ہدایت نامہ برائے رمضان المبارک

گرامی قدر
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
خدا کرے مع احباب و متعلقین بخیر ہوں اور ہمہ آن رضائے الہی کے حصول میں کوشاں ہوں۔
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ نیکیوں کا موسمِ بہار ایک بار پھر ہم پر سایہ فگن ہونے کو ہے۔ان ایام میں اللہ رب العزت اپنے بندے پر اس قدر متوجہ ہوتا ہے کہ بندے کے اعمالِ خیر کے اجر کو بہ اعتبارِ نیت و خلوص سترسے سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے تاکہ بندے کے اندر حصول خیر و ثواب کی طلب خوب سے خوب تر کے درجہ کو پہنچ جائے۔ اور اس طلب میں وہ واقعتا صبغتہ اللہ کے سراپا بن جائے۔ ان ایام میں ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارا کوئی وقت ضائع نہ ہونے پائے۔
امیر محترم نے مشورہ کے بعد چند امور پر توجہ دلائی ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میںہم رمضان المبارک سے خوب خوب فیض یاب ہو سکیں۔
٭ رمضان المبارک ماہ نزول قرآن ہے۔ قرآن مجید ہمارے لئے جامع ہدایت و رہنمائی ہے۔ اور اللہ کے ذکر کی بہترین شکل ہے۔ اس ماہ میں تعلق با القرآن کا خاص اہتمام کریں اور کوشش کریں کہ کم از کم ایک بار مع ترجمہ مکمل کرسکیں۔
٭ یوں تو تمام دنوں میں ہفتہ وار ، پندرہ روزہ یا ماہانہ مطالعہ قرآن کا اہتمام کیا جائے لیکن رمضان المبارک میں اس کو خاص توجہ ملنی چاہئے۔ بالخصوص آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اجتماعی مطالعے کا نظام ہر مقام پر ابھی سے مرتب کریں۔اس بار پورے رمضان میں خصوصی مطالعہ کیلئے سورۂ بقرہ کی آیات ۴۰؎ سے ۱۳۴؎ خاص کی گئی ہیں۔ ہر فرد کی کوشش ہونی چاہئے کہ رمضان کے اس نصاب کو مختلف تفاسیر اور معتبر علماء کی رہنمائی میں مکمل کرلے۔
٭ رمضان المبارک کے روزے اور اس ماہ ایمان و احتساب کی کیفیت کے ساتھ قیام لیل گزشتہ تمام گناہوں کی مغفرت کی ضمانت بنتے ہیں۔ کوشش کریں کہ پورے اطمینان و توجہ کے ساتھ راتوں کاقیام ہو۔ اللہ کے حضور گریہ و زاری ، اپنے لئے، اہل خانہ کے لئے ، تحریکاتِ اسلامی اور امت مسلمہ کے مظلومین کے لئے بطورِ خاص دعا کا اہتمام فرمائیں۔ جہاں کہیں ممکن ہو بعد نمازِ تراویح خلاصہ آیات پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے۔
٭ رمضان المبارک میں ہمیں بہت ساری جائز ضروریات سے روک کر ہمیں سکھایا جا رہا ہے کہ ان چیزوں سے محرومی راہِ خدا میں ہمارے سفر کو نقصان نہ پہنچا سکے بلکہ ان محرومیوں کے ساتھ نیکیوں کی طلب کا اشارہ ہمیں مزید قوت و رفتار عطا کرتا ہے۔ بھوک پیاس اور دیگر ضروریات سے رک جانے کی یہ عبادت ہمیں ان تمام محروم و مجبور افراد کی ضرورت کا احساس دلاتی ہے کہ ہم ان کی بیکسی کو محسوس کر سکیں اور ان کے کام آئیں۔ اس موقع پر ان افراد کو ضرور یاد رکھا جائے جو ظالمانہ نظام کی چکی میں پس رہے ہیں اور اسیری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس موقع پر زکوٰۃ و صدقات کا نظام قائم کرکے ان کے کام آیا جائے۔ اور ان کے لئے خاص طور پر دعائوں کا اہتمام ہو۔
٭ امت کے اندر رمضان المبارک سے استفادے کے احساس کو بیدار اور تازہ کرنے کے لئے رمضان سے قبل استقبالِ رمضان کے پروگرام رکھے جائیں اور انہیں تعلق باللہ، استقامت اور انفاق کی طرف متوجہ کیا جائے۔
٭ ملکی و عالمی سطح پر ہونے والے تغیرات اپنے دامن میں کیسے کیسے اندیشے لئے ہوئے ہیں۔ ایک طرف عمومی طور پر اس کا شعور و ادراک کم ہے تو دوسری طرف مایوسی و خوف کی نفسیات حاوی ہو رہی ہیں ۔ ایسے میں اسلامی تاریخ کے روشن ابواب یوم الفرقان (۱۷؎رمضان) اور یوم فتح مکہ (۲۰ ؎رمضان)پر پروگرام منعقد کئے جائیں۔ اور امت کے اندر حوصلوں کی آبییاری کی جائے۔ آیت قرآنی اَلَّاتَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُواوَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِیْن۔ (ڈرو نہیں ، غم نہ کرو ، تم ہی غالب ہو کر رہو گے اگر تم مومن ہو)۔
٭ ذاتی تربیت کا انتہائی مفید اور مسنون و روحانی طریقہ اعتکاف ہے۔ اس کے لئے پہلے سے وقت فارغ کرکے ا س سعادت سے بہرہ ور ہوں ۔ اور اپنے اور پوری امت کے لئے دعائوں کا اہتمام ضروری ہے۔
والسلام!

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *