کالے دھن پر دیسی ناگ

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی کی ایک ہزار صفحات کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں 400-500ارب ڈالر کے بیرونی بینکوں کے سرمایہ کے مقابلہ خود ملک میں کالا دھن کی قیمت 1400ارب ڈالر کے برابر ہے۔ ملک کی کل 120لاکھ کروڑ کی معیشت کے مقابلہ 83لاکھ کروڑ کا کالا دھن ہے۔ ملک کی کل پیداوار کا 71%کالا دھن پر مشتمل ہے۔ اس کا سب سے بڑا ذریعہ زمین اور مکان کی خرید و فروخت کا کاروبار ہے۔ دوسرے نمبر پر سونا، ہیرا، کان کنی کا حصہ ہے۔ 90کی دہائی میں کالے دھن کا ملکی معیشت میں حصہ 25%جو آج تین گنا بڑھ کر 71%ہو گیا ہے۔ پچھلے سال اس مدہ پر بہت ہنگامہ کے بعد بھی ملک سے باہر جانے والا کالا دھن 43%بڑھکر 14000کروڑ روپئے ہو گیا ہے۔
سونے ہیرے اور حوالہ کے ذریعہ کالا دھن ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔ لوہے کے کچے مال کے ذریعہ بڑی مقدار میں کالا دھن پیدا ہو رہا ہے۔ بیرونی تجارت میں درآمد اور بر آمد کے فرضی بل بناکر سرکاری مراعات حاصل کرکے بیرونی اور اندرونی ملک کالا دھن پیدا کیا جا رہا ہے۔ سال 2000؁ ء سے 2009؁ء کے درمیان اس طرح کا 42ارب ڈالر کا کالا دھن سوئس بینکوں کو بھیجا گیا۔ اور چین کو 11ارب ڈالر اور امریکہ کو 9ارب ڈالر اس طرح دھوکہ دیکر بھیجے گئے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ آزاد تجارت اور معیشت کے دور میں اس طرح کی دھوکہ دہی سے دولت کمانا زیادہ بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ اس اربوں اور کھربوں کی لوٹ اور مجرمانہ ذرائع کے خلاف کوئی بھی حکومت قدم نہیں اٹھاتی۔کیونکہ یہ ناجائز دولت پیدا کرنے والے ہی حکومتوں کو کروڑوں اربوں روپیہ چندہ دیتے ہیں نتیجہ جو گھاٹا ہوتا ہے وہ غریب جنتا کو کڑوی گولیاں دیکر پورا کیا جاتا ہے۔ آلو، پیاز، ڈیزل۔ریل کا سفر سب کچھ مہنگا کرکے غریب اور اوسط درجہ کے کروڑوں لوگوں کی زندگی میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ (امر اجالا 7/7/2014دہرہ دون)
اسی موضوع پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ارون کمار اس رپورٹ سے صرف ایک دن قبل ٹائمس آف انڈیا میں ایک ملاقات میں بتا چکے تھے کہ میرے اندازہ کے مطابق بھارت کی 50%معیشت کالے دھن پر مشتمل ہے۔ اس کالے دھن کا صرف 10%باہر جاتا ہے جس کا اندازہ لگ بھگ 2کھرب ڈالر کا ہے۔ انہوں نے کہا اگر سوئس بینکوں نے نام بتائے تو وہ بھی جعلی ہوں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ بھارت میں نیتا، افسر، صنعت کاروںکی تکڑی اس جرم میں شامل ہے جسے نیرا راڈیا معاملہ نے واضح کر دیا ہے۔
میرا ماننا ہے کہ یہ تکڑی ہی کالے دھن کا سب سے زیادہ فائدہ بٹورتی ہے۔ پچھلی کسی بھی حکومت میں اتنا سیاسی عزم نہیں تھا کہ وہ اس مسئلہ پر کارروائی کرتا۔ مجھے موجودہ حکومت پر بھی شک ہے کہ وہ اس مسئلہ پر سنجیدہ کارروائی کریگی۔ اگر مودی چاہے تو ایک حکم کے ذریعہ تمام حوالہ کاروباریوں اور غیر قانونی ذرائع سے نقدی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں۔ صرف عوامی دباؤ ہی حکومت کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ کالے دھن پر کوڑا چلائے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر نے ایسی مکارانہ شبیہ کا جواب دیا کہ زیادہ taxrateہونے کی وجہ سے لوگ ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کوئی کہے کہ ٹریفک جام سے نجات کا راستہ یہ ہے کہ ٹریفک سگنل ہٹا دئے جائیں۔ ہمارے ملک میں ٹیکس اور ملکی مجموعی پیداوار کا تناسب دنیا میں سب سے کم ہے۔ چدمبرم کہتے تھے کہ یہ تناسب بہتر ہوا ہے مگر یہ بہ ظاہر بہتری کا رپوریٹ ہاؤسز کی زبردست منافع کی شرح کی وجہ سے ہوا تھا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بھارت کے ایک فیصد سے بھی کم سب سے امیر لوگ 0.1%نچلے سب سے غریب 55%لوگوں سے زیادہ کماتے ہیں۔ یہ سب منافع انہیں رعایتوں اور بندشوں کو کم کرنے سے ہوا جن کو اور مزید بڑھانے کے لئے کہا جا رہا ہے۔ جن ٹیکس رعایتوں اور قانونی بندشوں کے چلتے یہ اندھا دھند منافع بڑھا ہے اس سے ہی کیسے کالے دھن پر روک لگ سکتی ہے۔
(ٹائمس آف انڈیا 6/7/14)دہلی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *