بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

۱۶ ؍مئی ۲۰۱۴ء؁ کے پارلیمانی نتائج کے بعد بھارت کے سیاسی افق پر ایک نیا منظر نمودار ہوا ہے۔ اگر چہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری اور انتخابی عمل میں AVMکے غلط استعمال پر بھی انگلیاں اٹھیں اور اس سلسلے میں متعدد اعتراضات اور الزامات سامنے آئے ۔ بعض دلائل بھی پیش کئے گئے مگر اس کا امکان برائے نام ہی ہے کہ اس سلسلے میں کوئی مؤثر کارروائی عمل میں آسکے گی۔ کیونکہ نئی کابینہ کی تشکیل اور حلف برداری کے بعد عدالت عظمیٰ کی مداخلت کے آثار بھی محو ہوتے جا رہے ہیں
……………………………………………………………
نئی حکومت کی تشکیل میں جن عناصر کا کردار سب سے نمایا رہا ان میں ملک کے بڑے سرمایہ دار گھرانے ، میڈیا انڈسٹری اور ہندو قوم پرستی کے علم بردار پیش پیش ہیں ، میڈیا سے جو کام لیا جا سکتا تھا وہ لے لیا گیا اور اس کی قیمت بھی ادا کی جا چکی۔ لہٰذا مستقبل میں حکومت کی پالیسیوں پر اس کے اثر انداز ہونے کی زیادہ گنجائش نہیں رہ گئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کا تعاون کسی اصول اور نظریہ کے تحت نہ ہو کر تاجرانہ انداز کا تھا۔ دوسرا عنصر بڑے سرمایہ دار گھرانوں کا ہے جن کا کوئی مستقل نظریہ یا اصول نہیں ہوا کرتا۔ مفاد کا حصول ہی ان کا واحد مقصد ہے جس کے لئے وہ کوئی بھی رویہ اختیار کر لیا کرتے ہیں ۔ تیسرا اہم عنصر ہندو قوم پرستی یا فرقہ پرستی کا علمبردار وہ طبقہ ہے جو ہندوستان کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے ۔ نئی حکومت کی پالیسیوں پر مستقلاً اثر انداز ہونے والی یہ واحد قوت ہے جو فرقہ وارانہ خیر سگالی کے مخالف سمت جانے والا ایک اہم تخریبی عنصر ہے جو ملک کی ساری اقلیتوں بالخصوص ملک کی دوسری اکثریت یعنی مسلمانوں کے لئے بجا طور پر باعث تشویش ہے ۔ خاص طور پر ایسی صورت میں کہ وہ برسرِاقتدار یا شریک اقتدار ہو ۔ یہ اختلاف اور تشویش بے وجہ یا محض جذباتی نوعیت کی نہیں ہے ۔ اختصار کے ساتھ اس کے چند وجوہات حسب ذیل ہیں:
اس کی ایک وجہ ان عناصر کا جارحانہ تصور قوم پرستی ہے جس کو وہ اپنا طرہ امتیاز بنائے ہوئے ہیں۔ موجودہ دور میں وطنی قوم پرستی کے نام پر انسانی آبادی کو جس طرح تقسیم کیا گیا ہے اس کی کوئی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ تاریخ میں قومیت کا تصور آج کے تصور قومیت سے بہت مختلف تھا ۔ اکثر قومیں نسل اور زبان کے تعلق سے جانی جاتی تھیں۔ مگر اب ایک محدود خطہ ارض میں ایک خاص سیاسی نظام کے تحت رہنے والوں کو ایک قوم قرار دیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں سیاسی علاقائیت کی بنیاد پر نسلِ انسانی سینکڑوں خانوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور دو انتہائی خطرناک عالمی جنگیں اسی بنیادپر لڑی گئی ہیں جن میں انسانی جان و مال اور ذرائع وسائل بڑے پیمانے پر ضائع ہو چکے ہیں ۔ اس نئے تصور قوم پرستی کی ایک شکل وہ ہے جو بیشتر یوروپی ملکوں میں پائی جاتی ہے یعنی زبان ،علاقہ اور مذہب کی یکسانیت کے ساتھ انہوں نے خود کو ایک علاقائی قومیت کے قالب میں ڈھال لیا ہے ۔ ان کے سیاسی مفادات اور قومی تصورات بنیادی طور پر یکساں ہیں اوران کے اختلافات کی نوعیت وقتی اور عارضی ہے ۔ اس کے برعکس ایشیا اور افریقہ میں وطنی قومیت دوسرے حالات سے دوچار ہے ۔ یہاں بہت سے ملکوں میں قومیت کے عناصر ترکیبی یوروپ سے مختلف ہیں ان میں عقیدہ و مذہب نسل اور زبان کی نسبت سے بہت سی علاحدہ قومیں پائی جاتی ہیں جہاں سیاسی حاکمیت کے علاوہ کوئی اور رشتہ اشتراک موجود نہیں ہے۔ ہمارا ملک ہندوستان بھی اسی صورتِ حال سے دوچار ہے ۔ اس لئے اونچے درجے کے دانش وروں نے اس حقیقت کو پوری طرح تسلیم کرتے ہوئے ہندوستان کو لسانی اور مذہبی اور نسلی اعتبار سے مجموعۂ اقوام قرار دیا ہے ۔ اور India is a multination countryکو ہم معنیٰ نظریہ کی تائید کی ہے۔ انگریزی اقتدار کے خاتمہ پر ملک کے لئے دستور ساز اسمبلی نے جو دستور وضع کیا تھا اس میں بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے شہری حقوق کے ساتھ لسانی اور مذہبی حقوق کی بنیادی حیثیت بھی تسلیم کی گئی۔ گویا اس جمہوری ملک میں سب کچھ اکثریت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا گیا ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ جمہوریت کے بجائے اکثریت کا جبر ہوتا ۔ جو خلافِ حقیقت ہونے کے ساتھ ناقابل قبول بھی ہوتا۔ لہٰذا عملی خلاف ورزیوں کے باوجود بنیادی حقوق کا باب اقلیتوں کے لئے ایک بڑا ذریعۂ اعتماد ہے۔ اتنا ہی نہیں ہندوستانی قومیت کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اسی کے ساتھ ملکی اتحاد و سلامتی کے لئے ان حقوق کا پاس و لحاظ رکھنا بھی لازمی ہے ۔ ’’ہندوتوا ‘‘یا ہندو قوم پرستی کا مفہوم جو ہندوستان کے واقعی تصور قومیت سے نہ صرف مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے متصادم ہے ۔ ہندوستان کی دستوری قومیت کے بر خلاف ہندو قوم پرستی کے علمبردار ایک خاص نسل اور زبان اور ایک مخصوص تہذیب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس ملک کا مالک قرار دیتے ہیں اور دوسروں کو ان کے رنگ میں رنگ دینے یا ان کا تابع فرمان بناکر رکھنا چاہتے ہیں جن کی بناپر یہاں کی مذہبی اور لسانی اقلیتیں بجا طور پر خطرہ محسوس کرتی ہیں ۔اس کے ساتھ یہاں کا دستور اور سیاسی وفاق بھی خطرہ میں ہے ۔ اکثریتی زعم اپنی حدود کو پار کرکے اسی دستور کی بھی قطع برید کرنا چاہتا ہے اور ایسی تبدیلیاں لانا چاہتا ہے جو ہٹلر اور مسولنی کے تصور قوم پرستی سے مشابہ ہوں ۔ شائد اسی لئے کرسی پر بیٹھتے ہی دفعہ 370کو موضوع بحث بنانے کی کوشش شروع کر دی گئی جو ایک خطرناک علامت ہے ۔جس ملک کا آرمی چیف سبکدوش ہوتے ہی قوم پرستی کا جارحانہ تصور رکھنے والی پارٹی کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے ، وہاں ایسے خطرات کو موہوم سمجھنا ناسمجھی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
……………………………………………………………
بحالت موجودہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فوری طور پر دستوری ترمیم خاص طور پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی ۔ اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ )ایسا نہیں ہونے دے گی ۔ پھر بھی یہ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قانون سازی کا عمل اپنا کام کرے گا تو عدالت اسے روک دے گی ۔ کیونکہ دستوری دفعات کے برخلاف ان عدالتوں سے ایسے فیصلے بھی صادر ہوتے رہے ہیں جن سے جارحانہ قوم پرستی کو حوصلہ ملا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے المیہ کے بعد اور اس کی شہاد ت کے موقع پر عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی مگر عدالت کوئی مؤثر کردار ادا نہ کر سکی ۔ مزید براں اپنے ہی صادر کردہ حکم امتناعی کے خلاف ۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء؁ کو ایک حکم امتناعی (Status Co.)جاری کر دیا جو قانون اور انصاف کے لئے گردن بزن کا درجہ رکھتا ہے۔ عدالت نے ہی ایک فریق کو نماز پڑھنے کے حقوق سے محروم رکھا اور دوسرے کو غاصبانہ تعمیر میں پوجا پاٹ کی اجازت مرحمت فرمادی۔ اس نوعیت کے اور بہت سے عجیب و غریب احکامات جاری ہوتے رہےجن کو بوجہ اختصار یہاں نقل نہیں کر رہے ہیں ۔ علاوہ ازیں عدالتی چارہ جوئی کا راستہ صبر طلب ہی نہیں ’’زر طلب ‘‘بھی ہے جس پر چلنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ یہ عدالتی نظام ہی ہے جس نے دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار شدگان کو انصاف کے انتظار میں برسوں محبوس رکھا اور جن لوگوں کو مدت دراز تک قید میں رکھا گیا ان کے نقصانات کی ممکنہ تلافی بھی نہیں کی جا سکی ۔
……………………………………………………………
جارحانہ قوم پرستی کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندی کے ساتھ ماحول میں نفرت کا جو زہر گھول دیا ہے وہ سیاسی تقرروں دفتروں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے سماج کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو چکا ہے جو لوگ اس زہر سے متاثر نہیں ہیں وہ بھی اتنی قوت نہیں رکھتے کہ وقت پڑنے پر اس کا ازالہ کر سکیں ۔ لہٰذا مسلمان جب اپنے دینی و مذہبی اور تہذیب و معاشرت کی حفاظت کے لئے کوئی آواز اٹھاتے ہیں یا کوئی پر امن احتجاج کرتے ہیں تو اکثریت کے دعویداروں کے لئے اسے مسترد کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ احتجاج کرنے والے مسلمان ہیں۔اس صورت میں انہیں پولیس اور انتظامیہ کی جانب داری سے ہی واسطہ نہیں پڑتا ۔ بلکہ مخالفت برائے مخالفت کی آگ کے شعلے بلند ہوتے ہی پوراماحول بدل جاتا ہے اور دلیل کی جگہ ڈنڈے کا استعمال شروع ہو جاتا ہے ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ نئی سرکار ایسا نہیں ہونے دے گی تو یہ بے خبری اور حد سے بڑھی ہوئی خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اور اس کی گنجائش ایسے ہی لوگ نکال سکتے ہیں جو ساحل کے تماشائیوں کی طرح طوفان کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں۔
……………………………………………………………
ہم دوسری اقلیتوں کی ترجمانی تو نہیں کر سکتے مگر مسلمانوں کی مشکلات کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ مملکت ہند میں ہمارے لئے صرف زندہ رہنے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اسلام کے ساتھ زندہ رہنے اور ایمان کے ساتھ مرنے کا مسئلہ ہے۔ جب اسکولوں میں مشرکانہ رسوم ادا کرائی جائیں ، وندے ماترم کو قومی ترانہ بناکر گانے کے لئے مجبور کیا جائے ، جب حکومت قانونِ شریعت میں مداخلت کرے ، جب خدا اور رسول سے وابستگی کو وطن سے غداری قرار دیا جانے لگے تو یہ کس طرح برداشت کیا جا سکتا ہے ؟ جب اکثریت کے حوالے سے اقلیت کو وہ سب کچھ ماننے پر مجبور کیا جانے لگے جو دین و دانش اور عدل و انصاف کے خلاف ہو تو کیسے اس کی تائید کی جا سکتی ہے۔ جب اختلاف رائے کی گنجائش باقی نہ رکھی جائے تو جبر و جمہوریت میں کیا فرق رہ جاتا ہے اور اس کا جواز کیسے نکالا جا سکتا ہے؟
…………………………………………………………… جہاں تک ہندوستانی سیکولرزم اور جارحانہ ہندو قوم پرستی کے موازنہ کا تعلق ہے تودونوں میں سے کسی کو قابل ترجیح قرار دینا ایک پیچیدہ سوال ہے۔ اب تک سیکولر پارٹیوں کی چھتر چھایا میں جس طرح ہندو قوم پرستی پروان چڑھتی رہی اور ان کی حکومتیں اور انتظامیہ جس طرح مسلمانوں کو انصاف دینے میں ناکام ہوتی رہیں اس کے بعد تو سیکولر پارٹیاں ملکی دستور اور جمہوری طرزِ حکومت اور موجودہ نظامِ عدالت ، سب پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ دریں حالات کب تک اور کہاں تک اقلیتوں اور کمزور طبقات کا اعتبار و اعتماد قائم رہے گا؟ اس پر اہل سیاست کی بے کرداری بلکہ بد کرداری مزید براں ہے۔ وہ جب مسلم پرسنل لا کی جگہ یکساں سول کوڈ کی حمایت کرتے ہیں تو انہیں دستور کے رہنما اصول یاد آجاتے ہیں۔ مگر شراب بند کرنے کی آواز اٹھے تو انہیں نہ شراب کی خرابیاں یاد آتی ہیں اور نہ دستور کے رہنما اصول یاد رہتے ہیں۔ جب کہ شراب مذہب ،عقل اور میڈیکل سائنس سب کی نظر میں ممنوع اور مہلک ہے۔ دستور میںدرج رہنما اصولوں کی حیثیت سفارش کی ہے۔ اور بنیادی حقوق Fundamental Writs کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ بنیادی حقوق کو پیدائشی حقوق Birth Rights بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ وہ حقوق ہیں جو انسان کو پیدائشی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ اور ان کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ شراب پینا کسی کا قانونی حق نہیں ہے نہ آئینی حق ہے، بلکہ ہمیشہ اس کو برائی، گناہ، جرم، مضر صحت اور اخلاق اور معاشرہ کے لئے تباہ کن سمجھا جاتا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ سیکولر جمہوری حکومتیں جس طرح سب سے بڑی سود خور مہاجن کا کردار ادا کرتی ہیں اسی طرح سب سے بڑی شراب ساز، شراب فروش کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔ ۔۔۔۔ شاید اسی دلدل سے نکلنے کے لئے شہریوں کو ایک ایسے بٹن (Nota)کو دبانے کی اجازت بھی دی گئی جو سارے امیدواروں کو مسترد کرتا ہے۔ حالانکہ یہ نہ تو سیکولر جمہوریت کے حق میں جاتا ہے اور نہ ہی ہندو قوم پرستی کے جارحانہ تصور کی تائید کرتا ہے۔
……………………………………………………………
نو تشکیل شدہ سرکار کو سرمایہ دار گھرانوں، میڈیا انڈسٹری ،اور ہندو قوم پرست عناصر نے مل کر واضح اکثریت کا تمغہ تو فراہم کر دیا ہے مگر بھولنا نہیں چاہئے کہ اس کے حاصل شدہ ووٹوں کا تناسب تیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ جب کہ مصر میں اس سے کہیں زیادہ اکثریت اخوان المسلمون کو حاصل تھی مگر جمہوریت اور امن کے نام نہاد پاسداروں اور ان کے سرخیل امریکہ کو یہ سودا پسند نہیں آیا ۔ لہٰذا فوجی بغاوت کو جمہوری لباس پہنا کر اس ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا گیا۔ اور خود کو خادم الحرمین کہنے والے سعودی بادشاہ سے لیکر ہندوستان سمیت کسی بھی جمہورئے کو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی ۔ کیونکہ وہاں اسلام اور شریعت کے برسرِاقتدار آنے کا مسئلہ تھا اور اگر کسی ملک کے عوام اپنی تائید سے اسلام کو برسراقتدار لائیں تو اس ’’خطا ‘‘کی سزا میں عوام اور ان کے سارے جمہوری اور انسانی حقوق کا قتل جائز ٹھہرایا جاتا ہے مگر یہ معاملہ مسلم ملک کا ہے اور اس سخن گستری پر معذرت خواہی کے ساتھ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے سیاسی معمل میں نئی حکومت کچھ ایسے تجربات کر سکتی ہے جن کا تجربہ وہ گجرات اور یوپی کے بے گناہوں کے قتل عام اور بابری مسجد کی شہادت کی صورت میں کر چکی ہے۔ ہندی ،ہندو اور ہندوستان کے نام پر اس کی اجازت دینا نہ صرف اقلیتوں، مسلمانوں کے لئے خطرناک ہے بلکہ سارے ملک کے اتحاد و سا لمیت کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بحالت موجودہ مسلمان اپنے تحفظ کے قابل نظر نہیں آتے اور اس کی بنیادی علامات (نظم، اتحاد، قیادت) تک مفقود ہیں ۔ مگر جس ملک کی بیس فیصد آبادی کو تختۂ مشق ستم بنایا جائے گا اس میں امنِ عامہ ،معاشی استحکام اور تعمیری منصوبہ بندی کا کیا ہوگا؟یہ بجائے خود ایک بڑا مسئلہ ہے ۔موجودہ حکومت اگر چہ سب کی ترقی اور سب کے ساتھ چلنے کی بات کر رہی ہے مگر سوال نعروں کا نہیں ،نعروں اور اقدامات کی ہم آہنگی کا ہے۔۔۔۔۔۔۔والسلام

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *