فسطائیت پر جمہوریت کی مہر تصدیق

ہٹلر، مسولینی اور چرچل جیسے قوم پرست رہنمائوں میں نریندر مودی کے نام کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ جارحانہ قوم پرستی نے مذکورہ لیڈروں کو عروج پر پہونچایا تھا۔ اور جمہوریت کے سہارے انہوں نے تخت و تاج کا سفر طے کیا تھا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ یہ لوگ انسانیت کے لئے ننگ و عار ثابت ہوئے۔ اور اب ہندوستانی جمہوریت نے اکثریتی جبر کی مثال قائم کرتے ہوئے ایک سنگھی پرچارک کو زبردست کامیابی دے کر ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔ ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اورغریبوں سے چھین کر امیروں کو مالامال کرنے والاشخص کہیں ہندوستان کے لئے فالِ بد تو ثابت نہیں ہوگا؟؟؟
یہ کوئی جذباتی یا انتہا پسندانہ سوچ نہیں بلکہ حالات کا حقیقی تجزیہ اور منطقی نتیجہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وکاس کے نعرے نے مودی کو عروج بخشا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس الیکشن میں ترقی کبھی موضوعِ بحث بن ہی نہیں سکی۔ ہندوستانی انتخابی تاریخ میں خرچے کے اعتبار سے سب سے مہنگا انتخاب ایشوز کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھٹیا معیار کا تھا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مودی اس غیر معیاری اور انتہائی گھٹیا الیکشن کے فاتح ہیں۔ گویا وہ اس میدان کے بڑے شہسوار ثابت ہوئے ہیں۔قرآنی تعبیر کے مطابق اسفلِ سافلین کی اس سے بہتر کوئی مثال نہیں ہوسکتی۔
وکاس کا نعرہ دے کر وناش پھیلانا جارحانہ قوم پرستی کے لیڈروں کا قدیم رویہ ہے۔ فرعون نے بھی جارحانہ قوم پرستی کے نام پر اپنی قوم کو اپنے گرد اکٹھا کیا تھا۔ دنیا میں وہ اپنے دور عروج میں اپنی فوج سمیت غرقِ دریا ہوا اور آخرت میں اس کے مقام پر قرآن کا یہ تبصرہ بہت پُر معنی ہے: یقدم قومہ یوم القیامۃ فاوردھم النار ( ہود: ۹۸) قیامت کے روز (بھی) وہ اپنی قوم کی قیادت کرے گا اور انہیں آگ میں لا گرائے گا۔۔۔ کچھ یہی خدشہ ہمارا مودی کے تعلق سے ہے کہ مودی کا انتخاب کرکے ہندوستانی قوم نے دنیا و آخرت میں اپنے لئے لعنت و پھٹکار اور آگ کا انتظام تو نہیں کر لیا؟
مودی کا عروج
مودی ایک انتہا پسندانہ سوچ رکھنے والی فسطائی تنظیم آر ایس ایس سے اس وقت سے جڑے ہوئے ہیں جب ان کی عمر محض ۸ سال تھی۔ اس نوخیز عمرسے ہی دھرتی ماتا ْکے لئے سب کچھ کر گذرنے کا جذبہ ان کے رگ وپے میں اس طرح سرایت کر گیا کہ سولہ سال کی جوش و جذبہ سے بھری عمر میں انہوں نے تیاگ کی ایسی مثال قائم کی کہ اپنی نئی نویلی دلہن کو منجدھار میں چھوڑ کر ہمالیہ کی راہ لی۔ سنگھ ہی ان کا پریوار اور اس کا پرچار ہی ان کا آچار ٹھہرا۔گویا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کہ سنگھ مودی کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔
اپنی اس فدویت اور فنا فی الفسطائیت کے سبب مودی اپنے گرئووں کی نظر میں ترقی کرتے چلے گئے یہاں تک کہ ایک دن انہیں ایک خاص مہم پر گجرات کا مکھیہ منتری بنا دیا گیا۔ مکھیہ منتری بننے سے پہلے مودی کبھی رکن اسمبلی بھی نہیں رہے تھے۔ یہ بات خود بتاتی ہے کہ کس طرح آرایس ایس ہی بی جے پی کو کنٹرول کرتی ہے۔ مودی کو وزیراعلی کیوں بنایا گیا اور مکھیہ منتری بننے کے بعد انہوں نے کس طرح اپنی ذمہ داری پوری کی یہ جاننا مفید مطلب ہوگا۔
گجرات ماڈل
دراصل ۲۰۰۱؁ء میں جب نریندر مودی کو سنگھ کے حکم پر کیشو بھائی پٹیل کی جگہ مکھیہ منتری نامزد کیا گیا اس وقت گجرات میں بی جے پی کی پہلی حکومت اپنی دوسری میعاد پوری کرنے کے قریب تھی اور اگلا الیکشن سر پر منڈلا رہا تھا۔ اس دوران بی جے پی کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی۔ عدم کارکردگی، لوٹ کھسوٹ، کرپشن، اندرونی خلفشار، یہاں تک کہ زلزلہ زدگان کے لئے مسلم ملکوں سے آئی ہوئی امداد کو بھی ڈکار جانے کے کھلے عام واقعات نے عوام میں بی جے پی کی ہوا اکھاڑ دی اور صاف محسوس ہورہا تھا کہ بی جے پی گجرات میں اپنی حکومت برقرار نہیں رکھ سکے گی۔ گجرات وہ پہلا ماڈل تھا جہاں دو بار بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تھی۔ اس پس منظر میں مودی کو لایا گیا اور انتخاب میں جیت حاصل کرنے کے لئے مودی نے مسلم دشمنی کا عفریت کھڑا کرکے ماحول کو ایسا پراگندہ کردیا کہ ہندو عوام اور مسلم عوام میں بٹ کر گجرات پورے طور سے مودی کا پشت پنا ہ بن گیا۔ اس پوری مہم کے دوران وکاس اور ترقی کے ماڈل کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ترقی تو گجرات کی پہچان مغلوں کے زمانہ سے رہی۔ اپنی بندرگاہوں، صاف شفاف رویہ، بھائی چارے اور ایماندارانہ مزاج کی وجہ سے صدیوں سے اپنا مقام بنانے والے گجرات کو مودی نے وکاس نہیں وناش کا ماڈل بنایا۔یہی وجہ ہے کہ اپنی فتح کے ساتھ ہی مودی نے اپنے لئے دہلی میں دس سال کا مینڈیٹ مانگا ہے۔ حالانکہ دستوری طور سے ہر پانچ سال میں الیکشن ہونے ہیں۔ گویا پانچ سال ہی میں حکومت کو اپنی کارکردگی دکھاکر اگلی میعاد کے لئے مینڈیٹ مانگا جاتا ہے۔ مگر مودی جی فرما رہے ہیں کہ جس ترقی کا ہم نے وعدہ کیا ہے وہ دس سال میں مل سکے گی۔ پانچ سال مع سود سرمایہ کاروں کے پیسے واپس کرنے کے لئے بھی کافی نہیں ہوں گے۔ پھر اگلے پانچ سال میں ترقی نہیں ہوسکی تو پھر دس سال بعد گجرات ماڈل دہراکر ملک میں فسطائیت کا ننگا ناچ ناچا جائے گا اور اصل ایشوز سے توجہ ہٹاکر پھر حکومت پر قبضہ برقرار رکھا جائے گا۔
ماحول کی پراگندگی کے بعد لاشوں کے تعفن کو روکنے کے لئے گجرات میں کچھ دکھاوٹی ترقیات کی گئیں۔ لیکن اس کی خاطر ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور دیگر غیر ملکی ساہوکاروںسے لاکھوں کروڑ روپے انتہائی سخت شرائط پر قرض لئے گئے جس کی تفصیلات اب سب کو معلوم ہیں۔ گجرات ماڈل پر اسی طرح کے کچھ جھن جھنے بانٹ کر عوام کو بے وقوف بنایا جائے گا، لیکن اس کا ادراک ہوتے ہوتے ملک تتر بتر ہو چکا ہوگا۔ مودی نے بڑے دعوے سے زی نیوز کو دئے ایک انٹرویو میں کہا تھاکہ اقلیتوں کی خوش حالی دیکھنی ہوتو دس دن گجرات میں آکر رہیں۔ حالانکہ ایک انگریزی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق ۱۶؍مئی ۲۰۱۴ء؁ کو احمدآباد کے جوہا پورا میں شادی کی ایک تقریب ماتم میں تبدیل ہوگئی جب مودی کی جیت کی خبر ٹی وی پر نشر ہوئی اور لوگوں نے غم کی شدت سے ٹی وی سیٹ بند کردئے۔ سچائی یہ ہے کہ مغلوں کے دور سے لے کر اب تک گجرات کو ایک ماڈل اسٹیٹ بنانے اور گجرات سے لے کر بمبئی کی بندرگاہوں کو ایماندارانہ تجارت کا Hubبنانے میں صرف اور صرف مسلمانوں کا کردار تھا۔ مودی نے مسلمان تاجروں کو تباہ و برباد کردیاہے۔اور آج گجراتی تجارت ہندئووں کے ہاتھ میں مکمل طور پر آجانے کے بعد اب گجراتیوں کی شہرت ممبئی میں وہی ہوگئی ہے جو دلی میں پنجابیوں کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سنگھ کا گجرات ماڈل وناش اور تباہی کا ماڈل ہے؛ اکثریتی جبر اور فسطائیت کا ماڈل ہے۔ گجرات کی ترقیٔ معکوس ہوئی ہے۔بہت ساری رپورٹیں اس پر گواہ ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ گجرات ماڈل سے کسی کوفائدہ پہونچا ہے تو وہ امبانی اور اڈانی ہیں نہ کہ ملک کے غریب عوام۔غریبوں کی سرکار کا چہرہ دیکھیں کہ ۵۴۳ ممبرانِ پارلامنٹ میں سے ۴۲۴ ممبران اعلانیہ کروڑپتی ہیں۔ ظاہر ہے اس میں مودی شامل نہیں ہیںجن کے ڈیزائنر لباس پر ماہانہ لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ مگر ان کا شمار غریب شہریوں میں ہی ہوگا۔اسی طر ح اس وکاس دھاری پارلامنٹ میں ۱۸۹ ؍ممبران پر مجرمانہ دفعات لگی ہوئی ہیں۔ ’اتفاق‘ سے مودی کا ان میں بھی شمار نہیں ہوگا کیوںکہ ہزاروں لوگوں کے منصوبہ بند قتل کے باوجود ان پر کوئی ایف آئی آر تک نہیں ہے۔
بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا
گجرات میں ماحول کی پراگندگی کے بعد مودی کی خود اعتمادی اس قدر بڑھ گئی کہ اس نے بڑے غرور سے یہ بات بر سرِ عام کہی کہ اسے مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جب سنگھ نے یہ محسوس کیا کہ اس کا مہرہ قومی سطح پر کار آمد ہو چکا ہے اور یہاں مسلمانوں کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا ممکن نہیں تو پھر اس بھیڑیے نے بظاہر بھیڑ کی کھال اوڑھ لی۔ حالانکہ کھال بدلنے کے باوجود چال بالکل بدل نہیں سکی۔ اور گاہے گاہے اس کا اظہار بھی ہو تا رہا۔مسلمان بھائیوں کی معاشی خوش حالی کی فکر کا اظہار کرتے ہوئے بنارس میں مودی جی نے گجرات کی ایک مثال پیش کی کہ مسلمان بھائیوں کی پتنگ سازی کے کاروبار کو ۳۵ کروڑ سے بڑھا کر ۲۰۰ کروڑ تک پہونچا دیا۔ حالانکہ وہ یہ بات چھپا گئے کہ مسلمان پتنگ ساز کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ وہ تو وہیں کے وہیں رہے البتہ بڑھی ہوئی اضافی آمدنی یعنی۱۶۵ کروڑ ہندو Traders نے اچک لی۔ مسلمان تو مزدور کا مزدور ہی رہ گیا۔ نیز وہ یہ بات بھی چھپا گئے کہ پتنگ سازی سے زیادہ باعزت پیشوں سے منسلک مسلمان کنگال تر ہوتے چلے گئے۔
وکاس کا نعرہ دینے والوں نے مظفر نگر اور دیگر مقامات پر بہائے گئے منصوبہ بند ناحق خونِ مسلم سے ووٹوں کی آبیا ری کے لئے امت شاہ جیسے مجرمانہ ذہنیت کے شخص کو یوپی بھیجا۔ اس پر لگی مجرمانہ دفعات کا ہی یہ شاخصانہ ہے کہ وہ شخص PMOمیں شامل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح فیض آباد میں اپنی پشت پر رام کی تصویر اور بنارس کو اپنی کرم بھومی بناکر مودی نے وکاس کا اصلی چہرہ ظاہر کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی ہے۔ الغرض مودی کی جیت وکاس کے نعرے کی نہیں بلکہ ــ’ہر ہر مودی‘ کے نعرے کی جیت ہے۔ اور ہندوستانی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ’ہر ہر‘ کا یہ نعرہ سب سے زیادہ کن مواقع پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح جیت کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں راج ناتھ نے یہ کہہ کر اپنی اصلیت ظاہر کردی ہے کہ Cultural Nationalismہمارے ایجنڈہ کا حصہ ہے۔ جاننے والوں کو یہ بتانے کی ضرور ت نہیں کہ تہذیبی قوم پرستیCultural Nationalismجارحانہ قوم پرستی کا ہی دوسرا نام ہے جہاں مسلمانوں کے دو ہی استھان رہ جاتے ہیں: قبرستان یا پاکستان۔ چنانچہ گری راج سنگھ نے بغیر خوف کے کھلے الفاظ میں اس کا اظہار کر بھی دیا ہے۔
لیکن مودی یا سنگھ کا یہ عروج صرف ایک سنگٹھن کی کوششوں کا ہی نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے عوامل نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بلکہ مودی کے عروج کا بڑا کریڈٹ انڈین نیشنل کانگریس کو بھی جاتا ہے۔
مودی کے عروج میں کانگریس کا کردار
مودی کا عروج گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کی راست دین ہے۔ اس وقت مرکز میں این ڈی اے کی حکومت تھی۔ گجرات کے قتلِ عام کے نتیجے میں ہی این ڈی اے کی وہ تصویر بنی جس نے انتخابات میں باجپائی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یو پی اے سرکار گجرات کی بدترین مسلم کشی کی ذمہ دار سرکار کو کیفرِ کردار تک پہونچاتی۔ مگر کانگریس نے مودی کے گرم ہندتوا کا مقابلہ کرنے کے لئے نرم ہندتوا کھڑا کیا اور گجرات میں اپنی کمان شنکر سنگھ واگھیلا کے ہاتھ میں دے دی جو خود ایک کہنہ مشق سنگھی ہے۔ نرم اور گرم کی لڑائی میں گرم ہی حاوی رہا۔ کھلے شواہد کے باوجود مودی کے خلاف ایک ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی۔ ایک مجرمانہ سرگرمی رکھنے والے کے انکاونٹر کے خلاف ۳۲ ؍اعلی پولیس افسران کو مودی نے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا، لیکن پانچ ہزار مسلمانوں کے قتلِ عام کی اخلاقی ذمہ داری بھی مودی کے سر نہ آسکی۔ (اب تو یہ بھی صاف نظر آرہا ہے کہ جیل میں بند زیادہ تر پولیس افسران وہ ہیں جن کو مودی حکومت نے مختلف مراحل میں جھوٹے انکاونٹر اور قتلِ عام کے لئے استعمال کیا تھا اور ان کی خودسری کو لگام دینے اور رازوں کو دفن کردینے کی غرض سے ان کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا)۔ذکیہ جعفری صاحبہ کی مظلومانہ چیخوں کو خاموش کرنے کے لئے برسوں بعد ایک متعصب افسر راگھون کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل بھی پائی تو اس نے ثبوتوں کو مٹانے ہی کا کام کیا۔یہ دراصل کانگریس کی مجرمانہ غفلت اور ناکامی کا ثبوت ہے۔
ظاہر ہے جو کانگریس ایمرجنسی اور ٹاڈاکا داغ لئے ہوئے ہو اور جس نے ملکی سطح پرہاشم پورہ، ملیانہ، مرادآباد، میرٹھ، نیلی، آسام، احمدآباد، سورت، بھاگلپور، ۱۹۸۴ء؁ میں سکھو ں کے قتل عام وغیرہ جیسے ہزاروں مسلم کش اور اقلیت کش فسادات کا تمغہ سجا رکھا ہووہ ایک گجرات کو طشت از بام کرنے کی ہمت کیسے کر سکتی تھی۔ بلکہ تہلکہ کی تحقیقات سے تو پتہ چلتا ہے کہ گجرات کی سازش ملکی سطح کی تھی اور ہتھیار پنجاب سے بھی فراہم کیے گئے تھے اس صورت میں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خود کانگریس بھی اس سازش کا حصہ رہی ہو۔کیونکہ نرم اور گرم ہندتوا ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔
اس کے علاوہ پچھلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات اور اب مرکزی انتخابات میں بھی ایسا صاف لگ رہا تھا کہ کانگریس نے میدان میں اترنے سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ ایسے میں یہ سمجھنا غلط نہ ہوگا کہ مودی کے لئے کانگریس نے راہ ہموار کی ہے۔
اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر دل اندیشوں سے بھر جاتاہے۔ بابری مسجد کے خلاف تحریک میں نہرو جی کے زمانہ میں ہی اس میں نماز روک دی گئی اور ظلماً تالا ڈال دیا گیا۔ اندرا جی نے اس کے لئے تحریک کے تانے بانے بنے اور راجیو جی نے شیلانیاس کرکے اس تحریک کو مضبوط کیا مگر شہادت کے لئے اپنی بی ٹیم یعنی بی جے پی کا استعمال کیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بابری مسجد سے بھی بڑے کسی سانحے کو انجام دینے کے لئے یا پورے ملک کو گجرات ماڈل بنانے کے لئے کانگریس نے اپنی بی ٹیم کو ایک بار پھر آگے کیا ہو؟ العیاذ باللہ۔ ناچیز کی رائے میں کانگریس کی یہ شعوری پسپائی کسی بڑی انہونی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالی اپنے کمزور بندوں کی حفاظت فرمائے (آمین) ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ دونوں برہمنی اور منو وادی جماعتوں یعنی کانگریس اور آر ایس ایس نے علاقائی عوامل کو ختم کرنے کے لئے اور ملک میں امریکی طرز کا دو پارٹی سسٹم قائم کرنے کی خاطر کسی خفیہ معاہدہ کے تحت پسپائی اختیا رکی ہو۔اپنی سیاست کے عروج میں پرنب دا کو صدارتی منصب پر بھیجنا کہیں ایسے ہی کسی منصوبہ کا حصہ تو نہیں؟ بات جو بھی ہو مگر دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔
ملائم سنگھ کا نرم ہندتوا
مودی کے عروج میں ملائم سنگھ کا بھی بالواسطہ کردار رہا ہے۔ ملائم سنگھ ایک قد آور نیتا ہونے کے باوجود خمار آلود دماغ رکھتے ہیں۔ پچھلے دو برسوں میں جس طرح یوپی میں مسلمانوں کی جان و مال اور عفت و عصمت سے کھلواڑ کیا گیا، اس پر نیتا جی کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے قاصر رہے۔ ان کے بی جے پی سے رشتے آئے دن موضوعِ بحث بنتے رہے۔ کلیان سنگھ اور ساکشی مہاراج جیسے تعفن زدہ بھگواگردوں کو وہ بار بار سینے سے لگاتے رہے۔ امر سنگھ نے ان کو اتنا بدمست کردیا تھا کہ انہوں نے اعظم خاں جیسے وفادار اور جاں نثارکو ہی پارٹی سے نکال باہر کیا تھا۔ معصوم نوجوانوں کو جیلوں سے چھڑانے کے وعدے پر حکومت سازی کرنے کے بعد خالد شہید کا گلا گھونٹ دیا اور طارق قاسمی اب بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ نیتاجی نے وزارتِ عظمی کی ہوس میں عدل و انصاف کو تاک پر رکھ کر نرم ہندتوا کا کارڈ کھیلا۔اب بھلا جہاں بوتلیں تقسیم ہورہی ہوں، وہاں گھونٹ دو گھونٹ پیش کرنے والے کی طرف بھلا کوئی کیوں متوجہ ہوتا۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ ویسے صرف خاندانی سیٹیں بچ جانا بھی اپنے آپ میں بہت سے سوال کھڑے کرتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ مخمصے میں اعظم خاں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا تو غم ہے کہ اپنی بھینسوں کو نہ ڈھونڈ پاتا تو دنیا ہنستی۔ لیکن اس کا کوئی غم نہیں کہ اپنی حکومت میں سیکڑوں مسلمانوں کی شہادت کووہ نہ صرف یہ کہ روک نہیں پائے بلکہ ڈھنگ سے اس کا ماتم بھی نہ کرپائے۔ ٹھیک سے کسی کی اشک شوئی بھی نہیں کی۔ خود اپنے بقول حکومت سے کوئی ذاتی فائدہ بھی نہیں اٹھایا۔ بیوی کی تنخواہ اپنے سے چار گنا زیادہ بتائی۔ جبکہ ملائم سنگھ پر معلوم ذرائع سے زیادہ آمد کا کیس درج ہے۔ دوسری طرف مشرکانہ اعمال کے سب سے بڑے میلے کے انعقاد کا سہرا اپنے سر لے کر اللہ وحدہ لاشریک کی جناب میں گستاخی کے مرتکب بھی اعظم خاں ہوئے۔ گویا ؎
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
ابن الوقت کیوں پیچھے رہتے
اس بہتی ہوئی مودی گنگا سے بھلا وہ لوگ کیسے دور رہ سکتے تھے جن کا خاندانی پیشہ ہی بہتی گنگا میں اشنان کرنے کا ہے۔ جب جب مسلمانوں کا گھر جلتا ہے ان کے آنگن میں روشنی کھِل اٹھتی ہے۔ نیلی کے دردناک قتل عام کا ابا حضور نے سائوتھ افریقہ جاکر انکار کیا۔ اس وقت کانگریس ہی ملک و ملت کی واحد غم گسار تھی۔ ایمرجنسی پر خاموش تماشائی بنے رہنے والوں نے اندراگاندھی جیسی ظالم حکمراں کی قید کو ملک و ملت پر حملہ باور کرانے کی کوشش کی۔ اب چونکہ کانگریس کی گائے کو انہوں نے جی بھر کر دوہ لیا ہے یا اس نے انہیں لات مار کر بھگا دیا ہے تو چچا نے ملائم گائے کو دوہنا شروع کردیا ہے اور بھتیجے موذی گائے کا زہریلا دودھ نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔ آج تک سے سیدھی بات میں محترم اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہم نے گجرات میں اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ماضی کو بھول کر آگے بڑھیں اور مودی کو ووٹ دیں۔ اور اب یہ بات کھلتی چلی جارہی ہے کہ یوپی میں ۵ تا ۷ فیصد مسلم ووٹ فسطائیوں کو بھی ملے ہیں جس کے پیچھے ایک دست غیب پر انہی کی انگلیوں کے نشان پائے جارہے ہیں۔
حالانکہ بی جے پی کا یہ دعوی غلط ہے کہ مسلمانوں نے بھی بھرپور اس کا ساتھ دیا ہے۔ چنانچہ بی جے پی نے جن سات نام نہاد مسلمانوںکو اپنے ٹکٹ دے کر الیکشن لڑایا تھا ان سات کے ساتوں بشمول حاجی سید شاہ نواز حسین صاحب کو مسلمان ووٹروں نے دھول چٹا دی۔
اس خامہ فرسائی کا مقصد صرف یہ ہے کہ بت پرستوں کے درمیان رہ کر قوم موسیؑ کی طرح ملت اسلامیہ ہند کی ایک معتد بہ تعداد چڑھتے سورج کی پجاری بن چکی ہے۔ اندیشہ ہے کہ مودی کی جیت کے بعد اس کو مبارک باد دینے میں لوگ سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے اور ماضی کو بھلا کر مستقبل کو سنوارنے کی بات کہی جائے گی۔
کانگریس کے معاملہ میں بھی یہی ہوتا رہا۔ وہ مسلمانوں کو ہر بار ایک سے بڑھ کر ایک گہرا زخم دیتی رہی اور ہر بار وہ لوگ جن کا کچھ نہیں بگڑا تھا بلکہ وہ اپنے مفادات کے لئے کانگریس کی دلالی کرتے رہے تھے انہوں نے کہا کہ ماضی کو بھول جائو اور آگے بڑھے۔ چنانچہ مسلمان کتنے آگے بڑھے اس کی گواہ سچر کمیٹی کی وہ رپورٹ ہے جسے کانگریس نے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے مرتب کرایا تھا مگر مسلمانوں کو یہ باور کرایا جاتا رہا کہ اب اس کے مطابق تمہاری خیرخواہی کے منصوبے بنیں گے۔ لوگ خود فیصلہ کرلیں کہ سچر کمیٹی میں درج صورت حال تک کس نے پہونچایا اور رپورٹ آنے کے بعد کیا بھلا ہوا۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کا کسی کے پاس کچھ حساب باقی ہو تو اس وقت تک اس سے اگلا لین دین نہیں کرتے جب تک پچھلا حساب مع سود چکتا نہ ہوجائے۔چاہے مدد خواہ کتنی ہی خستگی کی حالت میں کیوں نہ ہو۔ لیکن جب قومی مفادات کا معاملہ ہو تو یہ چند سنگ ریزوں کے لالچ میں پچھلے بقایے کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن زخم کو بھولنے سے وہ بھر نہیں جاتا بلکہ ناسور بن جاتا ہے اور لاعلاج ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر یا تو وہ عضو کاٹنا پڑتا ہے یا بندہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اسی لئے کتاب ہدایت نے قصاص کو زندگی بتایاہے۔
جب مودی نے معافی مانگنا تو کجا اظہارِ ندامت تک نہیں کیا تو آپ کس بات کی اسے معافی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔پھر معاف تووہ کرسکتا ہے جس پر ظلم ہوا ہو۔ سراج الدین قریشی جو مرتد اسلام صدر امریکہ کا منظورِ نظر ہے اور مسلمانوں کے دشمنِ جان و ایمان یہودیوں سے جس کے تجارتی و سیاسی تعلقات ہیں، اس کو کیا حق پہونچتا ہے کہ وہ مودی کو معاف کرکے مستقبل کو سنوارنے کی بات کرے۔ سراج الدین قریشی کا کیا لُٹا ہے؟ یا محمود مدنیؔ ٹانڈوی کو کہاں ٹھیس پہونچی ہے۔ شرعی قانون کی روسے(جس کی ان دونوں میں سے کسی کو پروا نہیں) اور دنیوی قانون کے اعتبار سے بھی معاف کرنے کا حق صرف اور صرف صاحب حق کو ہے، ان پشتینی اور کاروباری قارونوں کو نہیں۔الا ان یصدقوا سے مراد اہلِ خانہ اور وارثین ہیں۔ آخر یہ حضرات کس میت کے وارث ہیں؟؟؟اعظم خاں جیسے زیرک لیڈر تک نے یہ کہہ دیا کہ اگر مودی انصاف سے کام لیں تو شکایتیں دور ہو سکتی ہیں۔ تو انصاف کا تقاضہ تو یہ ہےکہ پہلے یہ گجرات کا حساب صاف کریں۔ پچھلا حساب بے باق کئے بغیر آئندہ سے انصاف پر قائم رکھنے کی بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو شیخی خوری میں آدھے گلاس کو بھی پورا سمجھتا ہے کہ آدھے میں پانی ہے اور آدھے میں ہوا۔ یہ لوگ دو ٹکڑوں میں بٹی لاش کو یہ کہہ کر خوش ہوں گے کہ پہلے یہ ایک تھا اب دو دو ہوگئے۔
مودی کے ملک کا وزیر اعظم بن جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دودھ کا دھلا ہوگیا۔ آخر کس بنیاد پر خود مودی نے ماں، بیٹے اور من موہن سنگھ کی سرِ راہ دھجیاں اڑائیں۔مودی قاتل ہے اور ہم اس کے خلاف انصاف کو طلب کرتے رہیں گے۔ مسلمانوں کو اپنے سے کئی گنا چھوٹی اقلیت سکھوں سے سبق لینا چاہیے کہ جن لوگوں نے ان پر ظلم کیا انہوں نے ان کو نہیں بخشا گو ان کی حکمرانی قائم تھی۔ یہاں تک کہ بین الاقوامی عدالت سے سونیا گاندھی کے خلاف سمن جاری کرادیا۔
دراصل ان نام نہاد لیڈروں کی طفیلی اور قارونی ذہنیت نے انہیں اپنے مفاد کا کتا بنا رکھا ہے جس کے نظر آتے ہی ان کی دُمیں ہلنے لگتی ہیں۔ ملت کے مفاد کے نام پر یہ محض اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگنے والاسورج ڈھلتا بھی ہے اور ڈوب بھی جاتا ہے۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے تیرے بندوں کو ناحق قتل کیا، انہیں گھروں سے نکال کر گھروں کو نذرِ آتش کردیا، ان کی عصمتوں کو تارتار کردیا، ان کے کاروبار کو اجاڑ دیا؛ خدایا! تو ان کو اتنا اونچا اٹھاکر پٹخنی دے کہ ان کی ہڈی پسلی چور ہوجائے اور فرعون کی لاش کی طرح وہ پوری دنیا کے لئے عبرت بن جائیں۔ (آمین) یاد رہے کہ فرعون کے غرقِ دریا ہونے سے بہت پہلے قارون مع خزانے کے زمین میں دھنسا دیا گیا تھا۔ کیونکہ ان قارون من قوم موسی فبغی علیہ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *