ہندتو‘ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ

ہمارا ملک ہندوستان دنیا کا ایک بڑا ملک ہے آبادی کے لحاظ سے ساری دنیا میں دوسرا سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ ہندوستان کی شاندار تاریح ہے چاہے یہ قدیم دور ہو یہ عہد وسطیٰ ہو، ہندوستان کی تاریخ بڑی مالامال ہے۔ جو اپنے عوام میں روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا جذبہ جگاتی ہے۔
برطانوی راج سے آزادی کی جدوجہد کے دوران ہمارے قائدین ملک کے بارے میں ایک عظیم تصور رکھتے تھے۔ یہ جدو جہد صرف انگریزی سامراج سے ملک کو آزاد کرنے کے لئے ہی نہیں بلکہ وہ ملک کو ایک ایسے راستہ پر لیجانا چاہتے تھے۔ جس سے وہ باہمی مفاہمت اور مساوات پر مبنی سماجی ڈھانچے کے ذریعہ اور مذاہب کے درمیان ہم اہنگی کے ذریعہ دنیا کی دوسری قوموں کے لئے نمونہ ثابت ہو۔ اور یہ ایسا ملک ہو جہاں انصاف کا دور دورہ رہے۔ ہندوستان ایک کثیر نسلی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک ہے۔ جہاں کے عوام مختلف عقائد کو ماننے والے ہیں۔ یہ امر اہم اور ضروری تھا اور آج بھی ہے۔ کہ اسکو ایسا ملک بنایا جائے جہاں ایک مقصد کے لئے مختلف نسلوں مختلف زبانوں اور مختلف تمدنوں سے تعلق رکھنے والے عوام میں باہمی اعتماد کی کیفیت ہو۔ جنوری ۱۹۴۷ء میں جبکہ ملک کی فضاء میں بڑا تناؤ تھا اور حالات ملک کی تقسیم کے مطالبہ کی وجہ سے بگڑے ہوئے تھے۔ اور یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا تھا۔ اور برطانوی حکمران اس کو قبول کرنے لگے تھے۔ ایسے انتشار کے ماحول میں دستور ساز اسمبلی میں ایک قرار داد مقاصد کے نام سے یکم جنوری ۱۹۴۷ء کو منظور ہوئی۔ اس قرار داد میں شامل بہت اہم مقاصد حسب ذیل ہیں۔ (۵)جہاں سماجی، معاشی اور سیاسی، انصاف اور حیثیت کی، مرتبہ کی، مواقع کی مساوات اور قانون کے سامنے مساوات اور فکر کی اظہار کی، عقیدہ کی عبادت کی پیشے کی۔ انجمن سازی کی اور عمل کی آزادی ان تمام کی ضمانت ہندوستان کے تمام شہریوں کو دی جائیگی اور ان کو فراہم کی جائیں گی۔ (۶) جہاں اقلیتوں بیاک ورڈ اور قبائلی علاقوں اور پچھڑے ہوئے اور دیگر بیاک ورڈ کلاسس کے لئے مناسب تحفظات فراہم کے جائیں گے اور (۷) یہ قدیم ملک دنیا میں اپنا مستحقہ اور معزز مقام حاصل کر یگا اور انسانیت کے فروغ کے لئے اپنا حصہ ادا کریگا۔ قرار داد مقاصد ، دستور ساز اسمبلی میں اس وقت منظور ہوئی جبکہ ہندوستانی عوام کے درمیان تقسیم کے مطالبہ نے نفرت اور حقارت کی فضاء پیدا کردی تھی اور ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بیگانگی کی خلیج وسیع ہو گئی تھی۔ اس پس منظر میں اس قرار داد کا پاس ہونا ایک اہم واقعہ ہے۔
دستور ساز اسمبلی کے ارکان، ہمارے دستور کو بنانے والے اور ہندوستان کے جمہوری مزاج کے عوام کی نظر بہت دور رس تھی اب انہوں نے دور کے مستقبل میں ایک شاندار ہندوستان کی تصویر دیکھی انکا یقین تھا کہ شاندار ہندوستان کو ایک سیکولر ملکیت بننا اور ان حیثیت میں رہنا چاہئے ۔ جہاں مملکت کاکوئی مذہب نہ ہو۔ اس لئے دستور میں خصوصی دفعات رکھی گئیں۔ جن کے ذریعہ ضمیر کی آزادی عقیدہ کے رکھنے، عقیدہ پر عمل کرنے اور عقیدہ یعنی مذہب کی اشاعت کرنے کی آزادی اور مذہبی معاملات کو انجام دینے اور انکا انتظام کرنے کی آزادی اور اقلیتوں کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ شڈول کاسٹ اور شڈول ٹرائب کے لئے خصوصی مراعات رکھی گئیں۔ اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا دستور ہندوستان کے عوام سے کیا گیا ایک مقدس عہد ہے۔ کہ مملکت یعنی عاملہ ، قانون سازیہ اور عدلیہ ان اصولوں کی بناء پر ہندوستان کی سماج کی تشکیل کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ قرارداد مقاصد ہمارے ملک کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اور یہ دستور کے ابتدایہ کا پیش خیمہ ہے اور یہ ان مقاصد کو دستور سازوں کے سامنے تفصیل سے رکھنا ہے۔ اور ان مقاصد کو دستور کہ ابتدایہ میں جو ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء کو منظو ر ہوا یوں درج کیا گیا۔ ہم ہندوستان کے عوام عہد مقدس کرتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک مقتدر اعلیٰ جمہوری رپبلک بنائیں گے۔ او ر اس کے تمام شہریوں کو یہ چیزیں حاصل ہوں گی۔ انصاف: سماجی اور معاشی و سیاسی۔ آزادی: خیال کی آزادی، اظہار کی ، عقیدہ کی، مذہب کی اور عبادت کی آزادی۔ مساوات: حیثیت کی اور مواقع کی اور مساوات کو سب کے درمیان فروغ دیا جائیگا۔ اُخوت : فرد کے احترام اور قوم کے اتحاد کے تیقن کے ساتھ اس طرح ہمارے دستور نے ملک اور عوام کے سامنے ایک شاندار مقصد رکھا ہے جس کو ہمیں حاصل کرنا ہے۔ یہ مقصد الفاظ میں ظاہر ہونے کے ساتھ ساتھ دستور میں عوام کو دئیے گئے بنیادی حقوق میں بھی پوشیدہ ہے۔ باب ۳ کے تیقنات ابتدایہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنا دیتے ہیں کہ کبھی بنیادی حقوق اکثریتی فرقہ کے کسی طبقے کے ہاتھ میں کھلونا نہیں بن جائیں گے۔ ان بنیادی حقوق کا مقصد مساوات پر مبنی سماج کی تشکیل ہے جہاں تمام شہری زور زبردستی اور دباؤ سے آزاد ہوں۔ دستور میں ایک نئے حصہ کا اضافہ بنیادی فرائض کے عنوان سے ۱۹۷۶ء میں کیا گیا۔ یہ اضافہ آرٹیکل (51-A)ہے۔ چند بنیادی فرائض درج ذیل ہیں۔
(الف) دستور کی تابعداری کرنا اور اس میں درج تصورات کا احترام کرنا۔ (ب) ان اعلیٰ تصورات کو عزیز رکھنا اور ان کی پیروی کرنا کہ ان تصورات نے ملک کی آزادی کی جدو جہد کا جذبہ جگایا تھا۔ (ج) ہم آہنگی کو اور ہندوستان کے تمام عوام کے درمیان مشترکہ بھائی چارگی کے جذبہ کو مذہبی،لسانی اور طبقاتی،تصورات سے بلند ہو کر فروغ دینا۔ خواتین کے احترام کو متاثر کرنے والی روایات کو ختم کرنا۔ (د) ہمارے مخلوط کلچر کی مالا مال وراثت کی قدر کرنا اور اسکو قائم رکھنا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نظریہ کو جو دستور میں دئیے گئے تصورات سے بالکل مختلف بلکہ متضاد ہو، پھیلنے اور دستور کو اپنی گرفت میں لینے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ اور یہ کہ کیا ریاست کی یہ ذمہ داری بلکہ اسکا ایک اہم فرض نہیں ہے کہ وہ ایسی ذہنیت اور نظریات پر پابندی لگائے اور ایسی سرگرمیوں پر امتناع عائد کرے؟۔
انگریزوں نے بنگال میں اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے بعد اور خصوصاً نواب سراج الدولہ کو ۱۷۵۶ء میں پلاسی میں شکست دینے کے بعد جہاں میر جعفر نے غداری کی۔ اور راجہ موہن رائے نواب کے ساتھ کھڑے رہے۔ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے محسوس کیا کہ انگریز ہندوستان پر اس وقت تک حکومت کر سکتے ہیں جب تک کہ مسلمان اور ہندوؤں کے درمیان اختلاف رہیں۔ اور جب یہ دونوں متحد ہو جائیں تو اس بڑے ملک ہندوستان کو ہمیں چھوڑنا پڑیگا۔ اس لئے انہوں نے ہندوستان کے عہدوسطیٰ کی تاریخ کو اس انداز میں دوبارہ لکھوایا اور کئی جھوٹے واقعات کا اضافہ کیا۔ کہ ہندوستان کے ان دونوں مذہبی گروہوں کے درمیان بیگانگی اختلاف اور دشمنی کے بیج بو دئیے جائیں۔ آزادی کی پہلی جنگ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں نے دیکھ لیا کہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کا کام انکی آرزو کے مطابق نہیں ہوا۔ میرٹھ کے ان سپاہیوں کی زبانوں پر جنہوں نے اپنے انگریز آقاؤں سے بغاوت کی تھی’ دین دین ‘ کا نعرہ تھا۔ انگریزوں کے اقتدار کے خلاف جو بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ چاہے وہ ہندو ہو کہ مسلمان اس نے یہ ہی اعلان کیا کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ہمارا شہنشاہ ہے۔ اس کا اعتراف وی۔ڈی ساورکر نے اپنی کتاب ‘The Indian War of Independece 1857’میں کیا ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے دلوں میں جذبہ اور ہمارے ملک سے انگریزوں کو نکال باہر کرنے کی آرزو پیدا کی۔ اب انگریزوں نے اپنی کوششوں کو دو گنا کر دیا۔ اب انکی کوشش رہی کہ مسلم حکمرانوں کو مندروں کو توڑنے والا، ہندو عورتوں کی عصمتیں لوٹنے والا ظالم اور خوں خوار اور جبر و ظلم کے ذریعہ ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروانے والا بنا کر پیش کیا جائے۔ اور یہ بتایا جائے کہ انگریزوں نے ایسے صبر آزما حالات سے ہندوؤں کو بچایا۔ انگریزہندوؤں کے محسن ہیں۔ اسی لئے ہندوؤں کا کام ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کے قیام اور استحکام میں مدد دیں۔ اس پس منظر میں اور انگریزوں کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے بنکم چندر چٹوپادھیا (۱۸۳۸ء تا ۱۸۹۴ئ) نے جس کو چٹر جی بھی کہا جاتا ہے۔ اپنے انگریز آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ناول ’’انند مٹھ‘‘ لکھی یہ حکومت کی کمپنی میں ایک ملازم تھا۔ اور ڈپٹی مجسٹریٹ کے عہدے پر کام کرتا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بنکم چندر نے بنگال کے مشہور عوامی فائدہ پہنچانے والی شخصیت محمد محسن سے رقمی وظیفہ پاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اسی نے مسلم دشمن ناول ’’انند مٹھ‘‘لکھی۔ جس نے ہندو اور مسلمان کے درمیان نفرت کو فروغ دیا اور انگریزوں کی حکومت کو تقویت پہنچائی۔ اس ناول میں بنگال کے مسلم حکمرانوں اور مسلمانوں کے خلاف سادھوں اور سنیاسیوں کی ایک تحریک کی خیالی کہانی بیان کی گئی ہے۔ سادھوں کے سردار ’’ستیہ نند‘‘ کو جب معلوم ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی حکومت ختم ہو گئی اور انگریزوں نے اپنا راج قائم کر لیا ہے۔ تو اپنی تحریک ختم کر دیتا ہے۔
’’تمہاری خواہش پوری ہوگئی تم کو تمہارا مقصد مل گیا انگریزوں نے اپنی حکومت قائم کر لی۔ اب لوگوں کی توجہہ زمین میں کھیتی کرنے کی طرف پلٹاؤ۔ انگریزوں کی حکومت ہماری دوست ہے۔ کوئی انگریزوں سے لڑکے جیت نہیں سکتا‘‘۔۔ کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں ‘‘تب ستیہ نند نے اپنے مسلم دشمن والنٹرس کی فوج کو تحلیل کرکے ’’دھیان گیان‘‘ کے لئے ہمالیہ کا رُخ کیا۔ اب آپ اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ اس فرضی کہانی کو جس میں بنگال کے اقتدار پر انگریزوں کے قبضہ پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایک تاریخی کتاب سمجھنے اور مسلمانوں کے خلاف فرضی جنگی مہم کے فوجی ترانے ’’وندے ماترم‘‘ کو قومی ترانہ کا درجہ دیا جائے؟ جس کے بعض بند مسلمانوں کے ایک خدا تصور کے بالکل خلاف ہیں۔ مثلاً وندے ماترم ، تمی ودیا، تمی دھرم، تمی ہری، تمی کرم، تو ہی پر آن شریر۔ تو ہی درگا، دش پر ہرن دھارنی، کملا کمل دل و بھارنی۔ اس کے آخری بند میں درگا سے پراتھنا کی گئی ہے کہ وہ ہندوؤں کو اتنی شکتی دے کہ مسلمانوں کا خون اسکے قدموں پر نچھاور کر سکیں۔ کیا یہ بات مناسب ہے؟ اور کیا یہ بات عدل و انصاف کی ہے۔ کہ ہندوستانی مسلمانوں سے ایسا ترانہ پڑھنے یا اس ترانے کا احترام کرنے کے لئے کہا جائے۔ جس میں مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف بات اور مسلمانوں کے خون بہانے کی بات کہی گئی۔ ناول ’’آنند مٹھ‘‘ بہت مقبول ہوا۔ اور اسکے ذریعہ، بنگال کے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اور دشمنی کے جذبات پیدا ہوئے۔
مہاراشٹرا میں وی۔ڈی۔ ساورکر کی شخصیت ایک مخالف انگریز انقلابی کی حیثیت سے پہلے ابھرتی ہے اس نے کتاب لکھی اور شائع کی۔ جسکا نام ‘The Indian Wars of 1857’ہے اس کتاب میں اس نے ان دنوں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والی مفاہمت کی تعریف کی ہے۔ اور اس کو ملک کی آبادی کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے ۔’’اس نے اپنے اعلان میں دہلی کے شہنشاہ نے سوراج کے قیام کی بات کہی۔ او ہندوستان کے بیٹو اگر تم ارادہ کر لو تو آن کی آن میں تم دشمن تو ختم کر سکتے ہو۔ہم دشمن کو ختم کریں گے، اور اپنے مذہب اور ملک کو جو ہمیں اپنی جان سے زیادہ پیارے ہیں ان کے خوف سے نکالیں گے۔ دنیا میں ایسی انقلابی جنگ سے زیادہ اور کیا کام مقدس ہے؟ وہ جنگ جس کے اونچے اصولوں کا اظہار اس جملہ میں کیا گیا ہے کہ ’’ہمارے مذہب اور ہمارے ملک کی جو ہم کو ہماری جان سے زیادہ پیارے ہیں ،خوف سے رہائی۔ ۱۸۵۷ء کے انقلاب کا بیج اس مقدس اور متحرک کرنے والے الفاظ کے ساتھ بویا گیا جو دہلی کے تخت سے اور ہوئے۔
’’بریلی سے جاری کردہ اعلان میں انہوں نے کہا ہندوستان کے ہندو اور مسلمانوں! اُٹھو بھائیوں اٹھ کھڑے ہو۔ خدا کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت سوراج ہے۔ کیا یہ ظالم دیو (یعنی انگریز) ہم کو دھوکے فریب کے ذریعے ہمیشہ اس سے دور رکھے گا؟ خدا یہ نہیں چاہتا اسی لئے اُس نے ہندو اور مسلمانوں کے دلوں میں ملک سے انگریزوں کو باہر نکالنے کی آرزو پیدا کی ہے۔ خدا کی نصرت اور تمہاری جرأت دونوں مل کر دشمن کو شکست دے دیں گے۔ اور دشمن کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ ہماری فوج میں چھوٹے اور بڑے کا فرق نہیں ہوگا درجہ برابر کا دیا جائیگا۔ اور مساوات کا دور دورہ ہوگا۔ کیونکہ جو اپنے مذہب کی مدافعت میں جنگ کرتا اور تلوار نکالتا ہے۔ اس طرح جنگ والے آپس میں بھائی ہوتے ہیں یہ آپس میں بھائی ہیں اور ان کے درمیان رتبہ کا کوئی فرق نہیں ہے اس لئے میں دوبارہ اپنے ہندو بھائیوں سے کہتا ہوں۔ اُٹھو اور اپنا مذہبی کام انجام دینے کے لئے اور فرض پورا کرنے کے لئے میدان جنگ میں کود پڑو۔‘‘
اس اعلان کو بیان کرنے کے بعد وی ڈی ساورکر بڑے تعریفی کلمات لکھتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب اُس نے یہ کتاب لکھی تھی اس کا ذہن کیا تھا اور اسکے نظریات کیا تھے۔ وہ لکھتا ہے ’’جو شخص انقلابی قائد کو زبان سے ایسی شاندار باتیں کہتے ہوئے دیکھنے کے بعد ان کے اصولوں کو نہ سمجھے، جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، کہ وہ بیوقوف ہے یا بزدل۔ اور مضبوط کیا شہادت چائے؟ جو ثابت کرے کہ ہندوستانی جانبازوں نے اس وقت اپنے مذہب اور اپنے ملک کی آزادی کے لئے سمجھتے ہوئے تلوار اٹھائی کہ خدا کی طرف سے انسان کو دئیے گئے حق کی حفاظت کے لئے لڑنا ہر شخص پر فرض ہے یہ اعلانات مختلف موقعوں پر جاری کئے گئے جس سے بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان اعلانات کو کسی غیر معروف شخص نے جاری نہیں کیا۔ بلکہ یہ قابل تعظیم اور طاقتور تخت کے جاری کردہ احکامات تھے۔ یہ اعلانات اس وقت کے مشتعل احساسات کا روشن اظہار تھے۔ ان میں عوام کے دل کے حقیقی الفاظ ہیں جو اُس جنگ کے موقع پر کہے گئے اور ان کو کسی کے دباؤ یا خوف کی وجہ سے چھپانے کا کوئی موقع نہیں تھا۔ ہندو اور مسلمان ملکر مذہب اور آزادی کے نام پر اُٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘ انہوں نے ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی تک کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کی آزادی کے خطرے کو پہلے بھانپنے والوں میںپونا کے نانا فرنویس اور میسور کے حیدر صاحب تھے۔‘‘ اس نے آزادی کے مقاصد کے لئے نانا کے سفیر عظیم اللہ خان کے کارناموں کو بھی تسلیم کیا ہے اور کہتا ہے کہ ’’۱۸۵۷ء کی انقلابی جنگ کے اہم کرداروں میں سب سے زیادہ یاد رکھا جانے والا نام عظیم اللہ خان کا ہے ۔ آزادی کی جنگ کا تصور جن تیز ذہن کے دماغوں میں آیا ان میں عظیم اللہ کو ایک نمایاں مقام دینا چاہئے۔ انقلاب کے مراحل جن مختلف منصوبوں کے ذریعہ رونما ہوئے۔ ان میں عظیم اللہ کا منصوبہ خصوصی توجہہ کا مستحق ہے۔‘‘
آخری باب میں وی ڈی ساورکر نے ’’غدر‘‘ پر ایک انگریز تبصرہ نگار کے لئے تبصرے کو نقل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’ہندوستانی غدر کے کئی اسباق میں جو تاریخ نگاروں کو ملتے ہیں کوئی بھی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اس انتباہ کے مقابلے میں کہ ایک انقلاب ممکن ہے جس میں برہمن اور شودر ہندو اور مسلمان ہمارے خلاف متحدہ ہو سکتے ہیں۔‘‘ اس تبصرہ کے ذریعہ فارسٹ نے اپنے ہم ملکوں پر یعنی انگریزوں پر واضح کیا ہے کہ ہندوستان پر حکومت کرنے کے لئے انگریزوں کو ہندوؤں کے درمیان ذات پات کے اختلافات کو بڑھانا چاہئے۔ اور ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت اور دشمنی کے جذبات پیدا کرنا چاہئے اس قول کو نقل کرکے وی ڈی ساورکر ہندوؤں اور مسلمانوں کو متحد ہونے او ر ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے مل کر جدو جہد کرنے کے لئے آواز دیتا ہے۔ اس انقلابی ساورکر کو گرفتار کیا گیا۔ اور کالے پانی کی سزا دیتے ہوئے انڈومان میں قید کیا گیا ۔ جب ساورکر کو ۱۹۲۴ء میں رہا کیا گیا تو بالکل بدلا ہوا شخص تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے برطانوی حکومت سے معافی چاہی اور معافی کی اس درخواست پر اس کو انڈومان کی جیل سے رہا کیا گیا۔ اب انگریزوں سے لڑنے کا اُسکا جذبہ ختم ہو چکا تھا۔ اور ہندو مسلم اتحاد کی آواز لگانے والا۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کرنے والا بن گیا اور اسی نے ہندوتواء کی اصلاح گھڑی۔
اپنی کتاب ’’ہندوتوا‘‘میں ساورکر نے تقریباً %۸۰ صفحات اس حقیقت کا انکار کرنے پر صرف کئے ہیں کہ لفظ ہندو ایرانیوں کا لفظ ہے جو انہوں نے دریائے سندھ کے مشرق میں رہنے والوں کے لئے استعمال کیا تھا۔ ساور کرنے یہ بات کہنے کے لئے بڑی تکلیف اور مشقت اٹھائی ہے کہ لفظ ہندو ہندوستان میں بنا لیکن وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ لفظ ہندو کی اصل سنسکرت یا پراکرت زبانوں میں ہے۔ کتاب کے باقی حصہ میں انہوں نے اس پر زور دیا ہے کہ ہندو سماج میں ذات پات کے اختلافات کو قرار رہنا چاہئے اور مسلمانوں کو ہندوؤں کے ملک ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے (۱) چار ذاتوں کے نظام کو بدھ مذہب کا غلبہ ختم نہ کر سکا اور اس نظام کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ (۲) ہندوستان کے معنی ہے کہ ہندوؤں کا ملک۔ ہندوتواء کی پہلی بنیاد جغرافیائی علاقہ ہے ایک ہندو بنیادی طور پر خود سے اور اپنے آباو اجداد کی وجہ سے ہندوستان کا شہری ہے اور اس ملک کو مادر وطن قرار دیتا ہے۔ ہندوستان میں رہنے والے غیر ہندو، ہندوستانی بن سکتے ہیں۔ اگر وہ ہند تمدن کو اپنا لیں اور ہندوستان سے اتنی محبت کریں کہ اس کو مقدس سرزمین مانیں۔
ہندو مہا سبھا کا قیام ۱۹۱۴ء میں امرتسر میں ہوا۔ اور ہردوار اس کا مستقر قرار دیا گیا اس کے بانیوں میں یو پی کے پنڈت مدن موہن سالویہ اور پنجاب کے لالہ لاج پت رائے تھے۔ ۱۹۲۴ء کے بعد ہندو مہا سبھا وی ڈی ساورکر کے زیر اثر ہندو مہا سبھا کانگریس کی سخت مخالف ہو گئی اور اس پر یہ الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ ہندو مہا سبھا نے انگریزی حکومت کے خلاف کسی سرگرمی اور کسی ایجیٹشن کی تائید نہیں کی۔ ۱۹۲۵ء میں ہندو مہا سبھا کو ایک دھکا لگا جب کہ اس کے ایک رکن ڈاکٹر کیٹوبلی رام ہیڈ گیور نے ہندو مہا سبھا ایک رکن ڈاکٹر کیٹوبلی رام ہیڈ گیور نے ہندو مہا سبھا چھوڑ کر راشٹریہ سوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی ۔ آر ایس ایس کا نظریہ ہندو مہا سبھا کا نظریہ ہی تھا لیکن آر ایس ایس نے تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ ہندو مہا سبھا نے ۱۹۴۲ ء میں چھوڑو ہندوستان تحریک کی مخالفت کی اور دوسری عالمگیر جنگ میں حکومت برطانیہ کی جنگی مہمات کی تائید کی۔ ساورکر نے ہندوؤں کو ترغیب دی کہ وہ فوجی ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے برطانیہ کی ہندوستانی فوج میں بھرتی ہوں۔ ہندو مہا سبھا نے ۱۹۳۷ء اور ۱۹۴۶ء کے مرکزی اور صوبائی کے اسمبلی انتخابات میں ناکامی کی صورت دیکھی۔
ساورکر نے ہندوستان کی تقسیم کو قبول کیا۔ لیکن وہ گاندھی جی کا ناقد تھا اور ۱۹۴۶ ء کے فرقہ وار فسادات کے بعد گاندھی جی پر ساورکر کی تنقید سخت ہو گئی۔ ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ء کو ناتھو رام گوڈ سے نے دہلی میں گاندھی جی کو گولی مارکر ہلاک کر دیا۔ ناتھو رام گوڈسے اور اسکے ساتھی ڈگمبر باڑگے، گوپال گوڈسے،نارائن آپٹے،وشنوکرکرے اور مدن لال پا ہوا۔ ہندو مہاسبھا کے اہم ارکان کی حیثیت میں بتائے گئے۔ جسٹس کپور کمیشن نے ۱۹۶۷ء میں اپنی رپورٹ میں بتایا کہ گاندھی جی کے قتل کی سازش کرنے والے ساورکر سے قریبی ربط رکھتے تھے۔ ساورکر کے خلاف غصہ میں بھرے عوامی رد عمل کے نتیجہ میں ہندو مہا سبھا حاشیہ پر چلی گئی اور اس کا وجود برائے نام اور بے اثر ہو گیا۔
آر ایس ایس
R.S.S. کی بنیاد ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈ گیور نے ڈالی جو ہندومہا سبھا کی ہندو توانظریات پر یقین رکھتا تھا ۔ آر ایس ایس نے خود کو ایک سماجی تحریک کے طور پر پیش کیا۔ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں اس نے کوئی حصہ ادا نہیں کیا اور انگریزی حکومت کے خلاف کسی مہم یا تحریک یا ایجی ٹیشن میں شرکت نہیں کی۔ اس بات کو ایم۔ایس۔ گوالوالکر نے بہت قوت سے آگے بڑھایا جو ۱۹۴۰ء میں اس کا سربراہ بنا۔ انہوں نے ہندو نوجوانوں کو فوجی تربیت دینے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کے جذبات فروغ دینے کے پروگراموں کو جوش و خروش کے ساتھ آگے بڑھایا۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کو ملک کے غدار یا کم از کم ’’غیر شہری ‘‘قرار دیتا تھا جب برطانوی حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں میں فوجی ڈرل اور یونیفارم کے استعمال پر پابندی لگائی تو گولوالکر نے اپنے کارکنوں کی فوجی تربیت کو روک دیا۔ اور انگریزی حکومت کو خوش کرنے کے لئے چھوڑو ہندوستان مہم اور بحریہ کی بغاوت سے دوری اختیار کی۔ آر ایس ایس قبل تقسیم اور دورانِ تقسیم۱۹۴۶ء اور ۱۹۴۷ء کے مسلم کش فسادات میں سرگرم رہی ہے۔ اور پولیس نے اسکا ساتھ دیا ہے۔ مسٹر پیارے لال نے جو ۱۹۲۰ء سے انکی موت تک گاندھی جی کے سکریٹری تھے ’’مہاتما گاندھی،آخری مرحلہ‘‘ نامی کتاب لکھی ہے۔ وہ اس کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’آر ایس ایس ایک فرقہ پرست نیم فوجی تنظیم ہے‘‘ اسکا اعلان کردہ مقصد ہندو سامراج قائم کرنا ہے۔ اور انکا نعرہ ہے ’’ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا کیا جائے‘‘ہے انہوں نے جسٹس کپور کمیشن کے آگے جو گواہی دی وہ کمیشن کی رپورٹ میں یوں درج ہے۔ ’’گواہ کا یہ احساس تھا کہ پولیس میں مخالف گاندھی موافق آر ایس ایس عناصر داخل ہو چکے تھے ‘‘کمیشن کی رپورٹ میں انٹلی جنس آفیسر بی۔بی۔ایس۔ جیٹلے کی گواہی نقل کی گئی کہ ’’آزادی کے بعد چند مہینوں میں آر ایس ایس کے خلاف ۶۰۰ تا ۷۰۰ کیس رجسٹر کئے گئے ۔ اس کے خلاف الزام ہتھیار جمع کرنے، دیہاتوں پر حملہ کرنے اور افراد کو مارنے پیٹنے کا تھا ۔ اور اس نے سفارش کی تھی کہ آر ایس ایس پر پابندی عائد کی جائے اس نے لکھنؤ کے سی۔آئی۔ڈی۔ چیف سے ملاقات کرکے اور مسٹر گوبند بلبھ پنت جو اس وقت U.P.کے ہوم منسٹر تھے ان سے ملاقات کی۔ اور ان کو آر ایس ایس پر پابندی لگانے کے لئے کہا ۔ ان لوگوں نے اس سے اتفاق کیا ۔ لیکن کہا کہ انہیں سردار پٹیل سے مشورہ کرنا پڑیگا۔ آر ایس ایس پر گاندھی جی کے قتل کے بعد پابندی لگائی گئی۔ اس گواہ نے یہ بھی کہا کہ سردار پٹیل نے ان کو (جیٹلے کو )بلایا اور کہا کہ آر ایس ایس پر پابندی لگانا مشکل ہے کیونکہ مسلمان پہلے سے اس کے خلاف ہے اور وہ (سردار پٹیل) نہیں چاہتے کہ ہندوؤں کا ایک طبقہ بھی اس کے خلاف ہو جائے۔
سردار پٹیل کا موقف بڑا حیرت انگیز ہے اور ان کی منطق کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔جسٹس کپور کمیشن نے جس کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ اس بات کی تحقیق کرے کہ گاندھی جی کے قتل کی سازش کی پہلے سے کسی کو اطلاع تھی ۔ اور جس کو یہ معلوم تھا اس نے کیا کیا؟ اس کمیشن نے ڈاکٹر سوشیلانائر کی گواہی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ ’’آر ایس ایس کے تعلق سے گاندھی جی کے رد عمل کا ذکر سوشیلا نائر نے اس سے واقعہ بیان کیا کہ جب انہوں نے واہ کے مقام پر آر ایس ایس کے والینٹرس کے کام کی تعریف مہاتما کے سامنے کی تو مہاتما نے کہا تم انکو نہیں جانتی ہو وہ فاشتوں اور نازیوں کی طرح بلاسٹ شارٹ ہیں۔‘‘ یہاں اس بات کو نوٹ کرنا چاہئے کہ آر ایس ایس کیمپ میں جانے کے باوجود گاندھی جی آر ایس ایس کے خلاف سخت رائے رکھتے تھے۔ ۱۲؍ستمبر ۱۹۴۷ء کے لگ بھگ آر ایس ایس کے سربراہ نے گاندھی جی سے ملاقات کی۔ اور ان سے کہا کہ وہ مسلمانوں کو مارنا نہیں چاہتے۔ بلکہ ہندوؤں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں یعنی ان کا کام حفاظتی ہے اور تباہ کاری نہیں ہے اور آر ایس ایس امن کی تائید میں ہے لیکن جب مہاتما نے کہا کہ وہ کھلے عام ان الزامات کی تردید کرے اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور قتل کرنے کی مذمت کرے انہوں نے کہا کہ گاندھی جی خود یہ کام کر سکتے ہیں۔ چند دن بعد آر ایس ایس کے لیڈرس گاندھی جی کو اپنے ریالیوں میں ایک ریالی میں شرکت کے لئے لے گئے جو سویپرس کالونی میں تھی۔ انہوں نے گاندھی جی کا استقبال کیا اور کہا کہ وہ ایک عظیم ہندوہیں جنہیں ہندوستان نے پیدا کیا۔
جواب میں گاندھی جی نے کہا کہ وہ ہندو ہونے پر فخر کرتے ہیں لیکن ہندو مت دوسرے مذاہب کا مخالف نہیں ہے۔ مہاتما گاندھی کے ۱۹۴۸ء میں قتل کے بعد آر ایس ایس کے کئی اہم لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔ اور بحیثیت تنظیم آر ایس ایس پر ۴؍فروری ۱۹۴۸ء کو پابندی لگائی گئی۔ لیکن اس پابندی کی عمر بہت مختصر رہی۔ ہندوستانی حکومت نے اس شرط پر پابندی اُٹھانے سے اتفاق کیا کہ آر ایس ایس باضابطہ اپنا ایک دستور بنائے۔ آخر کیوں آر ایس ایس سے یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ہندوتواء یعنی ہندو راج کے فاشسٹ نظریہ کو ترک کر دے کیونکہ نائب وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سردار پٹیل اس سے ہمدردی رکھتے تھے۔ وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھی آر ایس ایس کو ۱۹۶۳ء کے یومِ جمہوریہ پریڈ میں حصہ لینے کی دعوت دی۔ جب کئی تنظیموں نے اس پر اعتراض کیا تو نہرو نے کہا کہ میں نے تمام محب وطنوں کو پریڈ میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔ اس واقعہ نے آر ایس ایس کی مقبولیت میں اضافہ کیا اور اس کے قومی امیج کو تقویت پہنچائی۔ ۱۹۶۵ء کے ہند پاکستان جنگ کے موقع پر وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے آر ایس ایس سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ دہلی کا ٹریفک کنٹرول سنبھالے تاکہ پولیس والوں کو دفاعی ذمہ داریاں دی جا سکیں۔ آر ایس ایس نے اپنے قیام ہی سے مخالف مسلم ایجنڈہ کو آگے بڑھایا ہے۔ اور ملک میں کئی مسلم کش فسادات کروائے ہیں تقریباً ان تمام فسادات میں جن کی تحقیقاتی کمیشن کے ذریعہ تحقیقات کروائی گئیں۔ ان کمیشنوں نے آر ایس ایس کو فسادات کو بھڑکانے اور مسلمانوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا ۔ چند کمیشنوں نے یہ بھی بتایا کہ آر ایس ایس بعض انجمنیں قائم کرتی ہے جیسے :۔ رام ترون منڈل، جن رکشک منڈل، ہندو واہنی وغیرہ۔ اور ان انجمنوں کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف فسادات کرواتی ہے تاکہ ذمہ داری سے بچ سکے۔ جسٹس جگن موہن ریڈی کمیشن نے ۱۹۶۹ء کے احمد آباد فسادات کے پیچھے آر ایس ایس کے ہاتھ کو محسوس کیا۔ جسٹس مادان کمیشن نے ۱۹۷۰ء کے بھیونڈی، جلگاؤں اور مہاڑ کے فسادات میں آر ایس ایس کی کارستانی پائی۔ آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کے دوسرے گروہوں وی۔ایچ۔پی۔ بجرنگ دل پر اڈیشہ میں ہوئے عیسائیوں کے خلاف ۲۰۰۸ء کے فرقہ وارانہ تشدد کے لئے فضاء بنانے اور انکی تنظیم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ امریکہ کی ایک کرسچن خیراتی تنظیم نے جو اڈیشہ میں کام کرتی ہے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان انتہا پسندوں نے ہندو ہجوموں کو عیسائیوں کو ختم کرنے اور انکے گھروں کو تباہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ آر ایس ایس نے اس الزام سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ اور اس تشدد کا الزام کانگریس پر لگایا ہے۔
بابری مسجد کا انہدام
جسٹس لبرہان کمیشن نے تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سنگھ پریوار نے بابری مسجد کے انہدام کو منظم کیا۔ اور یہ ریمارک کیا ہے کہ ایودھیا میں مندر کی تعمیر کی مہم (بشمول انہدام بابری مسجد )کا سہرایا الزام لازمی طور پر سنگھ پریوار کے سر جانا چاہئے۔
دہشت گردی کا اعتراف
آر ایس ایس نے چند وجوہات سے فی الوقت فرقہ وارانہ فسادات کروانے کے بجائے یہ حکمت عملی اختیار کی ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ اس طرح بنایا جائے۔ اور اس طرح اسکو روبہ عمل لایا جائے کہ ان قابل نفرت جرائم کا الزام مسلمانوں پر جائے۔ اور انکی طرف انگلی اٹھائی جائے اور پولیس اور انٹلی جنس ادارہ، مسلمانوں کو بدنام کریں۔ مکہ مسجد، مالیگاؤں، اجمیر شریف، سمجھوتہ ایکس پریس اور دیگر کئی بم دھماکوں کے پیچھے آر ایس ایس کی سازش تقریباً ثابت ہو چکی ہے۔ سوامی اسیما آنند، کماری پرگیہ سنگھ ٹھاکر، جن کا تعلق آر ایس ایس سے رہا رہے دہشت گردانہ الزامات کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔
آر ایس ایس کا نظریہ
آر ایس ایس کا نظریہ اور وہ تصورات جن کو وہ ہندو بھائیوں میں پھیلاتی ہے ہمارے ہندوستان جمہوریہ کے مقاصد سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں ۔ایم۔ایس۔ گولوالکرکی کتاب ’’We or Nation hood Defined‘‘ آر ایس ایس کو نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ یہ سیوک سنگھیوں کی بائبل ہے۔ گولوالکر لکھتا ہے۔’’ہندوستان کے غیر ہندو عوام یا ہندو ثقافت یا زبان اختیار کریں۔ ہندو مذہب کو سیکھیں اُسکی عزت کریں اور اس کو مقدس جانیں اور ہندو نسل اور ہندو مذہب و ثقافت کو شانداد بنانے کے سواکوئی اور خیال نہ رکھیں۔ یا دوسرے الفاظ میں بیرونی شہری بیرونی ہونا ختم کریں اور اس ملک میں ہندو قوم کے بالکل ماتحت بن کر رہیں۔ کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں۔ کسی رعایت کا حق نہ سمجھیں اور ترجیحی سلوک کے برخلاف شہریت کا حق بھی چھوڑ دیں‘‘ اس کتاب میں یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے مسئلہ کا حل اسی طرح کیا جائے جس طرح کہ ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے مسئلہ کو حل کیا تھا۔ گولوالکر لکھتا ہے۔
’’نسل اور ثقافت خالص رکھنے کے لئے جرمنی نے سامی نسل یعنی یہودیوں کا ملک سے صفایا کرکے دنیا کو چونکا دیا۔ نسل پر فخر کے جذبہ کا عملی مظاہرہ یہاں ہوا۔ جرمنی نے یہ بھی بتا دیا ہے کہ نسل اور ثقافت کے اختلافات کے ساتھ انصام یا اتحاد تقریباً ناممکن ہے۔ سب کو جرمنی نسل اور ثقافت میں ضم ہو جانا چاہئے یہ ایک بہترین درس ہندوستان میں ہمارے لئے ہے۔ جس سے سبق لینا چاہئے اور فائدہ اٹھانا چاہئے ‘‘میں ہندوستانی عدلیہ کے ارکان، قانونی ماہرین، سوشل ورکرس، سیاست دانوں اور ان سے جو ہمارے ملک میں ذمہ دارانہ مقام پر فائز ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس پر غور کریں۔ کیا ایک تنظیم یا افراد کا گروہ جو ہندوتوا نظریہ کو جان و دل سے عزیز رکھتا ہے۔ اور جس کی ملک دشمن سرگرمیوں کا مختصراً جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کو اس بات کی کھلی اجازت رہے کہ وہ غیر ہندوستانیوں کی خلاف بالخصوص ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کا زہر پھیلائیں اور قتل آتش زنی اور تباہ کاری کی سازش کریں۔ کیا یہ انکا جو دستور کو برقرار رکھنے۔ محفوظ رکھنے اور مدافعت کرنے کا حلف لیتے ہیں اور انکا جو دستور سے وابستگی اور دستور سے وفاداری کا عہد لیتے ہیں، یہ فرض نہیں ہے کہ اس نظریہ اور اسکی تبلیغ کرنے والوں کو لگام لگائیں۔ اور ہندوستانیوں میں ہمارے سیکولر جمہوریت کے مقاصد کو مضبوط بنانے اور قائم رکھنے کا جذبہ پیدا کریں۔ ہندو توا ہمارے ملک کے لئے خطرہ ہے اور اسکو ختم کرنے یا کنٹرول میں رکھنے کے لئے کچھ نہیں کیا گیا تو ہمارا جمہوریہ تباہی سے دوچار ہوگا۔ اور ہندوستان میں برہمن سامراجیت قائم ہوگی۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *