ایک دعوتی تجربہ

سوامی اگنی ویش کی تقریر ختم ہو ئی تو دو تین لوگ سوالات کے لئے کھڑے ہو گئے ،۲۰۰۲ء میں گجرات فسادات میں ملک کی فضا مکدر ہو رہی تھی ،اس فضا کو ذرا ساز گار کر نے کے لئے حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی دامت بر کاتہم کا ’’پیام انسانیت ‘‘کے پر و گراموں کا ہر یا نہ اور مغربی یو پی کے بڑے شہروں کا دورہ تھا ، سونی پت میں مذہبی تنظیموں کے ذمے دار وں کو بڑی فکر سے جمع کیا گیا تھا اور شاید کو ئی ذمے دار خصوصاً ہندوں کا قابل ذکر ایسا نہ تھا ، جو اس جلسے میں موجود نہ ہو ، ان میں سے ایک شخص نے سوامی جی سے سوال کیا کہ یہ بات تو صحیح ہے کہ ہر مسلمان ٹیررسٹ (دہشت گرد ) نہیں ہو تا مگر یہ فیکٹ (سچ) ہے کہ ہر ٹریرسٹ (دہشت گرد ) مسلمان ہو تا ہے ،سوال کر نے والے ایک سکھ بھائی تھے ،سوامی جو بڑے منجھے ہوئے مقرر ہیں ،انہوں نے کہا نہیں یہ غلط ہے ،بھنڈاراں والا کیا مسلمان تھے ، کیا یہ نکسلی مسلمان ہیں اور وہ ساری دنیا میںدہشت گردوں کا سردار امریکہ کا صدر بش مسلمان ہے کیا؟وشو ہندو پریشد کے شہر کے ذمے دار دوسرا سوال کر نے والے تھے ،انہوں نے کہا ، سوامی جی! آپ یہ کہتے ہیں ، ہر مذہب امن و بھائی چارہ سکھا تا ہے مگر قرآن میں تو کافروں کو قتل کر نے کو کہا گیا ہے،یہ کہاں کا بھائی چارہ ہے سوامی جی نے کہا نہیں اصل میں قرآن کا مطلب آپ کو عالموں سے معلوم کر نا چاہئیے ،اس کا سیاق و سباق کیا ہے آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے یہاں بڑا مدرسہ ہے آپ وہاں جا کر عالموں سے معلوم کر یں آپ جو سمجھ رہے ہیں وہ مطلب نہیں ہے یہ حقیر جلسے کی نظامت کر رہا تھا سوامی جی سے درخواست کی کہ میں اس کا جواب دینا چا ہتا ہوں ،اس حقیر نے ان صاحب سے عرض کیا اصل میں قرآن کے پریچے ( تعارف)میں غلط فہمی ہے ،عام طور پر یہ سمجھا جا تا ہے کہ قرآن مسلمانوں کا دھارمک گرنتھ (مذہبی کتاب)ہے حالانکہ قرآن کا یہ Introduction(تعارف) بالکل غلط ہے ،قرآن میں ایک لفظ کہیں بھی نہیں آیا کہ قرآن مسلمانوں کا دھارمک گرنتھ ( مذہبی کتاب) ہے نہ اللہ کے آخری رسول ﷺ نے جن پر قرآن نازل ہوا ، انہوں نے بتا یا کہ قرآن مسلمانوں کا دھارمک گرنتھ ( مذہبی کتاب) ہے ،ہم سب مسلمان مجرم ہیں کہ ہمارے ذمہ جہاں قرآن پہنچا نا تھا ،وہیں قرآن کا صحیح تعارف کرانا بھی تھا ،ہم نے حق تلفی کی اور ظلم کیا ہے ، قرآن کو نہ پہنچا یا، نہ تعارف کرایا ،قرآن کا صحیح تعارف ( پریچے) یہ ہے کہ سارے سنسار ( کائنات ) کے سوامی ( مالک ) آپ کے اور ہمارے سب کے کر پاوان (رحمن) ،دیا وان (رحیم)ستر ماؤں سے زیادہ مامتا رکھنے والے رب کا پوری انسانیت کے لئے پریم پتر( محبت بھرا خط) اور جیون ( زندگی )گزارنے کا قانون ہے ، جس کوجاننا اور ماننا حضرت مولانا کے لئے جتنا ضروری ہے اسی طرح سوامی جی اور آپ کے اور ہمارے لئے بھی ضروری ہے،میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ قرآن مجید کو یہ سوچ کر ایک ایک لفظ پڑھیے کہ میری ماں کو ما متا دینے والے رب کا میرے لئے پریم پتر ( محبت بھرا خط)ہے، میرا خیال ہے بلکہ مجھے وشواس اور یقین ہے کہ آپ کو قرآن مجید کے ایک لفظ پر اعتراض نہیں ہو گا ، بلکہ آپ قرآن پڑھتے جائیں گے اور قربان ہو تے جائیں گے ،اگر ایک فی صد کو ئی بات آپ کو غلط یا قابل اعتراض لگے تو ہم سے شکا یت کیوں کریں گے،آپ کے مالک کا خط اور سندشیش ( پیغام) ہے،سیدھے آپ کے آتما ( روح ) کا اس سے تعلق ہے اس سے خود شکایت کیجئے۔ہمارے مالک ! یہ آپ نے کیا لکھ دیا ، یا کہہ دیا؟ ہم تو صرف ڈاکیہ ہیں پوسٹ مین سے کوئی لڑ تا ہے کہ تو سر کاری نوٹس کیوں لا یا ؟ اگر یہ آپ کو وارنٹ یا نوٹس لگ رہا ہے تو آپ سر کار کا دروازہ کھٹکھٹائیے۔
جلسہ ختم ہوا تو وہ صاحب اس حقیر سے چمٹ کر رو نے لگے مجھے حضرت مولانا کے ساتھ دہلی لوٹنا تھا،مگر انہوں نے بہت ضد کر کے شیخ صاحب سے درخواست کی کہ ہم ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیںحضرت نے مجھے رکنے اور ساتھ میں کھا نے میں شریک کر نے کا حکم دیا ،وہ صاحب بار بار کہتے کہ آپ نے میرا برین واش ( ذہن صاف)کر دیا ، اس کے بعد انہوں نے پاکستان کا سفر کیا اور ایک سال بعد یہاں ایک پر گرام میں اسلام کو سمجھنے اور قرآن کو پڑھنے پر زور دے کر تقریر کی۔
قرآن مجید نے جا بجا انبیاء علیہم السلام کی اپنی قوم کی نصیحت کے جملے نقل کئے ہیں۔اعبد وا ربکم ،اتقوا ربکم ،آمنو ابربکم ، اپنے رب کی عبادت کرو ،اپنے رب سے ڈر و ،اپنے رب کی مانو ، کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ ہمارے رب کی عبادت کرو ، ہمارے رب سے ڈرو، یہ انسانی فطرت کو سمجھ کر بڑا حکیمانہ اسلوب ہے ،جو انسانی فطرت کو بہت اپیل کر تا ہے اور مدعو کو قبولیت پر آمادہ کر نے میں مرکزی کردار ادا کر تا ہے ،افسوس ہے کہ ہم نے اول تو قرآن مجید کو لوگوں تک پہنچا نے اور اس کا تعارف کرا نے کی ذمہ داری سے مجرمانہ غفلت اختیار کی اور اگر تو فیق بھی ہو تی ہے تو گو یا اس طرح کہ ہمارا دین قبول کر لو ،ہمارے قرآن کو سمجھوان کے اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ان کا قرآن اور ان کا دین سمجھ کر پہنچا نے کی تو فیق ہی نہیں ،کاش ہم اس اہم دعوتی نکتے کو سمجھ کر ان کا دین اور ان کے اللہ کا کلام ان تک پہنچا نے کی کو شش کریں ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *