کیا آزادی نام ہے فطرت سلیم سے بغاوت کا؟

انسانوں کی فطرتیں مختلف النوع اور گوناگوں اوصاف کی حامل ہوا کرتی ہیں اور کار زارِ حیات میں درپیش مسائل کے تئیں ان کے طریق کار اور لائحہ عمل میں بھی فرق ہوتا ہے، چنانچہ کچھ افراد تو ایسے ہوتے ہیں جن کے اندر فکر و تدبر، بصیرت و آگہی اور اسباب و محرکات کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت ہوتی ہے جو دوسروں کے حالات و کوائف سے درس عبرت لے کر اپنی اصلاح کرتے ہیں، جو فلاح ابدی اور خیر سرمدی کی راہوں کی جانب رہنمائی کرتے اور دعوت دینے والوں کو احترام و اکرام کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور جو اپنے فکر سلیم اور عمل صالح سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی فطرت میں بغض و عداوت ، ناپسندیدگی و نفرت، بدگمانی و غلط فہمی اور ایذار سانی و ریشہ دوانی کے جراثیم پل رہے ہوتے ہیں۔ بنا بریں وہ شروفساد اور عوام الناس کو گمراہ کرنے کے راستوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں مکر وفریب اور دغابازی و ریاکاری کے وسائل و ذرائع استعمال کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات و ہیجان انگیز جذبات کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ طبائع کا یہ اختلاف عمومی طور پر پایا جاتا ہے جس کا ہم مختلف طبقوں اور قوموں میں مشاہدہ کرتے ہیں اور جس کے اثرات ہمیں روزانہ کی زندگی میں انفرادی اور جماعتی دونوں پیمانے پر دیکھنے کو ملتے ہیں کیونکہ دراصل یہ جماعتیں اور معاشرے افراد ہی سے وجود میں آتے ہیں۔ تاریخ انسانی کا کوئی بھی دور سرکشی و طغیانی ،ضلالت و بغاوت اور شرانگیزی و شعلہ آفرینی کی قوتوں سے خالی نہیں رہا۔ اسی طرح ہر عہد میں چند ایسے مخلص و خدا ترس اور داعی الی الخیر مردانِ کار بھی موجود رہے جنہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا اور جن کی ہستیاں بندگانِ خدا کی ہدایت کا باعث بنیں، اسی طرح ایسے افراد بھی ملتے ہیں جن کو اپنے اعمال و کردار کے برے نتائج کا مشاہدہ کرنے کے بعد حقیقت کا ادراک ہوا۔ ایک قسم ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جس پر کسی سرزنش و تنبیہ کا یا نتائج کے خراب ہونے کا اثر مرتب نہیں ہوتا کیونکہ ان کی طبیعت ہی خودسری و ہٹ دھرمی، انکارو سرکشی، تخریب و ہلاکت انگیزی اور بدگمانی و ذہنی فساد کے اجزاء سے مرکب ہوتی ہے، اور فسادان کی سرشت اور فطرت بن جاتا ہے۔ بنی نوع انسانی کی اسی قسم کی مانند کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف اپنا نقصان کرتے ہیں ، بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بھی تخریب و ہلاکت اور ضلالت کی راہوں پر لگا دیتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد نہ تو کوئی روکنے والا انہیں روک سکتا ہے، نہ ہی کوئی طاقت ان کو ایذا رسانی سے باز رکھ سکتی ہے اور نہ ہی عقاب و عتاب اور تنبیہات و ہدایات ان کے حق میں نافع ہو سکتی ہیں، ایسے ہی افراد کے لئے انہیں تخریب کاری سے باز رکھنے ، معاشرے کو ان کے ہمسر و ہم مثل افراد سے پاک کرنے اور عوام الناس کی زندگی کو ان فتنہ پردازیوں و چیرہ دستیوں سے محفوظ و مامون رکھنے کے لئے سخت ترین سزائیں تجویز کرنی پڑتی ہیں یا معاشرہ کو ان سے پاک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
طبائع کے اس اختلاف کے پیش نظر اصلاح کے طریقے بھی معاشرتی ماحول و مزاج کے اعتبار سے مختلف ہوا کرتے ہیں۔ دعوت اور اصلاح کا کام نصیحت اور خیر خواہی کے جذبہ سے شروع ہوتا ہے اور جملہ اصلاحی تحریکات بھی خواہ وہ دینی ہوں اجتماعی ہوں یا اخلاقی ہوں اسی مرکز و محور پر گھومتی ہیں، اصلاح کی کوشش اس کی نوعیت جو بھی ہو، در حقیقت کانٹوں بھری راہ ہے جو جہد پیہم، صبر و تحمل اور قربانی کی متقاضی ہے، جہاں تک تخریب کاری و ضرر رسانی کا تعلق ہے بعض طبقوں کے لئے پر کشش اور نفع بخش کام ہے، اس لئے سرعت کے ساتھ ان لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے جن کی فطرت ایسی سرگرمیوں کے مطابق ہوتی ہے۔ ان کو تخریب کاری کے اس عمل میں کسی قسم کی تلقین و دعوت کی ضرورت پیش نہیں آتی بلکہ شرپسند مزاج اس کو خود بخود قبول کر لیتے ہیں اور اس میں طبیعت پر کوئی دباؤ یا کسی قربانی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلندی سے پستی کی طرف آنا آسان کام ہے لیکن اوپر چڑھنا مشکل اور پر مشقت ہے، یہی وجہ ہے کہ صرف عالی حوصلہ ، بلند ہمت اور اولوالعزم لوگ ہی اصلاح کی متحمل ہوتے ہیں۔
اس وقت بھی عالم انسانیت شرانگیزی تخریب کاری و فساد پروری اور خیر و صلاح نیز خدا ترسی کی جانب رہنمائی کرنے والی دو متضاد قوتوں میں بٹا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مادہ پرست اور مکارم اخلاق وا قدار انسانیت کا مخالف مغرب انسانیت کے بگاڑ کی راہ پر گامزن ہے۔ وہ اپنے من پسند و محبوب طریقہائے حیات کی نشر و اشاعت کی غرض سے قیادت و تربیت ، ابلاغ و خبر رسانی اور تشکیل ذہنی کے لئے ایسے اشخاص کا انتخاب کرتا ہے جو اس کے افکار و مطمع نظر اور تہذیب و تمدن کی درگاہ کے مرید ہوتے ہیں،مغرب نہ صرف یہ کہ ہر اس نظام کو لائق نفرت و حقارت اور قابل ضیاع و ہلاکت تصور کرتا ہے جو اس کی فکر کے منافی و غیر موافق ہوتے ہیں۔ بلکہ انسانوں کو تخریب کاری و خدا بیزاری کی تربیت دینے کے لئے مختلف مراکز کا قیام بھی عمل میں لاتا ہے۔ تخریب کاروں کو تعاون عطا کرتا ہے بھلے اور نیک کاموں کا خاتمہ کرتا ہے۔ ماضی میں تربیت و تزکیۂ نفس، جہالت کے ازالہ اور اخلاقی امراض کے مقابلے کے لئے مختلف مراکز و مدارس قائم تھے جہاں لوگ اپنے حالات و کوائف کی اصلاح و درستگی کے لئے آیا کرتے تھے۔ عصر حاضر میں ایسے مراکز اور ادارے اور تعلیم گاہیں پائی جاتی ہیں جو اخلاقی انار کی کا درس دیتی ہیں اور ہلاکت و ضلالت کے وسائل اختیار کرنے کا فن سکھاتی ہیں۔ زمانۂ ماضی میں خیر و صلاح کے مراکز پائے جاتے تھے جن کے منتظمین و کارکنان اپنے معاشرے میں عزت و وقار کی زندگی گزارتے تھے، ان کے اندر صبر و ثبات، تکالیف کے تحمل اور جان کی قربانی پیش کر دینے کی صفات پائی جاتی تھیں۔ نہ تو وہ مال و دولت اور زر کے حریص و طلبگار تھے نہ ہی کسی قسم کی کوئی دھمکی ان کے لئے باعث خوف و دہشت بن سکتی تھی اور نہ ہی نفسانی خواہشات انہیں اپنی جانب مائل کر سکتی تھیں، ان کی ہستیاں کسی درخشندہ و ضیابار منارے کا ساسماں پیش کرتی تھیں جن سے مخالفین حق و صداقت اور بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ ہدایت نصیب ہوتی تھی جنھیں حکومتیں اور صاحبان اقتدار اور تسلط بھی توقیر و تعظیم کی نظر سے دیکھتے تھے اور جنھیں نہ صرف عوامی مقبولیت حاصل تھی بلکہ عوام و خواص دونوں ہی میں ان کو عزت و وقار حاصل تھا۔ صلاح و تقویٰ اور اصلاح و رہنمائی کا عمل عصر حاضر میں ایک جرم اور اس کے عاملین مجرم تصور کئے جاتے ہیں۔ ان کو پہلے قدامت پرست اور پاکباز کہا جاتا تھا اب ان کو دہشت گرد اور تمدن و انسانیت کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ وہ جرم عظیم جو چوری و ڈاکہ زنی اور قتل و غارت گری کے مقابلے میں کہیں زیادہ بدترین اور بھیانک ہے۔
ماضی میں جنگیں ہوتی تھیں، ان جنگوں میں کبھی تو وہ فریق فتحیاب و کامیاب رہتا جو زیادہ ہوتا اور جس کے پاس سامانِ جنگ اور آلات خودداری و خود اعتمادی ، جواں مردی و دلیری اور برتر و ممتاز شہسواری کی بدولت قوی پرکامرانی سرفرازی حاصل ہوتی، چنانچہ نہ جانے ایسی کتنی قلیل قلیل جماعتیں ہیں جن کو اذن خداوندی اور حکم الٰہی سے کثیر ترین جماعت پر غلبہ و تفوق حاصل ہوا۔
فسطائی طاقتوں کی تعمیر کے مطابق ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘ کے خلاف لڑی جانے والی جنگ درحقیقت ایک قدیم اور تقلیدی جنگ ہے لیکن اس نے اس دور میں ایک نئی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ یوروپ نے اسلام سے اعلانیہ جنگ کی اور اسے منھ کی کھانی پڑی کیونکہ اسے محسوس ہوا کہ وہ کالجیز اور یونیورسٹیاں جن کو اس نے لوگوں کی سرشت و فطرت میں تغیر و تبدل پیدا کرنے ان کو اپنی اقدار و روایات سے دور و بیزار کرنے اور اذہان و قلوب میں شروفساد کے تخم ریزی کی غرض سے قائم کیا تھا، اب اسلامی دعوت کا مرکز و منبع اور اسلامی تحریک کا سرچشمہ بن گئی ہیں۔ نیز یہ کہ موجودہ دور میں اسلام کی فعال و سرگرم اور چاق و چوبند قیادتیں انھیں مدارس و مراکز کے فارغین سے وجود میں آرہی ہیں جن پر یوروپ کو اعتماد تھا کہ یہ اسلام کے تئیں دشمنی و عداوت اور اجنبیت و نامانوسیت کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ حریت و جہاد اور بیداری کی تحریکوں کی قیادت مغربی تعلیم گاہوں میں پروان چڑھنے والے افراد ہی نے کی موجودہ اسلامی تحریکوں کی قیادت میں ایسے لوگ نمایاں ہیں۔ یوروپ کو ذہن سازی کی طویل مہم کے بعد احساس ہوا کہ لوگ اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ دانشمندان جہاں اور فلاسفۂ عالم میں اسلام کی تئیں اعتماد اور اطمینان و ایقان پیدا ہو رہا ہے اور اسلام و شیدائیان اسلام کے متعلق استشراق و مسیحی تبلیغ کی افترا پردازیاں اور ہرزہ سرائیاں تہہ بہ تہہ بادلوں کی مانند چھٹنا اور منتشر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ مغرب نے جہاد سرفروشی اور آزادی و حریت کی ان تحریکوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے جن میں عاشقان اسلام نے شجاعت و بے خوفی کا بھر پور مظاہرہ کیا اور اپنے پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دی (اپنی جڑیں مضبوط کیں) مغربی قائدین کو اس حقیقت کا بھی ادراک ہوا کہ ان کا معاشرہ، انتشار و خلفشار، گمراہی و پراگندہ خیالی اور انحطاط اور زوال سے دوچار ہے۔ مال و زر کی چاہت اور اتباع نفس نے موت سے نفرت بلکہ شدائد و محن کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ختم کر دی ہے، چنانچہ اس صورت حال کے پیش نظر مغرب کو خود اپنا اور اپنی تہذیب و ثقافت کا وجود نیز اپنے ممالک کی سلامتی خطرے میں نظر آنے لگی۔ مغرب نے لوگوں کو محض مبتلائے فریب و دغا رکھنے کی غرض سے دہشت پسندی اور بنیاد پرستی جیسے ناموں سے اسلام سے جنگ کا منصوبہ تیار کیا وہ اس کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اسلام سے برسرپیکار نہیں ہے بلکہ دراصل وہ ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘کے خلاف محاذ آرا ہے، لیکن یہ فریب اس وقت کھل جاتا ہے جب وہ اس کی تشریح کرتا ہے مغرب کے اشاعتی اداروں سے شائع کردہ مؤلفات و کتب کی ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘ کی تشریح سے روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کی اصل لڑائی خیر اور صلاح کی دعوت سے ہے۔ ایک امریکی شارح نے ’’بنیاد پرستی‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دراصل غیر مادری بنیاد پر خیر و شر کے درمیان تمیز و تفریق کا نام ’’بنیاد پرستی ‘‘ہے۔ ایک دوسرے صاحب یوں رقمطراز ہیں کہ آخرت پر ایمان رکھنا اور آخرت کے لئے عمل کرنا ہی درحقیقت ’’بنیاد پرستی‘‘ ہے بعض شارحین اور اصحاب لوح و قلم کے نزدیک نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دینی شعائر کی پیروی بھی بنیاد پرستی میں داخل ہے۔ مختصر یہ کہ بنیاد پرستی کے اسرار و رموز کی فہرست کافی طویل ہے جس میں خواہشات و جذبات یا مادی اغراض و مقاصد کی اتباع کے علاوہ ہر وہ عمل شامل ہے جس سے عامل کا مقصود خوشنودیٔ ربانی کا حصول ہو جو امر بالمعروف ، نہی عن المنکر اور دعوت الی الخیر کا مصداق ہو اور صاحبان فضل و شرف کی نگاہوں میں محبوب و ہردل عزیز ہو۔
ان تشریحات و توضیحات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ’’اسلام بنیاد پرستی‘‘ کی جنگ در حقیقت انسانیت کی خیر وصلاح اور سعادت و کامرانی کے عمل نیز اس میدان کارزار میں سرگرم نفوس کے خلاف محاذ آرائی و خنجر آزمائی اور صف بندی و تیشہ زنی سے عبارت ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *