برونائی میں شرعی نظام کانفاذ مسلم دنیامیں بیداری کی لہر نے حکمرانوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیاہے

جنوب مشرقی ایشیا کے ملک برونائی دار السلام کی جانب سے ملک میں شرعی قوانین کے نفاذ کے اعلان نے پوری دنیا کے اسلام مخالف عناصر کو مضطرب کر دیا ہے۔ یہ قوانین تین مرحلوں پر مشتمل ہیں۔ پہلے مرحلہ میں جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جائیں گی، جب کہ دوسرے مرحلہ میں اعضا کاٹنے کی سزائیں شامل ہیں۔ تیسرے مرحلہ میں زنا اور ہم جنس پرستی پر سنگ ساری کی سزائیں دی جا سکیں گی۔ برونائی ایک مسلم ملک ہے اور اس کے ۶۷ سالہ حکمران حسن البولقیا کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق دین داسلام کے تحت یہ اقدام ضروری تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ’نظریات کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے‘ کہ شرعی سزائیں ظالمانہ ہیں، ’نظریہ یہ ہے کہ اللہ کے قوانین ظالمانہ اور غیر منصفانہ ہیں لیکن اللہ نے خود کہا ہے کہ حقیقت میں اسی کا قانون منصفانہ ہے‘۔ برونائی کی ۷۰ فیصد آبادی نسلی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور یہ آبادی شرعی قوانین کے نفاذ کے حق میں ہے۔
برونائی عالم اسلام کے خوشحال ممالک میں سے ہے۔ ۱۹۸۳ء میں برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد برونائی ایک خود مختار ریاست کے طور پر سامنے آیا۔ اس ملک کا ستر فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ صرف تین فیصد حصے پر زراعت ہوتی ہے اور اس میں بھی زیادہ پر چاول کی کاشت کی جاتی ہے۔ برونائی کی خوشحالی کا سبب تیل اور گیس کی فراوانی ہے، جس کے باعث برونائی میں فی کس آمدنی بہت زیادہ ہے۔
بظاہر عالم اسلام اور اس کے معاملات سے کوئی خاص دلچسپی نہ رکھنے والے اس ملک نے اپنی حدوں میں شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کرکے پوری دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی یہاں اسلامی قانون نافذ تھا جس میں شراب پر پابندی کے علاوہ عائلی اور دیگر معاملات کے فیصلہ شرعی قوانین کے مطابق کیے جاتے تھے۔ برونائی کی جانب سے اسلامی قوانین کے نفاذ نے مغرب کو انتہائی پریشان کر دیاہے۔ مغربی ممالک کیجانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی خاص رد عمل سامنے نہیں آیا لیکن ان ممالک کے زیر اثر اسلام مخالف تنظیموں اور افراد کی جانب سے اس کی مخالفت سامنے آچکی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مختلف شعبوں میں کاروبائی، مالی اورمشاروتی معاونت فراہم کرنے والے بین الاقوامی گروپ’ورجن‘ کے سربراہ رچرڈ برینسن نے اعلان کیا ہے کہ آج کے بعد ان کی کمپنی کا کوئی ملازم یاخاندان کا کوئی فرد برونائی دارالسلام کے بادشاہ کے ہوٹل میں قیام نہیں کرے گا۔ ان کا ادارہ ایسے کسی بھی ادارے کے ساتھ کاروباری تعلق نہیں رکھے گا جس کا حسن البولقیا سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ میں حقوق نسواں کی علم بردار تنظیم’فیمینسٹ‘ نے بھی نیویارک میں حسن البولقیا ہی کی ہوٹل میں منعقدہ سالانہ عالمی حقوق نسواں ایوارڈز کی تقریب منسوخ کر دی ہے۔ ابھی تو آغاز ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے۔
ہر معاملہ میں مغرب کے اپنے ہی معیارات رہے ہیں۔ جمہوریت، اظہار رائے اور فرد کی آزادی وغیرہ ایسے معاملات ہیں جن کے متعلق مغرب نے ہمیشہ سے دوہرا معیار اپنایا ہے۔ مصر میں جمہوریت کے قتل عام اور فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کے متعلق مغرب کے معیار تو ہمہ دیکھ ہی چکے ہیں۔ مغرب بھی جمہوریت کی یہی تعریف کرتا ہے کہ اکثریت کی بات کومانا جائے اور اسے قانون بنادیاجائے۔ اگر امریکیوں کی اکثریت ہم جنس پرستی اور شراب وغیرہ کے حق میں ہے تو مغرب اپنے ہی وضع کردہ اصولوں کے مطابق پابند ہے کہ وہ اسے ہی قانون بنائے جو عوام چاہتے ہیں۔ لیکن اگر یہی طرز عمل مسلم ممالک اپنائیں اور وہاں کی آبادی اسلامی قوانین کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہے تو یہاں مغرب کا معیار تبدیل ہو جاتاہے۔ اگر برونائی کے عوام اسلام قوانین کے نفاذ کے حق میں ہیں تو دیگر ممالک اور بیرونی نام نہاد تنظیموں کو کیا تکلیف ہے؟
یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ برونائی کے حاکم نے ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیوں کیا؟ اعتراض کیا جاتا ہے کہ سلطان برونائی دنیا کے امیر ترین حاکم ہیں اور ایک پر تعیش زندگی گزرا رہے ہیں۔ ان کی بیٹی کی شادی کی تقریب کو اس حوالے سے خوب موضوع بحث بنایا گیا تھا۔ اگر اس کو عرب بہار کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عرب بہار نے پوری اسلام دنیا کو متاثر کیا ہے۔ مشرق بعید کے اسلامی ممالک کے عوام بھی اسلام پسند ہیں اور دیکھا جائے تو ان میں اسلامی اقدار اور روایات دیگر کئی اسلامی ممالک کے مقابلہ میں گہری اور مضبوط ہیں۔ عرب بہار نے ان ممالک کو بھی کسی حد تک متاثر کیا اور عین ممکن تھا کہ ان ممالک میں اسی طرز کی کوئی تحریک شروع ہوتی۔ اس وقت پوری امت مسلمہ میں بیداری کی لہر چل رہی ہے۔ فلسطین، پاکستان، مصر، ترکی، افغانستان، کشمیر وغیرہ کی اسلامی تحریکوں نے پوری دنیا کے مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کو یہ باور کروا دیا ہے کہ اسلام ایک حقیقت ہے،اسلامی نظام کا نفاذ بھی ممکن ہے۔ چند مسلم ممالک اس بات کو محسوس کرکے اپنے آپ کو اس کام کے لیے تیار بھی کر رہے ہیں۔ (بشکریہ انقلاب)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *