اسرائیل کی ہندوستان میں بڑھتی سرگرمیاں کیا گل کھلائیں گی؟

مودی سرکار کے وجود میں آتے ہی جن طاقتوں کو اپنا اثر و روسوخ بڑھانے کی ازحد امید ہو گئی ہے، ان میں اسرائیل سرِ فہرست ہے، چندر شیکھر اور نرسمہا راء کے دورِ حکومت میں اسرائیل کو جو موقع ملا تھا، اس کا دائرہ گزرے دنوں کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ہندوستان کی سیکولر، غیر سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں میں سے کسی کو اسرائیل کی توسع پسندانہ عزائم خصوصاً مسلم اقلیت کے متعلق اس کے دورِ قدیم سے دورِ جدید تک دشمنی و عداوت اور کمزور کرنے کی جو روش رہی ہے، اس سے خاص کوئی لینا دینا نہیں رہا، اور آج کی سیاست میں اصول و نظریے کی کوئی زیادہ اہمیت بھی نہیں رہ گئی ہے، اس سلسلے میں کمیونسٹ پارٹیوں کا استثناء کیا جا سکتا ہے، لیکن اب وہ بری طرح مختلف قسم کی کمزوریوں اور انتشار کا شکار ہو گئی ہیں، جس کے مد نظر بہت سے سیاسی پنڈت پیش گوئی بھی کر رہے ہیں کہ اب کمیونسٹ پارٹیوں کا چل چلاؤ کا وقت آگیا ہے، اور وہ اپنی ضرورت و معنویت ختم کر چکی ہیں، مگر اس سے یہ سمجھنا صحیح نہیں ہوگا کہ صیہونی عزائم اور فرقہ پرستی کے رتھ کو آگے بڑھنے سے روکنے کی ضرورت بھی ختم ہو گئی ہے، فلسطینی عربوں کی مظلومی اور ان کے لئے اپنے گھروں میں واپسی اور زمینوں پر سے اسرائیل کا غاصبانہ قبضے کو ختم کرنا اور عالمی سطح پر صیہونی توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کی راہ میں انصاف اور امن کی دیوار تعمیر تک جدوجہد ختم نہیں ہوگی، سنگھ بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست عناصر جس طرح اسرائیل کی تقلید و قربت میں ہندوستان کی ترقی دیکھ رہے ہیں، اس میں کہیں نہ کہیں کئی شعبوں میں اسرائیل کی پیش رفت و ترقی سے فائدہ اٹھانے سے زیادہ مسلم مخالف ذہنیت کا دخل یقینا ہے، اسی لئے اسرائیل کی یاترا کو اپنی بڑی سعادت و کامیابی سمجھتے ہیں اور اس میں تمام ہی سیاسی پارٹیاں انیس بیس کے فرق کے ساتھ شریک ہیں، بہت سے لیڈران اور بر سرِ اقتدار حکومت کے افسران تو اس حد تک اسرائیل کے پریم روگ میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اسرائیلی معشوقہ کے سامنے یہ گاتا گنگناتا نظر آتا ہے کہ تم سے ملی نظر کہ میرے ہوش اڑ گئے، مودی سرکار بننے کی امید اور بن جانے کے بعد اسرائیل نے کھلے طور پر ہندوستان کے مختلف شعبہ جات میں شراکت اور دہشت گردی اور خود حفاظتی کے نام پر جن ارادوں اور عزائم کا اظہار کیا ہے، ان کے متعلق کانگریس سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے کوئی خاص ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے، بی جے پی اور سنگھ سے تو اس سلسلے میں کسی رد عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے، جب بی جے پی اپوزیشن میں تھی تو یو پی اے کی طرف سے مختلف شعبوں میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی مخالفت کر رہی تھی، لیکن اس نے دفاعی شعبے تک میں اطلاع کے مطابق سو فیصد ایف ڈی آئی کی منظوری دے دی اس کی آر ایس ایس نے یہ کہتے ہوئے منظوری اور ہری جھنڈی دے دی ہے کہ سنگھ، اقتصادی معاملے میں شدت پسند نہیں ہے اور دفاعی شعبے میں سو فیصد غیر ملکی سرمایا کاری صحیح ہے، جب کہ اب تک غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد ۲۶؍فیصد ہے، ماہ مئی کے آخری ہفتے میں دہلی اور ناگپور سے جاری بیان میں سنگھ نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے متعلق جس نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے، اس نے بہت سوں کو چونکا دیا ہے، سنگھ کے ترجمان رام مادھو اور جوائنٹ سکریٹری کرشن گوپال نے جو بیانات دئیے ہیں، ان میں آنے والے دنوں کی تصویر کو بہت اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے، جہاں انہوں نے یہ کہا کہ ہندوستان کو غیر ملکی در آمدات پر منحصر نہیں رہنا چاہئے، کیوں؟ اسے جنگی طیاروں سے لے کر آب دوز جہازوں، کشتیوں تک میں دفاعی آلات پر انحصار کرنا چاہئے جب ہم اپنے ملک میں ان کو بنا سکتے ہیں، وہیں یہ بھی کہا کہ ایف ڈی آئی سے ملک میں دفاعی آلات سازی میں مدد ملے گی، اس سے آر ایس ایس کے ذیلی شعبہ سودیشی جاگرن بنچ کی موجودگی کے ساتھ یک بیک دو متضاد باتیں کرکے اپنے مقصد کے حصول کی کوششوں کو بہ خوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر اسرائیل کے سفیر ایلون اوشیز کے اس بیان کو ملا لیا جائے تو مستقبل کا نقشہ پوری طرح سامنے آجاتا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہم دفاعی شعبے میں تعاون کے لئے ہمیشہ تیار ہیں اور وہ اس ملک کے ساتھ موجودہ روابط کو کافی اہمیت دیتا ہے، اسرائیل کے پاس مختلف قسم کی تکنیکی صلاحیتیں ہیں، جن کا استعمال ہندوستان کر سکتا ہے، ’یہ باتیں بہ ظاہر بڑی اچھی اور بے ضرر سی لگتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ کچھ خاص قسم کی ضرورتوں اور خوف دہشت کے نفسیات کا بڑی خوبصورتی اور مہارت سے استعمال کرتے ہوئے ہندوستان کو جس ایک مخصوص ڈگر پہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ انتہا ئی توجہ طلب ہے، اسرائیلی سفیر ایلون اوشیز نے یہ کہہ کر اس طرح سے واضح اشارہ دے دیا ہے کہ اسرائیل، انڈیا کہاں ایک ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں کہ ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں جو ہم آہنگی ہے وہ قوی سیاست سے بالاتر ہے، دونوں ممالک کے سامنے کافی چیلنجز ہیں اور دونوں کے درمان دفاعی سیکورٹی روابط فطری ہیں، دہشت گردی کا حامی دہشت گرد سے کچھ کم نہیں ہے، ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی فرد ۵؍فیصد یا سو فیصد دہشت گرد ہے، ہندوستان اور اسرائیل داخلی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبہ میں آپسی تعاون کو بڑھا رہے ہیں اور دونوں ممالک دہشت گردی کے لعنت کے تئیں برداشت نہ کرنے کو یقینی بنانے کے لئے متعدد منصوبوں میں شریک ہیں، دونوں ممالک بے حد چیلنج بھرے ماحول سے گھرے ہوئے ہیں۔
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہوا کا رُخ کیا ہوگا، اسرائیل اپنے ملک کے متعلق فلسطینی عربوں اور ہندوستان کے حوالے سے مخصوص کمیونٹی کو دہشت گرد کے طور پر شناخت کرکے ایک خاص سطح پر ہندوستان کو بھی اپنے ساتھ کرنا چاہتا ہے، اسلحہ جات کی فروختگی میں، حالات کی خرابی اور خوف و دہشت کا ماحول بنانے کے سلسلے میں اسرائیلی عزائم کو کھلی آنکھوں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسرائیلی سفیر نے جس طور سے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور غاصبانہ اقدامات سے توجہ ہٹاتے ہوئے سیدھے سیدھے دہشت گردی سے اپنے مخالفین اور ان کے حمایتوں کو وابستہ کرکے دیکھا ہے اس کا مطلب بالکل صاف ہے، اقوام متحدہ نے تو واضح الفاظ میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی زمینوں پر نئی نئی یہودی بستیوں کے بسانے کی کارروائیوں پر تنقید کی ہے اور امن کے عمل کو سپوتاژ کرنے کے لئے ذمہ دار قرار دیا ہے، لیکن ہندوستان کی طرف سے ابھی تک فلسطینی عربوں کی زمینوں پر غاصبانہ قبضہ اور مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے اور یہودی بستیاں بسانے پر کوئی واضح اور مؤثر نقطہ نظر نہیں آیا ہے، غالباً یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ اسرائیل، تحقیقی پروجیکٹوں، زراعت، گنگا صفائی کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں بھی شراکت کے سلسلے میں سامنے آکر کھلے الفاظ میں اپنی کوششوں اور پیش رفتوں کا اظہار کر رہا ہے، اسے لگ رہا ہے کہ پردہ داری کے ساتھ کام کرنے کی اب ضرورت نہیں رہ گئی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسرائیل نے آبی نظم کی ترقی کی سمت میں خاص پیش رفت کی ہے۔ پانی سپلائی کے دوران پانی کو کم ضائع کرنے اور کھارا پانی کو میٹھا بنانے میں بھی ہندوستان جیسے ملک سے آگے نکل گیا ہے، زراعت کے معاملے میں بھی کئی جہتوں سے ترقی کی ہے، اس طرح کی ترقیات سے فائدہ اٹھانے کا کوئی مخالف نہیں ہے، اصل مسئلہ اسرائیل کی فطری نسلی شدت پسندی، تخریب کاری اور مختلف فرقوں میں نفرت اور بے اعتمادی پیدا کرکے اپنے صیہونی عزائم اور تاجرانہ مقاصد کا حصول ہے، جب سے اسرائیل کے ہندوستان کے مختلف جہتوں سے تعلقات قائم ہوئے تب سے دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، حالیہ عام انتخابات میں سنگھ سے مل کے بی جے پی کے حق میں ماحول بنانے کی بات میڈیا میں آ چکی ہے، گذشتہ دنوں ایک سینئر کانگریس لیڈر نے پارٹی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اس کی شرمناک ہار کے لئے موساد کی آر ایس ایس کے ساتھ ساز باز کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ۲۰۰۹ ء سے اسرائیلی ایجنسی، سنگھ کو اس مقصد کے حصول میں مدد کر رہی تھی، اس میں سچائی کس حد تک ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، گر چہ اسرائیل نے حالیہ وعام انتخابات میں اپنی خفیہ ایجنسی موساد کے کسی طرح کے رول سے انکار کیا ہے۔ تاہم دنیا کے مختلف صیہونی اداروں اور بذات خود اسرائیل نے جس طرح کھل کر مختلف شعبوں میں تعاون کی پیش کش اور مودی سرکار سے متعلق گرم جوشی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے صاف ہو جاتا ہے کہ مستقبل میں کئی سطحوں پر خاص طرح کی تبدیلیاں ہوں گی، ہندوستان میں ایران کے نیو کلیائی پروگرام سے متعلق اپنی تشویش ظاہر کرکے اس کو ساتھ لینے کا ایک خاص معنیٰ ہے، صیہونی عناصر عالمی سطح پر اسلام اور قرآن کے خلاف شر انگیز مہم چلانے کے ساتھ اگر ہندوستان میں بھی مسلم مخالف منفی ذہنیت کے حامل عناصر کے ذریعہ ملک کے حالات خراب کرنے کی کوشش کریں تو کوئی بعید بات نہیں ہوگی، دہشت گردی کے سلسلے میں اس کا نشانہ بالکل واضح ہے، اگر امن پسند ہندوستانیوں، پارٹیوں اور اداروں کی طرف سے ملک کی سلامتی اور دہشت گردی کے معاملات میں خاموشی رہے گی تو موجودہ ارباب اقتدار کو یہ کون بتائے گا کہ وہ اسرائیل کو دفاعی شعبوں، سلامتی اور دہشت گردی کے معاملے میں رازدار بناکر کتنی بھیانک غلطی کر رہے ہیں، جو اسرائیل ہندوستان کو ایک بڑا مارکیٹ اور خریدار سمجھتے ہوئے اپنے جنگی آلات اور اسلحہ جات فروخت کرکے موٹی کمائی کر رہا ہے۔ وہ کب چاہے گا کہ ہندوستان میں امن، عدم تشدد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول رہے اور چند دنوں میں اس کی سرگرمیوں میں جس طرح اضافہ ہوا ہے، اس کو نظر انداز کرنا اور ہلکے میں لینا دوررس اثرات و نتائج مرتب کرے گا۔ خاص طور سے مسلم ملت کے حق میں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *