بدلہ

آگ اگلتے سورج کی تمازت پور ے شباب پر تھی۔ دہکتی ہوئی دھوپ میں آنکھیں مندی جارہی تھیں۔ مکہ سے طائف کو جانے والا ریگستانی راستہ حد نظر تک سنسان نظر آرہا تھا اور اس سناٹے میں صرف ایک سایہ مسلسل آگے بڑھتا جارہا تھا۔ اڑتی ریت کے گرم جھکڑوں نے اسے ڈھانپ رکھا تھا۔ شعلوں کی طرح سلگتی ریت میںاس کے پاؤں گڑے جارہے تھے۔ لیکن اس سایہ کا یہ سفر مسلسل کئی رات اور کئی دن سے اسی طرح جاری تھا۔
جانے کون سی لگن تھی جو اس سلگتے صحرا میں اسے بھٹکائے بھٹکائے پھر رہی تھی۔ گرم ریت پر چلتے چلتے اس کے تلووں میں چھالے پڑ گئے تھے۔۔۔۔ ہر قدم پر درد کی ایک لہر اس کے پورے وجود کو جھنجنا دیتی تھی۔ لیکن اسے اپنے درد کا کوئی احساس نہ تھا۔ شاید اس کے من میں سلگنے والا شعلہ تلووں کے درد سے کہیں زیادہ شدید تھا۔
خدا کا نام لینے کے جرم میں مکہ کی سرزمین اس پر تنگ ہو گئی تھی۔ ایک ایک کر کے سب ہی تو اس کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ ۹ سال —ہاں پورے ۹ سال۔ تکلیف ، جدوجہد—پریشانیوں اور تنہائیوں سے بھرے نوسال۔ ان ۹ برسوں کا کوئی لمحہ بھی اس کے لیے چین کا پیغامبر نہ بن سکا اور اب تو اس کے وطن کی آغوش اس کے لیے بالکل ہی اجنبی ہو گئی تھی۔ ساری دنیا میں اس کے دو ہی سہارے تھے۔ اس کے شفیق چچا اور اس کی باوفابیوی، لیکن وہ دونوں بھی اس دنیا سے منہ موڑ چکے تھے—باپ ، ماں، چچا، بیوی اور دوستوں کے ہر سہارے سے محروم—زندگی کی جدوجہد میں وہ بالکل اسی طرح تنہا تھا جیسے اس وقت اس تپتے صحرا میں وہ بالکل اکیلا تھا۔
اپنے وطن کے باسیوں— اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں سے مایوس ہو کر اب وہ طائف جا رہا تھا کہ اسے تو ہر دروازہ کھٹکھٹانا تھا اسے تو ہر موڑ پر دیئے جلانے تھے۔ چاہے تمام دروازے بھیڑ کیوں نہ لیے گئے ہوں اور چاہے تمام گلیاں اس کے لیے اجنبی ہی کیوں نہ ہو گئیں ہوں؟
طائف میں بسنے والا قبیلہ ثقیف اگر اس دعوت کا علمبردار بن جائے تویہ اجالا سارے عرب میں پھیل جائے گا— یہی آس—یہی آرزو اور یہی تمنا سینکڑوں میل لمبے اس جلتے راستے پر اسے کھینچے لیے جا رہی تھی— پہاڑیوں ، گڑھوں، دھول، مٹی اور ریت سے اٹا یہ راستہ اس کے بلند حوصلوں کے آگے کوئی بھی روک نہ لگا سکا تھا۔
اور کئی دن بعد جب بھوکا پیاسہ ، تھکا ہارا اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا اور جان توڑ سفر کی مشقت سے چور—وہ طائف کی سرزمین میں داخل ہوا تو وہاں اسے خوش آمدید کہنے کے لیے کوئی نہ تھا۔ اس کے لیے کوئی بستر نہ بچھا۔ اس کے لیے کوئی خوان نہ سجا، اسے کسی نے ٹھنڈے پانی کا بھی ایک گلاس نہ پلایا۔
وہ سیدھے طائف کے سرداروں کے پاس چلا گیا۔ اس نے اپنے من کا درد ان کے آگے انڈیل دیا، لیکن پتھروں کی اس بستی میں کوئی بھی شگوفہ نہ لہلہاسکا۔
اس کی دعوت کو حقارت سے ٹھکرا دیا گیا—طائف کے سرداروں نے اس پر بدمعاش چھوڑ دیئے اور ان بدمعاشوں نے تھکن اور بھوک پیاس سے چور چور اس مقدس وجود پر پتھروں کی بارش کر دی وہ پیچھے پیچھے تالیاں بجاتے جاتے اور تاک تاک کر اس کی ہڈیوں پر پتھر مار رہے تھے۔تھکن اور ضعف سے لڑکھڑا کر وہ مقدس وجود زمین پر گر جاتا تو بدمعاش اس کے کندھے پکڑ کر دوبارہ کھڑا کر دیتے اور پتھروں کی بارش برسانا شروع کر دیتے۔
وہ بازو جنہوں نے سینکڑوں بھولے بھٹکوں کو راستہ بتایا، نہ جانے کتنی ضعیف بوڑھیوں کا بوجھ اٹھایا—آج لہولہان تھے۔
وہ پیر—جنہوں نے ایک لمبے سفر کی ہزاروں صعوبتیں برداشت کی تھیں—صرف طائف والوں کی بھلائی کے لیے—خود طائف والوں نے انہیں خون میں نہلا دیاتھا۔
وہ سینہ جس میںانسانوں کا پیار سمندر کی طرح موجیں لیتا تھا، آج انیٹوں کی مار سے چھلنی تھا کون سا جرم کیا تھا اس انسان نے جس کی سزا طائف والوں نے اسے دی تھی۔ اس کا معصوم چہرہ تو اس کی بے داغ شخصیت کا آئینہ دار تھا اور اس کی آنکھیں بتاتی تھیں نہ جانے کتنی راتوں سے اسے سکون کی ایک نیند بھی میسر نہیںہوئی ہے۔
گالیاں، پتھر ، تالیاں اور دھکے۔ طائف کی سرزمین نے اپنے مقدس مہمان کا کیسا عجیب استقبال کیا تھا۔ پتھر برستے رہے، جسم سے خون بہتا رہا اور وہ تھکا ہارا مسافر بے جان ہو کر زمین پر گر پڑا۔ تب طائف کے بدمعاش واپس لوٹ گئے۔ کچھ ہی دیر بعد اس کاوفادار غلام زید بن حارث ، حیران و پریشان اسے ڈھونڈھتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔ اپنے خون میںشرابور۔۔۔۔۔۔بیہوش وہ زمین پر سمٹا پڑا تھا۔ آہستگی اور احترام کے ساتھ زید نے اسے اٹھا لیا اور ایک باغ کی طرف رخ کیا ۔ غصہ اور انتقام کی آگ سے زید کی آنکھیں دہکی جا رہی تھیں۔ مہمانوں کااحترام کرنا عربوں کی قدیم روایت رہی ہے لیکن دنیا کے اس سب سے مقدس مہمان کے لیے طائف کے پاس صرف پتھرو ںاور گالیوں کی سوغات تھی۔
غصہ کی یہ آگ پگھل پگھل کر افسوس کے آنسوؤں میں بدلتی گئی اور زید کی آنکھوں سے آنسوچھلکنے لگے۔
افسوس او ردکھ— بے کسی اور بے چارگی۔ درد اور گھٹن۔ کیا کچھ نہ گھلا ہواتھا ان آنسوؤں میں۔ ہزار کوشش کے باوجود سسکیاں رکتی ہی نہ تھیں۔ باغ میں رک کر اس نے اپنے آقا کے زخم دھوئے۔ زخموں پر پٹیاں باندھیں۔ نگاہ بھر کر اس معصوم چہرے کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔
زید کے آقا کو ہوش آنے لگا تھا دھیرے دھیرے ہلکے سے اٹھ کر اس نے چاروں طرف نظر ڈالی۔ یہ چہر ہ دکھ اورغم کی آگ میں سلگتا یہ چہرہ۔ تھکن اور خون میں ڈوبا یہ چہرہ کتنا دلآویز تھا، کتنا مقدس تھا۔ آج بھی تو اس چہرہ پر انتقام کی کوئی پرچھائیں نہیںتھی۔ زید نے دیکھا اس کا آقا اشک ریز تھا۔ اپنے اللہ کے آگے جھکا ہوا۔
’’میرے اللہ! میں تجھ سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری، اپنی بے کسی اور لوگوں میں اپنی ذلت اور رسوائی کی۔ اے میرے مہربان خدا! کمزوروں کا نگہبان بس تو ہی تو ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے۔ ان اجنبی بیگانوں کے جو مجھے دیکھ کر برا مان جاتے ہیں۔ میرے اوپر تالیاں پیٹتے ہیں۔ پر میرے پروردگار- تو اگر مجھ سے خفانہیں تو تیری قسم مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں۔ہاں میرے خدا تیری حفاظت تیرا آسرا اور تیرا سہارا ہی بہت ہے میرے لیے۔ میں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے سارے اندھیرے دور ہو جاتے ہیں تجھ سے بس اتنی ہی درخواست کرتاہوں کہ اے میرے اللہ – تو کبھی مجھ سے خفا نہ ہونا۔ تو کبھی مجھ سے نہ روٹھنا تیرے سوا مجھ کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ ہاں کسی بھی سہارے کی ضرورت نہیں۔‘‘
کتناناز ہے اس مقدس انسان کو اپنے رب پر یہی سوچیں زید کے ذہن کو گھیرے ہوئے تھیں۔ لیکن کیا طائف کے ان بدنہاد شریروں کو یوں ہی چھوڑ دینا چاہیے، جنہوں نے اتنی دور سے آئے اپنے اس مقدس مہمان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ کیا ان سے کوئی بھی بدلہ نہ لیا جائے؟ زید سے یہ بات برداشت نہ ہورہی تھی۔ اس کا سینہ درد سے پھٹا جا رہا تھا۔
’’حضورؐ!‘‘ دکھ نے زید کو آخر بے قرار کر ہی دیا۔
’’اور یہ دعا بھی تو مانگئے حضورؐ کہ طائف کی یہ بدقسمت زمین، جس پر آپؐ کے لہو کے قطرے گرے ہیں، ان ملعونوں پر پھٹ پڑے، حضورؐیہ تباہ ہو جائیں—حضورؐ ان کی لہلہاتی بستی پر آگ کی بارشیں برس پڑیں۔ طائف کے پہاڑ انہیں کچل ڈالیں۔ یہ سب دعا بھی تو مانگئیے میرے حضورؐ۔۔۔‘‘ ایک باوفا ساتھی کی سچی ہمدردی زید کے الفاظ میں کراہ رہی تھی۔
زخموں سے شرابور زید کے آقا نے نگاہ بھر کر اسے دیکھا اور دھیرے سے کہا:
’’یہ کیا کہتے ہو زید تم— جن کا دکھ مجھے مکہ سے یہاں تک پیدل کھینچ لایا، میں انہیں بددعائیں دوں۔ زید میرے خدا نے مجھے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لیے بھیجا ہے، بددعائیں مانگنے کے لیے تو نہیں۔ اچھے زید تم خدا کی رحمت سے مایوں کیوں ہوتے ہو۔۔۔‘‘اور پھر وہ آواز گلوگیر ہوتی ہی گئی۔
’’آج انہوں نے مجھے پتھر مارے ہیں ۔ مجھے گالیاں دی ہیں، مجھے لہولہان کیا ہے مگر مجھے اپنے خدا کی رحمت سے پوری امید ہے کہ ایک دن ان کے بچے ، ان کی نسلیں ضرور سر جھکائے اسلام کی آغوش میں آئیں گی۔ ان کے ویران دلوں میں ایک روز سچائی کے دیپ ضرور جگمگائیں گے۔۔۔۔تم مجھ سے بدلہ لینے کی بات کیوں کہتے ہو زید۔۔۔۔۔‘‘ ماہتاب کی طرح دمکتے اس چہرے پر بے تحاشہ آنسو برستے جارہے تھے اور پھر زید نے د یکھا۔کئی دنوں سے جاگا، تھکاہارا، بھوکا پیاسا اپنے خون میں ڈوبا، اپنے زخموں سے چور اس کا مقدس آقا ایک بار پھر خدا کے دربار میںہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔
’’اے میرے اللہ! طائف کے لوگوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا، ا س کی سزا انہیںمت دینا۔ میرے اللہ وہ مجھے پہچانتے ہی کب ہیں ، وہ تو مجھے جھوٹا سمجھتے ہیںنا۔ انہوں نے انجانے میںہی تو مجھے جھٹلایا ہے۔ پروردگار تو ان پر رحمت کی بارشیں برسانا۔ میرے پروردگار اسلام کے اجالے سے ان کے دلوں کو روشن کر دینا۔ اے میرے خدا ! اپنی رحمت کے وسیع دامن میں تو طائف کے ان نادان باسیوں کو سمیٹ لینا۔‘‘ برستے ہوئے آنسوؤں میںلفظ ڈوبتے جا رہے تھے۔ زید کادل چاہا وہ ان آنسوؤں کو چوم لے، لیکن عقیدت و احترام کے ابلتے جذبوں نے زید کے پاؤں روک لیے۔
(اُجالوں کا قافلہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *