فلسطین کی مکمل آزادی تک مسلح جدوجہد جاری رہےگی

دوحہ (ایجنسیاں):اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبےکے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ فلسطنی قوم نے بےاتفاقی اور انتشار کا باب بندکر دیاہے۔قوم کے پاس مفاہمت اور اتحاد کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہاہے۔قومی مفاہمت اور مسلح جدوجہد آزادی کے لیے دوموثر ہتھیار ہیں۔ حماس مسلح جدوجہد سے فلسطین کی آزادی تک دستبردار نہیں ہوگی۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق خالد مشعل نے ان خیالات کا اظہار فلسطین پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کے66سال مکمل ہونے اور فلسطینی یوم نکبہ کی یاد میں دوحہ میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو قومی مفاہمت کی کامیابی پرمبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہم نے مفاہمت کے اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے طویل جدوجہد کی ہے اور آج ہماری یہ مساعی رنگ لے آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حماس نے برادر تنظیم تحریک فتح کے ساتھ مفاہمت میں ہرممکن لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔دوسری طرف الفتح کی قیادت نے بھی اپنے بہت سے اہم نکات سے پسپائی اختیار کی ہے،لیکن ہم میں سے کوئی ایک بھی اپنے فیصلہ پرشرمندہ نہیں بلکہ فخر کے ساتھ اس کا اظہار کررہے ہیں۔ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کے قیام،یہودیوں کے ناجائز قبضے کےخلاف حماس اور الفتح کی جدوجہد میں اشتراک عمل موجود ہے۔دونوں جماعتوں نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور دیرینہ مطالبات سے دستبرداری اختیارنہ کرنے کا عزم کیاہے۔
خالد مشعل نے فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ اپنے زیر انتظام سیکیورٹی اداروں کو قومی مفاہمت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرے اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور جیلوں میں ان پرتشدد کا سلسلہ بندکیا جائے۔ فلسطینی قائد اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ ان کی جماعت آزادی کے لیے مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔جب تک فلسطین مکمل طور پر آزاد نہیں ہوجاتا حماس دشمن سے ہر ممکن اسلحہ سے لڑتی رہے گی۔مسلح مزاحمت عقل،شعور اور ایمان کی علامت ہے اور دنیا کی کوئي طاقت فلسطینیوں کو اپنے بنیادی حقوق کے حصول کےلیے مسلح جدوجہد سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے کہا کہ میں دنیا سے پوچھتا ہوں کہ کیا وہ فلسطینی قوم کو نہیں دیکھ رہے ہیں، جو آئے روز اسرائیل کی منظم ریاستی دہشت گردی کا سامنا کررہی ہے۔صہیونی مظالم کے سامنے ہمیں سینہ سپرہونے کا بھرپور حق حاصل ہے۔حماس اور فلسطینی قوم صرف اسی صورت میں مسلح جدوجہد ترک کرےگی جب فلسطین مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہوگا۔ خالدمشعل نے کہا کہ ہمارے زخم بہت گہرے اور ہمارے دکھ مسلسل قائم ہیں۔ارض فلسطین میں ایک ناجائز صہیونی ریاست کا قیام فلسطینیوں کےلیے سب سے بڑا المناک واقعہ ہے۔صدیوں سے آباد چلےآئے فلسطینیوں کو ان کےگھر بار سے محروم کردیاگیا اور آج دنیا انہیں واپس آنے سے بھی روک رہی ہے۔لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔(روزنامہ انقلاب،22مئی 2014ء(

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *