شنجیانگ : انتہاپسندوں کومشروط معافی کی پیشکش

مسلم اکثریتی شورش زدہ شنجیانگ صوبہ میں شدت پسند علیحدگی پسندوں کے خلاف کاروائی کوآگے بڑھاتے ہوئےچین نے شدت پسندوں کو معافی کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہےکہ اگر وہ خود سپردگی کردیتے ہیں تو انہیں کم سزادی جائےگي۔
سرکاری خبررساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق چین کے شمال مغربی شنجیانگ اوئغورخود مختارخطہ کے قانونی،عدالتی اور تحفظ عامہ اتھارٹیوں نے کل رات ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل لوگوں سے اپیل کی کہ اگر وہ خود سپردگی کردیتے ہیں تو انہیں کم سزا ملے گي۔ اس بیان میں لوگوں سے کسی بھی دہشت گرد گروپ کے قیادت،قیادت کرنے یا اس میں شامل ہونے سے منع کیاگیا ہے۔یہ لوگوں کو دہشت گردانہ تشدد بھڑکانے یاپھیلانے سے روکتاہے۔یہ دہشت گردانہ سرگرمیوں،شدت پسندوں تنظیموں اورشدت پسندوں کو براہ راست یابالواسطہ طور پراقتصادی مدد، حمایت یاپناہ دینے سے بھی منع کرتاہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ جولوگ خودسپردگی کریں گے اور اچھا برتاؤ کریں گے،انہیں یا تو کم سزادی جائے گی یا پھر سزادی ہی نہیں جائے گی۔یہ نئی کوشش شنجیانگ کی راجدھانی ارومکی کے ایک مصروف مارکیٹ میں جمعرات کو خونریز دہشت گردانہ حملےکے بعدسامنے آئی ہے۔اس حملہ میں 43افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان دھماکوں کا ایک ملزم گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ دیگر چار دھماکوں میں مارے گئےتھے۔اس حملہ کے بعد چین نے دہشت گرد ڈھانچوں کےخاتمہ کے لیے ایک سالہ کاروائی شروع کی ہے۔اس حملہ کےلیے چین ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ(ای ٹی آئی ایم) کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔یہ تنظیم القاعدہ سےوابستہ ہےاورگزشتہ کچھ عرصہ میں کئي حملے کرچکی ہے۔ای ٹی آئي ایم شنجیانگ کی آزادی کےلیے لڑرہی ہے۔مسلم اوئغوروں کی اکثریت والے اس علاقہ میں ہان کمیونٹی کے لوگوں کی بڑھتی آبادی کی وجہ سےیہ علاقہ گزشتہ کچھ برسوں سے شورش زدہ ہے۔مسلم اوئغوروں کا الزام ہےکہ انہیں ان کےہی صوبہ میں حاشیہ پردھکیلا جارہاہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے جاری نئے بیان میں دہشت گردانہ تشدد اور مذہبی شدت پسندی سے وابستہ مواد تیار کرنے،اس کا کاروبار، نقل وحمل،تبلیغ،کاپیاں کروانے،اپنے پاس رکھنے اور انہیں الیکٹرونک طور پر محفوظ کرنے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔اسکے تحت بندوقیں،جنگی سازوسامان،آتش گیر دھماکہ خیزمادہ اور چاقو بنانے، کاروبار کرنے،ان کو لانے لےجانے پرسخت پابندی لگاتے ہوئے اسے ممنوع قراردیا گیا ہے۔یہ پابندی لوگوں کو غیرقانونی طور پرحدود پار کرنے یا دوسروں کو سرحدپارلے جانے کی منصوبہ بندی یا اس میں مدد کرنے پر بھی لگائی گئی ہے۔اس میں کہاگیا ہے کہ ان سرگرمیوں میں شامل لوگ اگر30دن کے اندر اندر خود سپردگی کردیتے ہیں تو انہیں بہت کم سزادی جائے گي۔یہ عوام کی حوصلہ افزائی کرتاہے کہ وہ ان مجرمانہ سرگرمیوں کی جانکاری حکام کو دیں۔جولوگ مجرموں کو پناہ دیں گے،انہیں قانون کے مطابق سزادی جائے گي۔(روزنامہ انقلاب،26مئ2014ء)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *