسلئےمحض اشارہ کافی ہے۔میرےخیال میں اس بحث میں پڑنےکی ضرورت نہیں ہےکہ وطن عزیزمیں اسلام اورمسلمانوں سےدشمنی رکھنےوالےکتنی تعدادمیں ہیں۔مختلف اندازےہوسکتےہیں،بعض لوگ انہیں مٹھی بھرافرادکہہ کرریت میں سرچھپانےکی کوشش کرتے ہیں، بعض “اکثریت”سمجھ کرخوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن فی الحال ان کی راہ روکنےکےلیےنہ توہم آگےبڑھ پارہےہیں نہ ہی کوئي اورایسی قوت میدان میں ہےجس پراعتمادکیاجاسکے،ان لوگوں کے ارادے، منصوبےاورخیالات کیاہیں؟غالباًاس بارےمیں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں رہی۔ گذشتہ تقریباًبیس سالوں میں توکوئي برائےنام حجاب بھی نہیں رہاجس کوخوش فہمی کا بہانہ بنایا جاسکے۔
جولوگ سن کربھی نہ سن رہےہوں اوردیکھ کربھی نہ دیکھتےہوں انہیں چھوڑدیجیےکہ اندھے بہروں سےکیاکہیں ،ورنہ یہ ظاہرہےکہ اب معاملہ کسی ایک منکرکومٹانےیاکسی ایک مردہ سنت کوزندہ کرنے کا نہیں،کسی ایک مسجدیاقبرستان کاتنازعہ نہیں،شریعت کےکسی حکم کوقائم رکھنےکامسئلہ نہیں،بلکہ دین وملت کے پورے وجود کوبچانےاورقائم رکھنےکاہے۔ ہندوفرقہ پرستی اورجارحیت جس کا نیا نام “ہندوتو “رکھا گیا ہے،کےعلمبرداروں کوطاقت کا نشہ چڑھاہوا ہےاوروہ فرعونی اندازمیں” اناولاغیری “کہہ رہے ہیں۔ انصاف واخلاق اورانسانیت وشرافت کی کوئي حدنہیں جس کاپاس ولحاظ وہ مسلمانوں کے بارےمیں رکھتےہوں۔اپنےناپاک مقاصدکے لیےیہ لوگ کسی بھی اصول کی خلاف ورزی جائز سمجھتے ہیں۔ بڑے سے بڑاجھوٹ بول سکتےہیں، قول وقرارکی پابندی کےتوان کےیہاں کوئي معنی پہلےبھی نہیں تھے۔یہ لوگ صرف ایک ہی زبان سمجھتے ہیں۔سوئےاتفاق کہ عالمی سطح پربھی الحادی تہذیب اورسرمایہ داری نظام اپنی زبردست مادی قوتوں کےبل پرعالم اسلام کونشانہ بنائےہوئےہے۔وطن عزیزمیں یوں تو متعدد پس ماندہ اقوام اورطبقات مظلومیت سےدوچارہیں اورایک مخصوص طبقہ کی سیاسی واقتصادی اجارہ داری قائم ہےمگرملت اسلامیہ کاحال سب سےزیادہ تشویش ناک ہے۔ہندوستان میں اسپین کی تاریخ کو دہرانےکےمنصوبےزیرعمل ہیں،خونریزی وعصمت دری کےروح فرسا مناظر ہیں، انصاف اورقانونی تحفظ سےمحرومی ہے، الزام تراشیوں اورذہنی وجسمانی اذیتوں کاتسلسل ہے،حتی کہ براہ راست مساجد و مدارس پرحملےہیں،قرآن مقدس کی بےحرمتی ہے۔اس کےبعدذلت وخواری کے ساتھ جینے اور مرجانے کےسوابچاہی کیاہےجس پرقناعت کی جاسکے؟ہماری طرف حقائق سےچشم پوشی،بےحسی اورانتشارکاعالم ہے،مسلکوں کی ترجیحات، بےجا تعصبات، سیاسی بےچارگی اوراخلاقی بےراہ روی نےہمیں کہاں سے کہاں تک پہنچادیاہے،اس کااندازہ بآسانی کیاجاسکتاہے۔ یہی وجہ ہےکہ پندرہ کروڑسےزائدکی تعدادپرمشتمل ایک ملت کی غیرت کوللکاراجارہاہے۔
ان حالات نےطبقہ علماء کوعندالناس اورعنداللہ جواب دہی کےمقام پرلاکھڑا کیا ہے۔میں یہ نہیں کہتاکہ علماء بالکل خاموش ہیں یاانہیں احساس نہیں ہے یاوہ کوئي خدمت انجام نہیں دے رہے ہیں، اگرکوئي ایسا کہتاہےتویقیناًغلط کہتاہے۔مگراس تلخ حقیقت سےانکارنہیں کیاجاسکتاکہ صفیں کج، دل پریشاں اورسجدہ بےذوق کی حالت سےدوچارہیں۔جوکام سیسہ پلائی ہوئي دیواربن کرانجام دینے کےہیں وہ اس طرح نہیں کیےجاسکتے۔ملکی سطح پرتوکجاصوبائی سطح پربھی ہمارےدرمیان بالفعل اولی الامر جماعت اورسمع وطاعت کانظام نہیں ہے،بس ردعمل کےطورپرمعمولی سی چیخ وپکاراور انصاف طلبی کی فریادیں ہی ہماراسرمایۂ حیات بن کررہ گئی ہیں۔ ہرشخص سیلاب کو اپنے دروازے پر روکنے کا خواہشمند ہے،حریفوں کےبنائےہوئے میدان میں ناکام مقابلہ آرائياں ہیں۔ زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ ہوتی جارہی ہے۔جیسےخدانخواستہ ہم لوگ موت کےانتظارمیں جی رہے ہیں۔
بات طویل ہوجانےکے‍ خوف سےمختصرکرتےہوئےگزارش کرتاہوں کہ اےعلم کتاب و سنت کےامانت دارو!اورنیابت رسول کی خدمت سے موصوف ذمہ دارو!خدارامل بیٹھ کر آنے والے طوفان باطل سےدفاع کےلیے کچھ سوچو،آپ کاعزم ملت کاعزم کہلائےگا،اے اتحاد ملی کی اہمیت یاد دلا نے والو!خود متحدومنظم ہوکردکھاؤ۔
یہ گھڑی محشرکی ہےتوعرصۂ محشرمیں ہے پیش کرغافل عمل کوئي اگردفترمیں ہے
یقیناًحالات کی ناسازگاری اورملت کی کمزوریاں کسی بڑی معرکہ آرائي کی اجازت نہیں دیتیں مگریہ کچھ نہ کرنے کے لیےجواز بھی نہیں ہیں۔
یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا نہیں پابند بہارہوکہ خزاں لاالہ الااللہ
یہ دوراپنےبراہیم کی تلاش میں ہے صنم کدہ ہےجہاں لاالہ الااللہ
والسلام

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *