تا خلافت کی بناء دنیا میں ہو پھر استوار

گذشتہ دو شماروں میں تصریحات کے زیرِ عنوان ہم اسلامی اجتماعیت کے تکمیلی مظہر ،خلافت علی منہاج نبوۃ (اسلامی خلافت )کی اہمیت و ضرورت پر توجہ دلا چکے ہیں۔ اسی کے ساتھ خلافت کے تاریخی تسلسل اور اس کے واجب الوقوع ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے خلافت کے قیام پر اتفاق ہونے کی جانب بھی واضح اشارہ کر چکے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ خلافت و امارت کے واجباتِ دین کا حصہ ہونے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے ، اختلاف رائے اس منصب جلیل کے مستحق ہونے میں تو رہا ہے، اور وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلافت مشورہ اور انتخاب کے نتیجہ میں قائم ہوتی ہے۔ اور رایوں کا اختلاف شورائیت کے لوازم میں سے ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ اختلاف مشورہ اور انتخاب کے عمل تک رہنا چاہئے۔ انتخاب کے بعد تنازعہ ختم ہو جاتا ہے۔ بعض بزرگوں نے خلافت اور ملوکیت کا فرق بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے ’’خلافت مشورہ سے قائم ہوتی ہے اور ملوکیت غلبہ و تسلط کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ‘‘حضرت امام حسن ؓ کی امیر معاویہ کے حق میں دست برداری نے اس حقیقت کی توثیق مزید فرمادی ہے۔
خلافت کا احیاء مسلمانوں کی سیاسی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ ان کے فرضِ منصبی کا تقاضہ اور ان کے ملی وجود کی نمایا ںعلامت بھی ہے ۔ لہٰذا اس مقصد عظیم کے لئے کسی مخالفت اور ملامت کی پرواہ کئے بغیر امت کے عوام و خواص کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ بلاشبہ اس کے لئے سب سے پہلے ایک ناقابل شکست قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ مگر اتنا ہی کافی نہیں ہے اور بھی بہت کچھ درکار ہے منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے مخلصانہ تمنا کے ساتھ راہوں کے نشیب و فراز اور سفر کی طوالت اور مشکلات کا اندازہ ہم سفروں کی خامیوں اور خوبیوں سے واقفیت ،اپنو ں کی سادگی اور اغیار کی عیاری پر نظر رہنا بھی لازم ہے، علاوہ ازیں بہت سی صلاحیتیں اور اوصاف درکار ہیں۔ فی الحال یہ کام پہاڑوں کو تراش کر جوئے شیر نکالنے سے زیادہ مشکل نظر آتا ہے ۔جو نگاہ بلند اور جہد مسلسل کا مطالبہ کرتا ہے۔
اگرچہ اسلامی مرکزیت (خلافت) کے لئے کوئی اصولی اور فکری مخالفت نہیں تو دنیا کا کوئی معقول اعتراض کسی قوم اور ملت کو متحد ہونے سے نہیں روکتا۔ مگر صورت واقعہ یہ ہے کہ مغربی استعمار اور ان کے حاشیہ برداروں کی ہرگز یہ مرضی نہیں ہے کہ قصر خلافت کی تعمیر نو ہو سکے۔ آئیے ان کی منصوبہ بندیوں اور ریشہ دوانیوں پر کچھ کہنے سے پہلے داخلی طور پر جو عوامل اور عناصر اس راہ کی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ،ان پر ایک نظر ڈالتے چلیں۔
مغربی تہذیب و تعلیم کی ترویج و اشاعت کے نتیجہ میں مسلمانوں میں بھی ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو حالات و مسائل کو اہل مغرب کی نگاہ سے دیکھتا اور سمجھتا ہے ، اسلام سے عقیدت و ارادت کے باوجود اس کو دین کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں اور اس کا مبلغ علم اور طرزِ فکر مغرب سے درآمد شدہ ہے ۔ ان کی معاشرت ،ان کی دلچسپیاں، ان کی تجزیاتی مہارت کچھ بھی اپنا نہیں ہے۔ دین و مذہب سے متعلق ان کا تصور اتنا ہی محدود ہے جتنا یوروپ کے لوگوں کا عیسائیت کے بارے میں ہے، جو مذہب کو ایک پرائیویٹ معاملہ قرار دیتے ہیں اور دین و سیاست کی تفریق پر ایمان رکھتے ہیں ۔ فی زمانہ موجودہ معاشی اور انتظامی دروبست میں ایسے ہی لوگوں کو مواقع میسر آتے ہیں ۔ ان میں غریب پسماندہ عوام کے مقابلے ’’ترقی ‘‘کے حصول سے سطحی اعتماد بھی پیدا ہو گیا ہے۔ یہ لوگ اسلام کو نظامِ زندگی کی حیثیت سے قبول کرنے اور پیش کرنے کی ہمت نہیں پاتے۔ لہٰذا جب اور جہاں ایسا کوئی مطالبہ سامنے آتا ہے تو انہیں سخت تامل ہوتا ہے اور یہ اس کی مخالفت میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ اللہ کی کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جن احکامات و ہدایات کا پابند قرن اولیٰ کے مسلمانوں کو کیا گیا تھا ان میں ایک جزء بھی ایسا نہیں ہے جس کے مکلف اور مخاطب بعد کے مسلمان نہ ہوں۔ وقتی عذرات اور مشکلات کا حائل ہونا اپنی جگہ ،لیکن کسی دور کے مسلمانوں کے لئے احکام دینی سے استثناء نہیں ہے ۔ قیامت تک پوری امت ان اوامر و نواہی کی پابند اور مکلف ہے جن کے مخاطب عہد صحابہؓ اور قرنِ اولیٰ کے مسلمان تھے ۔خلافت کے قیام سے متعلق ومشکلات پر غور و فکر کرتے ہوئے اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین رکھنا چاہئے ۔ مگر بعض مغرب گزیدہ مدعیان علم و دانش آج اس ’’کارِ خاص ‘‘میں لگے ہوئے ہیں کہ زمانے اور حالات کے تفاوت کو بہانہ بناکر مسلمات دین کو مختلف فیہ بنادیں اور اسلامی تعلیمات کو عقیدہ و اخلاق کے دائروں میں محدود کر دیں۔ کہیں کہیں یہ گستاخ محروم الارث لوگ شہریاروں کی خوشنودی کے لئے ایسے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں جو احکام شریعت کے ساتھ ساتھ فی الجملہ دین کو ہی مجروح کر تے ہیں۔ دہلی (ہندوستان )میں ایک صاحب رسالہ اس کا جیتا جاگتا حوالہ ہیں جو محمدی ماڈل کے مقابلہ میں مسیحی ماڈل کی پر علانیہ سفارش بے جا کر چکے ہیں ، ہم ان اہل فتویٰ کی اس بے خبری کو کیا کہیں جو مسلکی و فروعی مسائل میں تو بڑے طرار ہیں مگر علانیہ تحریف دین پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی بعض لوگ تقریباً دو صدیوں سے جہاد کو موقوف کرنے کے لئے برسرپیکار ہیں اور ہر ظالم و جابر حکومت تک دائرہ اطاعت کو وسیع کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ ان لوگوں کے نزدیک اگر فرعون اور نمرودبھی دوبارہ برسراقتدار آجائیں تو شاید یہ ان کی اطاعت کے لئے بھی ترغیب دینے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔ چاہے یہ نہ بتا سکیں سیدنا ابراہیم اور موسیٰ علیہماء السلام کے پیغام کی کیا توجیہہ کی جائے گی۔
بھولنا نہیں چاہئے کہ اسلام جس طرح ایک فرد کا دین ہے اسی طرح اجتماعیت کا دین بھی ہے۔ اس کے بیشتر احکامات پر عمل درآمد اجتماعی طور پر ہی کیا جاتا ہے ۔یہ دین و سیاست میں تفریق نہیں کرتا بلکہ جملہ شعبہ ہائے زندگی کی طرح سیاست کو بھی تابع دین بناتا ہے اور آخرت کو کامیابی کا اصل مقصود ٹھہراتا ہے مگر اس کا راستہ ویرانوں اور تنہائیوں کو نہ بناکر کارزار زندگی کو قرار دیتا ہے۔ وہ ہر شعبہ زندگی کے بارے میں واضح ہدایات و احکام دیتا ہے اور حیات انسانی کو ایک کل قرار دیتا ہے ۔یہ ضعیف الاعتقاد و طبقہ دین کی امارت اور خلافت کے قیام کے لئے ایک سنگ راہ بنا ہوا ہے۔ جیسا کہ ہم عرض کر چکے ہیں یہ صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو اعلانیہ خود کو دنیا دار کہتے ہیں بلکہ کچھ وہ حضرات بھی ہیں جو علم و دانش کے مدعی اور دین و ملت کے نقیب بھی کہلاتے ہیں ،یہ لوگ خلافت کے قیام میں ان لوگوں سے بڑی رکاوٹ ہیں جو خود کو دنیا دار کہلاکر بہت سی ذمہ داریوں سے رخصت لے چکے ہیں۔ ان نمائشی دین داروں میں وہ لوگ جو اقامت دین اور خلافت کی راہ کا پتھر بنے ہوئے ہیں ان کا حال ان جاگیرداروں جیسا ہے جو کسی بڑی حکومت کے روبۂ بزوال ہونے کے بعد وجود میں آتے ہیں ۔ اپنے اپنے حلقوں میں یہ لوگ اپنے اثرات کو غلبہ و احیائے دین کے بجائے شخصی وجاہتوں کو قائم رکھتے اور چند مراسم عبودیت کی ادائیگی پر اکتفا کئے بیٹھے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ دین و ملت کے دشمنوں کی عیارانہ منصوبہ بندی کی بالفعل تائید ہو رہی ہے۔ اور مسکینی محرومی پر قناعت کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر حرص و جا کے ایسے دانشور بھی وجود میں آگئے ہیں جو بعض اہم تعلیماتِ دینی میں حذف، اضافہ پر اترآتے ہیں اور اطاعت امیر کا دائرہ ہر برسرِ اقتدار جابر و قاہر شخص تک دراز کر دیتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کو موقوف کرنے کے لئے پورا زورِ قلم صرف کر رہے ہیں۔ اور اس کے لئے کتاب و سنت کے بجائے طبعزاد بہانوں اور تحریفات کو بطورِ ثبوت پیش کرتے ہیں ۔ بعض شرائط کے پورا نہ ہونے کا حوالہ دے کر احکامات ہی کو موقوف کرنے کی نامعقول ونامبارک حرکتوں میں لگے ہیں۔ اگرچہ ایسے افراد کا دین و ملت میں کوئی مقام نہیں ہے مگر ہوس اقتدار کے مارے ہوئے حکمرانوں کو پائے چوبیںتو فراہم کرہی رہے ہیں۔
کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ موجودہ دور میں ملت اسلامیہ خلافت کے تصورکو ہی نظر انداز کر چکی ہے۔ عثمانی خلافت کے جبری سقوط کے چند سال بعد مفتی اعظم فلسطین علامہ امین الحسنی کی کوششوں سے مکہ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس میں مولانا محمد علی جوہراور اس دور کے اہم مشاہر نے شرکت کی اور سعودی شاہ کا نام بحیثیت خلیفہ تجویز کیا گیا۔ اگر چہ مقصد کے حصول میںیہ کانفرنس کامیاب نہیں ہو سکی۔ مگر اس صداقت کی گواہ تو بن ہی گئی کہ خلافت کے قیام کی آرزو ملت کے ضمیر میں آج بھی زندہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومتوں کے لئے اسلامی تحریکات کی آزمائشوں سے بھری منظم جدوجہد اسی آرزو کی تکمیل کا سامان فراہم کر رہی ہے۔ سوڈان ،مصر ،شام ،پاکستان ،افغانستان اور مشرقِ بعید کے ملکوں میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد جاری ہے ایران میں علامہ خمینی ؒکی قیادت میں بپا ہونے والا انقلاب لاشیعہ لا سنیہ اسلامیہ اسلامیہ کا نقیب و ترجمان تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ اب اس کی پالیسیاں مسلکی،علاقائی تعصبات میں گرفتار نظر آتی ہیں اور شام کے سخت گیر ڈکٹیٹر کی بے جا حمایت کر رہی ہیں۔
(جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *