تا خلافت کی بناء ہو پھر جہاں میں استوار

فلسطین میں ۲۸ دنوں تک دہشت گردی کا ننگا ناچ ناچنے کے بعد عارضی جنگ بندی کے نام پر غاصب اسرائیلی حکومت کی فوجیں فلسطین کی غزہ پٹی سے ’دفاعی مقامات ‘پر لوٹ گئی ہیں۔ اس جنگ میں کم و بیش دو ہزار فلسطینی شہریوں نے صیہونی فوج کے حملوں میں جام شہادت نوش کیا اور اس سے کہیں زیادہ تعداد زخمیوں کی ہے جن میں عورتیں، بچیں اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ یہودی غاصبوں کی تاریخ، طاقت کے بے جا استعمال اور استحصال کی تاریخ ہے، فلسطینی اپنے ہی ملک میں غلاموں کی سی زندگی گزار رہے ہیں، غزہ پٹی پر غالب اسرائیلی فوجیوں نے بربریت اور دہشت گردی کا جو ننگا ناچ ناچا ہے اس سے ملتی جلتی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ صابرہ شتیلہ کے کیمپوں میں جو کچھ ہوا اس پر خود اسرائیلی عوام کا مردہ ضمیر بھی خاموش نہ رہ سکا تھا اور ان کے اپنے قائم کردہ تحقیقی کمیشن نے براہِ راست اس وقت کی فوج اور وزیر دفاع کو خطاکار ٹھہرایا تھا۔
مگر اسرائیلی حکومت کے جارحانہ رویہ میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ان کے غیر قانونی باپ امریکہ کی بے غیرتی اور بیدردی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ فلسطینی تنظیموں کی مزاحمت ’مرتا کیا نہیں کرتا ‘سے آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ یقینی طور پر حماس کو مزاحمتی کارروائی کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ یہ ہی پوزیشن ایک وقت تک الفتح کی بھی تھی۔ اور حسب عادت امریکہ سمیت مغربی دنیا اس کو بھی دہشت گرد تنظیم کہہ کر بدنام کرتی رہی۔ حتی کہ یاسر عرفات نے گھٹنے ٹیک دئیے۔ جو شاخ زیتون کے نام پر غلامی کا قلادہ ان کے گلے میں ڈال دیا تھا۔ تحریک انتفاضہ بھی مشین گنوں کا مقابلہ غلیل کے پتھروں سے تھا۔
آج فلسطین کی مظلومیت مسلم دنیا کی مظلومیت اور بے بسی اور انتشار کی علامت بن چکی ہے۔ فلسطین کی پڑوسی حکومتیں غیر مسلموں کی نہیں ہیں۔ ان کی دیواریں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ شام، اردن اور مصر بھی اسرائیل کی جارحیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے پڑوسی، ایران اور ترکی بھی کچھ دور نہیں ہیں۔ مگر ان کی بے حسی اور بے غیرتی پر جتنا رویا جائے کم ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ تعمیر و ترقی کی کوششوں میں مصروفیت کی وجہ سے یہ لوگ فلسطینی بھائیوں کی خبر نہیں لے پا رہے ہیں۔ ایران و سعودی عرب میں آویزش ہے۔ عراق میں خوں ریزی کی حمایت ایک فریق کر رہا ہے تو بشارالاسد کی سفاکیت کا دوسرا سرپرست بنا ہوا ہے۔ خلافت عثمانیہ سے بغاوت کرکے عرب قوم پرستی کا انجام یہ ہے کہ مصر اور سعودی عرب کی حکومتیں دونوں امریکہ کی غلامی پر رضامند ہو چکے ہیں۔ شام اپنے ہاتھوں بربادی میں مصروف ہے، عراق پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ لیبیا خانہ جنگی کا شکار ہے۔ اردن اور لبنان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہاں کے حکمراں کٹھ پتلیاں ہیں جو مغربی آقاؤں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ حکومتوں کی تشکیل میں عوام کی رائے اور مشوروں کا کوئی دخل نہیں ہے۔ شاطرانہ طور طریقوں سے جمہوریت کا لفظ تو استعمال ہونا ہے مگر اس کا کوئی حقیقی کردار نہیں ہے۔ افریقہ، ایشیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے فوجی جغرافیائی اہمیت کے حامل مقامات اب بھی مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں۔ مگر روز افزوں باہمی خلفشار اور آزاد ملکوں کے غلام حکمرانوں کی بڑھتی ہوئی ہوس اقتدار کے نتیجے میں ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے زیادہ خراب حالت کی خبر لیکر آتا ہے۔ مسلم دنیا کل یومِ عاشورہ اور کل ارض کربلا کا مصداق بنی ہوئی ہے۔
عرب مسلم ملکوں کی اس بے وقعتی کا اثر پوری تیسری دنیا پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان کی فوجیں اپنے ملک کے عوام سے برسرپیکار ہیں۔ افغانستان اپنے ہی خون سے روزانہ غسل کرتا ہے، بر صغیر میں امریکہ، برطانیہ، فرانس کی تثلیث کی جڑیں گہری ہو چکی ہیں۔ ہندوستان کی تحریک آزادی کا حاصل گم ہوتا جا رہا ہے۔ عربوں سے تعلقات اور ہمدردی ایک لفظ بے معنیٰ کی مثال ہے اور قومی مفادات کے علی الرغم اسرائیلی درندوں سے انجانے رشتوں کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان اسرائیل کے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اس طرح ایک جانب مشرق وسطیٰ کو تیسری عالمی جنگ کے میدان میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو مغرب کی منصوبہ بندی کا خاص حصہ ہے۔ تو دوسری طرف دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے اپنے علاقوں میں بے بسی، مجبوری کے تنگ دائروں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ سری لنکا، برما اور ہمارے ملک میں ایسے عناصر سر اٹھا رہے ہیں جن کے مابین مسلم دشمنی ایک قدر مشترک کا درجہ رکھتی ہے۔
امت مسلمہ کے سامنے اس وقت کوئی راستہ کھلا نظر نہیں آتا۔ اسلام اور مسلمانوں کو اس درجہ بدنام کر دیا گیا ہے کہ دہشت گردی اور اسلام، جہاد اور فساد کے معنیٰ اور مفہوم، ایک ہی جیسے نظر آنے لگے ہیں۔ اگر چہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حالات کی اس خرابی میں مسلم ملکوں کا بھی اچھا خاصا دخل ہے۔ نہ تو کسی مسئلہ پر مسلم حکومتیں ایک ہوتی ہیں اور نہ انہیں ایک ہونے دیا جاتا ہے۔ اگر کہیں کوئی قدم اس طرف اٹھاتا ہے تو اس کا انجام اخوان کی منتخب جمہوری حکومت اور اس کے سربراہ ڈاکٹر محمد مرسی جیسا نظر آتا ہے۔ جو مصر کے آج بھی منتخب صدر ہونے کے باوجود اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ جیل کی صعوبتوں میں مبتلا ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ بحالات موجودہ کتنے ذہن اس سچ کو تسلیم کر سکیں گے۔ مگر سچ یہ ہی ہے کہ آج سے نوے برس پہلے ترک ناداں کے ہاتھوں خلافت کی جوقبا چاک ہوئی تھی اسے زیب تن کئے بغیر مسلم دنیا آبرومند نہیں ہو سکتی۔ خلافت اسلامی اجتماعیت یا امت مسلمہ کے اتحاد اور آبرو مندی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اگر یہ سچ ہے کہ کوئی حکومت یا جماعت سربراہ کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی تو یہ بھی سچ ہے کہ لا اسلام الا بالجماعۃ ولا جماعۃ الا بالامارۃ ولا امارۃ الا بالطاعۃ۔ (ترجمہ: اسلام بغیر جماعت کے نہیں اور جماعت بغیر امارت کے نہیں، اور امارت بنا اطاعت کے نہیں)مسلمانوں کی تاریخ کا یہ المیہ کہ وہ نوے برس سے خلافت سے محروم ہے، سقوط بغداد سے بڑا المیہ ہے جس کی کوئی مثال مسلمانوں کی چودہ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔
قیام خلافت سے پہلے بنائے خلافت کے استواری کا عمل جاری ہونا چاہئے۔ اور یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس راہ میں بہت سے پتھر بہت سی چٹانیں حائل ہیں۔ یہ کوہ کنی کا کام ہے جس کے لئے جاں کنی بھی لازم ہے، مگر یاد رہے کہ ہٹانے والے راہ کے پتھر اور چٹانیں ہی نہیں، پہاڑوں کو بھی ہٹا دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ وہ ہی ہو سکتے ہیں جنہیں اپنی جدوجہد کی کامیابی کے لئے نصرت خداوندی پر کامل یقین حاصل ہو۔ والسلام

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *