سُنی ہے موصل و غزہ میں وہ اذاں میں نے موصل سے شروع ہونے والی ہلچل کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، تاریخ کا اعادہ ہے

۱۹۱۸ء میں یوروپ کی پہلی جنگ عظیم ترکی کی شکست پر ختم ہوئی۔ یوروپ، ایشیا اور افریقہ میں پھیلی ہوئی عظیم ترک سلطنت کو فاتحین نے بانٹ لیا۔ شام فرانس کے حصہ میں آیا تو فلسطین کے عرب بھی ’ترکان جفا پیشہ‘ کے پنجہ سے نکل کر ’تہذیب کے پھندے میں ‘ گرفتار ہو گئے۔ پھر تو تاریخ انسانی کی مظلومیت کا بڑا حصہ ان کے لئے مخصوص ہوکر رہ گیاہے۔
فلسطین پر تسلط ہوتے ہی برطانیہ نے اپنا رسوائے زمانہ ’ اعلان بالفور‘ کر دیا اور دنیا بھر سے یہودیوں کو لاکر فلسطین میں بسانے کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ اب تک جاری ہے۔ انہیں دنوں علامہ اقبال نے مصر و فلسطین کا دورہ کیا تھا۔ ان کے کلام کا ایک حصہ فلسطین میں ہی لکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ
سنی نہ مصر و فلسطین میں وہ اذاں میں نے
دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب
یہ وہ وقت تھا جب اسلام پوری دنیا میں مغلوب ہو چکا تھا۔ طواف و حج کا ہنگامہ ضرور باقی تھا لیکن مومن کی تیغ بے نیام کند ہو چکی تھی۔ بین الاقوامی سامراج نے پوری دنیا کے علمائے سوء کو خرید کر اور منافقین کو استعمال کرکے جہاد کے نظریہ کو ساقط کر دینے کی عظیم الشان اور تاریخی مہم چلا رکھی تھی۔ اسی مقصد سے سامراج نے جھوٹے نبی تک پیدا کئے۔
بین الاقوامی سامراج کی کوششیں اس حد تک بار آور ہوئیں کہ اسلام کے چھ ارکان میں سے جہاد ساقط ہو گیا اور صرف کلمہ، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج پانچ ارکان ہی باقی رہ گئے۔ پوری دنیا سے جہاد ساقط ہو چکا تھا ۔ اس بد ترین دور میں علامہ اقبال واحد شخص تھے جنہوں نے نظریہ جہاد کو بچانے کے لئے عظیم الشان جہاد شروع کیا۔ انہوں نے فلسطین میں ہی لکھا:
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور ،مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
اسی دور میں انگریز مخالف سمجھے جانے والے ابوالکلام آزاد کا ایک مضمون چھپا۔ فلسطین سے واپس آکر علامہ اقبال نے آزاد پر شدید ترین حملہ کیا:

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بے سود و بے اثر
تیغ و تفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اس سے مسلمان کی موت مر
تعلیم اس کو چاہئے ترکِ جہاد کی
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہے خطر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر
باطل کے قال و قر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
حق سے اگر غرض ہو تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ یورپ سے در گزر

یہ ایک سچائی ہے کہ اس دور میں علامہ اقبال دنیا بھر کی اذانوں میں روح بلالی تلاش کرتے رہے لیکن انہیں کہیں دنیا بھر میں وہ نہیں ملی۔ ملتی کہاں سے ، دنیا بھر میں علمائے سوء اس روح کو سلب کر چکے تھے۔ غنیمت ہے کہ وہ قرآن کو بدلنے پر قادر نہ تھے ورنہ وہ بلا شبہ قرآن کو بھی بدل ڈالتے۔ دورِ رسالت میں غزوہ تبوک کے سفر میں سورہ براۃ نازل ہوئی۔ حج کا زمانہ تھا۔ رسول اکرم ؐ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ وہ سیدھے مکہ جائیں اور حج میں مسلمانوں کو سورہ براۃ سنا دیں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ آل سعود نے اپنی مملکت کے اماموں کو حکم دیا ہے کہ وہ نماز میں سورہ براۃ کی تلاوت نہ کریں۔ یہ حکم غزہ پر اسرائیلی یلغار کے بعد جاری ہوا ہے۔ سورہ براۃ میں ہی ہے :’’ کیا تم نے مسجد الحرام کی تعمیر کرنے اور حاجیوں کو پانی پلانے والوں کو ان لوگوں کے برابر سمجھ لیا ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال سے جہاد کیا۔ قسم ہے تمہارے رب کی کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔‘‘ مطلب صاف ہے آل سعود خالد مشعل کے برابر نہیں ہو سکتے۔
پوری دنیا کے مسلمانوں کو علامہ اقبال ؒ، علامہ مودودیؒ، امام حسن البناء اور امام خمینی ؒ کا مشکور ہونا چاہئے جنہوں نے بین الاقوامی سامراج کی کئی صدیوں کی کوششوں کو نظریاتی میدان میں شکست فاش دے دی اور اسلام کے نظریہ جہاد کو دوبارہ زمین پر اتار دیا۔ یہ نظریہ جہاد کی ہی طاقت ہے کہ غزہ کے محصور عوام مہینوں سے ٹینکوں، ہوائی جہازوں اور سمندری راستہ سے حملوں کو ایمان کی طاقت سے جھیل رہے ہیں۔
وہ ایمان کی ہی طاقت تھی جب امام خمینی ؒ کی قیادت میں تہران سڑکوں پر منافقین کے مقابلہ میں جانوں کا نذرانہ اس طرح پیش کیا گیا کہ قتل کرتے کرتے تھک کر قاتلوں نے اپنے مقتولوں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ چوتیس سال پہلے تہران کی سڑکوں پر جو قربانی دی گئی اس کی واضح جھلک ہمیں قاہرہ کے العداویہ کے چوراہے پر منافقوں کے مقابلہ میں دی گئی قربانی میں نظر آتی ہے۔ دو سال پہلے غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملے کے مقابلے میں حماس اور حزب اللہ میں ہمیں وہی جذبہ نظر آیا تھا جو قرن اوّل میں مسلمانوں کا طرۂ امتیاز تھا۔
آج شام کے منافق حکمرانوں کے معاملے میں ایران کے موقف کی وجہ سے کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید ایران میں انقلابی جذبہ ختم ہو چکا ہو یا پھر ایران کا اسلامی انقلاب مسلکی خارزار میں الجھ رہا ہو، لیکن ہمیں اس کی جڑیں صدام حسین کی نالائقیوں میں بھی تلاش کرنی چاہئے۔ جب تہران کی سڑکوں پر اسلام کے مجاہدوں کا خون بہہ رہا تھا تو یہاں بھارت میں بیٹھ کر میں نے بھی قلم کے ذریعہ ایرانی انقلابیوں کے خون میں اپنا پسینہ ملایا تھا اور انقلاب کی حمایت میں شاہ کار مضمون لکھے تھے۔
وہ دن دور نہیں جب انقرہ اور تہران جیسی حکومتیں قاہرہ اور دمشق میں بھی قائم ہوں گی۔ ریاض میں آل سعود کی الٹی گنتی شروع ہونے والی ہے کیونکہ سرزمین عرب کا نوجوان اپنے بڑوں سے بالکل مختلف چیز ہے۔ تاریخ قاہرہ، دمشق اور ریاض میں جس دن اپنا عمل مکمل کرلے گی، اسی دن مشرق وسطیٰ کی ناقابل تسخیر سمجھی جانے والی طاقت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔
یروشلم پر صلیبیوں کے سو سالہ اقتدار کے خاتمے کا عمل بھی عراق کے موصل شہر سے شروع ہوا تھا۔ موصل سے شروع ہونے والی ہلچل کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اسے شیعہ سنی کشمکش کے چشمے سے دیکھنے والوں کو میں تنگ نظر سمجھتا ہوں ۔ یہ تاریخ کا اعادہ ہے۔ غزہ کے مجاہدین نے زندگی اور موت کی کشمکش میں مصر، عمان اور ریاض کی طرف مدد کے لئے ہاتھ نہیں پھیلائے، بلکہ اس نے اپنے جیسے ہی بے سرو سامان حزب اللہ سے مدد مانگی۔ جس دن قاہرہ ، دمشق اور ریاض میں انقرہ اور تہران جیسی حکومتیں قائم ہو جائیں گی اس دن اسرائیل کے لئے حماس اور حزب اللہ ہی کافی ثابت ہوں گے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *