بھارتیہ سماج کو توڑنے کی سازش

ورنداون متھرا میں جس طرح BJPنے ایک حساسی موضوع کو گھٹیا سیاست کا موضوع بنا دیا وہ انسانی اور قانون و انتظام کے نقطۂ نظر سے انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ گھٹیا ذہنیت کس حد تک ووٹوں اور اقتدار کے لئے گر سکتی ہے یہ اس پارٹی کی عاملہ کی میٹنگ کی کارروائی سے ظاہر ہے۔ ـ’’لو جہاد‘‘ کے گمراہ کن، فرضی اور نفرت انگیز اصطلاح کی آڑ میں سماج میں نفرت اور انتشار پھیلانا حد درجہ قابل نفرت ہے۔ اقتدار کے لئے اپنے ہی فرقہ کی بہو بیٹیوں کو گندے الزامات کی بھینٹ چڑھا دینا خود اپنے فرقہ کی بچیوں کی عقل، تمیز اور کردار و شعور پر سوال اٹھانے جیسا ہے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک ہی جیسے معاشرت میں رہنے والے دو گروہ ایک لعنت جنسی چھیڑ چھاڑ یا زنا سے کم یا زیادہ پریشان ہوں۔ بات اتنی سی ہے کہ سماج میں تعلیم اور تہذیب نیز سماجی کھلے پن یا بے روک ٹوک پہنچ کے ذرائع نے سماج کے ہر طبقہ کے نوجواں لڑکے لڑکیوں کے عادات و اطوار پر مثبت/منفی اثرات ڈالے ہیں۔ منفی اثرات میں جنسی دست درازی کی تمام شکلیں بہت عام ہیں۔ ہندو مسلمان کی قید نہیں ہے مسلمان لڑکیاں غیر مسلموں سے شادیاں بھی کر رہی ہیں، datingبھی کر رہی ہیں، آشنائیاں بھی کر رہی ہیں اور اس کا الٹا بھی ہو رہا ہے۔ اب کیونکہ مسلمانوں میں تعلیم کا اوسط کم ہے خصوصاً بچیوں کی تعلیم کا اوسط کم اس لئے وہ بیرونی دنیا سے نسبتاً کم خلط ملط ہوتی ہیں کم نوکریاں کرتی ہیں پھر کچھ مذہبی اثرات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ جبکہ غیر مسلم سماج میں خواتین کی تعلیم، روزگار، روزانہ سفر، بہت زیادہ ہے اس لئے ان کے لئے اسی نسبت سے خطرہ بھی زیادہ ہے۔ چھیڑ چھاڑ کرنے والا کسی بھی مذہب کا ہو وہ یہ حرکت اپنی غلیظ خواہش کی تسکین کے لئے کرتا ہے نہ کہ ثواب کا کام سمجھ کر ۔ 18/08/14کے ٹائمس آف انڈیا میں ضلع مظفر نگر کے جرائم کی شرح کی تفصیلات کو نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے حوالہ سے شائع کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق ضلع میں زنا کی واردات میں 2011-13کے درمیان 157%اہوا ہے۔ اسی طرح سسرالی لوگوں کے مظالم بھی بہت بڑھے ہیں۔ ظاہر یہ سسرالی تو ہم مذہب ہوں گے اس پر ہنگا مہ نہیں ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع میں خواتین سے متعلق جرائم کی تفصیل یہ ہے :۔
سال زنا اغوا جہیزی اموات سسرالیوں کے مظالم
2011 19 179 25 203
2012 27 177 16 225
2013 49 214 25 270
اگر سنگھ پریوار کو حقیقتاً خواتین اور بچیوں کی فلاح کی فکر ہے تو انہیں ہر طرح کے جرائم پر تشویش کا اظہار کرنا تھا۔ انہیں دیکھنا تھا کہ جہیز کے معاملہ میں ہندو بچیاں زیادہ ماری گئی ہیں یا مسلمان ، پھر ان بچیوں کے مارنے والے کون ہیں؟ اگر سسرال میں بچیوں پر مظالم ہو رہے ہیں بلکہ تعلیم اور خواتین کی نوکریوں کے باوجود بڑھ رہے ہیں تو یہ سسرالی بھی کیا سب مسلمان ہیں؟ ہندو بچیوں کو ہندو سسرالی مظالم کا نشانہ بنائیں یا ہندو مجرم زنا کا شکار بنائے تو یہ BJPکے لئے تشویش کا باعث کیوں نہیں ہوتا؟
رہی بات ’’لو میرج‘‘ کی یا ’’کورٹ میرج ‘‘کی تو یہ تو نئی تعلیم اور تہذیب اپنانے کا نتیجہ ہے۔ اور یہ دونوں فرقہ میں ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ مسلم لڑکی ہوتی ہے تو سب کی ذہنیت خوش ہوتی ہے، الٹا ہوتا ہے تو ’جہاد‘ نظر آتا ہے۔ حالانکہ اسلامی قوانین کی رو سے زنا ایک جرم ہے یہ تو ثواب کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔ ’’کورٹ میرج‘‘ اگر بری بات ہے تو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے بجائے مرکزی حکومت کو اس قانون کو ختم کر دینا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کوئی مسلم اس پر ہنگامہ نہیں کریگا۔ اپنے ہم مذہب لوگوں کو یہ کہکر بھڑکانا کہ دوسرا فرقہ تمہاری بچیوں کو سازش کے تحت پلان کے ساتھ بہلا پھسلا کر شادیاں کر رہا ہے ،انتہائی گندہ ذہنیت کا غماز ہے۔ حکومت یوپی اور مسلم تنظیموں کو یوپی میں ضلع وار پچھلے 3سالوں کے کورٹ میرج کے ریکارڈ حاصل کرکے اس جھوٹے، شیطانی پروپگنڈہ کا پردہ فاش کر دینا چاہئے۔ جس طرح 3سال قبل کیرالہ میں وہاں کی حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم پر تحقیقات کراکر اس شیطانی، غیر اخلاقی پروپگنڈہ کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ یہ وقت چپ بیٹھنے کا نہیں ہے ، برادرانِ وطن کو صحیح صورتحال سے آگاہ کرنے کااور اپنے معاشرہ میں اصلاح کرنے کا بھی ہے کہ ہمارے یہاں جنسی بے راہ روی بڑھ رہی ہے اس پر روک لگانا ضروری ہے۔ وہ ہمارے لئے مستقل فریضہ ہے ایک دو کی حرکت کا خمیازہ پورے سماج کو بھگتنا پڑتا ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *