بھارت اور القاعدہ

یمن الظواہری کا ٹیپ کیا آیا مانو بھارت کے گلیاروں میں ہڑکم مچ گیا۔ ایک بڑی طاقت کی ایجنسیوں کے آفس مشاورتوں سے ،احکامات سے بھرے پڑے جارہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ایمن الظواہری نے اپنا ٹیپ عربی میں شاید جاری کیا ہوگا۔ کیونکہ ان کی زبان عربی ہے۔ اس کا ترجمہ اردو، انگریزی، ہندی، تمل اور نہ جانے کتنی زبانوں میں کیا گیا ہوگا۔ ممکن ہے ترجمہ کرنے والوں نے ٹھیک ترجمہ کیا ہوگا لیکن عربی کے الفاظ کو من وعن ترجمے کے قالب میں ڈھالنا جوعِ شیر لانے کے برابر ہے۔ اب ایمن الظواہری نے کیا کہا ہوگا اور اس کا ہم کیا مطلب لے رہے ہوں گے، وہ تو پورے ٹیپ کو سُن کر ہی کہا جا سکتا ہے۔ بیچ سے الفاظ کو لے کر جو معنیٰ پہنائے جا رہے رہیں ان کے اور ہی مطالب لئے جاسکتے ہیں۔
ایمن الظواہری ، القاعدہ کے قائد مرحوم اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ القاعدہ ایک زیر زمین سرگرمیوں کو چلانے والی عسکری سوچ کی حامل تنظیم ہے ۔ ظاہر ہے وہ اپنے کاموں کو خاموشی سے کرنے کے بجائے ٹیپ کے ذریعے آشکار کریں گی؟ کوئی بھی Common Senceوالا شخص اس کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ گذشتہ دنوں اسامہ بن لادن کے ٹیپ کا بھی یہی حشر ہوا تھا۔ اسامہ بن لادن کہہ کچھ رہا تھا اور ترجمہ کچھ کیا جا رہا تھا۔ کیا ممکن نہیں کہ ایسی ہی حالت ظواہری کے ٹیپ کی ہو۔ پوری جانچ پڑتا ل کے بعد شاید معاملات کھل کر آئیں۔
ایک اور بات جو اخبارات نے لکھی ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے وہ اپنی سرگرمیاں بر صغیر بالخصوص بھارت میں چلائے ہوئے ہے۔ ہماری ایجنسیاں جو بم بلاسٹ کے ساتھ ہی مجرموں کے نام پتے، خاندان، جماعتیں اور تنظیموں کے نام کے ساتھ چلا اٹھتی ہیں اور میڈیا ٹرائیل (Media Trial)چلا کر انہیں دہشت گرد تسلیم کروا دیتا ہے۔ بھلا دو سالوں سے کیا کر رہی تھیں؟ انہیں بہت ہوشیاری سے کام کرنے کی ضرورت تھی لیکن ناکام رہیں۔ شاید حادثے ہونے کا انتظار کر رہی ہوں گی اور اصل مجرم نہ ملنے پر کسے مجرم بنایا جائے اس کی مشق ہو رہی ہوگی۔
دنیا میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 374ایسے گروپس ہیں جو دہشت گردی کی فہرست میں آتے ہیں۔ جن میں 76وہ نام ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلم گروپس ہیں۔ بقیہ اتنی بڑی تعداد کن لوگوں کی ہے۔ اللہ ہی جانے کہ کیا ان کا وجود آسمان میں ہے یا اس کے بھی پرے۔ صدام حسین نے جو ظلم شیعہ کمیونٹی پر ڈھائے تھے اس کے ردّ عمل میں شیعہ ملیشیاء وجود میں آیا۔ سابق وزیر اعظم عراق نور المالکی نے سنیوں پر ظلم ڈھایا اس کے ردّ عمل میں سنّی ملیشیاء وجود میں آیا۔ دہشت گردی کہاں پائی جاتی ہے؟ کیا اپنے ملک سے غیروں کے تسلط کو ختم کرنے والی سرگرمیاں دہشت گرد کہلاتی ہیں۔ کون جواب دیگا اس کا؟
افغانستان میں امریکہ کے خلاف لڑنے والوں کو دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ عراق و شام میں امریکی تسلط کے خلاف مزاحمت کرنے والے دہشت گرد ہیں؟ امریکہ جو منھ اٹھا کر جدھر چاہے بم گرادے۔ نہ ہیرو شیما دیکھے نہ ناگا ساکی، کابل دیکھے نہ وزیرستان، ما نو پوری دنیا کی چودھراہٹ اُسے مل گئی ہے۔
امریکہ کے جرائم پر ساری دنیا خموش بیٹھی دیکھ رہی ہے گویا ساری دنیا بھی اس کے جرائم کا حصہ دار ہے۔ جس طرح اسرائیل کی دہشت گردی پر مسلم حکومتیں خموش تھیں گویا اسرائیل کے جرائم میں برابر کی شریک۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ مسلم حکمرانوں نے اسرائیل کو سپاری دی تھی کہ حماس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ لیکن اللہ کی مرضی جسے چاہے رکھے اور جسے چاہے ختم کر دے۔ سو حماس کا وجود کرشمہ سے کم نہیں۔
غزہ اور جریکو کی نمائندہ جماعت ہے حماس، منتخب ہو کر آئی ہے لیکن دہشت گرد قرار دی گئی ہے۔ کیسی عجیب بات ہے۔ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب، عام شہریوں کو مار کر بھی بے داغ کہلائے۔ ہے نہ عجیب بات۔
دہشت گردی ایک Relativeاصطلاح ہے جس کے معنیٰ و مطالب اب تک طے نہیں ہوئے ہیں۔ خود UNOمیں 76سے زائد اس کے معنیٰ ریکارڈ کئے گئے ہیں چوم نو مسکی جو امریکہ کا بہت بڑا دانشور ہے اس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی Weapon of the weaks کو کہتے ہیں۔ انفرادی اور گروہی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ریاستی دہشت گردی ہوتی ہے۔ جو کسی کے سامنے جوابدہی کا احساس اپنے پاس نہیں رکھتی۔ اسی سے جنم لیتی رہتی ہے وہ سرگرمیاں جو ہر ظالم کو دہشت گردی نظر آتی ہیں۔
ایمن الظواہری کے ٹیپ میں کھودا جائے تو چوہیا بھی نہ نکلے گی لیکن 56انچ سینے کے بالمقابل کوئی بڑا دشمن ضروری ہے اس لئے اب یہ امیجزی دشمن لایا جا رہا ہوگا۔ تاکہ بھارتی مسلمانوں کا امتحان لیا جائے۔ وزیر اعظم مودی نے فرید زکریا کو انٹرویو دیتے ہوئے جو بات کہی ہے ادھوری بات ہے ،پوری ہونے میں شاید وزیر اعظم مودی کو اپنا سیاسی مسلک بدلنا پڑیگا کیونکہ سچائیاں ہمیشہ تبدیلی لاتی ہیں۔ مکر کے موسمی ڈھیر پر کلیوں کے چٹخنے کی بات کسی شاعر کے تخیل سے پرے ہی ہوتی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *