مدنی یتیم کی عید

آسمان کے کنارے سے عید کے چاند نے جوں ہی ذرا سا جھانکا مدینہ کی گلیوں میں خوشیوں کی ہل چل سی مچ گئی۔ ہر ایک کی آنکھوں میں خوشی کے دئیے جھلملانے لگے۔ پورے سال کے انتظار کے بعد تو خوشی کا دن دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہر من کلی کی طرح چٹخ اٹھتا ہے۔ خوشیوں کی اس گہما گہمی میں دوسروں کی آنکھوں کے آنسو دیکھنے کی فرصت ہی کس کو ملتی ہے۔
خوشیوں کے اس ہجوم میں ایک طرف ایک ننہا منا سا بچہ اُداس اُداس کھڑا تھا۔ اس کی گیلی آنکھیں محرومیوں کی ایک خاموش کہانی سنا رہی تھیں۔ اپنے اردگرد بکھری ہوئی ساری خوشیوں سے کچھ بے تعلق سا۔ کچھ الگ تھلگ سا۔ جیسے وہ سب سے روٹھ گیا ہو۔ جیسے سب اس سے روٹھ گئے ہوں۔ جگمگاتے ہوئے شیش محلوں میں قہقہے بکھیرنے والوں کو— اندھیرے راستوں پر ٹھوکریں کھاتے مسافروں کی مشکلوں کا کیا احساس۔
ہر من میں جب انسانیت کا چراغ جل رہا ہو تو درد میں ڈوبے چہرے کتنے صاف نظر آنے لگتے ہیں دوسروں کے پلکوں پر اٹکے آنسو لگتا ہے اپنی ہی آنکھ میں چھلکے ہیں۔
عید کی نماز کے لئے جاتے ہوئے پیارے نبیؐ ایک منٹ کو ذرا سے ٹھٹکے، بچے کی اداس صورت ایک دم ہی انہیں بے کل کر گئی۔ جیسے اندر ہی کچھ ٹوٹ گیا ہو۔سارے بچے خوشی سے کھیل رہے تھے۔ اچھے اچھے کپڑے پہنے ہوئے، بے فکر، بے غم—
’کیا بات ہے بیٹے۔۔۔؟‘ انہوں نے قریب آکر پیار سے بچے کے سر پر ہاتھ رکھا، پیار بھرے ہاتھ کی گرماہٹ سے جیسے بچے کا سارا دکھ پگھل گیا۔ آنسوؤں کی ایک لڑی سی اس کی پلکوں سے ٹوٹ کر بکھر گئی۔
’تم نے کپڑے نہیں پہنے۔ تم اتنے چپ چپ کیوں ہو۔کھیل کیوں نہیں رہے تم آج عید کے دن بھی—؟؟‘
’چھوڑئیے بھی۔ کیا کیجئے گا آپ میرا حال جان کر۔۔۔ ‘معصوم بچے کو کیا خبر تھی کہ خود اللہ کے رسولؐ اس سے مخاطب ہیں—– رسولؐ اللہ نے اپنے لیے کوئی امتیاز بھی تو نہ رکھا تھا کہ کوئی انہیں الگ سے پہچان پائے۔ وہ تو سب میں، سب ہی کی طرح گھلے ملے تھے۔مانو ایک عام انسان ہوں۔
’نہ میری ماں ہے نہ باپ— کوئی خوشی مجھ بد نصیب کی قسمت میں ہے ہی کہاں۔‘ بھرائی ہوئی سی آواز تھی اس کی۔
’بیٹے! تمہارے ماں باپ کا انتقال کب ہوا؟‘—پیارے نبیؐ کا من اندر سے ٹوٹ ٹوٹ گیا۔
’میرے والد شہید ہو گئے۔ میری ماں نے دوسری شادی کر لی۔ میرے نئے باپ نے مجھے گھر میں بھی نہ رہنے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے۔ کون مجھے پیار کرے۔ کون مجھے سینے سے لگائے۔‘
آنسوؤں میں ڈوبی معصوم آواز پیارے نبیؐ کو بے قرار کر گئی جیسے عید کی ساری رونقیں ایک دم ہی دھول میں اٹ گئی ہوں۔ معصوم بچے کو سینے سے چمٹا کر وہ بولے:
’بیٹے کیا تم مجھے محمدؐ۔۔۔۔۔ کو اپنا باپ مان سکتے ہو؟ کیا تم عائشہؓ کو ماں کے روپ میں، فاطمہؓ کو بہن کے روپ میں اور حسنؓ و حسینؓ کو بھائی کے روپ میں قبول کر سکتے ہو؟‘
بچہ نے ایک دم ہی حیرت سے دیکھا، اس کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ وہ کتنی گستاخی سے پیارے نبیؐ کو جواب دے رہا تھا۔ شرمندگی کے بوجھ سے اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ وہ نظریں جھکائے ہی جھکائے بولا—’ پیارے نبیؐ! معاف کیجئے۔ میںنے آپ کو پہچانانہیں تھا۔۔۔۔ تب ہی تو میں آپؐ کو اس طرح جواب دیتا رہا۔۔۔۔ پیارے نبیؐ، مجھے عائشہؓ سے اچھی ماں، فاطمہؓ سے اچھی بہن اور حسنؓ و حسینؓ سے اچھے بھائی کہاں مل سکتے ہیں۔‘
پیارے نبیؐ نے خاموشی سے معصوم بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے سدا کے لیے بیٹا بناکر اپنے گھر لے آئے۔۔۔۔ اور جب دوبارہ نماز کے لیے گھر سے نکلے تو آنکھوں میں خوشی کا ایک دریا لہریں لے رہا تھا۔دوسروں کے آنسو پونچھ کر من کو کتنا سکھ ملتا ہے۔!
(اجالوں کا قافلہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *