عیسائی دہشت گرد 8لاکھ مسلمان شکار

عیسائی دہشت گرد تنظیم :خطرات کی تمازت کے باعث تادم تحریر وسطیٰ افریقہ سے 8لاکھ مسلمان ہجرت کرکے ہمسایہ ممالک چاڈ، کمیرون اور دوسرے مقامات کی جانب منتقل ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹر نیشنل نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ عیسائی دہشت گرد تنظیم اینٹی بالا کا حملوں کے نتیجہ میں وسطی افریقہ سے مسلمانوں کا تاریخی انخلا دیکھنے میں آیا۔ اس نے خبردار کیا کہ ایسی صورت حال رہی تو وہ دن دور نہیں جب وسطی افریقہ سے مسلم اقلیت کا نام و نشان مٹ جائے گا، عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں پر حملوں کاآغاز گزشتہ سال اس وقت ہوا کہ جب مسلمانوں کی تنظیم سلیکا نے اقتدار حاصل کر لیا تھا۔ عبوری وزیر اعظم آندرے نزاپائیکی نے اعتراف کیا کہ کوئی ایسی قوت موجود ہے جو نہیں چاہتی کہ اس ملک میں مسلمان موجود رہیں۔ 9فروری 2013اتوار کو مسلم آبادی پر حملوں کے خلاف تقریر کرنے والے ملک کی پارلیمان کے رکن جین ایمینوئل نجاروا کو بھی عیسائی دہشت گرد تنظیم نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ہر نئے دن کے ساتھ مسلمانوں پر تشدد اینٹی بلا کا کی طرف سے بدستور بڑھ رہے ہیں اور وہ بڑے منظم طریقہ سے مسلم آبادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ مسلمانوں کی تنظیم سیلیکا اگر چہ عیسائی دہشت گردی کا مزاحمت کر رہی ہے تاہم وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ بھر پور مزاحمت نہیں کر پا رہی ۔ عیسائیوں کی دہشت گردی اور ان کا جبر و قہر کے باعث مسلم علاقے بالکل خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جمہوری وسطی افریقہ میں 2013سے عیسائی دہشت گرد تنظیم مسلم آبادی برسرپیکار ہے جس سے جمہوری وسطی افریقہ میں عیسائیوں کی طرف سے مسلم عداوت، انتہا کو پہنچ چکی ہے اور انہیں اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر پیٹر بوکارٹ کا اعتراف ہے کہ انہوں نے دارالحکومت بنگوئی میں خود اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کو قتل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی بے بسی: انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ وسطی جمہوریہ افریقہ میں قتل ہونے والے مسلمانوں کی تعداد اقوام متحدہ کے اندازوں سے دوگنی ہے۔ اینٹی بلا کا نے فروری 2013کے پہلے ہفتہ میں محض دو دن کے عرصہ میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو ہلاک کیا جن میں خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ قتل و غارت کے دوران عام شہریوں کے گھروں کو بھی لوٹا جا رہا ہے اور مسلم برادری کو جنگی جرائم کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ خون آلودہ خنجر ہاتھ میں لئے ہوئے اینٹی بالا کا نامی عیسائی دہشت گرد تنظیم بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل، لوٹ مار کر رہی ہے، اس دہشت گرد تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کی جانب سے گذشتہ برس اقتدار پر قبضے کا بدلہ لے رہی ہے۔ اینٹی بالا کا کی دہشت گردی کی وجہ سے مسلمان جن کی دار الحکومت بنگوئی میں لاکھوں کی تعداد میں ملک چھوڑ چکے ہیں جس کے باعث دارالحکومت میں واحد خوراک میں مقامی طور پر پالے ہوئے سوروں کا گوشت کے سوا کوئی دوسری شئے میسر ہی نہیں، یہ بدترین صورتحال دارالحکومت بانگوئی سے مسلمان تاجروں کے مجبوراً ہجرت کئے جانے کے بعد پیش آرہی ہے۔ دارالحکومت میں تھوک کا کام کرنے والے اور چھوٹے دکانداروں کی بڑی تعداد مسلمان برادری پر مشتمل ہے۔ وسطی جمہوریہ افریقہ کی خوفناک صورتحال سے یہ بات صاف دکھائی دے رہی ہے کہ یہاں اقوام متحدہ کی نام نہاد امن افواج مسلمانوں کی نسل کشی روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے بھیجے ہوئے نام نہاد امن دستے نہ صرف خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں بلکہ وہ اینٹی بلا کا کے دہشت گردوں کو مسلمانوں پر حملوں کا موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس نازک صورتحال اور وقت کا تقاضہ ہے کہ عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکے دار عیسائی دہشت گردوں کے ظالمانہ ہاتھ روکیں اور جمہوریہ وسطی افریقہ میں مظلوم مسلمانوں کا تحفظ کریں، اور ان ظالموں کے خلاف قانونی شکنجہ کسے جو مسلمانوں کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *