غزہ کا سبق

تقریباً ستر سال پہلے جب یہ طے ہو چکا تھا کہ اب چند ہی مہینوں میںوطن عزیز غلامی سے نجات پا جائے گا اور یہ بات بھی نمایاں ہو چکی تھی کہ وطن کی تقسیم عمل میں آئے گی تب مولانا مودودیؒ نے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو خصوصاًافراد جماعت کو کچھ نصیحتیں کی تھیں کچھ ہدایات دی تھیں۔تقسیم وطن کے زمانے میں جب ہجر ت وسیع پیمانے پر شروع ہو چکی تھی تو مسلمانوں کے لیڈران و علمائے کرام انھیں روکنے کے لئے آئینی ضمانتوں و دستوری تحفظات کے لالی پاپ دے رہے تھے۔مگر تمام پروپگنڈے کے بر خلاف مولانا مودودی ؒ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کی قوم طاقتور ہے تو اسے آئینی ضمانتوں اور دستوری تحفظات کی ضرورت نہیںاور اگر آپ کی قوم کمزور ہے تو اسے ان لالی پاپوں کا فائدہ نہیں۔۔مولانا مودودی کو اس وقت سے لیکر آج تک گالی دینے والوں سے گذارش ہے کہ حالات پر غور و فکر کریں تجزیہ کریںاور خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہیں کہ کون غلط تھا اور کون صحیح۔مولانا مودودی نے دوسری اور اہم ترین بات یا ہدایت اس وقت یہ دی تھی کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آزادی کے بعد اپنے آپ کو وطن کی سیاسی کشمکش سے الگ کرلیںاور من حیث ا لقوم یہاں داعی کی زندگی گذاریں۔یہ اتنی عجیب و غریب بات تھی کہ عام مسلمان اور ان کے لیڈر تو کیا اس کو سمجھتے اور عمل کرتے اس تنظیم سے بھی اس پرکماحقہ عمل نہ ہوا جس کو خود مولانا مودودی نے قائم کیا تھا۔یہ انسانی فطرت ہے کہ بہت ساری عجیب و غریب باتیں اس وقت تک نا ممکن العمل ہی سمجھی جاتی ہیں جب تک وہ واقعتا عمل میں نہ آجائیں۔مگر وہ لوگ جو قوم کی رہنمائی کرتے ہیںوہ انہی نا ممکن العمل باتوں کو روز روشن کی طرح سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ایک جگہ فوٹو فریم میں ہم نے ایک تصویر کے ساتھ ایک انگریزی جملہ لکھا دیکھا تھا ،ہمیں الفاظ تو یادنہیں مفہوم بیان کر دیتے ہیں۔’’ لیڈر وہ ہوتا ہے جو قوم کو وہاں پہونچاتا ہے جہاںپہونچنا قوم کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتا ۔
مولانا مودودیؒکی درج بالا باتوں کا ہم کئی بار اپنے مضامین میں حوالہ دے چکے ہیںاس کے ساتھ ساتھ ہم نے اکثر آخری زمانے کی ایک حدیث کا بھی حوالہ دیا ہے کہ جب حالات ایسے ہوجائیں تو آبادی چھوڑ اور جنگل میں جا کر رہ چاہے تجھے پیڑوں کے پتے اور جڑیں ہی کیوں نہ کھانا پڑے آئینی ضمانتوں اور دستوری تحفظات والی بات پر تو کسی نے ہم سے کبھی جرح نہ کی کیونکہ عقل کے اندھوں کے سوا ہر عام انسان اسے رو نما ہوتے دیکھ رہا ہے مگر سیاست سے کنارہ کش ہونے پر ہمارے بہت سارے کرم فرماؤں نے ہم سے مباحثہ کیا۔اور آج تک ہماری کسی دلیل سے کوئی مطمئن نہیں ہوا۔ہمیشہ ہماری اہم ترین دلیل یہ رہی کہ اگر ہم من حیث القوم آزادی کے بعد سے کار دعوت کے انجام دینے میں لگ جاتے تو۳۰؍۴۰ سال میں وطن عزیز مسلم اکثیریتی ملک بن جاتا اور یہاں نو مسلموں کی حکومت قائم ہوتی ۔تاریخ شاہد ہے کہ نو مسلم پیدائشی مسلمانوں سے بہتر حکومت قائم کرتے ہیں۔اور کم سے کم ان کی پہلی نسل تو ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہوتی ہے۔
دوسری بلکہ تیسری نسل جسے ہر چیز وراثت میں ملتی ہے خرابی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
جنگل میں جا کر رہنے والی بات تو اچھے اچھوں کے لئے نا ممکن العمل ہے۔ہم نے ہمیشہ جواباً عرض کیا کہ پھر ٹی وی کے ڈسکوری اور دیگر چینلوں پر کس طرح موجودہ زمانے کے انسان کو جنگلوں اور پہاڑوں میںرہتے دکھایا جاتا ہے۔مگر ٹی وی کے گلیمر پر مر مٹنے والوں کے لئے ایسی جفا کشی کی زندگی خواب و خیال سے بھی زیادہ محال ہے۔ جبکہ حدیث کا مقصد جہاں تک ہماری سمجھ میںآیا ہی یہ ہے کہ ایک مخصوص حالات پیدا ہونے کے بعد جنگل ہی وہ جگہ ہوگی جہاں آدمی کا ایمان سلامت رہ سکے گا۔اس کا معدہ حرام سے بچ سکے گا اور جفا کشی کی زندگی ہی اس کے ایمان اور صحت کی ضامن ہوگی ۔انسانیت کے دشمن آبادیوں کو اس لائق ہی نہ رہنے دیں گے کہ آدمی حرام سے بچ کر با ایمان زندگی گذار سکے۔آج حالت یہ ہے کہ دوسروں کا کیا رونا خود ایمان والے بچے کی پیدائش کے چند سال بعد خوشی خوشی بغیر کسی کراہت کے اس کا بینک اکاؤنٹ کھولنے کی فکرکرتے ہیں۔ہم تو یہ کہنے میںبھی کوئی مبالغہ محسوس نہیں کرتے کہ کچھ سالوں بعد شاید نوبت یہاں تک پہونچ جائے کہ بغیر بینک اکاؤنٹ کے دستاویز دکھائے ڈاکٹر زچگی سے ہی انکار کردے۔آج کونسی غذا ہے جس کے تعلق سے صد فی صد یہ دعویٰ کیا جا سکتاہے کہ یہ حلال غذاہے۔
سیاست سے کنارہ کش نہ ہو کر دعوت سے کنارہ کشی نے کیا دن دکھائے ہیں آئیے وہ بھی دیکھتے ہیں۔ہمیں آج تک یہ بات سمجھ نہ آئی کہ آزاد یا غلام ہندوستان کے سب سے بڑے مسلمان لیڈرمولانا ابوالکلام آزاد ؒجنھیں امام الہند بھی کہا جاتا ہے کیوں نہرو کو بابری مسجد سے مورتیاں ہٹانے پر مجبور نہ کر سکے ؟اگر مورتیاں ہٹ نہ رہی تھیں تو انھیںاستعفیٰ دینے سے کس نے روکا تھا ؟بعد میں یہ روایت سب کے لئے مثال بن گئی اور بابری مسجد کو شہید کرادئے جانے پر بھی کسی نے مستعفی ہونا ضروری نہ سمجھا
کیونکہ امام الہندجیسے مہا رتھی کی مثال سب کے سامنے تھی۔۔شہادت کے وقت جو وزیر بنے ہوئے تھے وہ بونے تو خود ہی سمجھتے تھے کہ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں۔پھر سیاست میں ہر غلط سلط بات کو برداشت کرلینامسلمانون کی عادت ثانیہ بن گئی۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عادت دوسری قوموں میں کیوں نہیںہے۔دوسری قوموں کے لیڈر اپنی قوم کی غلط حمایت میں بھی کیوں ڈٹ جاتے ہیں۔یہاں کہا جا سکتا ہے کہ’’اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پر نہ کر + خاص ہے ترکیب میں قوم رسولؐ
ہاشمی۔۔۔ہاشمی رسول ؐ کی امت سے جو دشمنی دنیا کو ہے وہ دوسری قوموں سے کہاں۔ہم کہیں گے کہ یہ معاملے کا بہت چھوٹا سا پہلو ہے پھر اولین امت مسلمہ سے کہاں دنیا کی دوستی تھی ۔اس سے برے حالات میں رسول ﷺاور ان کے اصحابؓزندگی گذاری اور دنیا کا رخ بدلا تھا۔ہمارے نزدیک موجودہ حالات اللہ تعالیٰ کا عذاب ہیں اور یہ نتیجہ ہے کار دعوت کو طاق پر رکھ دینے کا ۔شاید یہ دنیا کی وہ واحدبات ہے جس کے تعلق سے کہا جا سکتا ہے کہ آدھی کے چکر میں ہم نے پورے کو چھوڑ رکھا ہے۔کار دعوت انجام دیتے تو پورا ہندوستان ہمارا ہوتا۔
ہم تقریباً ۳۷ سال بمبئی میں قیام پذیر رہے اور وہاں ہم نے کیا دیکھا مختصراً بیان کر دیتے ہیں ۔شاید ہی کوئی مسلمان لیڈر یا عالم دین ایسا ملے جس نے خوشامد چاپلوسی اور چمچہ گیری کو عادت نہ بنا لیا ہو ۔پچھلے ۱۰ سال کے اردو اخبارات اٹھا کر دیکھ جائیے مسلمان لیڈروں اور علماء کرام کا کیا حال ہے آپ کو اندازہ ہو جائے گا ۔مسلمان لیڈروں اور علماء کرام کی حالت کو اچھی طرح سمجھنا ہو تو بمبئی میں رمضان میں ہونے والی افطار پارٹیوں کی اخبارات میں شائع تفصیلات اور تصاویر کا مطالعہ کیجئے۔ایک بار ایک عالم دین کا افطار پارٹیوں کے خلاف مراسلہ شائع ہوا ہم بہت خوش ہوئے کہ چلئے کسی کاضمیر تو جاگامگر ہم جیسے لوگوں کو خوش ہونے کا موقع دیتا کون ہے۔ایک سال تو انھوں نے صبر کیا کہ شاید کسی کے کان پر جوں رینگ جائے۔ مگر دوسرے سال انھیں ڈر لگا کہ اسطرح تو ان کے دوسرے ساتھی صاحبان اقتدار کی Good Books میں ان سے زیادہ نمبر لے لیں گے۔انھوں نے بھی دوبارہ افطار پارٹیوں کے مزے لوٹنے شروع کر دئے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ بہت ساری افطار پارٹیاںایسی بھی ہوتی ہیں جن کے تعلق سے پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ مال حرام کی بدولت ہیںمگر اس کے باوجود اس سے کوئی اجتناب کرتا نظر نہیں آتا۔ مسلمانوں پر سب سے زیادہ پولس مظالم مہاراشٹر میں ہوئے ہیںاس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے چھوٹے موٹے سیاسی لیڈر اور بڑے بڑے علماء کرام پولس کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگ گئے۔کیوں؟ اسلئے کہ قوم جائے بھاڑ میں ہم اپنے اہل خاندان اور رشتے داروں کو بچالیں غنیمت ہے۔اس رویے سے شہ پا کر مہاراشٹر کی پولس نے گرلز اسلامک آرگنائزیشن پر دست درازی کی کوشش کی تھی اور یہ کوشش ملتوی ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔کیونکہ جواب میں ہم نے جو رویہ اپنایاوہ بھی پولس کو شہ دینے والا ہی ہے۔بمبئی کے لیڈروں اور علماء کرام کی ذہنیت کس حد تک گر چکی ہے اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔اگست ۲۰۱۰ میں ہمیں ایک صاحب کے ذریعے یہ پتہ چلا کہ نہ صرف بمبئی بلکہ ہندستان کے مسلم تعلیمی اداروں کی سب سے بڑی چین کے ایک ادارے میں غیر ارادی طور پر توہین رسالت کا واقعہ ظہور پذیر ہوا ہے ہم نے فوراً کچھ لوگوں کے توسط سے یہ بات اس تعلیمی اداروں کی چین کے سربراہ تک پہونچائی کہ اس غلطی کو درست کر لیا جائے۔جب ۱۵ دنوں تک غلطی درست نہ ہوئی تو ہم نے یہ خبر ایک بڑے اردو اخبار کو دی مگر معلوم نہیں کیوں وہ خبر آج تک نہ صرف اس اخبار میں بلکہ کسی اور اخبار میں بھی نہ شائع ہو سکی ۔یہ ہے اسلام کے دعوے کرنے والوں کا حال جو توہین رسالت کے جرم میں دوسروں کی تو گردن مار دینا چاہتے ہیںمگر اپنوں سے؟پھر ہم نے ایک چھوٹے ہفت روزہ اخبار میں تعلیمی سلطنت کے اس شہنشاہ کے خلاف مہم چلائی ۔اخبار کے ایڈیٹر نے خود مسلمانوں کے تمام لیڈروں اور علماء دین کے گھر جا کر انھیں اخبار کی کاپیاں دیں۔مگر ایک میٹینگ میں جو کہ اسوقت عالمی پیمانے پر ہونے والی توہین رسالت کے خلاف بلائی گئی تھی غیروں کی گردن مارنے پر تو سب متفق ہو گئے مگر جب اپنے شاتم رسول کا ذکر آیا تو سب کو سانپ سونگھ گیا تھا ۔کیوں؟وہی سیاسی اور معاشی مفادات کا چکر۔شہنشاہ کے تعلیمی اداروں میں رہنمایان کے بھانجے بھتیجے سالے داماد کام کر سکتے ہیںاور کرتے ہیں۔مسلم آبادیوں کے دل میں ان کے کئی ہال ہیں جہاںہمارے لیڈر اور علماء کرام مفت میں پروگرام کرتے ہیں۔ہماری ذہنیت اس حد تک کیوں گری اس پر غور کیجئے۔
آئیے اب ہم کچھ غور غزہ کے حالات پر بھی کرتے ہیں۔آخر حماس کا مورال اتنا بلند کیسے ہو گیا کہ دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ خانے اس کے سامنے فیل ہو گئے۔دنیا کے طاقتور ترین ممالک کوحماس کی شرطوں پر جنگ بندی کے لئے رضامند ہونا پڑا۔جنوری ۲۰۰۶ میں مغربی پیمانے کے مطابق شفاف انتخابات میں کامیاب ہو کر حماس نے فلسطین میں حکومت بنائی۔اس سے پہلے الفتح فلسطین کی حکمراں تھی جس نے کبھی آمنے سامنے اسرائیل سے جنگ نہ لڑی۔الفتح اپنے اقتدار کے لئے ساری دنیا سے بھیک مانگتی پھرتی تھی اور اپنے اصولوں پر سمجھوتے کے لئے ہمیشہ تیار رہتی تھی ۔مگر حماس نے غیروں سے تو کیا کبھی اپنوں سے بھی اپنے اصولوں کے خلاف سمجھوتہ نہ کیا آج حزب اللہ شام اور ایران نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے اسلئے کہ حماس اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ ہوئی اور یہ کتنا اچھا ہوا۔آج اس کی فتح میں کوئی شریک نہیں۔ گذشتہ ۵؍۶ سالوں سے غزہ والے عملاًجنگل کی زندگی گذار رہے ہیں۔زندگی کے ہر طرح کے وسائل ان سے دور کر دئے گئے ہیں،مگر ایمان۔ دنیا کا کوئی مسلمان ان سے زیادہ با ایمان ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔وہ عملاً دنیا کی سیاست سے کٹ چکے ہیں۔بالکل غیر سیاسی زندگی گذار رہے ہیںمگر داخلی اصلاح اپنی انتہا پر ہے۔کیا ان کے سوابھی کوئی قوم اللہ کے انعام کی مستحق ہو سکتی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *