میڈیا کے چہیتے ’’مسلمان‘‘

15اکتوبر کے انڈین ایکسپریس دہلی کی اشاعت میں “Love Jehad”سلسلہ کی پہلی قسط میں سیف علی خان نے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جو باتیں لکھی ہیں اس میں کچھ بلکہ اکثر انتہائی گمراہ کن اور شاید اسلام سے خارج قرار دینے کے لئے کافی ہیں۔ کچھ نمونہ اسکی گستاخیوں کے اس طرح ہیں:۔ ’’اللہ ایک ہے اس کے نام بہت ہیں ‘‘ مذہب کیا؟ یقین کیا؟ کیا ان کی کوئی متفقہ تعریف
موجود ہے؟ مجھے نہیں معلوم ’’مذہب کو بہت سی چیزوں سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مذاہب کی بنیاد خوف پر ہے۔ میں جانتا ہوں اچھے لوگ مسلمانوں سے اپنی لڑکیوں کی شادی کرنے سے ڈرتے ہیں۔اسلام کو بڑے پیمانہ پر جدید بناکر زمانہ کے مطابق بنانا ہوگا۔ آج اسلام کسی بھی زمانہ سے زیادہ غیر مقبول ہے۔ یہ افسوس ناک ہے کہ مذہب کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے مگر انسانیت اور محبت پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ میرے بچے مسلمان پیدا ہوئے تھے مگر وہ ہندوؤں کی طرح رہتے ہیں۔ گھر میں ایک پوجا گھر ہے۔ اگر وہ بدھسٹ ہونا چاہتے ہیں تو میرا آشیرواد ان کے ساتھ ہوگا۔ ’’مسلمانوں اور ہندوؤں کے لئے الگ الگ قانون ہیں اس سے معاملہ اور خراب ہوتا ہے۔ اس سے جھگڑا بڑھتا ہے۔ میں سوچتا ہوں پورے ملک کے لئے ایک قانون ہونا چاہئے ۔ایک یونیفارم میں سول کوڈ ہونا چاہئے۔ ہمیں ایک ملک کی طرح سوچنا چاہئے۔ مذہب کے بارے میں اپنے بچوں کو بتانے سے پہلے ہمیں انہیں اپنے برادر انسانوں کے بارے میں بتانا چاہئے۔ میں سوچتا ہوں کہ پٹودی میں میرے باپ کی قبر کے پاس لگا ایک پیڑ کسی مندر، مسجد، چرچ کے مقابلہ خدا سے زیادہ قریب ہے۔ (سیف علی خان) (انڈین ایکسپریس، نئی دہلی، 15/10/14)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *