بنی اسرائیل او ر امت مسلمہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

وَاِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًاکے خدائی اعلان کے ذریعہ حضرت ابراہیم ؑ کو امامت و پیشوائی کا جو منصب اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھاوہ انہیں وراثتاًنہیں ملا تھا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ خاص تھا۔اس انعام سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مختلف امتحانوں میں ڈال کر اطاعت و وفاداری کی اچھی طرح جانچ کی ،جب وہ اس جانچ میں کھرے اترے تب ان کو یہ منصب ِپر وقار عطا ہوا۔یہ منصب تمام تر صفات پر مبنی ہے ،اس کا کوئی تعلق بھی نسب اور خاندان سے نہیں۔اسی لیے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوا ل کیا کہ ’’وَ مِنْ ذُرِّیَتِی ‘‘ تو جواباً کہا گیا ’’لاَ یَنَالُ عَھْدِ الظّٰلِمِیْنَ‘‘۔لہٰذا ان کی ذریت میں سے بھی وہی لوگ اس منصب کے سزاوار ہوں گے جو ان صفات کے حامل ہوں جو اس منصب کے شایان شان ہیں۔بد عہد اور نافرمان لوگ اس کے حق دار نہیں ہو سکتے۔
بنی اسرائیل کی تاریخ میں ابنیائی سلسلہ صدیوں پر مشتمل ہے،ابتدا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوکر انتہا ء حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ہوتی ہے۔اس درمیان بنی اسرائیل کی تعلیم و تربیت،انہیںکار نبوت کے قابل بنانا،کار جہاں بانی و بینی کی تیاری کے لیے کم و بیش ۴۰ ہزار انبیاء و رسل علیہ السلام تشریف لائے۔حضرت یوسف علیہ السلام کے انتقال کے بعد یہود کی جو دینی حالت ہوئی اس پرقرآن مجید نے بہت تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
بنی اسرائیل کے معنی اور وجہ تسمیہ:
’’بنی اسرائیل ‘‘کی لفظی تحقیق اس طرح ہے،’’اسر‘‘کا معنیٰ ہے بندہ یا غلام۔اسی سے ’’اسیر‘‘ بنا ہے جو کسی قیدی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اور لفظ’’ئیل‘‘عبرانی میں اللہ کے لیے آتا ہے۔چنانچہ اسرائیل کا معنی ہوگا ’’عبداللہ ‘‘یعنی اللہ کا غلام،اللہ کی اطاعت کے قلادے کے اندر بندھا ہوا۔یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔حضرت یعقوب ؑ کو اسرائیل کیوں کہا جاتا ہے؟جیسا کہ یہود نے اپنے انبیاء کے باب میں بڑی زیادتیاں کی،وہی معاملہ اپنے ان نبی کے ساتھ بھی روا رکھا۔ یہود کی مذہبی کتابوں میںاس لفظ کے معنی یوں آتے ہیں:’’جو خدا سے زور آزمائی کرے‘‘۔’’خدا سے کشتی لڑنے والا‘‘بائبل کی کتاب ہوسِیَع میں حضرت یعقوب ؑ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:’’وہ اپنی توانائی کے ایام میں خدا سے لڑا، پھر فرشتے سے کشتی لڑا اور غالب آیا۔‘‘
یہودیا یہودیت کی وجہ تسمیہ:
قرآن مجید نے بنی اسرائیل کے لیے لفظ’’یٰا اَیُّھا الَّذِیْنَ ھَادُوْا‘‘اور’’ یَھُوْدِیٌّ‘‘ بھی استعمال کیا ہے۔’’یہودیّ اگر عربی ہے تو ھوادہ سے مشتق ہے جس کے معنی ’’محبت‘‘کے ہیںیا تَھَوَّدٌ سے جس کے معنی توبہ کے ہیں۔چونکہ یہ لوگ اپنے گروہ میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور غیر یہود سے نفرت یا چونکہ انہوں نے گوسالہ پرستی سے توبہ کی اس لیے یہودی کہلائے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ تَھَوَّدٌ بمعنی تَحَرَُّکٌ سے ہیں ۔چونکہ یہ لوگ ہل ہل کر تورات پڑھتے ہیں اس لیے اس نام سے موسوم ہوئے۔اگر یہ لفظ عبرانی ہے تو یہودا سے معرب ہے جو حضرت یعقوب ؑ کے بڑے صاحبزادے کا نام تھا۔گویا اپنے اجداد میں سے ایک کے نام سے مشہور ہوئے۔‘‘(قاموس القرآن)
اصل دین جوحضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے پہلے انبیاء لائے تھے وہ تو اسلام ہی تھا۔ان انبیاء و رسل میں سے کوئی بھی یہودی نہ تھا اور نہ ہی ان مقدس شخصیات کے زمانے میں یہودیت پیدا ہوئی تھی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے انتقال کے بعد اسرائیلی ریاست آپسی انتشار کا شکار ہو کردو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ایک شمالی فلسطین اس کا دار السلطنت سامریہ قرار پایا اوردوسری جنوبی فلسطین اور عدوم کے علاقے سلطنت یہودیہ جس کا پایہ تخت یروشلم رہا۔۷۲۱ ؁ق،م میں اشور کے سخت گیر فرمارواں سارگون نے اسرائیلی سلطنت پر حملہ کرکے دولت اسرائیلی کا خاتمہ کردیا۔اس کے بعد بنی اسرائیل کی ایک ہی ریاست ’’یہودا‘‘باقی رہ گئی۔آگے بنی اسرائیل اسی یہودیہ ریاست کی بنا پریہود کہلائے۔انبیاء کی مخالفت ،رسوم و رواج کی بہتات اور آپسی انتشار کی حالت میں جب یہ نسل بڑھی تو ان میں کاہنوں،ربیوں اور احبار کا زور بڑھنے لگا ،آہستہ آہستہ انہوں نے دین موسوی میں اپنی پسند و نا پسند چیزوں کی جگہ بنانی شروع کی، یہ سلسلہ صدیوں تک چلتا رہا ۔بالآخر انہی کے رجحانات کے مطابق بنی اسرائیل کے عقائد،رسوم و رواج اور مذہبی ضوابط کا ڈھانچہ بنا جس کا نام یہودیت ہے۔گویا انبیاء علیہم السلام کی اولاد بنی اسرائیل اور ان کے دین میں تحریف وبد اعمالیاں اور دینی بگاڑ کی شکل کو یہودیت کہتے ہیں۔
بنی اسرائیل اوریہودکا ذکر قرآن میں:
قرآن مجید میں لفظ’’بنی اسرائیل‘‘ کثرت سے آیا ہے۔سورۃالبقرہ میں۶ مرتبہ،سورئہ آل عمران میں۳ مرتبہ،سورئہ مائدہ میں ۶ مرتبہ،سورئہ اعراف میں۴ مرتبہ،سورئہ یونس ۳ مرتبہ،سورئہ بنی اسرائیل میں ۴ مرتبہ،سورئہ طہ میں ۳ مرتبہ،سورئہ شعراء میں ۴ مرتبہ،سورئہ صف میں ۲ مرتبہ ،سورئہ مریم ،نمل ،سجدہ، غافر ، زخرف ،دخان ،جاثیہ اور سورئہ احقاف میں ایک ایک مرتبہ آئی ہے۔
اسی طرح قرآن مجید میں لفظ’’یہود‘‘بھی آیا ہے۔
سورئہ بقرہ میں ۳ مرتبہ،سورئہ آل عمران میں ۱/مرتبہ،سورئہ مائدہ میں ۴ مرتبہ،سورئہ توبہ میں ۱/مرتبہ۔
اگر ہم قرآن مجید کے ان دونوں مستعمل شدہ الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عموماً کلام الٰہی نے ’’یہودیت‘‘اور ’’یہود‘‘کو مذمتی انداز میںیاد کیا ہے۔ یہود لفظ سورئہ بقرہ میں تین مرتبہ آیا تو اس معنی میں آیا ہے کہ یہود و نصاری دونوں ایک دوسرے کے ہدایت پر ہونے کا انکا رکرتے ہیں حالانکہ دونوں ’’کتاب اللہ ‘‘پڑھتے ہیں۔دوسرے مقام پر نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے یہ یہود اس وقت تک آپ سے راضی و خوش نہیں ہوں گے جب تک آپ ان کی اتباع نہ کرلیں۔سورئہ مائدہ میں چار مرتبہ ان معنوں میں آیا ہے ،یہود اپنے آپ کو ’’ابناء اللہ ‘‘کہتے ہیں،اہل ایمان یہود کو اپنا ولی نہ بنائیں،یہود کا یہ اعتراض ’’ید اللہ مغلولۃ‘‘نعوذ باللہ ،اوراہل ایمان اپنی دشمنی میں یہود کو سب سے سخت پائیںگے۔سورئہ توبہ میں حضرت عزیر ؑ کے ’’ابن اللہ ‘‘ہونے کا عقیدہ اورسورئہ آل عمران میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ اعلان کہ آپ یہودی نہ تھے۔مختصر یہ کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے ’’یہود ویہودیت‘‘ کو مذموم معنوں میں استعمال کیا ہے۔واللہ اعلم بالصواب
مصر میں بنی اسرائیل کا غلبہ:
قرآن مجید نے انبیاء علیہ السلام کے قصص میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو کافی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ابتدا سے لے کر انتہا تک۔چنانچہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو قافلے والے مصر کے بازار لائے تو بقول ابن کثیر کے:’’جب حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر لے جا کر غلاموں کی منڈی میں ……جیسا کہ اس زمانے کا دستور تھا …… کھڑا کیا گیا تو ان کا حسن و جمال دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گئے اور خریداروں کی اتنی بھیڑ لگی کہ منڈی کے علاوہ اِدھر اُدھر کے راستے بھی پٹ گئے اور کہیں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔‘‘جس زمانے میں حضرت یوسف علیہ السلام بحیثیت غلام کے مصرمیں تھے،ملک پر اس خاندان کی حکومت تھی جنہیں تاریخ میں ’’چرواہوں کی حکومت‘‘ Hyksos Kingsکہا جاتا ہے۔یہ لوگ عربی النسل تھے اور فلسطین و شام سے مصر جاکر۲ ہزار سال قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں مصر پر قابض ہوگئے تھے۔اس قوم کو عرب مؤرخین نے ’’عمالیق ‘‘کہا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کا تفصیلی تذکرہ،مصر آمد،قید کی زندگی،وہاں سے رہائی کے بعدمصر پر آپ کااقتدار اور حضرت یعقوب علیہ السلام و اولاد یعقوب کی مصر آمد،یہ پوری تفصیل قرآن مجید سورئہ یوسف میںبیان کرتا ہے۔حضرت یعقوب علیہ السلام جب اپنی آل اولاد کے ساتھ مصر آئے تو اولاد یعقوب اپنی دینداری و نیک نفسی کی بنا پر ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور ملک کے بہترین اورزر خیز علاقوں میں آباد کیے گئے ،چونکہ ملک کا اقتدار حضرت یوسف علیہ السلام کے ہاتھ میں تھا اس لیے بنی اسرائیل کو مصر میں بڑا اثر و رسوخ ملا۔بنی اسرائیل کے اس غلبہ کا تذکرہ قرآن مجید نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبانی یوں کیا:
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَ جَعَلَکُمْ مُلُوْکًا وَّاٰتَٰکُمْ مَا لَمْ یُوْتِ اَحْدًا مِنَ الْعٰلَمِیْنَ۰(سورۃ المائدہ:۲۰)
’’اور یاد کرو جب موسیٰ ؑنے اپنی قوم سے کہا تھا ’’اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں دی تھی۔اس نے تم میں نبی پیدا کیے ،تم کو فرماروابنایا ،اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میںکسی کو نہ دیا تھا۔‘‘حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل ہی مدت دراز تک مہذب دنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے اور انہی کا سکہ مصر اور اس کے نواح میں رواں تھا۔
بنی اسرائیل فراعین کی غلامی میں:
یہ امر اللہ کی سنتوں میں سے ہے کہ جب تک کوئی قوم خدائی اصولوں کو پورا کرتی رہتی ہے ،اسے زمین کا وارث باقی رکھاجاتا ہے لیکن جب وہی قوم اپنے اصولوں کو فراموش کردیتی ہے تو پھر فیصلہ خداوندی بھی تبدیل ہوجاتا ہے ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس دورکا تذکرہ بہت تفصیل سے کیا ہے جو فرعون کی غلامی میں گزرا ہے۔ایسا کیوں ہوا کہ ایک امت جس کا اقتدار ملک مصر پر تھا ،جو قوم تہذیبی طور پر غالب تھی ،جس کے دور اقتدار میں بے شمار انبیاء و رسل اور سلاطین گزرے ،وہ ایک وقت کے بعد اسی ملک کی سب سے بڑی غلام قوم بن گئی۔نہ صرف غلام بنائے گئے بلکہ فرعون اور اس کی قوم نے اس طرح غلام بنایا کہ بنی اسرائیل کے سیا ہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔قرآن مجید نے اس ظلم و تشدد کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ:
اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَۃً مِّنْھُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَائَھُمْ وَ یَسْتَحْیِیْ نِسَآئَ ھُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ(القصص:۴)
’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا ۔ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ،اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا ۔فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔‘‘
وَاِذْ نَجَّیْنَا مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوئَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآ ئَکُمْ ط وَ فِی ذٰلِکُمْ بَلآَئٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۰(البقرہ:۴۹)
’’اور یاد کرو وہ وقت،جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی…انہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا،تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔‘‘
اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ’’مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ‘‘ میں ’’اٰل‘‘ سے مراد خود فرعون بھی ہو سکتا ہے اور قبیلہ فرعون بھی ۔اور اس سے قوم فرعون بھی مراد لی گئی ہے۔کیوں کہ آل سے مراد صرف کسی شخص کی اولاد نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ لفظ آل اولاد ،قوم و قبیلہ اور اتباع و انصار سب پر حاوی ہے۔قرآن مجید نے اس آیت میں بنی اسرائیل کی غلامی کی جس حالت کو بیان کیا ہے اس کے لیے لفظ’’اِسْتِحْیَائٌ‘‘استعمال کیا ہے۔’’اِسْتِحْیَائٌ‘‘ کے معنی باندی بنانے کے بھی لیے گئے ہیں یا پردئہ حیا اٹھانا ،حیابالکسر بمعنی فرج‘‘۔’’یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآ ئَکُمْ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا مودودی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دور گزر جانے کے بعد ایک قوم پرستانہ انقلاب ہوا تھااور قبطیوں کے ہاتھ جب دوبارہ اقتدار آیا تو نئی قوم پرست حکومت نے بنی اسرائیل کا زو ر توڑنے کی پوری کوشش کی۔اس سلسلے میں صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا گیا کہ اسرائیلیوں کو ذلیل و خوار کیا جاتا اور انہیں ادنی درجے کی خدمات کے لیے مخصوص کیا جاتا ۔بلکہ اس کے آگے بڑھ کر یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ بنی اسرائیل کی تعداد گھٹائی جائے اور ان کے لڑکوں کو قتل کرکے صرف ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ رفتہ رفتہ ان کی عورتیں قبطیوں کے تصرف میں آتی جائیںاور ان سے اسرائیلی کے بجائے قبطی نسل پیدا ہو۔
’’فرعون‘‘مصر کی مذہبی اصطلاح تھی:
’’فرعون ‘‘انگریزی لغات اور مصری زبان میںاعلیٰ خاندان کو کہتے ہیں۔مشرکین مصر کا سب سے بڑا دیوتا سورج تھا اور یہ فرعون مصری عقیدہ میں اسی سورج دیوتا کے مظہر یا اوتار ہوتے تھے۔تاریخ مصر کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’فرعون‘‘کسی بادشاہ کا شخصی نام نہیں ،بلکہ کئی صدیوں تک شاہان مصر کا عمومی لقب رہا ہے۔توریت کے مطالعہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے معاصر ایک نہیں دو فرعون تھے ۔
فرعونی غلامی کے بعد :
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں مصر سے ہجرت،صحرائے سینا میں قیام ،مسلسل انعامات الٰہی کے باوجود ناشکری و احسان فراموشی،جہاد سے انکار ،اس کی پاداش میں حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا اعلان برائت ،پھر شموئیل نبی کے دور میں فلسطین پر حملہ اور پھر سے دور اقتدار کی آمد،پھر فتنہ و فساد اور انبیاء بنی اسرائیل کی مسلسل تنبیہات کے باوجود بنی اسرائیل کی سرکشیاں نتیجہ میں اللہ کی پھٹکار اور پھر سے ذلت و مسکنت کا دور۔یہ پوری تفصیلات قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے۔
نزول قرآن کے وقت بنی اسرائیل کے حالات:
نزول قرآن کے وقت یہود کی آبادیاں مدینہ کے اطراف اورخیبرمیں تھیں۔مذہبی اعتبار سے عوام ا لناس میں مذہب کے ٹھیکیداریہی یہودی تھے۔بلکہ اوس و خزرج کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ یہود مدینہ کے مشرک قبائل کوآخری نبی ؐ کی آمد اور اس کی قیادت میںاپنے غلبہ سے ڈرایا کرتے تھے۔مذہبی ٹھیکیداری اتنی مشہور تھی کہ مشرکین مکہ بھی نبی ﷺ کی تصدیق کے لیے انہی کے پاس آیا کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید نے سرداران مکہ کے کئی سوالوں کے جواب دیے ہیں جو علماء یہود نے انہیں سجھائے تھے۔لیکن جب اللہ کے آخری رسول جناب محمد مصطفی ﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو علماء یہود نے آپﷺ کو ماننے سے صاف انکار کردیا۔بلکہ آپﷺ کی دشمنی پرکمر بستہ ہوگئے۔یہود کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رویہ دیکھتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے آخری زمانے میں اپنی امت کے یہود کی نقالی کرنے اور ان کے نقش قدم کی پیروی سے آگاہ کیانیز اس کے مضراثرات و نقصان دہ نتائج بھی بتا دیے۔چنانچہ باب الفتن میں اس طرح کی احادیث کثرت سے ملتی ہیں۔
احادیث میں یہودی اتباع کا ذکر:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’یقینا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طور طریقے اپنا لوگے بالشت برابر بالشت کے اور ہاتھ برابر ہاتھ کے ہو جائو گے حتی کہ وہ اگر سوسمار(گوہ)کے بل میں گھسے تو تم بھی ان کے پیچھے جائوگے۔’’پوچھا اے اللہ رسول ﷺ یہود و نصاری کے؟آپ ﷺ نے فرمایا اور کون؟(بخاری)
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا گیا :’’امر بالمعروف اور نھی عن المنکرکب ترک ہوگا؟آپﷺ نے فرمایا:’’جب تم میں وہی باتیں آجائیں گی جو بنی اسرائیل میں آئیں یعنی جب تمہارے اچھے لوگوں میں فریب اور باطل کا ظہور ہوجائے گا۔تمہارے برے لوگوں میں قبیح اقوال و افعال ظاہر ہوںگے ۔حکومت تمہارے چھوٹے اور ذلیل لوگوں میں آجائے گی ۔اور فقہ دین تمہارے کم حیثیت (نکمے اور کمینے)لوگوں میں رہ جائے گی۔(فتح الباری)
حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’میری امت پر بھی بنی اسرائیل جیسا وقت ضرور آئے گا جیسا کہ جوتا جوتے کے برابر ہوتا ہے۔حتی کہ اگر بنی اسرائیل میں سے کسی نے علانیہ اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ضرور ایسا شخص ہوگا جو یہ فعل کرے گا۔بنی اسرائیل ۷۲ فرقوںمیںبٹے تو میری امت ۷۳ فرقوں میں بٹے گی۔ایک کے سوا سب دوزخی ہوںگے۔لوگوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ !وہ کون ہوںگے؟فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوںگے۔‘‘(ترمذی ،کتاب الایمان ،ضعیف)
حضرت معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے ہمارے درمیان کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا:’’یقینا تم سے پہلے اہل کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے ۔اور بے شک یہ امت عنقریب ۷۳ فرقوں میں بٹے گی۔۷۲ دوزخی ہوںگے اور ایک جنتی اور وہ ہے الجماعۃ (سنن ابو دائود،مستدرک حاکم)
حضرت ابی امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے گزر کچھ انصاری بزرگوں کے پاس سے ہوا جن کی داڑیاں سفید تھیں تو آپﷺ نے فرمایا:’’اے جماعت انصار!اپنی داڑیاں سرخ کرو اور زرد کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ہم نے کہا اے اللہ کے رسولﷺ !اہل کتاب تو شلوار پہنتے ہیں اور چادر نہیں پہنتے۔آپﷺ نے فرمایا :’’تم بھی شلوار بھی پہنو اور چادر بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ!اہل کتاب تو موزے پہنتے ہیں جوتے نہیں پہنتے۔تو آپﷺ نے فرمایا:’’تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی۔ اہل کتاب کی مخالفت کرو۔‘‘پھر ہم نے کہا اے اللہ رسولﷺ! اہل کتاب تو اپنی داڑیاں کٹواتے ہیں اور مونچھیں بڑھاتے ہیں۔آپﷺ نے فرمایا:’’تم اپنی مونچھیں کٹوائو اور اپنی ڈاڑھیاں بڑھائو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔(مسند احمد)
تاریخِ بنی اسرائیل کا مطالعہ کیوں؟
بنی اسرائیل یا یہود کا مطالعہ امت مسلمہ کو کیوں کرنا چاہیے یا ملت کے اہل عقد و حل کو یہود کی تاریخ سے کیوں چوکنا رہنا چاہیے؟یا پھر کیااس تاریخ کے مطالعہ کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟یہ اور اس طرح کے سوالات کا جواب خود قرآن کریم اور شارع دینﷺ نے تفصیل سے دیا ہے۔یہ سارے اشارے بنی اسرائیل کی شاندار تاریخ ،ان کے عروج ،اللہ کی جناب میں مقام عبودیت،نتیجہ میں اللہ کی جانب سے مسلسل انعامات ،اقوام عالم پر غلبہ و تمکنت کی شکل میں قرآن کریم بیان کرتا ہے۔پھر یہی قوم جب اللہ کی نافرمانیوں پر اتری تو اس نے ماضی میں انسانی جرائم کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے۔نتیجہ میں اللہ کی جانب سے وہ سزائیں پائیں کہ الامان و الحذر۔یہی قوم مستقبل میں بنی نوع انسانیت کے لیے کس طرح کے مسائل پیدا کرنے والی ہے،اس باب میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہماری رہنمائی کرتی ہے۔چنانچہ مفسر قرآن شہید سید قطب ؒ لکھتے ہیں:’’ایک اور پہلو سے یہ تفصیلی تنقید اس لیے بھی ضروری تھی کہ مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجائیں کہ ان سے قبل جن قوموں کو خلافت ارضی سونپی گئی تھی ،انہوں نے اس راہ میں کیا کیا اور کس کس طرح ٹھوکریں کھائیں،جس کے نتیجہ میں وہ خلافت کے منصب سے معزول اور اللہ کی بخشی ہوئی امانت اور انسانیت کی قیادت کے لیے خدائی نظام کے زمین میں قیام کے شرف سے محروم کردی گئیں!چنانچہ اس تنقید کے بیچ بیچ میں مسلمانوں کو ان ٹھوکروں سے مطلع و باخبر کرنے کے لیے مخفی اور واضح اشارات بھی کیے گئے ہیں۔‘‘

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *