سیا سی دین، سعودی ملوکیت اور اخوان المسلمین

ہم نے مضمون کی پہلی قسط میں خوارج کے متعلق احادیث رسول اللہﷺ اور ان میں صفات خوارج کا تذکرہ کیا تھا، اس کے بعد محسوس ہوا کہ ان عوامل کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے جن کی بنا پر ’الاخوان المسلمون ‘کو خوارج کہا جا رہا ہے،چنانچہ حرمین شریفین کی عظمت، وقار اور دینی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مضمون محض ان لوگوں کی نکیر کی کوشش ہے جو ان مقدس مقامات کے خادم ہونے کے باوجود کہیں نہ کہیں کفر و طاغوت کے مکر کا شکار ہو کر غلبہ اسلام اور جہاد و شہادت کے عمل کو دہشت گردی، اعلائے کلمۃ اللہ کی کوشش کو سیاسی دین اوران اللہ والوں کو خوارج سے تعبیر کر کے اپنی مذموم کوششوں کو خدمت ِدین کا لبادہ اڑانا چاہتے ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ:
جزیرہ نما عرب میں ملوکیت کی ابتدا:
فی الوقت مسلم عرب دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس کو سمجھنے کے لیے ان بادشاہتوں کی ابتدا اور اس کے پسِ پشت عوامل کو سمجھنا بہت ضروری ہے، یہ ملوکیت کے شکار عرب ٹکڑے یا تو سقوط خلافت عثمانیہ کے بعد وجود میں آئے یا پھر جن کی خلافت کے خلاف بغاوت ان کے وجود کی بنیاد بنی۔ خلافت عثمانیہ اور ’الجماعت‘ کے خلاف سب سے پہلے بغاوت شریف مکہ نے کی۔ انہیں ایک خاص مقصد کے تحت خلافت عثمانیہ کے خلاف کھڑا کیا گیا، عرب قومیت کے نام پر بہادران ِترک کے خلاف ماحول بنایا گیا اور عربی خلافت کا جھوٹا خواب دکھلایا گیا اور ان کے ذریعہ ’الجماعت‘ کی عمارت کو منہدم کردیا گیا،خلافت کے خلاف جن لوگوں نے بغاوت کے حالات بنائے ان میں ایک ایسے برطانوی جنرل کا نام بھی ملتا ہے جسے محض عربوں میں قومیت کا بیج بونے کے صلے میں ’لارنس آف عربیہLawrence Of Arabiaکہاجاتا ہے۔واضح رہے کہ 1915؁ء کے آخری عشرے میں جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو لوہے کے چنے چبوائے اور مارچ 1916؁ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی،تو انگریز کو یہ احساس ہوا کہ وہ امت کو کبھی بھی میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتے۔چنانچہ لیفٹننٹ کرنل ایڈ ورڈ لارنس کو پہلی جنگ عظیم کے دوران عرب علاقوں میں خلافت کے خلاف بغاوت منظم کرنے کے لیے متعین کیا گیا اور اس نے بخوبی اپنا یہ کام سرانجام دیا۔ستمبر 1911؁ میں بصرہ کے ایک ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں اور ایک یہودن کو اپنے ساتھ ملا لیا۔انگریزوں نے لارنس کو ہدایت کی کہ وہ برلن سے بغداد جانے والی لائن سے متعلق اطلاعات لندن پہچائے اور ایسے افراد کا انتخاب کرے جو ضمیر فروش ہونے کے ساتھ ساتھ با اثر بھی ہوں۔اس مقصد کے لیے اس نے بصرہ کی ایک مسجد میں مسلمان ہونے کا اعلان کیا اور عرب علاقوں کے بدوئوں میں قریباً دو لاکھ پونڈ تقسیم کیے، اس انفاق نے اسے عربوں کا مداح بنا لیا۔لارنس نے اس کے ذریعہ گورنر مکہ حسین ہاشمی یعنی شریف مکہ تک رسائی حاصل کرلی اور اسے اپنے شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہوگیا۔پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبداللہ،علی،فیصل اور زید پر مرکوز کی۔ان تمام نے مل کرخلافت کے خلاف بغاوت کا عَلم بلند کیا جس کے نتیجے میں ترکوں کو شکست ہوئی اور امیر فیصل کو عراق کا اور شاہ عبد اللہ کو اردن کا بادشاہ بنایا گیا۔اس پوری بغاوت کے لیے سید حسین ہاشمی کو یہ لالچ دیا گیا تھا کہ ان کو عرب دنیا کا بادشاہ اور ان کے بیٹوں کو ترکی علاقوں کے الگ الگ حصوں کا بادشاہ بنایا جائے گا۔اس لالچ کے نتیجے میں شریف مکہ نے جدہ سے لے کر بغداد اور شام کے شہر دمشق تک ترکوں کے خلاف بغاوت کرادی۔اس بغاوت کی وجہ سے خلافت اسلامیہ کو تمام علاقوں میں بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑااور خلافتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہوگیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اس بغاوت کے بعد عرب دنیا میں ایک نئی غلامی کا آغاز ہوا۔
٭ عرب کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے:
حالانکہ یہ شعر علامہ اقبال ؒ نے عیسائی دنیا کے لیے کہا تھا،لیکن شاید اقبال اب باحیات ہوتے اور عرب بادشاہوں کی بے دینی اور امریکہ نوازی نیز دین فروشی دیکھتے تو یہی کہتے کہ ’عرب کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے‘
سعودی ملوکیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جس بادشاہت کی ابتدا’الجماعت‘ کے خلاف بغاوت سے ہوئی وہ اسلام اور غلبہ اسلام کے متعلق کتنی حساس ہوسکتی ہے؟تاریخ کے اس آئنہ میں ہر ذی عقل دیکھ سکتا ہے کہ کیا سعودی بادشاہت اہل حق حکومت ہے؟جو شاہ خادمین حرمین شریفین کے متبرک ناموں کی آڑ میں اپنے جرائم چھپانا چاہتے ہیں،جنہیں شام میں مسلمانوں کی آپسی لڑائی میں UNOکی فوجی مداخلت پسند ہے،جنہوں نے شام و یمن کے محاذ پر جاکر واپس آنے والے عرب نوجوانوں کو ۳/سے لے کر ۲۰ /برس تک کی سزا کا اعلان کیا ہے،جنہیں وصیت رسول اللہﷺ کا ذرہ برابر پاس نہیں کہ ’میرے بعد کسی مشرک یا یہود و نصاریٰ کو حجاز میں آنے نہ دینا‘،جنہوں نے حج و عمرہ جیسے خالص دینی عبادات کو تجارت کا ذریعہ بنا لیا، جن کی بزدلی کی بنا پر آج پوری دنیا مہنگائی کا شکار ہے کہ اگر یہ چاہتے تو پٹرول و ڈیزل سستا ہوتا، ان کے شہزادوں کی زندگی چائے اور قہوا کے لیے پیرس و لندن کے سفر میں گزرتی ہے،ان کی مستورات کی فضول خرچی ضرب المثل بن چکی ہے،یہ فلسطین کو یہود کے ہاتھ بیچنے والے، ساری دنیا میں خون مسلم کی ارزانی ہے، یہ کہاں کہاں مسلمان کی مدد کے لیے گئے؟اس طرح کے جرائم کی ایک لمبی لسٹ بن سکتی ہے، کیا یہ صحیح العقیدہ مسلمان حکومت ہے؟؟؟حرمین شریفین کا ادب و احترام ہمارا ایمانی لازمہ ہے اس لیے زبان و قلم کو روکنا پڑتا ہے ورنہ ان ’اہل حق حکومتوں‘نے اسلام اور مسلمانوں کو کس طرح ذلیل کیا بلکہ بر صغیر کے مسلمانوں کو اپنے خادموں کے ذریعہ کس طرح مسالک و گروہی تفریق کی آگ میں جھونک رہے ہیںہر عقل و دانش رکھنے والا خوب جانتا ہے۔
’سیاسی دین‘اختیار کرکے مغربی فکر کے دلدادہ ہیں، شیعوں سے قربت ہیں۔سریت و باطنیت کا طرز ہے۔‘
’سیاسی دین‘ اس جملہ کو شاہ عبد اللہ کے اس بیان کی روشنی میں دیکھا جائے جو شاہ عبداللہ نے دیا تھاکہ’ عالم عرب میں سیاسی دین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک بادشاہ کو اپنی بادشاہت کا خوف لاحق ہو گیا ہے،اور اہل حق مسلمانوں کے اثر و رسوخ کو محسوس کیا جا رہا ہے،یقینا یہ سمجھانے میں اہل مغرب کی کرم نوائی کا اہم رول ہوگا۔اگر ایسی بات نہیں ہوگی تب سیاسی دین سے کیا معنی مراد لیا جائے؟تعجب اس بات پر ہوتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں میں چھوٹی چھوٹی بدعتوں کی بنیاد پر کفر و شرک کا فتوی لگاتے ہیں انہیں سعودی عرب کی یہ سب سے بڑی بدعت نظر نہیں آتی کہ اسلام ’الجماعت‘ اور قیام خلافت کی بات کرتا ہے، ملوکیت بدعات میں سب سے بڑی بدعت ہے اور اسی بدعت کے خلاف حضرت امام حسینؓ نے اعلان جنگ کیا تھا۔
اخوان پر شیعیت کے قرب کا جو الزام لگایا ہے وہ بھی سعودی کرم نوائی کا ہی حصہ ہے۔جو لوگ مسلم دنیا کے دو حصوں شیعہ و سنی کے دینی و سیاسی حالات پر نظر رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایران مسلم دنیا میں شیعیت کا علم بردار ہے اور سعودی عرب سنی دنیا کا علم بردار ہے۔یہی سیاسی ٹکرائو کے خلاف محمد مرسی نے جانے کی اور سعودی عرب کی سنی ٹھکیداری کے زعم کو توڑنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ محمد مرسی نے شاہ عبد اللہ کی بات ٹھکرا کر کہ ’ایران کا دورہ منسوخ ہو ‘ایک مطلق العنان بادشاہ کو ناراض کیا اور پہلی بار عالم اسلام کے دودھڑے شیعہ و سنی کے اختلافات مٹانے کو عملی کوشش کی۔ لہٰذا مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت کے سقوط کے بعد سعودی حکومت نے جو رویہ اختیار کیا اسے اس تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اخوان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی حکومت نے جو کارہائے نمایا انجام دیے وہ اس طرح ہیں:
٭ سب سے پہلے جنرل سیسی کو مالی مدد بھیجی۔
٭ عرب دنیا کے مختلف آمروں کو جنرل سیسی کی مدد پر راضی کیا۔
٭ عرب دنیا میں اخوانیوں کی زندگی اجیرن کی۔
٭ سعودی عرب کے ایک چینل نے طارق السویدان نامی صحافی کو صرف اس لیے معطل کردیا کہ ان کا اخوان المسلمون سے نظریاتی تعلق تھا۔واضح رہے کہ الرسالہ چینل سعودی عرب کے امیر اور عیاش شہزادہ ولید بن طلال کا ہے۔ طارق کی معطلی کا سبب بتاتے ہوئے شہزادہ ولید بن طلال نے اپنے ٹویٹر کے پیج پر لکھا کہ طارق السویدان نے یمن کے کسی پروگرام میں اخوان المسلمون سے اپنے فکری وابستگی کا اعتراف کیا تھا۔
اخوان اور خوارج کا فتویٰ:
یہ بات بڑی حیرت انگیز ہے کہ عالم عرب کی اتنی مشہور و معروف اسلامی اجتماعیت ’الاخوان المسلمون‘کو دیکھتے ہی دیکھتے خوارج کے زمرے میں کیسے ڈھکیل دیا گیا۔اگر ہم رابعہ العدویہ کے پورے فوجی کریک ڈائون پر ایک نظر ڈالیں تو اس کی اصلیت سمجھ میں آتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اخوان پر خوارج کا فتوی کس نے دیا اور پھر اس فتوی کو کون آگے لے کر بڑھا۔
الجزائر سے شائع ہونے والے اخبار الشروق کی رپورٹ کے مطابق مصری فوج کی جانب سے اخوان المسلمین کے خلاف حالیہ کریک ڈائون اور تاریخ کے بدترین آپریشن کے پیچھے اسرائیل او ر دیگر اسلام دشمن قوتوں کا کارفرما ہونا کوئی راز نہیں رہا وہیں اسلام پسندوں کا خون بہانے میں سرکاری مولویوں نے بھی بنیادی کردار ادا کیا۔الشروق نے فتنۃالعلماء تفتن العالم(عالِم کے گمراہ ہونے سے ایک عالَم گمراہ ہوتا ہے)کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ ’اخوان المسلمون کے قتل عام میں مصر کے سرکاری مفتی اعظم علی جمعہ کے فتوے اور تقریروں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔‘مسجد رابعہ العدویہ کے قتل عام سے پہلے اپنی تقریروں میں مفتی علی جمعہ نے کہا کہ ہر اس شخص کو قتل کردینا چاہیے جو جنرل سیسی جیسے حاکم وقت سے بغاوت کرے۔نیز مصر کے خبر رساں ادارے ’الرصد‘کے مطابق مفتی علی جمعہ نے فوجی چھائونی میں اپنی تقریروں میں کہا تھا کہ مرسی کے حامیوں کو قتل کرنا جائز ہے۔ بات یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ سرکاری نمک حلالی کا ثبوت دیتے ہوئے سرکاری مفتی نے یہاں تک کہا کہ’جنرل سیسی اور اس کے ساتھیوں کو محمد مصطفی اور تمام اولیاء کرام کی حمایت حاصل ہے۔اور اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جو اخوانیوں کو قتل کرے گا یا ان کے ہاتھوں مارا جائے گا۔ اخوانی بدمعاشوں کو قتل کرنا راہ حق کے شہسواروں کا کام ہے۔‘واضح رہے کہ اخوان المسلمین کے متعلق یہ فتوی کہ وہ خوارج ہیں، سب سے پہلے مصر کے اسی سرکاری مفتی علی جمعہ نے ہی دیا تھا۔ایک مصری فوجی کے مطابق ’العدویہ اور النہضہ پر فوجی کاروائی سے ایک دن قبل مفتی اعظم علی جمعہ ہمارے پاس فوجی چھائونی آئے تھے اور انہوں نے فتویٰ دیا تھا کہ اخوان المسلمین والوں کو قتل کرنا فرض ہے۔ یہ لوگ خوارج ہیں اور ان کا قتل یہودیوں کو مارنے سے بھی افضل ہے اور باعث اجر و ثواب ہے۔‘
(اخوان المسلمون اور فرعونیت کی کشمکش،ص۲۰۵)
اخوان اور یہودی ریاست:
مصر کے پورے حالات،اسلام پسندوں کا قتل عام اور عرب بادشاہوں کی اخوان کے خلاف مہم ان سب کو اگر سمجھنا ہے تو مصر کے حالیہ واقعات کو اسرائیلی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت سے سب سے زیادہ کسے خطرہ تھا؟محمد مرسی نے حکومت بننے کے ساتھ ہی غزہ کی مصر سے سٹی سرحدیں کھول دی تھیں،اس سے کسے نقصان ہونے والا تھا؟سنی مسلمانوں کی ٹھکیداری کا دعویٰ کرنے والی سعودی حکومت نے غزہ کے تعلق سے کیا رویہ اختیار کیا تھا؟ عالمی مشہور خبر رساں اداروں نے اس باب میں جو خبریں شائع کی ہیں وہ حالت کو واضح کرتی ہیں۔
٭ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت کے خاتمے او ر اخوانیوں کے قتل عام میں اسرائیل کے سابق وزیر دفاع ایہود باراک نے CNNکو انٹرویو دیتے ہوئے پوری دنیا کے حکمرانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جنرل سیسی کی مدد کے لیے آگے آئیں۔(اس کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب آگے آیا۔)
٭ نیویارک ٹائمز نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’موساد‘کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار ڈینی یاٹوم کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اسرائیل نے اخوان المسلمون اور اسلام پسندوں کے خلاف مصری فوجی سربراہ جنرل عبد الفتاح سیسی کی ہر ممکن مدد کی۔ مصری فوج کے ہاتھوں اسلام پسندوں کے قتل عام کے بعد کئی ممالک کی طرف سے مذمت اور اظہار تشویش کے بعد اسرائیل نے امریکہ پر مزید زور دیا کہ وہ مصری فوج کو تنہا نہ چھوڑے۔واضح رہے کہ آپریشن سے قبل مصری فوجیوں کے لیے اسرائیل کی جانب سے اعصاب شکن آنسو گیس فراہم کیے جانے کا انکشاف پہلے ہی دن ہوگیا تھا اور اخوان نے اپنے آفیشل ویب سائٹ پر اسرائیلی ساختہ شیل کے خول کی تصاویر شائع کی تھیں۔اس کے علاوہ آپریشن کے دوران مصری فوج نے ایک ایسی گیس کا بھی استعمال کیا تھا جو صرف اسرائیل کے پاس ہے۔اس گیس کو مشین سے اسپرے کرنے کے مناظر پر مشتمل ویڈیو سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی پوسٹ کی گئی تھی،نیز اخوان المسلمون نے اسرائیلی ساختہ چھوٹے چھوٹے بموں کی تصاویر بھی اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہیں جو ہیلی کاپٹروں سے نہتے مظاہرین پر برسائے گئے ہیں۔
٭ الجزیرہ کے صحافی نے یہ انکشاف کیا کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور سبتی یعنی یہودی ہے۔
٭ ترک وزیر اعظم کے حوالے سے اسرئیلی جریدے حارث نے اپنی تازہ رپورٹ میں طیب اردگان کایہ بیان نقل کیا کہ 2011ء میں ان کے ساتھ ایک ملاقات میں ایک فرانسیسی نژاد اسرائیلی دانشور نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر مصر میں اسلام پسند انتخابات جیت بھی گئے تو انہیں حکومت میں نہیں رہنے دیا جائے گا کیوں کہ اسلام پسندوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس نے منصوبہ بنا لیا ہے۔اخوان کی حکومت آنے کی صورت میں یہ پلان ایک سال کی مدت کے اندر ہی کار گر ہوجائے گا اور اسلام پسندوں کے خلاف مصنوعی احتجاج کی لہر پیدا کرکے مصری افواج کو متحرک کردیا جائے گا جو نہ صرف اخوانی حکومت کا تختہ الٹ دے گی بلکہ ان کے خلاف کریک ڈائون کرکے سیاسی میدان میں کام کرنے کی پابندی بھی عائد کردے گی۔
٭ ABC نیوز کے مطابق ایک اعلیٰ اسرائیلی سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور مصری فوج کا ایک مشترکہ مقصد انہیں باہم یکجا رکھے ہوئے ہے۔وہ یہ کہ اس خطے سے اسلام پسند تحریک کا ہر قیمت پر خاتمہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی اور مصری فوج نے فلسطین میں حماس اور صحرائے سینا میں اسلام پسند بدو قبائل کے خلاف آپریشن میں ایک دوسرے کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔
٭ اسرائیلی سفیر برائے قاہرہ ایلی شاکید نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی سلامتی کے لیے بہت ضروری ہے کہ مصر میں ایک سیکولر حکومت ہو،جو اسرائیل کے ساتھ ہر معاملہ میں تعاون کرے جیسا کہ ماضی میں حسن مبارک حکومت کرتی چلی آرہی تھی۔
٭ یروشلم پوسٹ نے تصدیق کی ہے کہ اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈائون میں بھرپور اسرائیلی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔ کیوں کہ یہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
٭ اسرائیل میں یرو شلم سینٹر فار پبلک افیرز میں ایک تقریب سے خطاب میں سابق اسرائیلی سفیر زیوی مازیل نے کہا ہے کہ اسرائیلی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے مصر بہت اہمیت رکھتا ہے۔چنانچہ اسرائیل نے فیصلہ کیا ہے کہ مصری فوجی سربراہ جنرل فتاح سیسی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔
امریکی جریدے لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۱۹۷۹ کے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے بعد ۲۳ سال تک چین کی بانسری بجانے والے اسرائیل کی جان،ایک سال سے سولی پہ لٹکی ہوئی تھی کیوں کہ مصر میں اخوان المسلمون کی حکومت کے باعث خطے میں اسرائیلی مفادات کو سخت خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ ایک جانب حماس اور دوسری جانب سینائی اسلام پسند قبائل نے اسرائیل کو دو طرفہ دبائو میں لے لیا تھا۔لیکن اخوان المسلمون کی حکومت کے خاتمے اور اس تنظیم پر کیے جانے والے کریک ڈائون نے اسرائیلی قیادت کی مشکل آسان کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق اگرچہ خطے کے اسلامی ممالک سعودی عرب،کویت، امارات اور اردن نے مصری فوجی بغاوت کی کھل کر حمایت کی ہے تاہم اسرائیل نے مصری معاملات خود چلانے کا عزم کر رکھا ہے۔(اخوان المسلمون اور فرعونیت کی کشمکش، ص۲۷۷ تا ۲۷۹)ظاہرہے جو اپنے دین اور اسلام پسندوں کے نہیں بلکہ اللہ کے باغی ہوں ان پر کون یقین کرے گا۔
مصر میں اسلام پسندوں کا غلبہ اور سقوط کے حالات ہمیں سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ آج کی دنیا میں غلبہ اسلام سے کسے لگائو ہے اور اس راہ کا اصل روڑا کون بنے ہوئے ہیں۔عام مسلمانوں کو اہل حق اور اہل حق حکومت کے نام سے اصل راہ سے ہٹانے کی یہ کوشش کہیں ہماری آخرت برباد نہ کردے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *