تو اس لئے دیا گیا نوبل انعام

’’سوات بدھ حکمرانوں کی مملکت تھا۔ محمود غزنوی اپنے ساتھ اسلام لایا اور حکمراں بن بیٹھا۔ ہمیں بدھا کے مجسموں پر فخر تھا جسے طالبان نے توڑ دیا۔ جنرل ضیا ء الحق ایک ڈراؤنا شخص تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ملک میں ہاکی ایک نمایاں کھیل رہا ہے مگر ضیا ء الحق نے خواتین کھلاڑیوں کو نیکر کے بجائے ڈھیلی شلوار پہنا دیں۔ ہماری درسی کتابوں میں ہندوؤں پر لعن طعن کی گئی۔ سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ISIکے مُلّانے احتجاج شروع کیا لیکن میرے والد اُس کے حق اظہار آزادی کو تسلیم کرتے تھے۔ ہمارے شہر میں لوگوں کو لالٹین جتنی لمبی ڈاڑھی اور عورتوں کو برقع پہننے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ برقع بھی ایسا جیسے شٹل کاک کے اندر چل رہی ہوں۔ گرمیوں میں ایک کیتلی کی طرح لگتا ہے۔‘‘
’’میرے والد کے کالج میں اس کتاب (شیطانی آیات) پر زبردست مباحثہ ہوا۔ کئی طلبہ نے مطالبہ کیا کہ کتاب پر پاندی عائد کر دینی چاہئے۔ اور اسے جلا دینا چاہئے اور آیت اللہ خمینی ؒ کا فتویٰ درست ہے۔ میرے والد نے بھی کتاب کو اسلام کے حوالہ سے ناپسندیدہ قرار دیا۔ لیکن وہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے کتاب پڑھیں اور کتاب کا جواب کتاب سے کیوں نہ دیں؟ انہوں نے گرجدار آواز میں سوال کیا ایسی آواز جس پر میرے دادا کو فخر ہوگا ’’کیا اسلام اتنا کمزور مذہب ہے کہ وہ اپنے خلاف لکھی گئی ایک کتاب کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ تو میرا اسلام نہیں ہے۔۔۔۔۔ (ملالہ کی کتاب ’’آئی ایم ملالہ‘‘ سے لیا گیا اقتباس)
(حالاتِ وطن 19/10/14)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *