آر ایس ایس کا سہ روزہ لکھنؤ اجلاس، پیغام اور اشارے

۲۲؍برسوں کے بعد یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں آر ایس ایس کے سہ روزہ اجلاس نے جو اشارے دئیے ہیں اور اس کے زیر بحث امور سے جو پیغامات ملتے ہیں، ان سے ملک ایک مخصوص سمت میں جاتا نظر آتا ہے، ایسی حالت میں جہاں سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے، وہیں اقلیتوں خصوصاً اپنی تہذیبی و فکری اور مذہبی شناخت پر حد سے زیادہ حساس اور اصرار کرنے والی مسلم اقلیت اور اس کی قیادت کے سامنے کئی سوالات اور قابل غور امور رکھ دئیے ہیں، اگر ملک کے مفاد اور ترقی کے مقصد سے مشترک مسائل میں باہمی اشتراک اور یک جہتی کی باتیں ہوتیں تو فکر و تشویش کی کوئی بات نہ تھی، لیکن اجلاس کی تینوں دنوں میں جن مسائل پر بحث و گفتگو کرتے ہوئے آر ایس ایس نے جن نقاط نظر اور موقف کو ملک کے سامنے رکھا ہے، اس سے بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ وہ اور اس سے وابستہ اعلیٰ عہدے داران سے لے کر ادنیٰ رضا کاروں تک کا یہ مستحکم موقف ہے کہ دوسری کمیونٹیز اور اقلیتوں کے بہ طور ہندوستانی شہری اور مذہبی شناخت کے حوالے سے کوئی وجود نہیں ہے، اس کو گولولکر سے لے کر آج کے سنگھی منصب دار، ملک اور سماجی اتحاد میں رکاوٹ مانتے ہیں، اسی کے مد نظر یہ علی الاعلان کہا گیا کہ ملک میں کوئی اقلیت نہیں ہے، سب ہندو ہیں، اس لئے سنگھ اپنی شاکھاؤں کا ہندو مسلم اور عیسائی ذات پات کے لحاظ سے اعلیٰ ادنیٰ یا دیگر کسی درجہ بندی پر مبنی کوئی اعداد و شمار نہیں رکھتا ہے، سنگھ کے قومی ترجمان اور تشہیر دعوت کے سربراہ ڈاکٹر من موہن ویدیہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ثقافتی شناخت برقرار رکھنے اور سماجی کاموں میں تعاون کرنے کے خواہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آر ایس ایس کی رکنیت حاصل کر رہی ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں ایسے نوجوانوں کی تعداد میںا ضافہ ہوا ہے ، جن میں بڑی تعداد میں مسلم نوجوان بھی شامل ہوئے ہیں، حالیہ برسوں میں اپنی ثقافتی شناخت کی بازیابی کے لئے لوگوں کا رجحان آر ایس ایس کی طرف بڑھا ہے، سنگھ کی رکنیت حاصل کرنے والے مسلم نوجوانوں میں ان کی تعداد زیادہ ہے، جو تعلیمی اداروں میں زیر تربیت ہیں، سنگھ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ثقافتی لحاظ سے تمام ہندوستانی ایک ہیں اور ذات برادری کی بنیاد پر سماج کی طبقاتی تقسیم میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ اجلاس کے اختتام تک جن امور پر تبادلہ خیالات کے بعد سنگھ نے سرکار اور ملک کے عوام کی توجہ مبذول کرائی ہے، وہ سنجیدہ غور و فکر کے بعد کچھ کرنے کی دعوت دیتے ہیں، اجلاس کے آغاز سے اختتام تک غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سنگھ نے بڑی باریکی (مہین طریقے) سے اپنے اغراض و مقاصد سے ملک کے عوام کو جوڑنے کی کوشش کی ہے، سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار اور فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کرنے والے گروگولولکر کے سامنے جب سنگھ میں مسلمانوں و غیرہ کی شمولیت و شرکت کی بات آئی تو انہوں نے یہی کہا کہ ہمارے سامنے اصل میں سردست ہندو اکثریت کو متحد و مستحکم کرکے ایک مخصوص سمت میں لے جانے کا مسئلہ ہے، اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ضروری ہے، اب سنگھ کے لکھنؤ اجلاس اور اس سے کچھ ہی دنوں پہلے سے یہ اطلاعات برابر مل رہی ہیں کہ تعلیمی اداروں میں زیر تربیت مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنی ثقافتی شناخت کی بازیابی کے لئے سنگھ کی رکنیت حاصل کر رہی ہے، اس سے تین باتیں صاف ہو جاتی ہیں:۔
(۱) سنگھ پہلے سے طاقتور ہو کر اپنے پیروں پر کھڑا اور مستحکم ہو گیا ہے۔
(۲) بہت سے ایسے مسلم نوجوان ہیں، جو مسلم تنظیموں کی جدو جہد اور رابطہ مہم سے باہر ہیں، اور وہ ثقافتی شناخت کو لے کر بے چین اور مجہول اور موہوم جذبہ تلاش کے سبب نظریاتی و فکری لحاظ سے درمیان میں معلق ہیں۔
(۳) اقلیتوں خصوصاً مسلم اقلیت میں بھی آر ایس ایس کے جذب و انضمام کی مہم کو کامیابی مل رہی ہے، سوال یہ ہے کہ ان مسلم نوجوانوں کو اپنی ثقافتی شناخت کا شعور ہے،اور وہ جانتے بھی ہیں کہ آر ایس ایس ہندوستان کی کون سی تہذیب و ثقافتی شناخت کا داعی ہے اور وہ مسلم نوجوان کن کن شہری و دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کے علاوہ ہمارے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ یہ سنگھ کی ثقافتی شناخت سے وابستہ ہونے کے بعد امت مسلمہ کے فرد ہونے کی حیثیت سے توحید پر مبنی اپنی شناخت باقی رکھ پائیں گے، یہ سوال ایسے وقت میں اور اہم ترین ہو جاتا ہے کہ آر ایس ایس علی الاعلان یہ کہہ رہا ہے کہ ملک میں کوئی اقلیت نہیں ہے، سب کے سب ہندو ہیں، ظاہر ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے وجود سے انکار ایک غیر آئینی رویہ ہے، آج تک سرکاری اقدامات سے لے کر عدلیہ کے فیصلوں ، تبصروں میں بے شمار معاملات میں اقلیتوں کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن آر ایس ایس شروع ہی سے آئین ہند میں مندرج خصوصی دفعات کو لے کر اپنے مخصوص نظریے و موقف کا اظہار کرتا رہا ہے اور اسے دور غلامی کی یادگار قرار دیتا آیا ہے، نریندر مودی سرکار بہت سے قوانین کو ختم کر دینے کی سمت میں جو آگے بڑھ رہی ہے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے اثرات دور تک پہنچیں گے اور اسے سنگھ کی تطہیری مہم سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ہے، اعلیٰ عہدیداروں کے اجلاس میں ملک میں اقلیتوں کے وجود سے انکار کرتے ہوئے تمام ہندوستانیوں کو ہندو قرار دینے سے صاف ہو جاتا ہے کہ ماضی اور حال فی الحال کے دنوں میں سنگھ کی طرف سے ملک کے سبھی باشندوں کو ہندو قرار دینے پر جو تنقیدات و اعتراضات کئے جاتے رہے ہیں ، ان کو سنگھ ناقابل توجہ سمجھتے ہوئے اپنے سابقہ موقف پر مضبوطی سے قائم ہے، اس سلسلے کی یہ بڑی دل چسپ بات ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ افراد پریس کانفرنسوں میں سب کو ہندو قرار دینے سے متعلق جو سوالات و اعتراضات کئے ہیںان کو سامنے نہیں لاتے ہیں، لکھنؤ اجلاس کے زیر بحث امور اور تجاویز کے بارے میں سنگھ کے مختلف ذمہ دار پریس سے بات چیت میں بھی کسی نے سوال نہیں اٹھایا کہ آخر سنگھ ملک کے حوالے سے ملک کے باشندوں کی شناخت ہندی، ہندوستانی کے بجائے ایک ایسی مخصوص کمیونٹی کے حوالے سے شناخت کیوں قائم کرنا چاہتا ہے جس کے بیشتر ثقافتی مظاہر و مراسم شرک پر مبنی ہیں؟ وطنی حیثیت سے تمام باشندگان کی شناخت بننے سے نہ تو اقلیتوں کے وجود کی نفی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، نہ اپنے اپنے مذہب و عقیدہ پر عمل کرتے ہوئے ملک کے مشترکہ مفادات و مقاصد کے لئے جدوجہد کرنے کی راہ میں کوئی قباحت و رکاوٹ ہے، اسی کی طرف مولانا ابوالکلام آزاد ؒ اور مولانا حسین احمد مدنی ؒ جیسے بزرگوں نے ’’متحدہ قومیت‘‘ کے عنوان سے ملک کو متوجہ کیا تھا، جب کہ ڈاکٹر علامہ اقبال اور مولانا مودودی وغیرہم کو ہندو مہا سبھا اور آریہ سماجوں کی شدھی تحریک کے مد نظر قوی خدشہ تھا ملک کی ہندو اکثریت کا برہمن وادی طبقات مسلم اقلیت کو ’’متحدہ قومیت‘‘ کے نام سے خود میں ضم کرنے کی کوشش کریں گے۔ ورنہ آخر الذکردونوں حضرات بھی وطنی حیثیت سے اتحاد اقوام کے بنیادی طور سے مخالف نہیں تھے، یہ افسوسناک بات ہے کہ کانگریس اور بعد کی دیگر سیکولر کہی جانے والی پارٹیوں نے جارحانہ ہندو فرقہ پرستی کا ہندو تو کے مد نظر، جس طاقت سے مخالفت و مزاحمت کرنا چاہئے تھی نہیں کی، جس کی وجہ سے مولانا مدنی ؒ اور مولانا آزاد ؒ کے متحدہ قومیت کے تصور کو مطلوبہ تقویت نہیں ملی، اور آر ایس ایس کو ثقافتی شناخت اور تہذیبی راشٹرواد کے نام پر تمام ہندوستانیوں کو ہندو قرار دینے سے متعلق اپنے نظریے کی تشہیر کا پورا پورا موقع اوروسیع تر میدان مل گیا، یکساں سول کوڈ کے نفاذ پر حد سے زیادہ زور دینے کے پس پشت بھی سنگھ کا یہی مقصد کارفرما ہے کہ اس سے دیگر اقلیتوں کا وجود، ہندو اکثریت میں ضم اور گم ہوجانے کی راہ ہموار ہوگی، اور بعد میں نتیجے کے طور پر ملک میں صرف ایک کمیونٹی ہندو رہ جائے گی، مختلف مباحثوں و مذاکروں میں ہم جیسے طالب علموں کے سامنے یہ سوال آتا ہے کہ کیا ہندو ثقافت اور ہندوستانی ثقافت ایک ہی ہے، یا جدا جدا؟ اگر ایک ہے تو پھر سنگھ کے لوگ ہندی اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے بجائے ہندو شناخت اور ثقافت پر متنازعہ بات کیوں کرتے ہیں؟ سنگھ کے لوگ گذشتہ ۲۵، ۳۰ برسوں سے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے حوالے سے یہ سامنے لارہے ہیں کہ اگر ہم مسلمان یا عیسائی ہو جائیں گے تو بھارتیہ سنسکرتی ہندوستانی ثقافت و تہذیب سے الگ ہو جائیں گے، اس لئے بودھ مت کو انہوں نے قبول کیا، لیکن یہ بات دل چسپ ہے کہ نہ تو بابا صاحب کی شائع شدہ تحریروں میں واضح و متعین طور سے ہندوستانی ثقافت کی تعریف ملتی ہے، نہ ہی سنگھ والوں نے ان کے حوالے سے آج تک بتایا کہ ہندوستانی ثقافت کیا ہے؟ صرف مبہم اور گول مول انداز میں بھارتیہ سنسکرتی اور ثقافتی شناخت کی بات کرکے اقلیتوں خصوصاً مسلم اقلیت اور اس کے دینی اداروں ،مدرسوں اور ملک کی ثقافتی شناخت سے خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں، جالندھر اور دوسرے مقامات سے اردو ،ہندی، پنجابی میں شائع ہونے والے روزنامے اخبار کے مدیر صفحہ اول اور ادارتی صفحہ کے اداریے میں یہ مدعا اٹھاتے رہتے ہیں کہ مدارس والے اور ملک کے مسلمان، ہندوستانی ثقافت اور تہذیب سے دور ہونے کے سبب ہی، شیواجی اور رانا پرتاپ سنگھ کے بجائے ، محمود، بابر وغیرہ سے زیادہ قرب محسوس کرتے ہیں۔لیکن کمال کی بات ہے کہ وہ یہ نہیں بتاتے ہیں کہ بھارتیہ سنسکرتی اور ہندوستانی ثقافت کیا ہے، جس سے مسلمان آج تک الگ تھلگ ہیں، راقم سطور نے بارہا شیو سینا، آر ایس ایس اور بی جے پی کے نمائندوں سے ٹی وی مذاکرات اور دیگر مواقع پر سوال کیا کہ یہ تو بتائیں کہ ہندو سنسکرتی اور ہندوستانی ثقافت کیا ہے؟ اور کس طرح مسلمان اس سے دور و نفور ہیں ، اور ہندوستانی مسلمان اور مسلم اقلیت کس طرح سنگھ والوں سے ہندوستانی تہذیب سے کم وابستگی رکھتے ہیں، تو وہ آج تک کوئی واضح جواب نہیں دے سکے ہیں، نریندر مودی سرکار کی تشکیل کے بعد سنگھ اور اس کی ذیلی و معاون تنظیموں کی طرف سے مختلف عنوانات کے تحت مختلف سطحوں پر سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں، اس کے مد نظر ملک کی ثقافتی شناخت کے حوالے سے کئی طرح کے سوالات سامنے آئیں گے، جن کے جوابات ملک کے وسیع تر تناظر میں ہمیں تلاش کرنے ہوں گے، آر ایس ایس کے لوگ بڑی تیاریوں کے ساتھ اپنی باتوں کو آگے بڑھا رہے ہیں، جب کہ مسلم اقلیت اور سماج کی طرف سے نمائندگی کرنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بغیر ضروری تیاری اور مطالعے کے مذاکرات میں شریک ہو جاتی ہے، اگر ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے متعلق جاری بحث و گفتگو میں صحیح سوال نہیں اٹھایا جا سکے گا تو مسلم اقلیت پر غلط اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ان نوجوانوں پر جو تہذیبی و ثقافتی شناخت کو لے کر تذبذب اور بے چینی میں مبتلا ہیں، ایسی حالت میں قیادت کے حوالے سے سوال سامنے آئے گا کہ وہ جواب فراہم کرنے کے سلسلے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔؟
سنگھ کے لکھنؤ اجلاس کے پیغام اور اشارے بالکل واضح ہیں کہ آنے والے دنوں میں کیا کچھ ہونے والا ہے؟

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *