ملک کے نئے سیاسی حالات کا تاریخی تجزیہ اور اس کا ماحصل

۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کے بعد ملک میں جو سیاسی منظر نامہ بنا ہے ، اس نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے مسلمانوں کے اندیشوں اور تشویش کو بڑھادیا ہے۔انتخابی عمل کے دوران اور پھر اس کے نتائج کے بعد مسلمانوں کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کاایک اندازہ اخباری مضامین ، بیانات، جلسوں اور پروگراموں کی خبروں سے ہوتا ہے۔یہ تشویشات اور اندیشے یقینا بے جا نہیں ہیں اور نہ انہیں غیر ضروری اور لاحاصل سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔کیوں کہ جس سیاسی جماعت کو ملک کا اقتدار حاصل ہوا ہے وہ اعلانیہ طور پر ایک مسلم مخالف جماعت ہے اور جس کی مادر تنظیم آر ایس ایس کا مقصد وجود ہی اس ملک کو ایک ہندو یا ہندوتوا وادی ریاست میں بدلنا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعتیں، سرکردہ شخصیات ، دانشور حضرات اور ان کا نمائندہ پریس نئی سیاسی صورت حال پر جس ردعمل کا اظہار کررہا ہے وہ بالکل فطری ہے اور عام مسلمانوں پر جو مایوسی کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے وہ بے بنیاد نہیں ہے۔مگر اس صورت حال کا تاریخی تناظر میںتجزیہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کی روشنی میں مستقبل کے لئے مشترکہ طور پر ایک جامع لائحہ بنانے کی کوشش ہونی چاہئے، جس کی بظاہر کوئی فکر ہنوز نظر نہیں آرہی ہے۔
آزادی کی جدوجہد کے دوران ہندستان ایک کشمکش میں مبتلا تھا۔یہ کشمکش آزادی کے بعد ہندستان کے مستقبل کی صورت گری کو لے کر تھی کہ آئندہ کا ہندستان کیسا ہوگا۔ اس کشمکش میں بظاہر اور نمایاںطور پر تین فریق تھے ، بقیہ سارے عناصر اگرچہ اپنی اہمیت رکھتے تھے لیکن کشمکش کے ظاہری منظر نامہ میں ان کا کوئی خاص وزن نہیں تھا۔ یہ تین فریق ہندو، مسلمان اور قدیم ہندستانی آبادی کے پسماندہ و دبے کچلے طبقات تھے جو ہندو ئوں کے دست نگر تھے اور صدیوں سے ان کے پائوں تلے رندتے چلے آئے تھے۔اس طبقے سے اٹھنے والے دانشور لوگ خود کو غیر ہندو کہتے تھے اور ہندوئوں کی غلامی سے نکلنے کو بے تاب تھے۔ لیکن ہندولیڈران اور مفکرین انہیں ہندو ہی باور کرتے اور کراتے تھے اور طبقاتی درجہ بندی کے انتہائی گھناونے نظام کا سب سے ذلیل حصہ بنائے ہوئے تھے۔ہندستان کے مستقبل کی صورت گری کو لے کر ان ظالموں اور مظلوموں کے درمیان بڑ ی شدید آویزش تھی لیکن ہندو مفکرین اور قائدین نے ان سے مفاہمت کرلی تھی اور آئندہ کے سیاسی نظام میں انہیں مراعا ت دینے اور سیاسی و سماجی حقوق کو بحال کرنے کا ان سے وعدہ کرکے انہیں خود کو ہندو شناخت سے جڑے رہنے کے لئے آمادہ کرلیا تھا۔اس مفاہمت اور جذب و انجذاب کے بعد یہ سہ فریقی کشمکش بنیادی طور پر ہندئووں اور مسلمانوں کی کشمکش بن گئی تھی۔
ہندوئوں اور مسلمانوں کی اس کشمکش نے جب شدت پکڑی تو تین سیاسی محاذ بنے۔ ایک ہندو قوم پرست، ایک ہندستانی قوم پرست اور ایک مسلم قوم پرست۔ہندستانی قوم پرستوں کا محاذ انڈین نیشنل کانگریس کے جھنڈے تلے تھا،اس میں ہندو اور مسلمان دونوں تھے لیکن یہ محاذ ہندوقائدین کی پیش رفت سے بنا تھااور مسلمانوں نے اس کی پکار پر لبیک کہا تھا۔ انڈین نیشنل کانگریس میں مسلمانوں کی عبقری شخصیات نے بے شک بڑے اہم مقامات حاصل کئے اور لمبے عرصے تک وہ اس کی سربراہی کے منصب کو رونق بخشتے رہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس میں مسلمانوں کا رول او ر وزن ثانوی حیثت میں ہی رہااور اس کی سیاسی پیش رفت مسلمانوں کی خواہشات کے علی الرغم اس کے ہندو لیڈروں اور مفکروں کی کوششوں کے مطابق ہی ہوئی۔اس طرح یہ ہندستانی قوم پرستی کانعرہ لگانے والے ہندوئوں کی ایک ایسی تنظیم تھی جو مسلمانوں کو ساتھ لے کر آزادی حاصل کرنا چاہتی تھی اور مستقبل کے ہندستان میں مسلمانوں کو ہندئوں کے ساتھ ضمنی طور پر ساتھ رکھ کر ایک ہندستانی قوم تشکیل دینا چاہتی تھی۔ ضمنی طور سے مراد یہ ہے کہ وہ ان سے برابر کا معاملہ کرنے کو تیار نہیں تھی ہاں انہیں اپنا مرہون منت بنانا چاہتی تھی۔ اس تنظیم کو یہ معلوم تھا اور یہ اس کی کوشش بھی تھی کہ ہندستان جب آزاد ہوگا، ایک جمھوری ملک بنے گا، ایک آدمی ایک ووٹ کا نظام نافذ ہوگااور ووٹوں کی اکثریت سے حکومت بنا کرے گی تو سیاسی غلبہ ہندوئوں کو ہی حاصل رہے گااور مسلمان اپنی قلت تعداد کی وجہ سے سیاست کے ترازو میں برابر کا پلڑا نہیں بناسکیں گے۔ لہٰذا ہندستان کا دستوری نظام جتنا بھی لبرل بنایا جائے مسلمانوں کو برابر کی حیثیت نہیں مل پائے گی اور مسلمان جنھوں نے ایک طویل عرصہ تک ہندستان پرشاہانہ حکومت کی ہے بالآخر ہندئوں سے مغلوب ہوجائیں گے۔ چنانچہ مسلمانوں کی دور اندیش اور حساس قیادت نے مستقبل کے ان حالات کا اندازہ کرکے مسلمانوں کے لئے جداگانہ حلقہ انتخاب یا سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور سماجی تحفظات کی ضمانت کا مطالبہ کیاتو کانگریس نے اسے منظور نہیں کیا۔یہیں سے پھر وہ شدید کھینچ تان شروع ہوئی جس کے نتیجہ میں پاکستان بنا۔ پاکستان بنانے اور پاکستان جانے والا طبقہ مسلمانوں کا مسلم قوم پرست یا کانگریسیوں کے الفاظ میں مسلم فرقہ پرست طبقہ کے نام سے پہچانا گیااور اس پر پاکستان بنانے کا الزام رکھا گیا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ مسلم قوم پرستی یا فرقہ پرستی اور پاکستان کی تشکیل کانگریس کی شاطرانہ چالوں، مسلمانوں کے لئے مستقبل کے مفادات کی ضمانت کا دستوری انتظام نہ کرنے اور ہندو فرقہ وارانہ عزائم کی طرف جھکائو رکھنے کا ردعمل تھی۔ پاکستان کے قائد اعظم ، جنہیں تقسیم کا سب سے بڑا مجرم کہا اور سمجھا جاتا ہے، ایک آزاد خیال اور جدید تعلیم یافتہ لندن پلٹ بیرسٹر تھے ۔ نہ وہ کوئی خصوصی طور پرمذہبی آدمی تھے نہ کسی دقیانوس اور تنگ نظر گھرانے کے فردتھے۔ ان کے نزدیک ہندو مسلم تفرقہ پسندی کوئی شے نہیں تھی۔ وہ سیاست میں آئے تو کانگریس سے ہی وابستہ ہوئے تھے اور ہندستانی قومیت کی بات کرتے تھے۔ہاں وہ ایک کٹر اصول پسند اور غیور شخص تھے ۔ کوئی بات تھی کہ انھوں نے کانگریس چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہونا پسند کیااور جب وہ مسلم لیگ کے صدر بنے تو مسلم لیگ کانگریس سے مفاہمت قائم کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ بہرحال یہ مسلم قوم پرست طبقہ تو آزادی کے بعد پاکستان چلا گیا اور پھر ہندستان میں دو سیاسی طاقتیں رہ گئیں ہندستانی قوم پرست اور ہندو قوم پرست۔ مسلم قوم پرستی اور تقسیم کے مخالف مسلمان ، جنھوں نے ہندستان میں رہنا ہی پسند کیاوہ ہندستانی قوم پرست سیاسی محاذ (کانگریس ) سے چمٹے رہے اور کانگریس سے اس توقع کا رشتہ انھوں نے بنائے رکھا کہ وہ آزاد ہندستان میں انہیں عزت و وقار کی زندگی جینے میں تعاون دیتی رہے گی۔لیکن جیسا کہ پہلے لکھا گیا کہ کانگریس کا قیام اور وجود ہندوئوں کا اقدام تھا، اس نے مسلمانوں کو اپنے ساتھ جوڑا تھا۔ پھر مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے کانگریس کے جو رنگ ڈھنگ رہے، اس نے مسلمانوں کی اکثریت کو اس سے بد ظن کردیا تھا اور اسی وجہ سے مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی اپناالگ وطن لے کر پاکستان میں بس گئی تھی۔ تو کانگریس کا جو بنیادی خمیر یا مزاج تھاوہ قیام پاکستان کے بعد دو آتشہ ہوگیا تھا۔جو کانگریس تقسیم سے پہلے مسلمانوں کی مجموعی آبادی کو خصوصی مفادات کی ضمانت دینے کی روادار نہیں تھی و ہ بھلا پاکستان بننے کے بعد بھی ہندستان میں ڈٹے رہنے والے مسلمانوں کے لئے مہربان کیوں کر ہوسکتی تھی۔ کانگریس کے جو لیڈران اپنے خاص مزاج ، وضع داری اور جدید نظریات یا سچائی ، انسان دوستی اور عدم تشدد کے فلسفہ کے علمبردار ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ ذرا خندہ پیشانی سے پیش آنے کا رجحان رکھتے تھے انہیں بھی بدلے ہوئے حالا ت کے دبائو کو قبول کرنا پڑا۔ اس کے باوجود ہندو قوم پرست طبقہ کو ان پر اعتماد نہ ہوا تو وہ ان کے بھی دشمن بن گئے ۔ اسی دشمنی میں انھوں نے گاندھی جی جیسی شخصیت کو جنہیں پورے ہندستان نے بابائے قوم مان لیا تھا ،قتل کردیا۔
آزادی کے بعد جدید ہندستان کی تعمیر ایک لبرل، سیکولر ، سوشلسٹ ریپبلک کے خطوط پر شروع ہوئی اور آگے بڑھی۔ ملک کے نئے سیاسی نظام کے لئے یہ اصول ہندستان کو ایک کامیاب اور مضبوط جمھوریت بنانے کے مقصد سے اپنائے گئے تھے، ان میں سے کوئی بھی اصول ، بطور خاص ’سیکولرزم ‘کو محض مسلمانوں کی رعایت میں نہیں اپنا یا گیا تھا، بلکہ یہ ملک کی گوناگوں سماجی ترکیب اوررنگارنگ معاشرت کی ناگزیر ضرورت اور جدیدسیاسی نظریات کے دبائو میں اپنائے گئے تھے۔ ان کے بغیر اس ملک کو چلانا مشکل تھا ، چاہے اس میں مسلمان ہوتے یا نہ ہوتے۔
لیکن ہندو فرقہ پرست یا ہندوتوا کے علمبردار لوگوں نے ، جو اس ملک کو ہندو ئوںکی ایک قومی ریاست بنانے کے لئے کوشاں تھے، مگر کوئی چارہ کار اس وقت نہ رکھتے تھے، ملک کے سیکولر کردار کو اور دستور کے بنیادی ڈھانچہ کو دل سے تسلیم نہ کیا جس میں ہر فرد اور ہر ثقافتی، لسانی اور مذہبی گروہ کے لئے برابری کا اصول رکھا گیا ہے اور اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق کو بنیادی حق مانا گیا ہے۔ اس گروہ نے سیکولر زم کو مسلمانوں کی منھ بھرائی باور کرانے کا پروپیگنڈا جاری کیااور کانگریس یا اس کی کوکھ سے جنم لینے والی دوسری پارٹیوں کو اتنا زچ کیا کہ سیکولرزم واقعی صرف مسلمانوں کی رعایت کا نام بن کر رہ گیا اور جملہ سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کا استحصال کرنے کے لئے ہی اس کاڈھونگ رچانے کی روش اپنائی۔
ملک میں ایک طویل عرصہ تک کانگریس کو بلا شرکت غیرے اقتدار حاصل رہا لیکن اس کانگریسی اقتدار کا ایک عام جائزہ یہ بتاتا ہے کہ اس دوران ملک کوکسی بھی مذہبی فرقہ کے تئیں غیر جانب دار ریاست(سیکولر اسٹیٹ) کے بجائے ہندئووں کے ایک ملک کے طور پر ہی مستحکم کیا گیا۔ ملک کی سرکاری ثقافت، سرکاری اداروں کی تشکیل، ملک کا داخلی نظام،ملک کی خارجہ پالیسی، ملک کا دفاعی نظام سب کچھ ہندو شناخت اور ہندو عزائم کے مطابق ہی مرتب ہوا۔ پاکستان کو اس کے لئے ایک مقابل اور مخالف علامت بنایا گیااورپاکستان کی مخالفت کی آڑ میں ہندستانی قوم پرستی کے نام پر ہندو قوم پرستی کو فروغ دیا گیا۔ ہندوئوں کے رسم و رواج کو سرکاری رسوم و رواج میں اپنا لیا گیا۔ سرکاری اداروں میں ریاست کے غیرمذہبی کردار کی عکاسی ہونے کے بجائے ہندو مذہبی علامتوں اور طور طریقوں کا نفاذ ہوا۔
ہندستانی قوم پرستی کی علمبردار کانگریس کا طویل اقتدار مسلمانوں کے حوالے سے بطور خاص اس بات کا گواہ ہے کہ اس دوران مسلمانوں کو بتدریج زوال گرفتہ اور بے دست و پا کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آزادی اور تقسیم کے بعد ہندستانی مسلمان سماجی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے جس سطح پر تھے، بقیہ ہندستانی سماج کی طرح وہ بھی اس سطح سے اوپر اٹھتے اور ملک نے ترقی کا جو سفر طے کیا ہے اس میں وہ بھی ایک برابر کے راہی ہوتے ۔ لیکن جب جب بھی مسلمانوں کی صورت حال کے آنکڑے جمع کئے گئے تو یہ سامنے آیا کہ وہ پہلے کے مقابلے اب اور زیادہ پستی میں چلے گئے ہیں۔ مسلمانوں کی صورت حال کا جائزہ لینے والی یہ رپورٹیں بظاہر تو اس مقصد سے سامنے آئیں کہ ان کی روشنی میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی اقدام کئے جائیں ، لیکن فی الواقع یہ ان لوگوں کے لئے مسلمانوں کی پستی کی ایک رفتار جانچنے کا ذریعہ بنی رہیں جو اسی عزم کے ساتھ ملک کو آگے لے جانے کے لئے کمر بستہ ہیں۔چنانچہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ، ہندو دانشوروں کی سوشل انجینئرنگ کی پلاننگ کے عین مطابق ، مسلمانوں نے ان لوگوں کی جگہ لے لی ہے جو ہندو طبقاتی نظام میں سب سے نچلے پائیدان پر رکھے گئے تھے، جنہیں آج دلت اور مہادلت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سوشل انجینئرنگ کا نشانہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو مقابل میں رکھ کر ایک وسیع البنیاد ہندو قوم کو مجتمع اور منظم رکھا جائے اور ذات پات کے تاریخی اور مذہبی رویہ میں لچک پیدا کرکے ہندو شناخت والے نچلے طبقات کو فی الحال اوپر اٹھایا جائے تا کہ ایک آدمی ایک ووٹ کے جمھوری نظام میں ہندوئوں کی عددی اکثریت کم سے کم۸۰ فیصد بنی رہے۔
اس طرح ، ایک طرف تو مسلمانوں کو ترقی کے قومی دھارے سے الگ رکھا گیا اور دوسری طرف انہیں داخلی سلامتی کے لئے ایک خطرے کے طور پر برتا گیا ۔مسلمانوں سے متعلق رپورٹوں میں یہ حقائق ریکارڈ کئے گئے ہیں کہ مسلم علاقوں میں اسکول ، اسپتال اور شہری سہولیات کے ادارے کم اور پولس تھانے زیادہ قائم کئے گئے ہیں۔پولس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ جگ ظاہر ہے ، البتہ جس بات کو محسوس نہیں کیا جاتا وہ یہ ہے کہ یہ رویہ اس ذہنی تربیت کا نتیجہ ہے جواس عملہ کو بے ضابطہ طریقے سے ملتی ہے اور اس کی حوصلہ افزائی حکومت کے عملی رویہ سے ہوتی ہے۔
اس طرح کانگریس اور اس کی قیادت والی حکومتوں کے زیر اقتدار بھی ہندستان کی ترقی کا ابھی تک کا سفراسی سمت میں ہوا ہے جس سمت میں ہندو قوم پرست اسے لے جانا چاہتے تھے ، جس کے لئے وہ مسلسل منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتے رہے، حکومت سے باہر رہتے ہوئے انھوں نے حکومت پر اس کے لئے دبائو بنائے رکھا، انتظامی مشینری کے لئے اپنے تربیت یافتہ افراد حکومت کو فراہم کرتے رہے اور سیاسی اقتدار براہ راست اپنے ہاتھ میںلینے کے لئے بھی کوشاں رہے۔ اب بالآخر اقتدار کی تمام کنجیاں خود ان کے اپنے ہاتھ میں آ ہی گئی ہیں، تو یہ سفر یقینا تیز گام ہوگا۔ چنانچہ ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کے بعد ملک کی سیاست ہندستانی قوم پرستوں کے ہاتھ سے پوری طرح نکل کر ہندو قوم پرستوں کے ہاتھ میں پوری طرح آگئی ہے تویہ کوئی سمت کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ رات اور دن کا فرق نہیں ہے ۔ یہ کوئی اچانک رونما ہونے والی ایسی تبدیلی نہیں ہے جسے ہم ایک سانحہ سمجھیں ۔ یہ ’’ انقلاب‘‘ (جو بے شک بڑی حکمت عملی، بڑے جوڑ توڑ، بہت زور لگاکر برپا کیا گیا ہے) حقیقت میں محض ڈرائیور اور انجن کی تبدیلی کی طرح ہے۔اس سے حالات میں جو فرق آئے گا وہ رفتار، کیفیت اور طور طریقوں کی جارحیت کا فرق ہوگا جسے ہم اعتدال پسندی اور انتہا پسندی کا فرق کہہ سکتے ہیں ۔
اس بدلی ہوئی سیاسی صورت حال میں ظاہری سطح پر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوگا اس میں کوئی نئی بات تو مشکل سے ہی ہوگی ۔مسلم مخالف فسادات اگر ہوئے تو وہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ فسادات کے بعد مسلمانوں کی کومبنگ ہوگی اور مسلم علاقوں پر کریک ڈائون ہوگاتو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی ۔ فسادات پربا کرنے والے مجرمین کھلے عام گھومتے رہیں گے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ فسادات کی تحقیقی رپورٹیں پھاڑ کر پھینک دی جائیں گی یا انہیں سرد خانوں میں ڈال دیا جائے گا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں پکڑ پکڑ جیلوں میں ڈالا جائے گا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ داڑھیاں کھینچی جائیں گی، نقابیں پھاڑی جائیں گی ، سر عام گالیاں دی جائیں گی تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہوگی۔ بلکہ قیاس یہ ہے کہ سطحی قسم کی ان دست درازیوں کو کرنے کی چھوٹ شاید ہندوتوا کے کارکنوں کو نہ دی جائے کہ یہ ان کے لئے خلاف مصلحت ہوگا۔
ان حقائق کی روشنی میں مسلم قائدین، دانشوروں اور علماء کو ملک میں مسلمانوں کے مستقبل کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔یہ موقع وقتی اور جذباتی ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے دانش مندی اور بصیرت کے ساتھ ملک میں مسلمانوں کے لئے ایک سیاسی لائحہ بنانے کا متقاضی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم جماعتیں اور دانشور حلقے گروہی عصبیت، انانیت اور خود پسندی کی دیواروں کو توڑ کر ایثار نفس اور خلوص نیت کے ساتھ ایک لائحہ عمل وضع کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔یہ دماغ سوزی اس بات کو سامنے رکھ کر ہو کہ سیکولر ، جمھوری آزاد ہندستان نے ۶۸سال کی اس مدت میں ایک ہندو ملک بننے کی طرف پیش قدمی کی ہے اور اب اس سمت میں ایک لمبی جست لگادی ہے ۔ ابھی تک کا سفر ہندستانی قوم پرستی کے جلو میں ہوا ہے اور اب اس رتھ کو ہانکنے کا چابک ہندو توا کے علم بر داروں کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ تو دراصل آج ہم اس مرحلے میں ہیں، جو مرحلہ آزادی سے پہلے درپیش تھا اور ہندو و مسلمان دونوں اپنے مفادات کو محفوظ کرنے کی کشمکش میں تھے۔ لہذا ہمیں آج مسلمانان ہند کے لئے مستقبل کی حکمت عملی اور موجودہ نظام سے اپنے مطالبوں کو وضع کرنے کے لئے ایک اجتماعی پلیٹ فار م کی ضرورت ہے۔ہمارے سامنے آزادی سے پہلے کی کانگریس اور مسلم لیگ کی تاریخ ہے اور ہمارے پاس عدم تشدد پر مبنی تحریک آزادی کا ایک نمونہ ہے۔ ہم آزادی سے پہلے کی صورت حال کو ایک ماڈل مان کرآج کی صورت حال میں اپنے لئے ایک لائحہ عمل طے کرسکتے ہیں۔ اس طرح کی کوئی پیش رفت اگر مسلم قیادت کی طرف سے جلد از جلد نہیں ہوگی تو یہ ہر لحاظ سے بہت نقصان دہ ہوگا۔
ہندستان کی اس تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کو، خاص طور سے پارلیمانی انتخاب کے لئے ہندوتوادیوں کی طرف سے چلائی گئی مہم کے ہمہ جہت پہلوئوں، اس کی جامع حکمت عملی کو اور بالآخر اس کے حیرت انگیز نتیجہ کوعالمی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یعنی اسلام کی بیخ کنی اور اہل اسلام کی گھیرا بندی کا عالمی منظرنامہ ۔ اس پہلو سے تقریبا پوری دنیا اب میدان جنگ بن چکی ہے۔ افریقہ و ایشیا سے لے کر، یوروپ و آسٹریلیا تک سب جگہ اہل اسلام کے خلاف مختلف عنوانات سے شدید عسکری یلغار بڑی شدومد سے جاری ہے۔ اس تناظر میں ہندستان کے اندر آئی یہ سیاسی تبدیلی یقینا ان منصوبہ سازوں کی اسکیم کا حصہ ہوسکتی ہے جو یہ منظر نامہ دنیا میں بنارہے ہیں۔ چنانچہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ، ہندستان کے نئے وزیر اعظم کی باقاعدہ تقرری سے بہت پہلے صر ف انتخابی نتائج کا اعلان ہوتے ہی اس پر اپنی مسرت کا اظہاکردیا تھا اور ہندستان کے ساتھ فوجی و سیاسی تعلقات مزید بڑھنے کے امکانات کا اعلان کردیا تھا۔اندازہ یہ ہے، اور اس کی بہت سے علامتیں سامنے بھی آچکی ہیں ،کہ ۲۰۱۴ کے پارلیمانی انتخاب کے لئے بی جے پی کی مہم ایک بین الاقوامی منصوبہ بندی تھی اور اسلام کے عالم گیر دشمنوں کا یہ ایک مشترکہ مشن تھا۔
اس حوالہ سے بھی ہندستان اور ہندستانی مسلمانوں کے موجودہ حالات کی مماثلت آزادی سے پہلے کے ان حالات سے ہے جب خلافت کو ختم کیا جارہا تھا، عالم اسلام کے ٹکڑے کے جارہے تھے اور مسلمانوں کی سیاسی قوت کو پوری طرح مفلوج کیا جارہا تھا۔تب بھی مسلمانان ہند اپنے ملی مفادات کی جنگ عالمی تناظر میں لڑرہے تھے۔ اس وقت بھی انہیں ایک طرف ہندستان میں اپنے ملی تشخص کی فکر تھی اور دوسری طرف وہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی گھیرا بندی کو لے کر پریشان تھے۔ ہندستان کے ہندوتوادی اس وقت بھی اٹلی اور جرمنی کے دورے کرتے تھے اور مسلمانوں کی بیخ کنی کے لئے عالمی سطح پر گٹھ جوڑ کررہے تھے۔
اس پورے پس منظر میں ملت اسلامیہ ہند کو جہاں ایک طرف سیاسی سطح پر اپنا ایک مشترکہ و متحدہ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے وہیں دوسری طرف اپنے مقصد وجود کو اور زیادہ جری ہوکر انجام دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اسلام کی دعوت، کفر و شرک کا رداور اعلائے کلمتہ اللہ کی جدوجہد مسلمانوں کا مقصد وجود ہے۔ اسی میں ان کی بقا ہے اور یہی ان کی عزت و عظمت کا راستہ ہے۔ عام مسلمانوں میں اس کا شعور بڑھانے کی کوششیں بھی تیز ہونی چاہئیں اور دعوت و تبلیغ میں لگی جماعتوں کو خود بھی عام برادران وطن اور خواص و قائدین ملک کے سامنے اور زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ اس دعوت کو لے کر بے باکانہ اور ببانگ دہل جانا چاہئے۔یہ اللہ کی منشا ء ہے کہ اہل حق باطل کے علمبرداروں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوںاور انہیں اللہ کی بندگی کی طرف بلائیں۔تمام انبیاء نے اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے یہی پکار لگائی تھی کہ ’’یا قوم اعبدوا اللہ ما لکم من الٰہ غیرہ(اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی الہ نہیں ہے۔)
اس حوالے سے مسلمانان ہند کی موجودہ صورت حال بڑی حد تک حضرت موسیٰ کے زمانہ کی قوم بنی اسرائیل سے مماثلت رکھتی ہے۔نبیوں کی وارث قوم اپنی خرابی اعمال کی بدولت کمزور ہوگئی تھی اور مصر کی قدیم قبطی قوم کے گھیرے میں آچکی تھی۔ قبطیوں کے بادشاہوں (فرعونوں ) نے بنی اسرائیل کوپسماندگی اور ذلت میں مبتلا کررکھاتھااور عملااپنی قوم کا غلام بنالیا تھا۔ وہ لوگ نبیوں کی اس قوم کے احیاء کے امکانات سے ڈرے رہتے تھے اور ایسے ہر امکان کو ختم کرنے کے درپے رہتے تھے جس سے اس قوم کے درمیان کوئی نجات دہندہ اٹھے۔ اسی لئے اس وقت کے فرعون نے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کرنے کا حکم نامہ جاری کررکھا تھا اور صرف ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے کی اجازت دی تھی۔قرآن کے الفاظ میں صورت حال یہ تھی کہ’’ فرعون زمین میں بڑا بنا ہوا تھااور وہاں کے باشندوں کواس نے گروہوں میں تقسیم کررکھا تھا، ان میں سے ایک فرقہ کواس نے کمزور بناکر رکھا۔ وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو جینے دیتا تھا،بلا شبہ وہ ایک فساد ی آدمی تھا۔ اور ہم چاہتے تھے کہ جن لوگوں کو ملک میں دبالیا گیا ہے ان پر مہربانی کریں، انہیں امام بنائیں اور زمین کا وارث بنائیں (القصص:۴،۵) ٍٍ۔۔۔۔۔۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو پیدا کیااور خود فرعون کے گھر میں ان کی پرورش کرائی۔ پھر جب اللہ نے حضرت موسیٰ کو نبوت بخشی تو کار نبوت کے دو فرائض ان کو سمجھائے۔ ایک اپنی قوم کو فرعون اور آل فرعون کے چنگل سے نجات دلانا اور دوسرا فرعون کو اللہ کی بندگی کی دعوت دینا۔ان دونوں امور کے لئے اللہ نے حضرت موسیٰ کو اسلوب خطاب بھی سکھایا۔ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (اور حضرت ہارون )سے یہ فرمایا کہ’’ جائو فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے ، اس سے نرمی سے بات کرناشاید کہ اسے نصیحت ہو یاوہ ڈرجائے ۔۔۔ جائو اس کے پاس اور کہو اس سے کہ ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، بنی اسرائیل کو(آزاد کر اور) ہمارے ساتھ بھیج دے اور انہیں اذیت مت دے۔ــ‘‘ (طٰہٰ:۴۳،۴۴،۴۷) اور دوسری طرف یہ نصیحت کی کہــ’’ جائوفرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے اور اس سے کہو کہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں کہ تو اس کا خوف کرے‘‘(النازعات:۱۶تا۱۹)
لہٰذا ملت اسلامیہ ہند کے ارباب دین و دانش کے لئے بھی یہی دو کام ہیں۔ ایک طرف ملت اسلامیہ کو ذلیل، پسماندہ اور غلام بناکر رکھنے کی کوششوں کے خلاف مطالباتی جدوجہداور دوسری طرف متکبر حکمرانوں کے سامنے اعلان حق اور انہیں ان کے تزکیہ کی طر ف متوجہ کرنا۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا تھا
صحبت پیر روم سے مجھ پر ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سربجیب، ایک کلیم سر بکف!
مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما کوئی !
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ لا تخف ــ

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *