ورنداون کی بیواؤں کو عزت کی موت بھی نصیب نہیں

ورنداون (متھرا، یوپی) کی سرکاری پناہ گاہوں میں بیواؤں کے جسم کو ان کی موت کے بعد بھنگی اٹھا کر لے جاتے ہیں اور پھر ٹکڑوں میں کاٹنے کے بعد بوری میں بھر کر ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔ کیونکہ ادارے کے پاس آخری رسومات کے لئے مناسب ذرائع موجود نہیں ہیں۔ یہ بھی اس وقت ہوتا ہے جب وہاں رہنے والے دوسرے لوگ بھنگیوں کو اس کام کے لئے پیسے دیتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کے ایک سروے میں یہ چونکا دینے والا واقعہ روشنی میں آیاجو کہ ورنداون اور اس کے اطراف میں پناہ گزیں تنہا بوڑھی عورتوں اور بیواؤں کے بدترین حالات پر کیا گیا تھا۔
نیشنل لیگل سروس کے افسرِ اعلٰی صدر جسٹس التمش کبیر نے اترپردیش کی اسٹیٹ لیگل سروس کو ان عورتوں کے حالات معلوم کرنے کا حکم اس وقت دیا جب دی ہندو The Hinduاخبارنے اپنی ایک رپورٹ میں اترپردیش کے ورنداون میں پناہ گزیں عورتوں کی حالتِ زار کی آگاہی دی تھی۔
تحقیقات میں اس بات کی بھی تفتیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا کہ کیا ان عورتوں کو گھر کے برے حالات کی وجہ سے ان کی اپنی اولاد یا اہلِ خانہ کے ذریعہ یہاں چھوڑا جا رہا ہے۔ یہ بات 2007ء میں نافذ ہونے والی والدین اور بوڑھوں کے اخراجات او ر ان کی فلاح کے حق میں دفعہ 24 کے تحت قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔
اس رپورٹ میں (جس کی ایک کاپی دی ہندو کے پاس موجود ہے)ضلع ادھیکاری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان عورتوں کی جائداد اور حقوق کی حفاظت کریں۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے ضروری اقدامات کریں جس سے ان ضرورت مند عورتوں کی جائداد بحال ہو اور قانون کے مطابق اس بحالی کے ذریعہ وہ اپنی جائداد اور گھروں کو لوٹ سکیں اور عزت و وقار کی زندگی بسر کر سکیں۔
رپورٹ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ ان عورتوں میں ان کے حقوق کے متعلق آگاہی بڑھانے کے لئے اور ضرورت کے وقت قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے قانونی مدد دی جانی چاہیے۔
میتھیلیش سولنکی، سوادھار مہیلا آشرئے کیندر، ورنداون میں رہنے والی اس بیوہ خاتون نے ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ: یہ ایک قابلِ رحم معاملہ اور دل شکن بات ہے کہ بھنگی رات کو لاشوں کو لے جاکر کاٹتے اور بورے میں بھر کر پھینک دیتے ہیں۔
یہ ادارہ Union Minister of Women and Child Developmentکے تحت 2006 میں ایک این جی او اکھل بھارتیہ ماں شاردا سماج کلیان سمیتی کے ذریعہ چلایا جارہا ہے۔ لیکن ادارہ مُردوں کی آخری رسومات کی ذمہ داری نہیں لیتا۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق جو کہ ضلع اصلاح گھر اور معاشی بہبود ڈپارٹمنٹ سے حاصل کی گئی ہے، ضلع میں ایسی عورتو ں کی تعداد 3151 تحریر کی گئی ہے۔ جس میں سے ایک بڑی تعداد ان عورتوں کی ہےجو مغربی بنگال سے تعلق رکھتی ہیں اور شوہر کے انتقال کے بعد اپنے تنگ نظر اور دقیانوسی خاندان کی وجہ سے ورنداون میں بیوگی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔
زیادہ تر معاملات میں بیوہ ہونے کے بعد عورتوں کو دوسری شادی کا حق نہیں دیا جاتا خواہ ان کے شوہر کا انتقال کم عمری یا بچپنے ہی میں کیوں نہ ہوگیا ہو۔کچھ کو ان کے گھروالے اس لئے نکال دیتے ہیں کہ ایک غیر پیداواری ممبر کو گھر میں رکھ کر ان کا خرچ اٹھانے کی ذمہ داری کوئی نہیں لینا چاہتا۔ اور کچھ ناقابل برداشت ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہوکر خود سے اپنا گھر چھوڑنے کو مجبور ہو جاتی ہیں۔
اس رپورٹ میں ان عورتوں کے بدترین حالات کے بارےمیں تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن میں سے کچھ بیواؤں کو تین سو روپے ماہانہ پینشن، اناج اور شکر کی قلیل مقدار مہیا کی جاتی ہے۔ظاہر ہے یہ گزارے کے لئے بالکل ناکافی ہے۔ اسی وجہ سے وہ مندروں میں بھیک مانگنے اور گانے پر مجبور ہیں تاکہ دن میں دو تین روپے کی کمائی ہو جائے۔
رہائشی کوارٹروں میں حد سے زیادہ گندگی کے ساتھ ساتھ بیت الخلاء کی نہ کے برابر سہولت ہے۔ طبی سہولت صرف کاغذی سطح پر ہی ہے۔ کم تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے یہ بیوائیں سرکاری امداد اور دوسری اسکیموں سے ملنے والی معمولی رقم سے بھی محروم رہتی ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر رقم ملنے سے پہلے ہی غائب کر دی جاتی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *