دوستی اور دشمنی (قرآن و سنت کے آئینہ میں)

’الولاء ‘عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادّہ  ’و،ل،ی ہے۔ ولی کا مطلب ہے دوست، مددگار، حلیف ،قریبی ، حامی۔ اس سے ولاء کا لفظ بناہے جس کا مطلب ہے دوستی ،قربت ،محبت،نصرت ،حمایت ۔ الولاء کا لفظ شرعی اصطلاح میں اس قدر جامع ہے کہ اردو کے کسی ایک لفظ کے ذریعہ اس کی ترجمانی مشکل ہے ۔ پھر بھی آسانی کے لئے اسے دوستی کے لفظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس دوستی سے مراد وہ سرسر ی تعلقات نہیں جو عارضی مفادات یا بعض دیگر وقتی مصالح کے تابع ہوتے ہیںبلکہ دوستی سے مراد وہ قلبی رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے۔ جس میں دلی محبت اور وفا کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔  ناقابل ِ برداشت پریشانی کے باوجود اس دوستی میں ذرہ برابر فرق نہ آئے۔
’’برائ‘‘ بھی عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ ’ب،ر،ئ‘ ہے برء کا مطلب ہے وہ بری ہوا  ،وہ بیزار ہوا، اس نفرت کی ،دشمنی کی،قطع تعلق کیا ۔ براء کا مطلب ہے بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ۔الولاء کی طرح البراء بھی بڑا جامع لفظ ہے۔ آسانی کے لئے اسے دشمنی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس دشمنی سے مراد وہ دشمنی نہیںہے جو  یہاں روایتی دشمنوں میں پائی جاتی ہے۔ یعنی ایک دوسرے کو دیکھ کر حملہ آور ہو جانا یا مارنے مرنے پر تل جانا۔بلکہ اس سے مراد نفرت اور بیزاری کی وہ کیفیت ہے جو ایک مومن کے دل میںاسلام دشمن کافروں کے خلاف ہمیشہ رہنی چاہئے ۔
چونکہ دوستی اور دشمنی انسانی زندگی کے اہم پہلو ہیں ۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کے ذریعہ اس کے تعلق سے رہنمائی فرمائی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں  عقیدہ الولاء اور البراء بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کاکوئی ایک صفحہ بلکہ کوئی چھوٹی سورۃ نہیں جو اس کے احکام سے خالی ہو۔ قرآن کی بعض سورتیں مثلاًسورۃ التوبہ ،المنافقون،الکافرون۔اللھب ،الممتحنہ ساری ساری اس عقیدہ پر مشتمل ہے۔ جبکہ کچھ سورتوں کا بیشتر حصہ مثلاً سورۃ الانفال ،العنکبوت ،الفتح،محمد وغیرہ اس عقیدہ پرbased ہے ۔بعض اہل علم کے مطابق عقیدہ توحید کے بعد قرآن مجید میں جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیاگیا ہے وہ عقیدہ الولاء و البراء ہی ہے۔
٭    ولاء کا مستحق کون
بے شک تمہارے دوست تو بس اللہ ، اللہ کا رسول اور اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ،زکوٰ ۃدیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول اور اہلِ ایمان کو اپنا دوست بنا لے وہ یقین مانے کہ اللہ کا گروہ ہی غالب رہنے والا ہے ۔(۵۶-۵۵:۵)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ولاء کی ترتیب واضح فرمادی ہے ۔ سب سے بڑھ کر اور سب سے پہلے اللہ سے محبت پھر رسول اللہﷺ سے اور پھر اہلِ ایمان سے۔ ان محبتوں کے بارے میں قرآن و حدیث سے کیا حکم ملتا ہے اور ان محبتوں کے کیا تقاضے ہیں اس کو جاننے سے پہلے ہم مختصراً یہ جان لیں کہ دوستی کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے ۔
دوستی کی اہمیت
(۱)         دوستی دین کو بدل دیتی ہے
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔لہذا ہر آدمی کو سوچنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا دوست بنا رہا ہے ۔(ترمذی)
(۲)    اچھی یا بری دوستی انسان کے اعمال پر اثر انداز ہو تی ہے ۔
حضرت ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا نیک اور برے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک فروش اور بھٹی میں پھونک مارنے والا ۔مشک فروش  مشک کا ہدیہ دے گا یا تم اس سے خود  مشک خرید لو گے ۔ اگر وہ ہدیہ نہ دے اور تم خود بھی نہ خریدوگے تب بھی عمدہ خوش بو سے لطف اندوز ہوتے رہو گے۔ اگر لوہار کے پاس بھٹی کے پاس جاکر بیٹھو گے  توبھٹی میں پھونک مارنے والا آگ کے چنگارے اڑا کر تمہارے کپڑے

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *