ہندوستانی تہذیب کے کھوکھلے دعوے!

کہتے ہیں جمہوری حکومت میں مقننہ یعنی پارلیمنٹ یا اسمبلی،انتظامیہ اور عدلیہ نظم مملکت کے تین اہم ادارے یا ستون ہیں جن کے سہارے جمہوری نظام کی تاسیس ہوتی ہے۔البتہ چوتھا ستون وہ زندہ ضمیر و متوازن میڈیا ہے جو اس پورے نظام کو غلطیوں سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس طرح یہ چار ستون مل کر دیدہ زیب جمہوری عمارت کو قابل رہائش بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ایک طرف جمہوری ملک کی ترقی و خوشحالی،فلاح وبہبود، تعمیر و تصعید، امن و قانون کی برقراری اور حقوق و اختیارات کی ادائیگی میں متذکرہ تین اداروں کا اہم رول ہوتا ہے وہیں دوسری طرف صاف شفاف انتظامی مشنری، گڈ گورننس اور عوامی خوشحالی کے مفاد میں یہ انتہائی ناگزیر امر ہے کہ میڈیا بھی احسن طریقہ سے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے۔لیکن تصور کریں کہ جمہوری نظام کے تین ستون مقننہ،انتظامیہ اور عدلیہ پر گرفت کرنے والا اہم ترین ستون میڈیا ہی خود اپنی حیثیت کھو بیٹھے تو پھر کون اس نظام کی خوشحالی کو برقرار رکھ سکے گا؟
گزشتہ دنوں مقننہ، انتظامیہ بمعنی سیاسی عہداران، عدلیہ یعنی جج صاحبان، اور انتہا یہ ہے کہ مذہبی گروئوں کے متعلق بھی یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کی تہذیب سے کھلواڑ کرتے ہوئے اور عورت کو حقیر جانتے ہوئے اس پر ظلم یا زیادتیاں کی ہیں یا ظلم و زیادتیوں کی انجام دہی میں کوشش کی ہے۔افوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک عزیز ہند کا میڈیا بھی اس گھنائونے فعل سے بچا ہوا نہیں ہے۔میڈیا کے تعلق سے یہ باتیں پہلے بھی آتی رہی ہیں اور ابھی موجودہ انڈیا ٹی وی اینکر تنو شرما کے واقعہ نے بھی میڈیا کو مزید بدنام کیا ہے۔جہاں نہ صرف تنو شرما کو ہر ممکن طریقہ سے ذلت کا سامنا کرناپڑا بلکہ22؍جون کو چینل کے دفتر کے آگے زہر کھاکر خود کشی کرنے کی کوشش کی بھی۔ فیس بک پر ایک غبار بھرا اسٹیٹس لکھنے کے بعد دفتر کے لوگوں اور پولیس نے ہی انہیں وقت رہتے اسپتال پہنچایا۔اگلے دن گھر لوٹنے پر پولیس کو دیے گئے بیان میں تنو نے کہا کہ انڈیا ٹی وی کی ایک سینئر ساتھی نے انہیں”سیاستدانوں اور کار پوریٹ کی دنیا کے بڑے لوگوں سے ملنے اور غلط کام کرنے کے لیے بار بار کہا”ان فحش تجاویز کے لیے منع کرنے کی وجہ سے مجھے پریشان کیا جانے لگا،اس کی شکایت ایک اور سینئر سے کی تو انہوں نے بھی مدد نہیں کی،بلکہ کہا کہ یہ تجویز درست ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ تنو شرما نے جن دو سنیئر اہلکاروں پر الزام لگایا ہے، ان میں سے ایک خاتون ہیں۔تنو شرما کا الزام ہے کہ پریشان ہوکر انہوں نے ایس ایم ایس کے ذریعہ اپنے باس کو لکھا، میں استعفیٰ دے رہی ہوں اور کمپنی نے اسے رسمی استعفیٰ مان لیا اور انہیں سب کی وجہ سے میں زہر کھانے پر مجبور ہوئی۔گرچہ انڈیا ٹی وی نے تنو شرما کے الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے لیکن اس سب کے باوجود توجہ طلب پہلو یہ ہے کیا کو ئی عورت سماج کی نظروں میںبلا وجہ خو د کو اس قدر ذلیل و رسوا کرنے کی جرات کرپائے گی؟
کہتے ہیں تہذیب و ثقافت، محض چند رسوم و رواج اور افکار وخیالات کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ تہذیب و تمدن میں حقیقی طور پر مذہبی عنصر غالب ہے۔ کسی بھی تہذیب میں پائے جانے والے نظریات و خیالات او راس میں موجود رسوم و رواج کا سلسلہ، کسی نہ کسی طرح مذہب سے ضرور ملتا ہے۔اس بحث سے قطع نظر کہ وہ رسوم و رواج مذہب کی نظر میں صحیح ہیں یا غلط، ہمارے ارد گرد ہونے والے رسوم و رواج نسل در نسل چلے آرہے ہیں۔ رواجوں کو دوام عطا کرنے کے لئے انہیں بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔لہذا کسی بھی دین کا سچّا متبع بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اس دین کی ثقافت اور کلچر کو بھی اپنائے اور اپنی زندگی میں کسی دوسری قوم کی ثقافت کو بسنے کا موقع نہ دے۔مائیکل بگنن(Michel Bugnon-Mordant) اپنی کتاب امریکا المستبدۃ (عربی ترجمہ) میں لکھتے ہیں”کسی بھی قوم کا تہذیبی ورثہ اس کی زبان، تاریخ، مہارت و لیاقت، فنی ادبی اورعلمی صلاحیتیں رسوم و رواج او راس کے اقدار ہوتے ہیں۔ جس طرح یہ مذکورہ چیزیں تمدن کا ایک حصہ ہیں، اسی طرح اس قوم کا لباس، کھانے پینے کی اشیا، اْسلوبِِ عمل، کھیل کود کے طریقے، محبت و مسرت اور خوشی و غم کا انداز اور اس کے احساسات وجذبات بھی ثقافت میں شامل ہیں۔ اگر ہم کسی قوم سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ اپنی مذکورہ صفات سے کنارہ کش ہوجائے، اپنے اندازِ فکر اور احساسات و نظریات سے عہدہ برآ ہوجائے اوراپنی زبان و لباس کو تبدیل کردے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس قوم سے اس کی ثقافت کو سلب کررہے ہیں او راس کے تمدن کو چھین کر، دوسری تہذیب اس پر مسلط کررہے ہیں”۔اب اگر وہ قوم تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے اپنی ثقافت سے منہ موڑ لے، تو گویا اس نے اپنے تشخص کا خاتمہ کردیا اور اپنے وجود پر سوالیہ نشان لگا دیا۔اس مرحلہ میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوئی قوم کس وقت اپنی تہذیب و ثقافت سے منہ موڑلیتی یا منہ موڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے؟
تہذیب و ثقافت کے خاتمہ میںقوت و اقتدار ایک اہم عنصر ہے۔پھر یہی قوت و اقتدار کے پیمانے افکار و نظریات کو متاثرکر تے ہیں۔اور جب تبدیل شدہ افکار و نظریات مذہب سے ٹکراتے ہیں تو قوموں اور گرہوں کی تہذب و ثقافت کو مٹا کر رکھ دیتے ہیں یا اس درجہ متاثر کرتے ہیں کہ وہ اپنا تشخص ہی کھو بیٹھیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا جو گزشتہ صدی سے دنیا پر اپنے اقتدار کا ڈنکا بجا رہی ہے۔حد درجہ اپنے افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن سے مشرقی دنیا پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔اس مسخ شدہ مغربی نظریہ نے عورت کو ایک بازاری شے کی شکل میں پیش کیا۔پھر وہی عورت جو ایک پوری نسل کو نہ صرف متاثر بلکہ اس پر اثر انداز بھی ہوتی ہے، بری طرح متاثر ہوئی اور اپنا تشخص ہی کھو بیٹھی۔نتیجتاً آج جس “ترقی یافتہ دور “کا ہم حصہ ہیں اِس دور نے عورت کو حد درجہ ذلیل و رسوا کرنے کا ہر ممکن طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔یہی معاملہ ملک عزیز ہند میں بھی ان پڑھی لکھی،با جرات،سمجھدار خواتین کا بھی ہے، جنہوں نے گھر کی چہار دیواری میں اپنے آپ کو قید کرنے کی بجائے کھلی فضا میں سانس لینے کی کوشش کی ہے۔سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ یہ طرز عمل عورت نے کیونکر اختیار کیا؟ اس طرز عمل کے پیچھے کوئی مجبوری لاحق ہے؟ یا لا علمی کی بنا پرایسا ہورہا ہے؟یا پھر اپنی تہذیب اور اس کے پس پردہ موجود اصولوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے یہ بغاوت سامنے آئی ہے؟ان تمام حقائق کو جاننے کے لیے لازمی ہے کہ جس “ہندوستانی معاشرہ”کا ہم حصہ ہیں، وہ ہندو یا ہندوستانی معاشرہ عورت کو کس نظر سے دیکھتا ہے نیز اس نے عورت کو معاشرہ میں کیا مقام دیا ہے؟اس کا مطالعہ کیا جائے۔مختصر مضمون میں یہ موقع نہیں کہ “ہندوستانی سماج”کا تفصیلی مطالع ہو۔لیکن چند اصول و نظریات جو اس سماج نے عورت کے سلسلے میں طے کیے ہوئے ہیں ان کا تذکرہ کرکے ہم اپنی بات آگے بڑھاتے ہیں۔
ہندوستانی سماج یا ہندو تہذیب جس کی بنیاد وید ہیں،بے شمار اختلافات سے دوچار ہیں۔بنیادی اختلاف خدا کے تصور میں ہے کہ وہ کتنے ہیں۔یجروید میں لکھا ہے کہ دیوتا کی کل تعداد ۳۳ ہے۔۱۱ زمین پر ۱۱ آسمان میں اور ۱۱ جنت میں۔رگویہ منڈل ۳ سوکت ۹ منتر ۹ میں ہے کہ یہ تعداد۳۳۴۰ ہے۔ رگ وید کے مطابق ۳۳۳۱ دیوتائوں نے مل کر آگ دیوتا کو گھی سے سینچا اور اس کے پاس گئے تو یہ ایک دیوتا کا اضافہ ہوا‘ یوں ان کی تعداد ۳۳۴۰ بنی۔ اس کے علاوہ ذاتی‘ گھریلو اور گائوں کے بھی الگ الگ دیوتا ہیں۔ گائے بھی دیوتا ہے۔ الغرض ان کے بے شمار دیوتائوں کی تعداد تقریبا ۳۳ کروڑ بنتی ہے (نگار خدا نمبر: ص ۶۶)۔یہ وہ بنیادی اختلاف ہے جس نے خدا کے تصور کو ہی در حقیقت مسخ کر دیا ہے۔تصور خدا کے اس ابتدائی اختلاف کے ساتھ دنیا اور دنیا میں موجود لوگوں اور چیزوں کے سلسلے میں بھی ان ویدوں میں بے شمار ظالمانہ احکامات کی بھر مار ہے۔یہاں ہم صرف ویدوں میں عورت کی حیثیت کو جاننے کی کوشش کریں گے۔لکھتے ہیں:۱۔ عورتوں کے ساتھ محبت نہیں ہوسکتی عورتوں کے دل درحقیقت بھیڑیوں کی بھٹ ہیں (رگوید منڈل ۰۱ سوکت ۵۹ منتر ۵۱)۔۲۔ اندر نے خود یہ کہا کہ عورت کا دل استقلال سے خالی ہے اور یہ عقل کی رو سے ایک نہایت ہلکی چیز ہے (رتوید منڈل سوکت ۳۳ منتر ۷۱)۔۳۔ عورت اور شودر دونوں کو نردھن (یعنی مال سے محروم) کیا گیا ہے (یجروید ادھیاء ۸ منتر ۵۔ منودھیاء ۸ شلوک ۶۱۴ ادھیائ۹ شلوک ۹۹۱)۔۴۔ لڑکی باپ کی جائیداد کی وارث نہیں (اتھروید کانڈا سوکت ۷۱ منتر وغیرہ کتب)۔۵۔ اگر کسی بیوہ کو اپنے خاوند کی طرف سے جائیداد ملتی ہے تو اسے جائیداد کی بیع و فروخت کا کوئی اختیار نہیں (اتھروید کانڈا سوکت ۷۱ منتر ۱)۔۶۔ عورت دوسرا نکاح نہیں کرسکتی کیونکہ ایک جائیداد (جو اس کو دوسرے فوت شدہ شوہر سے ملی ہے) بلاوجہ دوسرے کے قبضہ میں نہیں جاسکتی (منو ۵۱:۱۵۱)۔۷۔ عورت خلع نہیں لے سکتی (یعنی مرد کتنا ہی ظالم یا دائم المریض کیوں نہ ہو‘ عورت کو اس سے علیحدہ ہونے کا کوئی حق نہیں( منو ۵: ۴۵۱)۔۸۔ عورت کو جوئے میں ہارنا اور فروخت کرنا جائز ہے(نرکت ۳:۴)۔۹۔ جن لڑکیوں کے بھائی نہ ہوں ان کی شادی نہیں ہوسکتی (اتھرو وید ۱:۷۱:۱)۔۱۰۔ عورت کے لئے مذہبی تعلیم ممنوع ہے (منو ۱۸:۹)۔۱۱۔ کسی عورت کی صرف لڑکیاں ہوں تو وہ لڑکے پیدا کرنے کے لئے نیوگ کرے (ستیارتھ پرکاش باب ۴ مضمون نیوگ)۔نیوگ کیا چیز ہے؟نیوگ کا مطلب ہے کہ اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے تو وہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی۔ اگر چاہے تو شہوت کی تسکین کے لئے دوسرے مرد کے پاس جاسکتی ہے اور اولاد پیدا کرسکتی ہے لیکن شادی نہیں کرسکتی۔ اسی طرح عورت کے ہاں اگر صرف لڑکیاں ہوں‘ لڑکے پیدا نہ ہوتے ہوں تو شوہر کے ہوتے ہوئے بھی وہ زیادہ سے زیادہ دس مردوں کے پاس علیحدہ علیحدہ جاسکتی ہے۔ اس طرح اگر بالکل اولاد نہ ہو تو بھی یہ حکم ہے (ستیارتھ پرکاش ص ۸۳۱)۔(بحوالہ:مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ از پروفیسر چوہدری غلام رسول چیمہ‘ تقابل ادیان و مذاہب از پروفیسر میاں منظور احمد‘ مذاہب عالم کا انسائیکلو پیڈیا از مسٹر لیوس مور )۔ہندوستانی عقائد و نظریات کی روشنی میں اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آج عورت اگر گھر سے نکلنے پر مجبور ہے یا گھر کی چہار دیواری میں سکون محسوس نہیں کرتی ہے یا پھر بغاوت سے دوچار ہے تو اس سب کاپس منظر کیا ہے۔اور اس پورے پس منظر میں یہ بات خوب واضح ہو جاتی ہے کہ ہندوستانی سماج کے رسم و رواج نیز مغربی افکار و نظریات کے مشرقی ایڈیشن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ نا قابل قبول ہونے کے باوجود میڈیا نہ صرف ان تما م چیزوں کے فروغ میں بدنما کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اس پر کسی قسم کی بظاہر کوئی گرفت بھی نظر نہیں آتی!

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *