عراق مرے گھر کی تباہی ہے نگہبانوں سے وابستہ

شمالی عراق کےتین بڑے شہر موصل ، تکریت اور کرکوک ایک ہفتہ کے اندر دیکھتے دیکھتے بغداد کے قبضۂ قدرت سے آزاد ہو گئے اورآئی ایس آئی ایل نامی ایک گمنام تنظیم اچانک ذرائع ابلاغ پر چھا گئی ۔ اسی کے ساتھ آئی ایس آئی ایل کو یہ زبردست کا میابی کیوں کر حاصل ہوئی اس بابت حقیقت تک پہنچنے کے بجائے مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہو نے لگیں ۔ کوئی انہیں باغی کہتا ہے تو کوئی خارجی کہہ کر پکارتا ہے اور کسی کو وہ القائدہ کےدہشت گرد نظر آتے ہیں بلکہ کچھ لوگوں نے انہیں سعودی عرب کے پیادے یاامریکہ اور اسرائیل کا ایجنٹ تک قرار دے دیا ہے۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ جو لوگ شام کی صورتحال سے واقف ہیں انہیں پتہ ہے کہ بشار الاسد کے خلاف بر سرِ جنگ دو گروہوں میں سے سعودی عرب اور مغرب جس سیرین لبریشن آرمی کاحامی ہے ،آئی ایس آئی ایل کی مادر تنظیم النصرۃ اس کا مخالف ہے ۔ سعودی عرب خود نہیں چاہتا کہ اس طرح کی صورتحال اس کی سر زمین پر رونما ہو اس لئے اس نے ان اقدامات کی حمایت کرنے کے بجائے نورا المالکی کی تنقید پر اکتفاء کیا ہے ۔امریکہ ان پر بمباری کی تیاری کررہا ہے۔ القائدہ کے ڈاکٹر ایمن الظواہری سےداعش کمانڈرابوعمر بغدادی کے اختلافات جگ ظاہر ہیں۔
آئی ایس آئی ایل نے جس سفاکی کے ساتھ فوجیوں کو ہلاک کیا وہ یقیناً قابلِ مذمت ہے لیکن اس طرح کی بہیمیت کا مظاہرہ خود نورالمالکی، بشارالاسد اور عبدالفتاح السیسی اپنے شہریوں کے ساتھ کرچکے ہیں ۔ موصل سے پانچ لاکھ لوگوں کی ہجرت کیلئے آئی ایس آئی ایل کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئےکہا گیا کہ لوگ داعش کے خوف سے فرار ہو رہے ہیں جبکہ مہاجرین کا کہنا تھا کہ حکومت کے ردعمل کا ڈر انہیں مجبور کرہا ہے ۔ نورا المالکی نے امریکہ کو بمباری کی دعوت دے کر عوامی اندیشوں کی تائید کردی۔ یہ کون نہیں جانتا کہ امریکی حملوں میں جس قدر جنگجو مارے جائیں گے اس سے کہیں زیادہ شہری لقمۂ اجل بنیں گے۔ اس لئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آئی ایس آئی ایل باغی ہے تو عراقی فوج نے اس کا مقابلہ کیوں نہیں کیا ؟ اوراگروہ لوگ خارجی دہشت گرد ہیں تو عوام نے ان کی مخالفت کیوں نہیں کی؟ ان بنیادی سوالات کی مدد سے حقیقت تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے ۔
ایک سال پہلے تک آئی ایس آئی ایس کا اثرو رسوخ شام تک محدود تھا اور عراق میں اس کا کوئی نام لیوا نہیں تھا ۔اس دوران(۲۰۱۳ءمیں) عراق کے اندر عرب بہار کی طرز پر حکومت مخالف پرامن عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری تھا ۔ اس کے اثرات سنی و شیعہ فرقوں کے اکثریتی علاقوں میں نظر آتے تھے۔ فرقہ بندی سے عاری یہ تحریک شمالی عراق کے سنی علاقوں میں مندرجہ ذیل مطالبات کررہی تھی:
•عراقی جمہوریت میں سنی فرقہ کی بے وزنی کا خاتمہ
•سیاسی مخالفین کےخلاف دہشت گردی مخالف قوانین کے استعمال کی روک تھام
•سزائے موت کے قانون کا خاتمہ
•بدعنوانی کی بیخ کنی
یہ نہایت ہی معقول اور جائز مطالبات تھے لیکن وزیراعظم نور المالکی نے انہیں نظر انداز کیا عوام کے اندر پائے جانے والے غم و غصہ کو کم کرنے کے بجائے فوج کی مدد سے اس پر امن احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی۔ نہ صرف مظاہرین پر حملے ہوئے ، ان کو ہلاک کیا گیا بلکہ اس کے رہنماؤوں کو بھی قتل کیا گیا۔ اس کے باوجود مظاہرین نے صبرو ضبط کا دامن نہیں چھوڑا اور عزم استحکام کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہے یہاں تک کہ دسمبر۲۰۱۳ءمیں فوجی قوت کے ذریعہ فلوجہ اور رمادی کے احتجاجی کیمپوں کا صفایہ کردیا گیا ۔ اس موقع پر مظاہرین کا عدم تشدد کی حکمتِ عملی کے اوپر سے اعتماد اٹھ گیا اورمایوسی کے عالم میں مسلح مزاحمت کے امکان پر غورخوض کا آغاز ہوا۔ بقول شاعر؎
میں یوں رہزن کے بدلے پاسباں پردار کرتا ہوں مرے گھر کی تباہی ہے نگہبانوں سے وابستہ
فلوجہ میں شیخ عبداللہ جنابی کی قیادت میں عراقی انقلابیوں کی فوجی کونسل کا قیام عمل میں آیا جس میں قبائلی رہنما اور سابق فوجی شامل تھے۔ شیخ عبداللہ جنابی۲۰۰۴ء کے اندر امریکی تسلط کے خلاف مجاہدین کی شوریٰ کاونسل کے قائد تھے۔امریکہ نے فلوجہ پر دوبارہ حملہ کیا تو وہ شام کی جانب نکل گئے لیکن۲۰۱۱ء کے اندر عراق لوٹ آئے ۔ شیخ عبداللہ نے مختلف قبائلی جنگجو گروہوں کو متحد کرنے میں اہم کردار اداکیا۔ سرکاری دہشت گردی کے خلاف منظم ہونے والے ان قبائلی مسلح دستوں کے وجود میں آنے کے بعد داعش کو یہ زمین زر خیز نظر آئی اور اس نے یہاں کا رخ کیا ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ اس جنگجو جتھے میں کئی گروہ شامل تھے ،حکومت نے ان سب کو آئی ایس آئی ایل کے دہشت گرد قرار دے دیا اور اعلان کردیا کہ جو بھی ہماری فوج سے ٹکرائے گا اس کے ساتھ آئی ایس آئی ایل جیسا سلوک ہوگا اگرچہ کہ اس کا تعلق آئی ایس آئی ایل سے ہو یا نہ ہو۔
فلوجہ شہر کے اندر عراقی حکومت نے گزشتہ چند ماہ میں بمباری کرکے ۴۴۳ شہریوں کو ہلاک کیا اور ہسپتالوں تک کو نشانہ بنایا ۔یوروپی پارلیمان کے وفد برائے عراق کے سربراہ اسٹران اسٹیونسن نے اس کارروائی کو نسل کشی قرار دیاجس میں۱۶۵۷ لوگ زخمی ہوئےاور تقریباً ۵۰ ہزار خاندان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ۔نورالمالکی کے اس جبرواستبداد کےجواب میں ایس آئی ایل کو عوام کی ہمدردیاں حاصل ہو گئیں اورمایوس نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ اس میں شامل ہو گیا ۔اس عوامی بغاوت کا مقابلہ کرنا فوج کیلئے ناممکن ہو گیا اس لئے وہ جان بچا کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ اب غیر ملکیوں کوبمباری کے ذریعہ اس کو کچلنے کی دعوت دی جارہی ہے ۔ عراقی فوج اسی طرح کا مظاہرہ صدام حسین کے دور میں بھی کرچکی ہے۔ عراق میں۱۹۹۱ء کے اندر اس طرح کی بغاوت ہو چکی ہے اور جسے کچل دیا گیا تھا ۔ اس بار کیا ہوگا یہ کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے جو ایرانی رہنما ماضی میں صدام حسین کے مظالم کی مخالفت کرتے تھے وہ اب نوارالمالکی کی حمایت میں فوج روانہ کررہے ہیں اور سعودی عرب جیسے ممالک جو صدام کی حمایت کیا کرتے تھے وہ نوارالمالکی پر تنقید کررہے ہیں ۔ مغرب کا عجب حال ہے کہ وہ شام میں حکومت سے برسرِ پیکار جن لوگوں کاآزادی کے متوالے کا لقب عطا کرتا ہےعراق میں انہیں کو باغی دہشت گرد قراردیتا ہے ۔
عراق کے اندر مسلح جدو جہد کے آغازکا سہرہ آئی ایس آئی ایل کے سر نہیں جاتا بلکہ اس کیلئے امریکی جارحیت ذمہ دار ہے جس نے مہلک اسلحہ کا بہانہ بنا کر فوج کشی کی۔ لاکھوں افراد کو ہلاک کرنے اور لاکھوں کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے بعد بڑی بے شرمی کے ساتھ تسلیم کرلیا کہ وہاں عمومی تباہی کا اسلحہ سرے سےموجودہی نہیں تھا اور انٹلی جنس کی اطلاع غلط تھی۔ صدام کا تختہ الٹ کر جارج ڈبلیو بش جونئیر نے دوسری بار انتخاب میں کامیابی حاصل کرلی، اس کا مقصد پورا ہوگیا۔ اس کے بعد اوبامہ فوج واپس بلانے کا نعرہ لگا کرانتخابی اکھاڑے میں اترے اور کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے دوبارہ انتخاب سے قبل اپنی فوج واپس بلا لی اور اب جانے سے پہلے پھر فوج روانہ کررہے ہیں گویا امریکی فوجی جارحیت بھی ایک تماشہ ہو گیا کہ اپنی سیاسی ضرورت کے پیشِ نظر جب چاہا فوج روانہ کردی اور جب چاہا واپس بلا لیا۔
عراق کے اندراپنی دو کامیابیوں کا ذکر امریکی بڑے فخر سے کرتے ہیں اول تو عراق کو ایک تربیت یافتہ فوج دینے کا اور دوسرے جمہوریت کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کا کارنامہ۔ امریکہ کے ذریعہ تربیت یافتہ فوج کی دلیری تو حال میں ساری دنیا نے دیکھ لی کہ جب آئی ایس آئی ایل کے جنگجو آئے تو وہ رنگروٹ اپنی وردی تک چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔عراق سے امریکیوں کو بھگانے کا کام شیعوں اور سنیوں نےمشترکہ طورپر اپنے اپنے علاقوں میں کیا لیکن مغربی جمہوریت نے اس اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ نورالمالکی نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلا کام تو یہ کیا کہ صدام حسین کو عین عیدالاضحیٰ کے دن پھانسی دے دی اور اس کا ویڈیو بھی لیک کرادیا۔ اگر نورالمالکی اس حرکت سے گریز کرتے تو یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو تا ۔ اس کے باوجود دوسری مرتبہ انتخابات میں وہ واضح اکثریت نہیں حاصل کرسکے۔ ایسے میں انہیں اقتدار کسی اور کے حوالے کرکے کنارہ کش ہو جانا چاہئے تھالیکن کئی مہینوں کےسیاسی تعطل کے بعد وہ پھر سے اقتدار پر قابض ہو گئے اس طرح گویا عراق میں باقاعدہ دستوری آمریت کا آغاز ہو گیا ۔
امریکہ کے زیر نگرانی۲۰۰۶ء کے اندر منعقد ہونے والے انتخابات کے بعدعلی الادیب پر امریکہ نے نور المالکی کو اس لئے ترجیح دی کہ وہ ایران سے قریب سمجھے جاتے تھے ۔ جارج بش نےالمالکی کو ’’عراق میں ہمارا آدمی‘‘ کہہ کر پکارا تھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد المالکی نے کردوں اور سنیوں کو قریب کرنے کے بجائے فرقہ بندی کی راہ اختیار کی اور صرف شیعہ وفاداروں پر اعتماد کرنا شروع کیا ۔ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی غرض سے ایک غیر دستوری حفاظتی دستہ بھی قائم کیا جو وزیر دفاع یا وزیر داخلہ کے بجائے صرف ان سے احکامات لیتا ہے۔اس کے بعد مالکی نے سابق وزیر خزانہ رفیع عساوی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جو ابو رشا نامی طاقتور قبیلہ کی پناہ میں چلے گئے جس نے حالیہ بحران میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سنی فرقہ کے ساتھ حکومت کی سطح پر ہونے والا امتیازی سلوک موجودہ صورتحال کا بنیادی سبب ہے۔
امریکی جاتے جاتے یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ وہ پرامن اور مستحکم عراق کو اپنے پیچھے چھوڑے جارہے ہیں اس لئے ان کی موجودگی میںالمالکی پر دباؤ رہا۔ امریکی فوجی سربراہوں نے قبیلوں کے سرداروں کو اعتماد میں لے کر القائدہ کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی لیکن۲۰۱۱ء کے اواخر میں امریکی انخلاء سے ایک روز قبل سابق کارگزار صدر ایاض علاوی کے گروپ نے اپنے ارکان کی بیجا گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ۔نورالمالکی نے ان کا اعتماد بحال کرنے کے بجائے امریکیوں کے نکل جانے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر نائب صدر طارق الہاشمی پر دہشت گردی کا الزام لگا کر گرفتاری کاوارنٹ جاری کروادیا۔ اس کے تین دن بعد نائب وزیر اعظم صالح العراقی کو طویل تعطیل پر روانہ کردیا گیا ۔ العراقی نے اسی وقت المالکی پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے اقتدار سے الگ ہو کر کسی اور کی قیادت میں انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا اور ممکنہ خانہ جنگی کے خطرے سے بھی آگاہ کردیا تھا ۔
نورالمالکی کی نااہلی اور بدانتظامی سے نہ صرف سنی رہنما ناراض تھے بلکہ مقتدیٰ الصدر نے بھی جن کی جماعت کے ۳۹ ارکان پارلیمان تھے، پارلیمان تحلیل کرکے ازسرِ نو انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا تھا ۔الصدر کے دست راست اور احرا ربلاک کے رہنما باہا الاراجی نے اعتراف کیا تھا کہ ایوانِ پارلیمان کے کچھ سیاستداں غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرتے ہیں اور کچھ دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ نیم خود مختار کرد خطے کے صدر مسعود بارزانی نے بھی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا فی الحال عراق امریکی جارحیت کے بعد سب سے سنگین بحران سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے دستور کے تحت دفاقی ڈھانچے کو قائم کرنے پر زور دیا تھا ۔ اس موقع پر شمالی عراق کے عنبر ، صلاح الدین ، دیالہ اور نینوا کے صوبوں میں جہاں سنی فرقہ کی اکثریت ہے مزید خودمختاری کا مطالبہ سامنے آیا لیکن اس پر کان دھرنے کے بجائے نورالمالکی نے مقامی شیوخ سے دورانِ گفتگو دھمکی آمیز انداز میں کہا کہ اگروفاقیت کو غیر فطری ذرائع سے لانے کی کوشش کی جائیگی تو خون کی ندیاں بہیں گی۔ اگر سربراہِ مملکت عوام کے نمائندوں کے ساتھ اس لہجے میں بات کرے تو سیاسی بحران کے رونما ہونے پر حیرت نہیں ہونی چاہئے۔
عام طور پر اس طرح کی صورتحال میں شیعہ سنی اختلافات کو چھیڑ کر نفسِ مسئلہ سے توجہ ہٹا کر سرکاری مظالم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے ۔ صدام حسین اپنےوفاداروں کی مدد سے اپنا اقتدار مضبوط کرتے رہے اور اپنے مخالفین کو معتوب کرتے رہے ا تفاق سے ان کے ہمنوا سنی فرقے کے لوگ تھے اور مخالف شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے جائز حقوق کیلئے احتجاج کرنے والے شیعہ حضرات اس زمانے میں باغی کہلاتے تھے ۔ اب وقت بدل گیا نورالمالکی اپنےحامیوں کی مدد سے اپنا اقتدار مستحکم کررہےہیں اورمخالفین پر ستم ڈھارہے ہیں ایسے میں ظلم کے خلاف احتجاج کرنے والے سنیوں کو باغی کہا جارہا ہے حالانکہ یہ شیعہ سنی عوام کا نہیں بلکہ ان حکمرانوں کا مسئلہ ہے جو بہر صورت اپنے اقتدار سے چمٹے رہنا چاہتے ہیں ۔ اس برسرِ اقتدار طبقے کی حمایت کرنے والی دیگرحکومتوں کو بھی نہ عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی ہوتی ہے نہ امن و مان سے کو ئی سروکار ہوتا ہے بلکہ انہیں یا تو اپنے دوست کو بچانے کی فکر لاحق ہوتی ہے یا اپنے دشمن کو سبق سکھانا ہوتا ہے۔
ملک کی عوام مل جل کر رہنا چاہتی ہے جس کا ثبوت بغداد میں لاکھوں کرد وں کی آبادی ہے جو کبھی عربوں کے حملوں کا شکار نہیں ہوئی۔ بصرہ کے ۲۰ فیصد سنیوں کو شیعہ ہمسایوں سےکوئی پریشانی نہیں ہے ۔ سمارہ ایک سنی اکثریتی شہر ہے جس میں شیعہ فرقہ کے مقامات مقدسہ کے وہ متولی ہیں ۔ قرآنِ مجید میں فرعون کی حکت عملی یوں بیان ہوئی ہے کہ وہ عوام کو تقسیم کرتا تھا ۔ ان میں سے ایک کو مظالم کا شکار کرتا اور دوسرے کو نوازتا تھا ۔ وقت اور زمانہ بدل گیا لیکن فرعون کے نقشِ قدم پر چلنے والے حکمراں نہیں بدلے ۔ ان کی فرعونیت کے سبب دنیا کے مختلف ملکوں میں مختلف بنیادوں پر تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے۔ جورو ظلم کا دور دورہ ہے اور اس کے خلاف ہونے والے ردعمل کو بغاوت و دہشت گردی کے نام پر کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
صدام حسین اور نورا المالکی کے طریقۂ کار میں بے شمار مشابہت نظر آتی ہے ۔ عراق کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں وہاں صرف چار ٹی وی چینلس ہیں اور سب پر صدام حسین چھایا ہوا ہے لیکن صدام حسین کی موت کے دس سال بعدعراق میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے۔ الجزیرہ سمیت ۹ ٹی وی چینلس کی نشریات پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگا کر پابندی لگا دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ امریکہ بہادر کی نظر التفات بھی ایران سے جنگ کے دوران صدام حسین پرتھی فی الحال نوری المالکی امریکہ کے منظور نظر بنا ہوا ہے ۔ صدام امریکہ کے سب سے بڑے دشمن سوویت یونین کے بھی دوست تھےنور المالکی بھی امریکہ کے سب سے بڑےدشمن ایران کے یارِ غار ہیں۔دونوں کے اندر سفاکیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس لئے کوئی بعید نہیں کہ دونوں کا انجام یکساں ہو ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *