تحقیق و تفتیش کے بہانے پولس اور میڈیا کی آتش فشانی

بردوان بلاسٹ کے حوالے سے میڈیا اور پولس (سی آئی ڈی+این آئی اے) کے منہ سے جو کچھ نکل رہا ہے اسے اگر کسی چیز سے تشبیہہ دی جائے تو یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کہ یہ ’’الف لیلا‘‘ کی کہانی کی طرح ہے۔ یہ کہانی جو بردوان سے شروع ہوئی ہے وہ مرشد آباد، مٹیا برج، بیر بھوم اور ندیا ضلع تک پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اس کی واحد وجہ ہے کہ اس میں جو کردار ملے ہیں یا دکھائی دے رہے ہیں وہ زیادہ تر ایک ایسے فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جسے مسلم فرقہ یا مسلمانوں کا فرقہ (Muslim Community)کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ راقم الحروف اپنی تحقیق کی رپورٹ کی کچھ باتیں پیش کرے۔ یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کلکتہ ایڈیشن کے انڈین ایکسپریس کی چند ہفتوں کی چھان بین کی چند جھلکیاں پیش کی جائے۔ مسٹر سبرتوناگ چودھری انگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘ کے رہائشی ایڈیٹر ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے موصوف میری رہائش گاہ پر خاکسارسے انٹرویو لینے آئے تھے ۔ میں نے جو کچھ کہا تھا اسکا ذکر کسی اور موقع پر کروں گا۔ یہ ضرور کہوں گا کہ میرے کچھ سوجھاؤ کو انہوں نے توجہ کے ساتھ سنا اور اسکی اہمیت دی۔ اس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ موصوف نے اپنی رپورٹ ایک سچی کہانی سے شروع کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سمولیہ گاؤں کے تین نوجوان ہارا شیخ، خیر الشیخ اور آذر شیخ جب بردوان ریلوے اسٹیشن کے ٹکٹ کاؤنٹر پر کیرالہ کے لئے ٹکٹ لینے گئے تو کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھے ایک شخص نے ان کے شناختی کارڈ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ابھی گاؤں چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ یہ تینوں نوجوان کیرالہ کی ریاست میں ورکرس کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ عید الاضحی کی چھٹی میں گھر آئے تھے۔ یہ لوگ عید کے بعد کیرالہ جانا چاہتے تھے مگر انہیں بردوان میں 2اکتوبر بم بلاسٹ کی وجہ سے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ یہ گاؤں بردوان سے تیس کلو میٹر دوری پر واقع ہے ۔جہاں کا ایک گھاس پوس کا بنا ہوا مدرسہ این آئی اے کے زیر تفتیش ہے۔ اس مدرسہ سے بالکل ملحق دو تالاب تھے۔ اس کا سارا پانی جب پولس نے پمپ سے نکال لیا تو چھاتے کا ایک ہینڈل ملا۔ پولس نے کہا کہ بندوق کا بٹ (Butt)ہو سکتا ہے۔
آگے کی سطروں میں چودھری صاحب رقم طراز ہیں:۔
’’سنڈے ایکسپریس عوام اور آفیسل سے بات چیت کی اور جس نتیجہ پر پہنچا ہے وہ یہ ہے کہ بردوان ،ندیا، بیر بھوم اور مرشد آباد تک پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ علاقے ریاست کے آتش فشانی کے لئے زر خیز سے زر خیزہوتے جا رہے ہیں۔ یہ علاقہ سیاسی جدوجہد اور جبری وصولی (Extortion Rackets)کا اڈہ بن گیا ہے۔ جھارکھنڈ کے بہت سے علاقے یہاں سے متصل ہیں جو جرائم پیشہ افراد کے لئے آماجگاہ ہیں۔ یہ پورا علاقہ صنعتی پٹی (Industrial Belt)کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اب تک جو بم (Bomb)پکڑے گئے ہیں ان میں 80فیصد بردوان اور اس کے قریبی اضلاع سے پکڑے گئے ہیں ۔ 2013ء میں پوری ریاست میں 9ہزار بم پولس کے قبضے میں آئے۔ جس میں بردوان 1485،بیر بھوم 2270اور مرشد آباد سے 2910بم برآمد کئے گئے۔ آتشی مادے بھی انہی علاقوں سے زیادہ پائے گئے ہی۔ انہی علاقوں میں جرائم پیشہ لوگوں نے بم کا استعمال زیادہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر جنوری 2012ء سے 2014ء تک بردوان ضلع میں 357، بیر بھوم میں 264اور مرشد آباد میں 600بم بازی ہوئی ہے۔ ان تمام واقعات کے دوران بم بازی اور آتشی مادوں کا استعمال دھڑلے سے ہوا ہے۔
ایک سینئر پولس افسر نے کہا کہ بہت دنوں سے بم فیکچرنگ یونٹ چلائے جا رہے ہیں جس کا استعمال سیاسی جماعتیں اور مجروں کے گروہ دھڑلے سے کر رہے ہیں۔
A senior police official of the district said, “For very long, bomb manufacturing units in this belt have catered largely to political outfits and crime syndicates. So far, we have not hears anything about these reaching jihadi groups.” (Indian Express, 26/10/2014)
آج ہی (25اکتوبر)،بیربھوم کے پولس اسٹیشن کے ایک انسپکٹر پر بم سے حملہ کیا گیا۔ کھاگڑا گڑھ سے صرف 60کلو میٹر کی دوری پر یہ جگہ واقع ہے۔ یہاں کے ابتدائی مرکز صحت (Primary Health Centre)سے مختلف ڈرم پائے گئے جس میں 200بم رکھے ہوئے تھے۔
Even today, as ispector of Parul police station in Birbhum, 60 km. from Khagragarh in Burdwan, was attacked with bombs. Despite the attack, the police managed to recover 200 bombs from several drums kept close to a primary bealth centre. (Indian Express, 26/10/2014)
2؍اکتوبر کو جہاں بم بلاسٹ ہوئے ہیں ،آتشی مادے یا گن پاؤڈر ملے ہیں مگر دہشت گرد جو RDXاستعمال کرتے ہیں۔ اس کی کوئی چیز نہ ملی ہے اور نہ دریافت کی گئی ہے۔
Besides crude pressure bombs or hand grenades, the seizure in this belt have included bombs, IEDs, gelatin sticks, powder-gel and gunpowder – some of the explosives that were seized at the Burdwan house after the October 2 blast. There has hardly been any seizure or RDX, the explosive of choice of terrorists. (Indian Express 26th October)
مسٹر چودھری نے لکھا ہے کہ سی آئی ڈی اور این آئی اے کی ٹیم نے اب تک نصف درجن مدرسوں کی چھان بین کی ہے۔ جو اب تک انہیں سمولیہ مدرسہ میں Airgun pelletsکے سوا کچھ بھی نہیں ملا اور کچھ عربی زبان میں لکھی ہوئی کتابیں ملی ہیں۔ ایرگین پیلیٹس جو کھلے بازار میں دستیاب ہے اور جسے ہر کوئی خرید و فروخت کر سکتا ہے۔
یہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کی جھلکیاں یا اس کا خلاصہ تھا۔ کلکتہ کی مسلم تنظیموں کی جو ٹیم بردوان اور سمولیہ گاؤں کا دورہ کیا تو جو چیزیں بات چیت سے سامنے آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ اگر کسی سیاسی پارٹی کے فرد کے گھر میں یا کسی اسکول یا یونیورسٹی یا ہیلتھ سنٹر میں بم پھٹا ہوتا اور عبد الحکیم اور عبدالکریم کے بجائے محض سبھن منڈل یاسپن بسواس جائے وقوع پر پکڑے گئے ہوتے تو یہ چرچا جو ملک بھر میں یادنیا بھر میں ہو رہا ہے نہیں ہوتا۔ بیر بھوم کے ایک پولس اسٹیشن کے سب انسپکٹر پر بم پھینکا گیا، اس کا چرچا اخباروں کی دوسطروں سے زیادہ نہیں ہے ۔ کھاگڑا گڑھ سے صرف 60کلومیٹر کی دوری پر یہ جگہ واقع ہے۔ مرکز صحت کے پاس جو ملے ہیں اس کا چرچہ نہیں ہے۔
کھاگڑا گڑھ کی وہ عمارت ہے جہاں بم بلاسٹ ہوا، اس کے آس پاس مسلمانوں کی آبادی ہے، ہندو بھائی بھی آباد ہیں، سب کا خیال ہے کہ واقعہ بہت بڑا نہیں ہوا مگر رائی کا پہاڑ بنایا جا رہا ہے۔ پیاری بیگم جو اسی کھاگڑا گڑھ کے محلے کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا والے پانی پینے کے بہانے ہمارے گھروں میں آتے ہیں، اور ہمارے منہ میں اپنی زبان ڈال کر باتیں کرتیں ہیں، وہی سب جاکر لکھتے پڑھتے ہیں۔ جو ان کا مقصد ہوتا ہے۔
سمولیہ گاؤں کے کسی ایک فرد نے بھی ہماری ٹیم کو نہیں بتایا کہ مدرسہ میں کوئی قابل اعتراض کام ہوتا تھا۔ تفتیشی ٹیم کو نورانی قاعدہ بھی جہادی کتاب نظر آئی کیونکہ وہ عربی حروف تہجی میں لکھا ہوا ہے۔ اگر بنگلہ میں یا انگریزی میں بچوں کا یہ قاعدہ ہوتا تو انہیں جہاد بک کے بجائے بچوں کی بک نظر آتی۔
سمولیہ گاؤں کے ایک فرد نے بتایا کہ ’’ہمارے گاؤں پر بلاوجہ آفت آئی ہے، ہمیں سمولیہ گاؤں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کام کاج بھی ملنا مشکل ہو گیا ہے، ہمارے لڑکے لڑکیوں کے رشتے پر برا اثر پڑا ہے۔
ہماری ٹیم بات چیت سے جس نتیجہ پر پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ کھاگڑا گڑھ کی جس عمارت میں بم پھٹا ہے وہاں سپلائی کے مرکز کے نام پر بم سازی کا کام ہو رہا تھا، بم سیاسی پارٹیوں کے افراد بھی خریدتے تھے اور جرائم پیشہ افراد بھی یہاں سے بم لے جاتے تھے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ یہاں سے بنگلہ دیش بھی بم فروخت کرنے آیا جایا کرتے ہوں، یہ جگہ فیکچرنگ فیکٹری کے طور پر جرائم پیشہ افراد استعمال کرتے تھے۔ سمولیہ مدرسہ کو جو جوڑا جا رہا ہے محض اس لئے کہ جو لوگ مرے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں ان کی بیویوں تک کو چھوڑا نہیں گیا۔ ایک خاتون تو کھانا بنانے کی ملازمہ تھی، جرائم پیشہ افراد نے اس سے شادی کرلی وہ بھی زیر حراست ہے۔ پولس افسران سے ملاقات اور بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ سب کے سب جو کچھ کہہ رہے ہیں یا بول رہے ہیں وہ حکمراں پارٹی کی ہدایت اور ایما پر بول رہے ہیں۔ اگر پولس افسران اس سیاسی پارٹی کے اشارے پر کام نہیں کر رہے ہوتے تو شاید یہ معاملہ اتنا طول نہیں پکڑتا اور سیاسی جرم کرنے والے دہشت گرد کے نام سے نہیں جانے جاتے۔
ایک صاحب جو نام کے مسلمان ہیں مگر ان کے آفس میں کاغذ کی مورتیاں سجا کر رکھی ہوئی ہیں۔ قانون کا مطالعہ بھی انہوں نے کیا ہوگا اور یقینا جانتے ہوں گے کہ ایک سیکولر ملک میں کسی پولس افسر کے تھانے یا سرکاری دفتر میں پوجا پاٹ کا سامان رکھنا غیر قانونی ہے۔ مگر اپنے بڑے افسران کو خوش کرنے کے لئے مورتی، پوجا کا مظاہرہ کرنا محض ایک غیر مسلم افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایسے مورتی بنے افسران سے خواہ ہندو ہوں یا مسلمان ، سے کسی سچی بات کی توقع مشکل ہے۔ وہ اس لئے کہ وہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہیں کہ انہیں حکومت کے کسی بڑے افسر کی ناراضگی سے ٹرانسفر کر دیا جا سکتا ہے۔
ایسے لوگ یو این آئی میں بھی ہیں اور سی آئی ڈی کے شعبہ میں بھی ہیں۔ ایسے لوگ جو خواہ مرکز میں بیٹھ کر کام کر رہے ہیں یا ریاست میں ان سے آقا کی مرضی کے مطابق رپورٹ چاہئے۔ ظاہر ہے رپورٹ حق و صداقت پر مبنی نہیں ہوگی بلکہ جانبدارانہ ہوگی تاکہ سیاسی دکانوں پر اثر نہ پڑے۔ اس سیاسی چکی میں جو پسے جا رہے ہیں وہ لوگ ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ ان کا نام مسلمانوں جیسا ہے یا ان کے باپ دادا مسلمان تھے یا ہیں۔ اس تعصب اور فرقہ پرستی سے جو چیز پھیل رہی ہے وہ انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ ہے۔ ایک مخصوص فرقہ کو پست ہمت اور نیچا دکھانے کی جارحانہ مہم ہے۔ غالب نے شاید ایسے موقعوں کے لئے کہا تھا ؎
کسی کی جان جائے آپ کی ادا ٹھہری
(بشکریہ ہمارا سماج)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *