اردو میڈیا میں یہودی دراندازی

پرانی کہاوت ہے کہ مشکل میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ یہ کہاوت غزہ اور فلسطین کے باشندوں پر مکمل طور پر صادق آتی ہے۔ عرب ممالک تو خیر ان کے کھلے دشمن ہیں ہی کیونکہ ان کی جنگ لڑنے والے ’’سیاسی اسلام‘‘ کے ماننے والے ہیں ۔جس سے ان ممالک کے حکمرانوں کو خطرہ ہے۔ مگر ہندوستان کے مسلمان کی اکثریت ان کے ساتھ رہی ہے۔ یہاں کا اردو پریس بھی ان کے حقوق اور ان کی مظلومانہ صورتحال کے خلاف جدو جہد میں برابر شریک رہا ہے۔ مگر بش کے افغانستان حملہ کے بعد امریکی، صیہونی مشترکہ کوشش کے تحت جب مشرقی ایشیا کے خصوصاً بھارت کے مسلم عوام تک سیدھا اپنا رُخ اور موقف رکھنے کی مہم شروع کی گئی اور خصوصاً تمام بڑی مسلم جماعتوں، اداروں، مدارس اور خصوصاً اردو میڈیا کے بڑے بڑے مدیران اور صحافیوں کو امریکہ میں مسلمانوں کی بہتر اور خوشحال زندگی کا معائنہ کرانے کے لئے امریکہ کے دورے ،ان کے خرچ پر اور تحائف کے ساتھ کرائے گئے ۔ تبھی سمجھ میں آگیا تھا کہ پٹرو ڈالر کے بعد اب سیدھا ڈالر میدان میں اتار دیا گیا ہے۔ اِن دوروں کے بعد پول کھلنے کی باری آئی تو بڑی بڑی عذر گناہ بد تر ازگناہ جیسی وضاحتیں دی گئیں۔ ایک بڑے اخبار کے بڑے مدیر جو اب اپنا الگ اخبار نکال رہے ہیں ان کے دورۂ اسرائیل کے عین وقت پر کینسل ہونے اور جونیر صحافیوں کو اسرائیل بھیجے جانے کی خبر اس اخبار سے باہر آئے دوسرے صحافیوں کے اپنے اخباروں کے ذریعہ منظر عام پر آگئی ہیں۔ مگر تماشہ یہ ہے کہ پول کھولنے والے خود ڈالروں کے غلام ہو گئے ہیں۔ کیونکہ اخبار نکالنے یا دھندہ چلانے کے لئے ’’حقیقت پسند ہونا پڑتا ہے‘‘ اصول پسندی سے تو گھاٹا ہوتا ہے۔ بش کے دور میں جو تعلقات عامہ اور خاصہ بنانے کی مہم شروع کی گئی تھی اس کا اثر مستقل بعض اخباروں میں صاف نظر آرہا ہے۔ غزہ پر حالیہ صیہونی بمباری اور قتل غارتگری پر دہلی کے کچھ اردو اخبار ’دھندہ‘ اور ’اصول‘ دونوں کو ساتھ لیکر چلنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اس کوشش کو انہوں نے ضرور اپنی حقیقت آشکار کر دی ہے۔ قرآن پاک میں بھی آزمائش کی ایک مصلحت یہ بتائی گئی ہے کہ کھرا اور کھوٹا الگ الگ ہو جاتا ہے۔ منافق اور مومن الگ الگ ہو جاتا ہے۔ ایمان فروشی اور ضمیر فروشی نیا جرم نہیں ہے یہ ہمیشہ ہر قوم میں موجود رہا ہے اور آج بھی ہے اور قیامت تک رہیگا۔
12/08/2014کو روزنامہ راشٹریہ سہارا کے اداریہ میں فرمایا گیا ’’یوروپی ممالک اور اسرائیل میں فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کو اسرائیلی حکومت اور حماس کے لوگ سمجھنے کی کوشش کریں ۔ وہ یہ سمجھیں کہ طاقت سے وقتی طور سے تو برتری حاصل کی جا سکتی ہے لیکن مسئلہ کا دیرپا یا حل نہیں تلاش کیا جا سکتا۔ مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے کئی باتوں کو اسی طرح نظر انداز کیا جاتا ہے جیسے فلسطینی لیڈر محمود عباس اسرائیل سے امن مذاکرات کے لئے ہمیشہ تیار رہے۔ فلسطینیوں سے اظہار حمدردی کرنے والوں میں اضافہ عباس کی کوششوں سے بھی ہوا۔۔۔۔۔۔۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے لیڈر حالات کو سمجھیں اور کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے یہ سوچ کر گفتگو کی میز پر آئیں کہ وہ بھی انسان ہی ہیں کب تک انسانوں کو مرتا ہوا دیکھ سکیں گے۔ انسانوں کو مار مار کر عالمی رائے عامہ اپنے حق میں برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ (راشٹریہ سہارا دہلی ادارہ (12/8/014)
اس سے قبل دہلی کے اردو اخبار ہمارا سماج نے 28/7/014کے اپنے اداریہ میں انتہائی ڈھٹائی بے شرمی اور بے حسی سے غزہ پر یہودی تمازتگری کے لئے حماس کے ’’ضدی‘‘’’اڑیل‘‘ ’’من مانے‘‘ رویہ اور ’’بے قصور شہریوں کے قتل عام ‘‘ کے رویہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ (اداریہ ہمارا سماج دہلی 28/7/014) اردو کے ہی ایک اور خود ساختہ دانشور اور ’’مولٰنا‘‘ وحید الدین خاں نے بھی Tolمیں یہی رویّہ اپناتے ہوئے حماس کو ’’حقیقت پسند‘‘ نہ ہونے کا الزام دیا ہے۔
وہ کیا حقیقت ہے جسکی طرف یہ تمام نام نہاد امن کے داعیان توجہ دلانا چاہتے ہیں سوائے اسکے کہ اسرائیل اور امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہیں ،سب سے بڑے ظالم ملک ہیں ، سب سے بڑی مالی طاقت، سائنسی طاقت ہیں اور دنیا بھر میں جہاں جہاں انصاف کا گلا گھونٹا جاتا ہے وہاں ان کی سازشیں ہی ہوتی ہیں۔ یہ ’’دانشور‘‘ ظالم اور مظلوم کو ایک پلڑے میں رکھتے ہیں ۔ یہ نام نہاد ’’دانش فروش‘‘ ظالموں سے کیوں نہیں کہتے کہ غاصبو تم نے 44سال سے طاقت کے بل پر ارض مقدس فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے اسے خالی کر دو اِس کے بجائے مظلوم سے کہتے ہیں کہ کچھ لو اور دو کا معاملہ کر لو۔ یہ ظالم دانش فروش مظلوم کے حق میں کلمۂ خیر بلند کرنے کے بجائے ظالم کی طاقت اور ہیبت کا لرزہ طاری کرکے ملت کو اپنی طرح بے غیرت اور غلام بنانا چاہتے ہیں۔ جس امن پسندی اور حقیقت پسندی کا عباسی مظاہرہ کر رہے ہیں اس کے صلہ میں کیا مسئلہ فلسطین حل ہو گیا؟ جب فلسطین کے عوام نے 2006؁ء میں حماس کو فتح دلاکر اقتدار سونپا ہے تو’’ فتح‘‘ کس کے ایماء پر فلسطینیوں میں انتشار پیدا کر رہی ہے؟ کیوں نہ وہ دوبارہ انتخابات کراکر پھر آزمالیتی کہ اسے اور اسکی طرح دنیا بھر میں بزدلوں اور غیرت اور حمیت فروشوں کے ٹولہ کو معلوم ہو جاتا کہ فلسطینی عوام کیا چاہتے ہیں؟
دنیا میں کیا ایک بھی مثال ہے کہ جب صرف طاقت کے بل بوتے پر کمزور سے کمزور قوم کو بھی ہمیشہ کے لئے غلام بنا کر رکھا جا سکا ہو۔ پھر فلسطینی جیسے غیور اور بہادر لوگوں سے اس کی امید کرنا کوئی انصاف کی بات ہے۔ جہاں تک امن پسند ذریعہ سے بات منوانے کی بات ہے تو یہ بات تو سب پر لاگو ہوتی ہے یا صرف مظلوم پر ہی لاگو ہوتی ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائے اور ظالم کو کھلی چھوٹ ملی رہے۔
فلسطین مسئلہ کا حل وہی ہے جو ان ظالم طاقتوں نے غزہ اور افغانستان میں کیا یونی طاقت یا پر امن طریقہ سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل در آمد کرایا جانا۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر کویت پر حملہ کے خلاف عراق پر 22 ملک چڑھ دوڑتے ہیں، جھوٹے ثبوتوں کے ذریعہ کیمیاوی ہتھیار اور WMDکا ہوّا کھڑا کرکے پھر اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل ہوتا ہے۔ افغانستان پر 27ملک چڑھ دوڑتے ہیں جبکہ اسامہ کے خلاف کوئی کیس تک درج نہیں کیا گیا ۔ سوڈان جیسے سب سے بڑے افریقی ملک کو اقوام متحدہ کی قرار داد سے چھ مہینہ میں دو ٹکڑے کرکے عیسائی اکثریتی بالکل نیا ملک بنا دیا گیا۔ انڈونیشیا سے الگ کرکے مشرقی تیمور الگ ملک بنا دیا گیا تو فلسطینیوں کی اپنی ہی زمین سے ظالم غاصب کے خلاف اقوام متحدہ اپنے ریزولیوشن کو کیوں نہیں نافذ کرا پائی؟ یہ سوال ہے جو آج اور کل یوم قیامت بھی ’’راشٹریہ سہارا‘‘ ’’ہمارا سماج‘‘ ’’الرسالہ‘‘ کے مدیر صاحبان کو دینا ہوگا۔ ان کو کیا مجبوری ہے کہ مظلوم کے حق میں مکمل انصاف کے بجائے مظلوم کو ہی گنہگار بتا رہے ہیں کہ وہ اپنا حق مکمل کیوں مانگ رہا ہے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *