فکو العانی (دوسری قسط) آج کے یوسف صفت اسیران بلا

استاذ محترم ڈاکٹر تابش مہدی صاحب نے بہت پیارے انداز میں بڑی اہم بات کہی۔
سارے یوسف صفت دار پر چڑھ گئے
ہر گنہ گار دامن بچا لے گیا
حضرت یوسف ؑبے قصور تھے۔ اس کے بعد بھی فَلَبثَ فِی السِّجن بِضْعَ سنین (۴۲:یوسف ) اور یوسف ؑنے کئی سال قید خانے میں کاٹے۔ بِضْعَ کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا جونا گڑھی ؒصاحب نے لکھا ہے حضرت یوسفؑ قید خانے میں سات سال رہے۔ بعض کے نزدیک بارہ سال اور بعض کے نزدیک چودہ سال قید خانے میں رہے۔ واللّٰہ اعلم ( حاشیہ تفسیر، مولانا جوناگڑھی ؒ)
حضرت یوسف ؑ کی بے گناہی ثابت ہو چکی تھی پھر بھی انہیں بلا وجہ جیل میں ڈال دیا گیا، اس سلسلے میں مولانا مودودی ؒ رقم طراز ہیں۔
’اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی شخص کو شرائط انصاف کے مطابق عدالت میں مجرم ثابت کئے بغیر بس یونہی پکڑ کر جیل بھیج دینا بے ایمان حکمرانوں کی پرانی سنت ہے۔ اس معاملہ میں بھی آج کے شیاطین چار ہزار برس پہلے کے اشرار سے کچھ بہت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ فرق اگر ہے تو بس یہ کہ وہ جمہوریت کا نام نہیں لیتے تھے اور یہ اپنے کرتوتوں کے ساتھ یہ نام بھی لیتے ہیں۔ وہ قانون کے بغیر اپنی غیر قانونی حرکتیں کیا کرتے تھے اور یہ ہر ناروا زیادتی کے لیے پہلے ایک قانون بنا لیتے ہیں۔ وہ صاف صاف اپنی اغراض کے لیے لوگوں پر دست درازی کرتے تھے اور یہ جس پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس کے متعلق دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیںکہ اس سے ان کو نہیں بلکہ ملک اور قوم کو خطرہ تھا۔ غرض وہ صرف ظالم تھے اوریہ اس کے ساتھ جھوٹے اور بے حیا بھی ہیں‘۔
(تفہیم القرآن جلد دوم، سورۃ یوسف، حاشیہ ۳۰)
مسلمانوں کو پابہ زنداں کرنے اور ان پر ہر طرح کے ظلم روا رکھنے کے لیے ان ظالموں نے دہشت گردی اور پھر مسلم دہشت گردی، اسلامی دہشت گردی کا ہوا کھڑا کیا اور ٹاڈا( TADA)نامی ایک ظالمانہ قانون وضع کیا۔ اس قانون کے تحت گرفتار ہونے والوں کو دوسال تک لازما ًجیل میں رہنا پڑتا تھا۔ اس ظالمانہ قانون کے تحت پولس تحویل میں زبردست تعذیب کے نتیجہ میں اقبال جرم ہی کافی ہوتا تھا۔ اس قانون کی مار راست طور پر مسلمانوں پر پڑی۔ عوامی احتجاج کے نتیجہ میں سالوں بعد اس ظالمانہ قانون کو ختم کیا گیا اور پھر نام بدل کر دہشت گردی کا بہانہ بنا کر (TADA) سے خطرناک دوسرا قانون (POTA) وضع کیا گیا۔ اس میں بھی نام بدل کر ٹاڈاکی ہی ساری دفعات باقی رکھی گئیں۔ اس ظالمانہ قانون کا شکار مسلمان ہی بنے۔ گجرات میں پوٹا کے تحت ۲۸۰ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں ۲۷۹ مسلمان تھے (آؤٹ لک، ہندی میگزین ۱۹؍دسمبر ۲۰۱۲ء ) پوٹا کے تحت گرفتار ۱۰۳۱ لوگوں میں صرف ۱۳ لوگوں کو سزا ملی۔
پوٹا کے تئیں جب عوام میں اضطراب بڑھا تو کانگریس نے اس قانون کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ منسوخی کے بعد ایک ظالمانہ قانون وضع کیا۔ (U.A.P.A) Unlawful Activity Prevention Act میں ترمیم کرکے اسے ٹاڈا اور پوٹا سے بھی زیادہ خطرناک بنا دیا۔
ٹاڈا اور پوٹا میں گرفتار ہونے والے ملزموں کو کم ازکم دوسال جیل میں رہنا پڑتا تھا لیکن اس کالے قانون کی تیسری اولاد کے نرغے میں پھنسنے والوں کو کم ازکم پانچ سال جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔ ٹاڈا اور پوٹا کی طرح اس قانون میں بھی ملزم کو خود ہی اپنی بے گناہی ثابت کرنی پڑے گی۔
اس قانون کو حکومت نے ۲۰۱۲ء میں ترمیم کرکے اسے مزید سخت بنا دیا۔ مذکورہ ترمیم کے تحت کسی بھی تنظیم کو دہشت گردانہ قرار دے کر یا کسی بھی فرد کو صرف یہ بتا کر دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہ ممنوعہ تنظیم کا رکن ہے۔ پولس کسی بھی شخص کو ممنوعہ تنظیم سے تعلقات ہونے کے جھوٹے الزام پر گرفتار کرسکتی ہے، اسے ۶؍ مہینے تک بلا ضمانت حراست میں رکھ سکتی ہے۔یہ قانون پولس کو بے پناہ اختیارات دیتا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی جس طرح چاہے تشریح کرے۔
اسی قانون میں مختلف افراد پر مشتمل جماعت کی جو تعریف کی گئی ہے اس بنا پر دوستوں، واقف کاروں کو بھی ساتھی سمجھا جاسکتا ہے، مثلاً لائبریری کے دوستوں کو بھی اس قانون کے تحت لایا جاسکتا ہے۔ اس میں ضمانت کا حصول مشکل تر ہے اور ملزم کو چارج شیٹ کے بغیر’ ۱۸۰‘ دنوں تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔
قانون کے تحت کسی بھی تنظیم پر پابندی کی میعاد دوسال سے بڑھا کر پانچ سال کردی گئی ہے۔یہ ترمیم شدہ قانون پولس اور تفتیشی ایجنسیوں کے ہاتھوں میں دو دھاری تلوار کے مترادف ہے۔ اس کے استعمال سے بنیادی حقوق اور شخصی آزادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی قبل از وقت روک تھام کے لیے یہ ترمیم شدہ قانون ایک خطرناک ہتھیار ہے جسے پولس اور تفتیشی ایجنسیوں کے سپرد کردیا گیا ہے اور یہ ہتھیار دینے والی برسراقتدار سیکولر کانگریس ہے جسے مسلمان اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔
آج کے فرعونوں اور ظالموں پر بے قصوروں کو تختۂ مشق بنانے کا جنون سوار ہے۔ یہ عمل پوری دنیا میں جنون کی حد تک رواج پاگیا ہے۔ اس ظالمانہ کھیل میں ہمارا ملک کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ یہ ظالم ہر بہانے سے جیلوں کو آباد رکھنا چاہتے ہیں۔ قیدی خواہ اپنی قید کی مدت پوری کرچکے ہوں، اس کے باوجود بھی اسے رہا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
آنکھوں سے اندھے، چلنے پھرنے سے معذور آفاق خان ۳۸ سال سے لکھنؤ جیل میں قید ہیں۔ ان کی عمر ۹۲ سال ہوچکی ہے۔ روزنامہ سہارا نے لکھنؤ ایڈیشن کے ۴؍ اپریل۲۰۱۴ء کے شمارے میںیہ خبر شائع کی تھی:
’لکھنؤ ( ایس این بی ) ۳۸ برس سے جیل کی چہار دیواری میں قید ۹۲ سالہ آفاق عرف جگن کی رہائی کے سلسلہ میں رٹ درخواست پر ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں سماعت ۷؍ اپریل کو ہوئی۔ یہ درخواست آفاق خان کے بیٹے آفتاب خاں نے شریش کمار گپتا ایڈوکیٹ کے ذریعہ داخل کی ہے۔ رٹ میں کہا گیا ہے کہ آفاق خاں ۱۹۷۶ء سے لکھیم پور کھیری میں ایک قتل کے معاملہ میں جیل میں ہے۔ اس قتل کے الزام میں لکھیم پور ضلع سیشن عدالت نے ۱۳ مئی ۱۹۸۲ء کو عمر قید کی سزا دی۔ اس حکم کے خلاف ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کردی۔ ۱۹۹۶ء میں ریاستی حکومت کے تحت اس معاملے کے باقی ملزمان کو رہا کردیا گیا لیکن آفاق کے بارے میں پروبیشن آفیسر نے رپورٹ دی کہ آفاق کی زمین جائیداد سب ختم ہوچکی ہے، پس ماندگان میں بھی کوئی نہیں ہے اور نہ آفاق کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر آفاق کی رہائی نہیں ہوسکی اور ریاستی حکومت نے آفاق کو اترا کھنڈ کے ماڈل جیل میں بھیج دیا۔ رٹ میں کہا گیا ہے کہ جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت آفاق کا بیٹا آفتاب صرف پانچ سال کا تھا۔ اس کے ایک رشتہ دار اس کو پنجاب لے کر چلے گئے جہاں وہ مزدوری کرنے لگا۔ بڑا ہونے پر اس نے اپنے والد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے بعد نومبر میں ریاستی حکومت کو عرضداشت دی لیکن کوئی کارروئی نہیں ہوئی۔ رٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آفاق کو جیل میں قید رکھنا دستور کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس وقت آفاق کی عمر ۹۲ سال ہے جو سننے اور دیکھنے سے معذور ہے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی نذیر کے مطابق آفاق کو رہا کردینا چاہئے‘۔
جیلیں قیدیوں کے بوجھ سے کراہ رہی ہیں لیکن عدالت کا سست رویہ اور انتظامیہ کی لاپرواہی اصلاً اسی فطرت کی غمازی کررہی ہے کہ ہر حال میں جیلوں میں سڑا کے رکھو۔۳؍اپریل کے سہارا اردو میں خبر آئی جس کی سرخی تھی ’ضعیف و بیمار قیدی بنے جیلوں پر بوجھ۔ رحم کی درخواست پر جلد فیصلہ کرے حکومت‘۔’ الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ چلنے پھرنے سے معذور اور بیمار قیدی ریاست کی جیلوں پر بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ ان جیلوں میں ستر سال سے زیادہ عمر کے ۱۵۳ قیدی ایسے ہیں جو ۱۴ برس سے زیادہ عرصہ سے جیلوں میں قید ہیں۔ عدالت نے ایسے قیدیوں کی رحم کی درخواست پر تین ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے۔ عدالت نے رجسٹرار جنرل اور ضلع ججوں کو ان کے خلاف فیصلوں کی کاپی تین ہفتہ میں مہیا کرانے کی ہدایت دی ہے۔ فیصلے نہ دستیاب ہونے کی وجہ سے رحم کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہورہا ہے۔ عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ، ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو مشترکہ میٹنگ کرکے فارم اے پر غور کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ جس قیدی کو کوئی لینے والا نہ ہو اسے پروبیشن افسر کو سونپ دیا جائے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ۱۴ برس سے زیادہ سزا کاٹ چکے قیدیوں کی رہائی کا سرکلر جاری کرنے کا بھی حکم پرنسپل سکریٹری داخلہ کو دیا ہے۔ عدالت نے ضمانت منظور ہونے کے باوجود جیلوں میں قید ۱۶۸ قیدیوں کی رہائی کی ہدایت متعلقہ سی جے ایم کو دی ہے۔ عدالت نے آگرہ الہ آباد بریلی لکھنؤ میرٹھ اور گورکھپور کی جیلوں میں قید ۲۴۷ ذہنی مریض قیدیوں کے مناسب علاج کےبندوبست پر اے ڈی جی (جیل) اور ڈائریکٹر جنرل طب و صحت اترپردیش سے رپورٹ طلب کی۔ عدالت نے خاتون قیدیوں کے سلسلے میں بھی معلومات طلب کی ہے۔ ریاست کی جیلوں میں ۱۱۵۷ /ایسے قیدی ہیں جنھوں نے ۱۴ برس سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارے ہیں۔ یہ حکم جسٹس امرسرن اور جسٹس وجے لکشمی کی بنچ نے بچے لال کی مفاد عامہ کی رٹ پر دیا ہے۔ عدالت نے جیلوں پر قیدیوں کا بوجھ کم کرنے کے طریقہ پر زور دیتے ہوئے ہدایات جاری کی ہیں ‘۔
روزنامہ انقلاب کے ۲۵؍ مارچ ۲۰۱۴۴ء کے شمارہ میں جمعیۃالعلماء کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا ایک بیان شائع ہوا تھا ’مسلم نوجوانوں کو سیاسی مفاد کے لیے گرفتار کیا گیا‘ انتخابات سے عین قبل ہونے والی ان گرفتاریوں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃالعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا مسلم نوجوانوں کو سیاسی مفاد کے لیے دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات سے عین قبل جس انداز سے گرفتاری کی گئی ہے وہ فرقہ پرستوں کی سوچی سمجھی چال ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نام سے اکثریتی طبقہ کے اندر اقلیتی طبقے کے تئیں نفرت پھیلانے اور ووٹوں کے پولرائزیشن کی سازش کی جارہی ہے۔ صدر جمیعۃ العلمائے ہند نے کہا کہ گزشتہ روز راجستھان سے جن مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے نام پر یہ کہتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے کہ یہ مودی کو مارنے کی سازش رچ رہے تھے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے نیز یہ سب خفیہ ایجنسیوں اور پولس کا کھیل ہے تاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں عجیب و غریب کھیل چل رہا ہے جس کے تحت چلتے پھرتے بے گناہ مسلمان کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اکثریتی اور اقلیتی طبقہ کو ایک ساتھ آگے آنا چاہئے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مولانا عبد القوی کی گرفتاری بھی آئی بی کی سازش ہے کیونکہ اگر مولانا کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ وہ گجرات کے سابق وزیر ہرین پانڈیا کے قتل کے معاملے میں شامل تھے تو یہ گرفتاری آج کیوں رہی ہے، دس سال سے کیا ہورہا تھا ؟
بے قصوروں سے جیلیں بھری جارہی ہیں۔ بے قصور ہونے کے ناقابل انکار ثبوت کے باوجود بھی مختلف حیلوں بہانوں سے جیلوں میں سڑائے رکھنے کا عمل جاری ہے۔ ملاحظہ کریں کشمیری نوجوان ساجد الرحمن کی رپورٹ جو روزنامہ سہارا اردو ۳۱؍ مارچ ۲۰۱۴ء کے شمارے میں پڑھی جاسکتی ہے۔
’میرا بیٹا بے قصور ہے اسے فوراً رہا کیا جائے۔ یہ بات آج دہشت گردی کے الزام میں گرفتار دارالعلوم دیوبند کے طالب علم سجاد الرحمن کشمیری کے والد غلام قادر وانی نے یہاں معراج گیسٹ ہاؤس میںایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انھوں نے کہا کہ سجاد کی بے گناہی عدالت میں بھی ثابت ہوچکی ہے لیکن پھر بھی اسے جیل میں رکھا گیا ہے، اگر حکومت چاہے تو اسے فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ بھی حل کیا جاسکتا ہے تاکہ جلد رہائی ممکن ہوسکے لیکن اس کے لیے ہمیں آپ سب کی مدد اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔
کوچھال ضلع کشتواڑ (جموں کشمیر) سے تعلق رکھنے والے اس غریب پیشہ ور کسان نے مقامی میڈیا سے ملاقات کے دوران تایا کہ اس کیس کی اگر صحیح طریقے سے پیروی کی جاتی تو اب تک میرا بیٹا رہا ہوچکا ہوتا۔ غلام قادرنے نم آنکھوں سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ۲۲؍ دسمبر ۲۰۰۷ء کو سجاد الرحمن کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ دارالعلوم دیوبند میں عربی ہفتم کا طالب علم تھا اور اس پر ۲۳ نومبر ۲۰۰۷کو لکھنؤ فیض آباد سیریل بم دھماکہ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سجاد کے والد نے بتایا کہ عین بقرعید کے دوسرے دن مقامی تھانہ سے چند پولس والے میرے گھر آئے اور کہا کہ ساجدالرحمن کہاں ہے اس وقت سجاد اپنے رشتہ داروں سے ملنے گیا تھا شام میں میںخود سجاد کو لے کر پولس اسٹیشن گیا اور کہاکہ یہاں اس کو کیوں بلایا ہے ؟ اس پر تھانہ انچارچ نے کہا کہ مجھے اوپر سے حکم آیا ہے۔ اس کے بعد پولس سجاد کو ضلع ہیڈ کورٹر لے گئی اور دوسرے دن اے ٹی ایس کے ایک افسر نے بیان دیا کہ کشمیر کے ایک بڑے دہشت گرد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس دن کے بعد سے اب تک سجاد گھر نے لوٹا ہے۔ غلام قادر نے کہا کہ سجاد کے بے گناہ ہونے کے تمام تر ثبوتوں کے باوجود گزشتہ چھے برس سے لکھنؤ جیل میںبند ہے۔ سجاد کے والد نے کہا کہ اس کی بے گناہی کا سب سے برا ثبوت یہ ہے کہ جس دن یہ دھماکہ ہوا اس مہینے دارالعلوم دیوبند کے رجسٹر حاضری میں اس کی ایک بھی غیر حاضری نہیں ہے۔ دوسری بات جن جن مقامات پر دھماکہ ہوا ان میں سے کہیں بھی سجاد الرحمن کبھی گیا ہی نہیں۔ غلام قادر نے بتایا کہ سجاد کی گرفتاری مرحوم خالد مجاہد کی نشان دہی پر ہوئی کیونکہ خالد مجاہد کو پولس نے ہر طرح سے مجبور کرکے کہا کہ یہ بتاؤ تم کسی کشمیری کو جانتے ہو؟ اس کے بعد خالد نے سجاد کا نام لیا اور کہا کہ میں دیوبند جانے کی وجہ سے اسے جانتا ہوں اور صرف ایک مرتبہ میری اس سے ملاقات ہوئی ہے۔ سجاد کے والد نے بتایا کہ ۱۴؍ اپریل ۲۰۱۱ء کو فاضل جج نے لکھنؤ نم دھماکہ کیس کی سنوائی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس ملزم سجاد کو موجودہ کیس سے جوڑنے کے لیے ثبوت یا دیگر مواد نہیں ہے۔ اس لیے سجاد کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق سجاد الرحمن کے خالف IPC اکی دفعہ 123,120-B,307,124-A,115,121 اور دھماکہ خیزمادہ ایکٹ کی دفعہ ACT- UAPA3,4,5,6اور کے تحت کیس درج نہیںکیا گیا ہے کیونکہ اس کے خلاف مندرجہ بالا کیس کے لیے کوئی بھی قابل قبول شواہد پیش نہیں کئے گئے ہیں لہذا سجادالرحمن کو اس موجودکیس میں بری کیا جاتا ہے اور یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ اسے رہا کیا جائے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے کیس میں ماخوذ نہ ہو۔ غلام قادر کے مطابق بد قسمتی سے سجاد کو فیض آباد بم دھماکہ میں بھی ملزم بنا دیا گیا جہاں ابھی مقدمہ چل رہا ہے لیکن وکیل اور جج کے متعصبانہ رویہ سے اس کیس کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ سجاد کے والد کا کہنا ہے کہ جن الزامات کی بنیاد پر خفیہ ایجنسی اور اے ٹی ایس کی ٹیم نے میرے بیٹے کو گرفتار کیا وہ اس کے خلاف کوئی ٹھوس دلیل ثابت نہیں کرسکی اور اسے باعزت بری کردیا گیا لیکن اب تک وہ بے قصور ہونے کے باوجوجیل میں بند ہے، اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے واضح رہے کہ سجاد کشمیری کے والد غلام قادر وانی ایک غریب کسان ہیں اور ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کی بیگناہی ثابت ہونے کے باوجود اسے جیل سے رہا کراسکے۔ وہ ان دنوں ایک طویل وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے بیٹے کی رہائی کی امید لے کر دیوبند دہلی اور لکھنؤ کے چکر لگا رہے ہیں کہ شاید کہیں انصاف مل جائے یا کوئی ہمدرد ان کی صحیح رہنمائی کرسکے۔ ‘
…حکیم طارق قاسمی کو ۱۲؍ دسمبر ۲۰۰۷ء بروز بدھ صبح کو جب وہ اپنی موٹر سائیکل سے اپنے دواخانے جارہے تھے جیسے ہی وہ موضع شنکر پور رانی کی سرائے چیک پوسٹ سے کچھ آگے سرائے میر کی طرف بڑھے تھے کہ سفید رنگ کی ٹاٹا سومو پر سوار لوگوں نے ان کو روک کر مریض دیکھنے کا بہانہ کیا۔ زبردستی گاڑی میں ٹھونس دیا۔ وہاں موقع پر بھینس چرانے والے مردگھاس کاٹنے والی عورتیں اور عام گذرنے والے افراد نے کمیشن کے سامنے گواہیاں دیں بطور خاص طارق شمیم، محمد ہارون، شرف الدین، شوکت علی مولوی اسلم، عبد اللہ، شمیم، محمد ارشد، عبد الرحمن اورمحمد اعظم نے اپنا حلفیہ بیان درج کریا کہ طارق قاسمی کو ۱۲؍ دسمبر کو ۲۰۰۷ کو زبردستی اغوا کیا گیا اور ۲۲؍دسمبر کو بارہ بنکی ریلوے ریلوے اسٹیشن سے صبح چھ بجے گرفتاری دکھائی گئی۔ افسوس کہ یہ بے قصور جس کو جسٹس نمیشن کی چار سالہ تحقیقاتی رپورٹ بھی بے قصور بتاتی ہے، ہنوز جیل میں قید ہے۔
حکیم طارق نے گرفتار کرنے والوں سے پوچھا کہ ’آخر آپ لوگوں نے مجھے کیوںگرفتار کیا ہے ؟میرا قصور کیا ہے ؟میں ایک یونانی ڈاکٹر خدمت خلق میرا شیوہ غریبوں کی مدد میری پہچان روزہ نماز کا پابند میں نے تو کبھی کوئی سخت بات نہیں کہی آخر آپ لوگوں نے مجھے گرفتار کیا ہے ؟ میں ایک سچا محب وطن ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو ان میں سے ایک نے پوچھا کہ تم نے دارالعلوم دیوبند سے پڑھائی کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی ہے۔ اس جواب کے ردعمل میں ان تمام نے گالیاں دیتے ہوئے کہا کہ ’ دیوبند میں پڑھنے کے بعد بھی تم اپنے آپ کو آتنک وادی نہیں مانتے۔۔۔۔۔ میں نے کہا دارالعلوم دیوبند میں آتنک واد کا سبق نہیں پڑھایا جاتا بلکہ اچھا انسان بنایا جاتا ہے۔ اس پر دوسرے نے کہا کہ ’اس کو تیار کرو‘ اس کے بعد ان تمام نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ مجھے پیٹنا شروع کردیا ‘۔ (نمیش کمیشن رپورٹ، ص ۵۴)
جیلوں میں ٹھونسنے کا جنون
جیلوں میں ناحق ٹھونسنے اور سڑائے رکھنے کا یہ جنون کہ صرف مہاراشٹر کی جیلوں میں ’۱۳۰۰۰‘ نوجوان برسوں سے قید ہیں، جن کی آج تک چارج شیٹ نہیں داخل ہوئی۔ ان میں سے ’۹۰۰۰‘ مسلم نوجوان ہیں۔ جو جیلوں میں برسوں سے سڑ رہے ہیں۔
(روزنامہ انقلاب ۴؍مارچ ۲۰۱۴ء؁)
ذرا تصور کریں یہ فرعونی طبیعت اتنی صریح اور کریح ظلم کے بعد بھی آسودہ نہیں ہوئی، جیلوں کی تعداد بڑھائے جا رہے ہیں، جیلوں کی وسعت بڑھائے جا رہے ہیں، پھر بھی جیلیں قیدیوں کے بوجھ سے کراہ رہی ہیں۔
خالد مجاہد کی بوڑھی ماں کی اکلوتی اولاد گھر میں نئی نویلی دلہن ابھی ۲؍ دسمبر کو پہلی بار ہی اپنے سسرال آئی تھی۔ ۱۰؍ دسمبر کی شام نماز مغرب ادا کرنے کے بعد خالد مجاہد گھر سے نیل خریدنے نکلے، اپنے ہی محلہ میں فتح محمد بلڈنگ کے سامنے ’منو چاٹ والے ‘ کی دکان پر چاٹ کھانے لگے۔ ایک ٹاٹا سومو آئی خالد مجاہد کو زبردستی اس میں سوار کیا اور بڑی ہی برق رفتاری سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ وہاں موجود سیکڑوں لوگوں نے اس گاڑی کا تعاقب کیا، بھلا تیز رفتار گاڑی کو کہاں پاتے، ناراض عوام تھانے پہنچ گئی اغوا کی رپورٹ درج کرانے پر اصرار کرنے لگے۔ لیکن رپورٹ درج نہیں کی گئی ۱۶؍ دسمبر کو ہی ’راشٹریہ مانو ادھیکار آیوگ دہلی ‘ فیکس کیا گیا اگلے دن ۱۷؍ کو مڑیاہوں کے ہندی اخبار میں یہ سرخیاں لگیں:’ایس ٹی ایف نے چاٹ کھارہے یووک کو اٹھایا‘(امر اجالا، ۱۷؍ دسمبر)
’ایس ٹی ایف نے یووک کو اٹھایا، چھوڑا‘(امر اجالا، ۲۰؍ دسمبر)
۱۷؍ دسمبر جو ۳۵، ۴۰ لوگ چیر مین مڑیاہوں کے ساتھ مقامی تھانے گئے۔ داروغہ نے بتایا کہ خالد کو ایس ٹی ایف کے لوگ اٹھا لے گئے۔
۱۵ لوگوں نے اپنا بیان حلفی داخل کیا۔ جسٹس نمیش نے اس علاوہ ۴۵ لوگوں سے بھی بیانات لیے۔ یہ تمام شواہد خالد مجاہد کی بے گناہی چیخ چیخ کر بیان کررہے ہیں پھر بھی اس بے قصور کو حد درجہ ٹارچر کیا گیا۔ جیل میں سڑا ئے رکھا گیا۔ بالآخر فیض آباد سے واپسی پر راستے میں خالد مجاہد کی پر اسرار طور پر موت ہوگئی۔
٭ جامعہ سلفیہ کے طالب علم عبد اللہ زبیر کو ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۶ میں مدرسہ سے بلا کر گرفتار گیا گیا اور یہ باور کریا گیا کہ یہ لشکر طیبہ کا خطرناک آتنک وادی ہے۔ طالب علم عبد اللہ زبیر نے بتایا کہ ٹارچر سیل میں ہی آفیسر نے مان لیا تھا کہ یہ بے گناہ ہے۔ اس کے بعد بھی اسے سخت تعذیب کا نشانہ بنایا گیا۔ اس نے بتایا کہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۶ کو ریوڑی تالاب پولس چوکی سے ایک داروغہ جامعہ سلفیہ پہنچا۔ عبد اللہ سے پاس پورٹ کی درخواست پر انکوائری کی بات کہی۔ اس نے حیرت سے کہا کہ اس نے تو پاس پورٹ کے لیے درخواست نہیں دی ہے۔ پولس اسے بھیلو پور ڈائمنڈ ہوٹل لے گئی۔ وہاں سے کولکاتہ پولس اس کو کولکاتہ لے گئی۔ ساری تفتیش میں بے قصور ہونے کے بعد بھی اس کو ناحق آٹھ سال جیل میں گزارنے پڑے۔ (روزمانہ ہندوستان بزبان ہندی، ۶ مارچ ۲۰۱۴ء)
روزنامہ سہارا اردو لکھنؤ ایڈیشن کے ۲۸؍ فروری ۲۰۱۴ء کے شمارہ میں:
’تین مسلم نوجوان باعزت بری۔ دہشت گردی کے الزام میں ۸ برس سے جیل میں بند ‘
کی سرخی کے تحت یہ خبر شائع ہوئی۔ دہشت گردی اور ہندوستان کے آئین کو تسلیم نہ کرنے کے الزام میں آٹھ سال تک جیل میں بند رہنے والے بے قصور نوجوان محمد عبد اللہ نے آج رہائی کے بعد یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین تھا کہ عدالت سے انھیں انصاف ضرور ملے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر میرا قصور کیا تھا کہ میری زندگی کے بہترین ایام مجھ سے چھین لیے گئے اور مجھے گذشتہ آٹھ برسوں میں مسلسل ذہنی اور دماغی اذیت میں مبتلا رہنا پڑا اور بے قصور ہونے کے باوجود اپنی بے گناہی کو ثابت کرنے میں مجھے آٹھ برس لگ گئے۔ واضح رہے کہ کولکاتہ کی عدالت سٹی سیشن کورٹ نے عبد اللہ، طارق اختر اور نور الرحمن کو بے قصور بتاتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ تینوں گذشتہ آٹھ سالوں سے دہشت گردی کے الزام میں بند تھے۔ ان پر دہشت گردوں سے رابطہ رکھنے اور ہندوستان کے آئین کو تسلیم نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا مگر ان کے خلاف پولس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہونے کی وجہ سے عدالت نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ کولکاتہ پولس کا دعوی تھا کہ کچھ دہشت گردوں کی ڈائری میں ان تینوں کے نام تھے اوران تینوں نے متعدد مرتبہ ان سے فون پر بات کی مگر کولکاتہ پولس عدالت کے سامنے اس بات چیت کا ریکارڈ بھی پیش نہ کرسکی بہار کے ضلع ویشالی کے رہنے والے عبد اللہ نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ جامع سنابل دہلی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے جامع سلفیہ بنارس میں داخلہ لیا تھا اس نے بتایا لہ ۳۱؍ جنوری ۲۰۰۶ء کو دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب مدرسہ کے ایک طالب علم نے آکر کہا کہ انھیں شیخ الجامعہ نے بلایا ہے ان کے دفتر میں پہنچنے کے بعد دیکھا کہ وہاں دوپولس افسران موجود ہیں۔ پولس افسروں نے بتایا کہ وہ پاسپورٹ کی انکوائری کے لیے آئے ہیں میں نے ان سے کہاں میں نے پاسپورٹ کے لیے کوئی درخواست نہیں دی ہے۔ کلکتہ پولس کے ایک اعلی افسر گیان ونت سنگھ نے اپنے سینئر کو بتایا کہ یہ بے قصور ہے اس کو غلط پکڑ لیا گیا مگر اس سینئر افسر نے کہا کہ ابھی رہنے دو آگے دیکھا جائے گا۔ چودہ دن تک تفتیش ہوتی رہی اور چودہ دنوں کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔ پہلے دو مہینے تو گھر والوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ میں کہاں ہوں اور کس حال میں ہوں میڈیا کے ذریعہ انھیں معلوم ہوا کہ دہشت گردی کے الزام میں مجھے گرفتار کرلیا گیا ہے میڈیا نے یہ بات خوب اچھالی تھی کہ میں لشکر طیبہ کے لیے کام کرتا تھا میڈیا میں یہ رپورٹ کہ میرے پاس سے خطرناک قسم کے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ جیل کے ایک انسان دوست افسر کے ذریعہ میں نے گھر والوں کو خبر پہنچائی کہ میں کولکاتہ کی ایک جیل میں ہوں۔ عبداللہ نے بتایا کہ ٹرائیل کے دوران تفتیشی افسر باسو دیپ بھٹا چاریہ نے کم ازکم تیس مرتبہ مجھ سے یہ ضرور کہا ہوگاکہ وہ بے قصور ہے اور چھوٹ جائے گا اور اسے اعلیٰ افسران کے دباؤ کی وجہ سے اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ تم نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ عبداللہ نے بتایاکہ ثبوت نہ ہونے کے باوجود تعزیرات ہند کی دفعہ 121,121A,124AKلگائی گئی۔ عبداللہ نے جیل کے دوران تجربوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم افسران زیادہ سخت ہوتے ہیں اور ان کا رویہ توہین آمیز ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو غیر جانب دار اور ایماندار افسر ثابت کرنےکے لیے مسلم افسران کا رویہ مسلم قیدیوں کے ساتھ بہت خراب ہوتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر سید عبدالمبین جو علی گڑھ میں بی یو ایم ایس سال آخر کے طالب علم تھے۔ خوش اخلاق پابند شریعت انھیں جھوٹے طور پر آگرہ دھماکہ، کانپور دھماکہ، بارہ بنکی دھماکہ میں ملوث ہونے کے الزام کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے شدید احتجاج کیا لیکن کب تک حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ عبد المبین کو شدید طور سے ٹارچر کیا گیا۔ ناکردہ گناہوں کو قبول کرنے کے لیے شدید مظالم ڈھائے گئے۔ بالآخر اگست ۲۰۰۰ ء سے قائم مقدمہ میں عبد المبین اور دیگر ۱۰؍ اپریل ۲۰۱۴ کو باعزت بری ہوگئے۔
سہارا اردو لکھنؤ کے ۱۱؍ اپریل کے شمارہ میںخبر چھپی کہ ’ بم دھماکہ کے الزام میں گرفتار تین مسلم نوجوان باعزت بری ‘خبر اس طرح ہے کہ: ضلع جیل میں ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو سہکارتا بینک کے پاس ۱۵؍ اگست ۲۰۰۰ء میں ہوئے دھماکہ کے مبینہ تین ملزمان کے خلاف پولس اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ الزامات کو ثابت نہ کرپانے کے سبب بری کردیا۔ اس معاملہ میں ملزم سید عبد المبین محمد کلیم اختر کو ۲۰۰۱ میں ضمانت مل گئی تھی جبکہ کئی دیگر معاملات میں مبینہ طور پر ملزم گلزار احمد وانی ابھی بھی لکھنؤ جیل میں ہے۔ تقریباً ۱۴ برس بعد ان ملزمان کو عدالت نے باعزت بری کردیا ہے۔ ان پر یوم آزادی کے موقع پر ۱۵؍ اگست ۲۰۰۰ کو کونسل ہاؤس کے نزدیک سہکارتا بھون کے پاس ہوئے دھماکہ کا ملزم بتاتے ہوئے قیصر باغ کوتوالی کی پولس نے عدالت میں پیش کیا تھا لیکن پولس ان الزامات کو ثابت نہ کرسکی۔ اس سلسلہ میں قیصر باغ کوتوالی کی پولس کی جانب سے ۱۲ گواہ بھی پیش لئے گئے تھے لیکن کسی نے بھی ملزمان کو دھماکہ خیز مادہ رکھنے کی تصدیق نہیں کی تھی، پولس نے مبینہ طور پر دہشت گردوں کے بیان کی بنیاد پر انھیں گرفتار کرکے جیل بھیجا تھا۔ فریقین کے دلائل گواہوں کے بیانات اور پولس کے الزام اور سرکاری وکیل اے کے سنگھ کی بات پر غور کرنے کے بعد خصوصی عدالت کے جج بدرالدجیٰ نقوی نے ملزمان کو بے قصور گردانتے ہوئے باعزت بری کرنے کا حکم دیا۔
کیا اتنی سی خبر سے کہ وہ تمام باعزت بری ہوگئے، داغ دھل جائے گا ؟جو تعلیمی کیرئر تباہ ہوگیا، کیا اس کی تلافی ہوسکے گی؟ ان بے قصوروں کو جھوٹا پھنسانے والوں کے ساتھ کیا ہوگا؟ یہ سوالات ہنوز جواب کے منتظر ہیں۔
مالیگاؤں بم بلاسٹ کے ایک ملزم ڈاکٹر سلمان فارسی بیان کرتے ہیںکہ دوران حراست میں بار بار پوچھتا تھا تم لوگوںنے مجھے کیوں گرفتار کیا ہے ؟ آخر میرا قصور کیا ہے ؟ وہ اس کے جواب میں کچھ نہیں کہتے۔ وہ ایک جھوٹا بیان بنائے ہوئے تھے اور اس پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے اور اس جھوٹے بیان کو نہ تو مجھے پڑھنے ہی دیتے نہ ہی دیکھنے اور دستخط کرنے کے لیے کہتے بصورت دیگر شدید ڈارچر کی دھمکیاں دیتے۔ تب میں سمجھ گیا کہ وہ اس بم بلاسٹ کیس میں جھوٹا پھنسا نا اور میری زندگی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ (تہلکہ، ۳ دسمبر ۲۰۱۱’ ص ۲۴)
۸؍ ستمبر ۲۰۰۶ء کو مالیگاؤں عین جمعہ کی نماز میں دھماکہ ہوا اس کیس کا ایک اہم ملزم محمد زاہد مالیگاؤں سے پانچ سو کلو میٹر دور ’ پھول ساونگی‘ میں جمعہ کی نماز کی امامت کررہا تھا۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص اتنی دور امامت کررہا ہو وہ عین اسی وقت مالیگاؤں میں دھماکہ بھی کررہا ہے۔ اس مسجد کے مصلیان میں سے ۲۱۵ افراد نے اپنا بیان حلفی داخل کیا اور ساتھ میں ۷۵ ہندوؤں نے بھی اپنا بیان درج کریا کہ زاہد اس وقت ہمارے یہاں تھا مسجد میں نماز پڑھا رہا تھا اتنے لوگوں کی گواہی کے بعد بھی اس بے گناہ شخص کو سخت ٹارچر سے گذارا گیا۔ ۵ سال تک جیل میں رکھا گیا جس سے اس کی اپنی معاشرت پوری طرح تباہ ہوگئی گھر برباد ہوگیا۔
ناحق جیلوں میں سڑا کے رکھنے کایہ جنون
درمیانہ قد کا ۲۳ سالہ نوجوان نور الہدی مالیگاؤں کو صرف دس منٹ کے لیے مقامی پولس اسٹیشن بلایا گیا۔ اور واپس لوٹنے میں پورے پانچ سال تک لگ گئے۔
۸؍ ستمبر ۲۰۰۶ کو مالیگاؤں میں عین نماز کے وقت دھماکہ ہوتا ہے جس میں ۳۷ مسلمان جاں بحق اور ۳۳۰ مسلمان زخمی ہوجاتے ہیں اور الزام بھی مسلمانوں کے سرآتا ہے۔ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ انھیں میں سے نورالہدی اپنی داستان سناتے ہوئے کہتا ہے:
’ کہ اس سے ٹارچر سیل میں پوچھا گیا کہ وہ ٹوپی کیوں پہنتا ہے۔ اس نے ڈاڑھی کیوں رکھی ہے۔ وہ پانچ وقت کی نماز کیوں پڑھتا ہے کیوں نہیں وہ بھی سلمان خان کی طرح جینس ٹی شرٹ پہنتا کلین شیو رہتا کیا آخرسلمان خان مسلمان نہیں ہے۔
(بحوالہ مضمون: Wrongly convicted Muslim men survived torture )
نور الہدی کو مجبور کیا گیا کہ وہ پوری اسٹوری کو قبول کرلے۔ اس پر MACOCAلگا دیا گیا۔ یہ ایسا سیاہ قانون ہے Mcoca – a suspects confession is enough to secure a conviction.اس کالے قانون کا اصول یہی ہے کہ پولس حراست میں دیاگیا اقبالیہ بیان ہی سزا کے لیے کافی ہوتا ہے۔ ان نوجوانوں نے پانچ سال انتہائی اذیت اور کرب میں گذارے اور بالآخر پانچ سال بعد NIAنے اپنی رپورٹ میں بر ملا کہا کہ ان نوجوانوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور ان تمام کو نومبر ۲۰۱۱ء میں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔
لیکن ان تمام بے قصوروں کو جس شدید ترین تعذیب کا نشانہ بنایا گیا۔ ’ہمیں بالکل ننگا کردیا جاتا۔ ہمارے گھٹنوں پرہمارے تلووں پر شدید ضرب لگائی جاتی۔ ‘بحوالہ مضمون:
Wrongly convicted Muslim men survived torture
ملک میں مسلمان ۴ء۱۳ فیصد مگر جیلوں میں ۲۱ فیصد
ہندی میگزین انڈیا ٹوڈے کے ۱۹؍ دسمبر ۲۰۱۲ کے شمارے میں’ دیش میں کم جیلوں میں زیادہ ‘ کے عنوان سے ایک تحقیقاتی کور اسٹوری شائع ہوئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد ۲۰۰۱ کی مردم شماری کے مطابق بھلے ہی ۴ئ۱۳ فیصد ہے مگر دسمبر ۲۰۱۱ کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۲۱ فیصد ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے نمائندوں سنتوش کمار محمد وقاص اور دلیپ منڈل کی تقریباً چار مہینوں کی تحقیق حق اطاعات قانون کے تحت تیس سے زائد جیلوں سے جمع کئے گئے اعداد و شمار اور مرکزی وزارت داخلہ کے براہ راست کنٹرول میں کام کرنے والی تنظیم نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار سے یہ سنسنی خیز حقیقت سامنے آئی ہے۔
اپنی رپورٹ پیش کرنے سے قبل فاضل رپورٹروں نے جو تعارفی جملہ لکھا ہے وہ بہت معنی خیزہے اور حقیقت حال کا غماز بھی، وہ لکھتے ہیں ’ اگر آپ ہندوستان میں مسلمان ہیں تو اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرنے کے لیے آپ کے پاس کوئی جواز نہیں ہے ‘ رپورٹ کے مطابق مسلمان کو جیل بھیجنے کے معاملے میں سیکولر اور کمیونل حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مغربی بنگال میں ہر چوتھا شخص مسلمان ہے لیکن وہاں کی جیلوں میں تقریباً نصف فیصدی مسلمان ہیں۔ بنگال میں کبھی کسی فرقہ پرست پارٹی کا راج نہیں رہا۔ یہی نہیں مہاراشٹر میں ہر تیسرا تو اترپردیش میں ہر چوتھا قیدی مسلمان ہے۔ یہ حالت ٹھیک ویسی ہے جیسی امریکی جیلوں میں سیاہ فام قیدیوں کی ہے۔ امریکی جیلوں میں قید ۲۳ لاکھ لوگوں میں سے آدھے سیاہ فام ہیں جبکہ امریکی آبادی میں ان کا حصہ صرف ۱۳ فیصد ہے۔ جموں کشمیر پانڈے چیری اور سکم کے علاوہ ملک کے عام طور پر ہر صوبے میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے، اس سے زیادہ تناسب میں مسلمان جیلوں میں ہیں۔
حق اطلاعات قانون کے تحت ملی معلومات کے مطابق ۲؍ ستمبر ۲۰۱۲ کی صبح تک علی پور سینٹرل جیل میں بند1222 زیر سماعت قیدیوں میں ۵۳۰ مسلمان ہیں۔ یوپی کے غازی آباد ضلع جیل کے زیر سماعت ۲۲۰۰ قیدیوں میں ۷۲۰ مسلمان تھے دیگر جیلوں سے ملے اعداد شمار بھی حیرت انگیز ہیں۔
انڈیا ٹوڈے کے رپورٹروں نے اپنی مذکورہ تحقیق کے دوران دہشت گردی کے الزام میں قید مسلم نوجوانوں کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔ ’دہشت گردی کے نام پر قہر ‘ کی ضمنی سرخی کے تحت اپنی رپورٹ میں انھوں نے دہلی کے محمد عامر خان کے حوالے سے لکھا کہ ’ دہلی کے محمد عامر خان کا معاملہ نظام کے تعصب اور سخت گیری کی کہانی بیان کرتا ہے۔ دسمبر ۱۹۹۶ء اور اکتوبر ۱۹۹۷ء میں دہلی روہتک سونی پت اور غازی آباد میں تقریباً ۲۰ دیسی بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار اس وقت ۱۸ سالہ عامر کو ۱۴ سال بعد عدالت نے رہا کردیا لیکن ان برسوں میں اس کی دنیا اجڑ گئی۔گرفتاری کے تین سال بعد اس کے والد ہاشم خان سماج کے بائیکاٹ اور انصاف کی امید چھوڑ کر دنیا سے چل بسے، تو دہائی بھر کی لڑائی کے بعد ۹۔۲۰۰۸ میںآخر عامر کی ماں کی ہمت بھی جواب دے گئی اور وہ فالج زدہ ہوگئیں۔ جنوری ۲۰۱۲ء میں جیل سے رہا عامر کہتے ہیں: آج بھی اپنی والدہ کے منہ سے بیٹا لفظ سننے کو ترستا ہوں۔ بی جے پی کے قومی نائب صدر مختار عباس نقوی کہتے ہیں: ’ سچر کمیٹی نے کہا تھا کہ اگر مسلمان کہیں سب سے زیادہ ہیں تو وہ جیلوں میں ہیں۔ سیکولرزم کے کندھے پر سیاست کرنے والی ریاستوں میں یہ مسئلہ زیادہ ہے۔ اسے انسانی طریقے سے سلجھاناہوگا‘ ظاہر ہے مسلمان کے جیل میں زیادہ ہونے کے سلسلے میں ایک ایمان دارانہ تحقیق کے ساتھ ساتھ پولس اور عدلیہ کے نظام میں اہم تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ (بھگوا دہشت گردی اور مسلمان ص ۳۵۵ تا ۳۵۶)
ملک کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تفصیلات ملاحظہ فرمانے کے بعد ایک دوسری رپورٹ ملاحظہ فرمائیں اور تصور کریں کہ اس قدر مسلم قیدی اور امت مسلمہ اس پورے معاملے سے کس قدر غافل ہے۔ روزنامہ انقلاب ۳۱؍مارچ ۲۰۱۴ء میں چھپی یہ خبر ’ برطانوی جیلوں میں ہر ساتواں قیدی مسلمان ہے۔ محکمہ انصاف کی کارکردگی پر سوالیہ نشان، برطانوی جیلوں میں مجموعی قیدیوں کا ۱۴؍فیصد مسلمان ہیں۔ خبر اس طرح ہے کہ کراچی (ایجنسی ) برطانبوی اخبار انڈی پینڈنٹ کے مطابق برطانوی جیلوں میں سے ہر سات میں ایک قیدی مسلمان ہے، جو قیدیوں کی مجموعی تعداد میں ایک چوتھائی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ اس صورت حال نے برطانیہ کے محکمہ انصاف کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ایک دہائی میں مسلمان قیدیوں کی تعداد دوگنی ہو گئی، اس وقت برطانوی جیلوں میں ۱۲۰۰۰ سے زائد مسلمان بند ہیں، ۲۰۰۲ء میں مسلمان قیدیوں کی تعداد ۵۵۰۲ تھی جو کہ ۷ء۷ فیصد بنتی ہے۔ جبکہ ۲۰۱۳ء میں یہ تعداد ۱۴؍فیصد بڑھ کر ۱۱۷۲۹ ہو گئی اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بچہ جیل میں بھی مسلمان نوجوان زیادہ ہیں۔ ایک تہائی مسلمان قیدیوں کا آبائی تعلق کیریبین یا افریقی ممالک سے ہے، رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزارت انصاف کے اعدادو شمار کے مطابق برطانی جیلوں میں ۱۲۰۰۰ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ تعداد گذشتہ ایک دہائی سے دو گنا سے بڑھ گئی ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ اسلام فوبیا کی وجہ سے تعداد میں اضٓفہ ہوا ہے۔ انگلیڈ اور ویلس کی مجموعی آبادی میں مسلمان صرف ۴۔۷ فیصد ہیں۔ انگلیڈ اور ویلس میں ہر ۷؍میں سے ایک قیدی مسلمان ہے۔ اور اس لحاظ سے برطانوی جیلوں میں مجموعی قیدیوں کی تعداد کا ۱۴؍فیصد مسلمان ہیں۔ کئی جیلوں میں ایک تہائی قیدی مسلمان ہیں۔ اور وائٹ مور کمبرج شائر کی A کٹگری جیل میں ۴۳؍فیصد مسلمان ہیں۔ لندن کی دو جیلوں میں اسس میں ۳۴؍فیصد جبکہ فلتھم میں ۳۳؍ فیصد قیدی مسلمان ہیں۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *