مسلمانوں کی ملی تعمیر کا مسئلہ

انسانی زندگی کی درستگی اور حسن اس کے تربیتی نظام پر قائم ہے ۔ یہ تربیتی نظام ماں باپ اور گھر کے بڑوں سے شروع ہوکر مصلحین اور سماجی قائدین اور متعلقین نظام تعلیم و تربیت تک جاتا ہے اور خوش کن و پسندیدہ نتائج کے پیدا ہونے میں ان تینوں ذرائع کے اچھے ہونے کا بڑا حصہ ہے۔
زندہ قوموں میں اس اہم مسئلہ کی طرف بڑی توجہ دی جاتی ہے اور پھر اس کے بہتر سے بہتر مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاتے ہیں، دوسری طرف اونگھتی، سوتی اور لاابالی مزاج رکھنے والی قوموں میں اس کی طرف سے غفلت برتی جاتی ہے، پھر ان قوموں کو اس غفلت کے سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔
تاریخ میں دونوں طرح کی مثالیں خوب ملتی ہیں اور قوموں کے عروج و زوال کے اسباب میں اس بات کا بنیادی حصہ ہے، اسلامی زندگی اس کے تربیتی کام سے ہی مضبوط ہوئی اور ایک ایسی قوم جو منتشر بھی تھی مذہبی لحاظ سے گمراہ اور دنیاوی لحاظ سے پسماندہ بھی، اس کی تربیت قرآن اور رسول اسلام کے ذریعہ ایسی ہوئی کہ نہ صرف وہ اپنے زمانہ کی قائد، معلم اور رہبر بنی، بلکہ مذہب، علم، ثقافت و تمدن سب کی اس نے ایک عظیم تاریخ بنادی، جس کے ورثہ و سرمایہ سے مسلمان قومیں صدیوں فائدہ اٹھاتی رہیں اور برابر فائدہ اٹھاتی رہیں گی، موجودہ دنیا کی متمدن قوموں نے بھی اپنے علم و تمدن کی بنیاد اسی پر رکھی ہے، تربیت کے کام کو موجودہ زمانہ کو سامنے رکھتے ہوئے تین پہلوؤں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک پہلو عمومی رہنمائی اور تربیت کا ہے جو گھر کے اندر گھر کے بڑوں کے ذریعہ اور گھر کے باہر قائدین و مصلحین اور عام مخلصین کے ذریعہ ہوتی ہے، دوسرا پہلو تعلیمی نظام کے ذریعہ عمل میں لانے کا ہے اور تیسرا پہلو دیگر اطلاعاتی و نشریاتی ذرائع سے تعلق رکھتا ہے، تربیت کے یہ تینوں پہلو نوخیز نسل کی تو باقائدہ تشکیل کرتے ہیں، بڑی نسلوں کو جو تعلیمی نظام سے گذر چکی ہیں یا جن کو اس سے واسطہ نہیں پڑا ان کو بھی بقیہ ان میں سے دو پہلو بڑی حد تک متاثر کرتے ہیں اور ان کے مزاج و ذہن پر اثر ڈالتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم مسئلہ کو باریکی کے ساتھ دیکھیں اور غور کریں کہ مسلمانوں کو اس رخ سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے اور ان کی صحیح تشکیل میں کیا بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔
مسئلہ صرف نو خیز نسل کا نہیں بلکہ اب بڑی نسل کا بھی ہے دونوں طرح کی نسلوں کو مذہب کا وفادار اور مسلمانوں کے تہذیبی و نظریاتی اقدار کا پابند کس طرح رکھا جائے؟ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اگر اس کی فکر نہیں کی جاتی تو مسلمانوں کی تہذیبی، مذہبی و نظریاتی زندگی کا بتدریج تحلیل ہوکر دیگر کسی قوم کے مذہبی ، تہذیبی و نظریاتی سانچوں میں ڈھل جانا بالکل مستبعد نہیں۔
ہندو قوم کے متعلق بعض اہل تحقیق و مطالعہ نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے پورے دور اقتدار میں ان کے گھروں کے اندر عورتیں بچوں کے لئے ہندی اور اپنی مذہبی بنیادی تعلیم و تربیت کا نظم رکھتی رہیں اور ہندو تاجر اپنے تجارتی بہی کھاتے ہندی میں رکھتے رہے اس کی بنا پر مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوتے ہی ہندو تہذیب و مذہب اپنی پوری زندگی کے ساتھ ابھر کر آگیا، ہندو تہذیب کی حفاظت میں ان کی عورتوں نے بڑانمایاں حصہ لیا اور گھروں کے اندر اس کو برابر قائم رکھا جس کی وجہ سے ان کی نئی نسلیں ثقافتی تحلیل سے محفوظ رہیں۔
مسلمانوں کے گھروں میں تقسیم ہند کے قریب تک اسلام سے وابستہ رکھنے کے لئے اس طرح کے ایک انتظام کی مثال ملتی ہے اور وہ مثال یہ ہے کہ بچوں بچیوں کو ان میں سمجھ آتے ہی قرآن مجید ناظرہ پڑھانا اور عربی و اردو کی حرف شناسی کرانا شروع کرادیا جاتا تھا، اور بچہ جب اسکول و مدرسہ جانے کے قابل ہوتا تو وہ قرآن مجید ناظرہ کے مرحلہ سے گذر چکا ہوتا تھا، اس کے ساتھ ہی ساتھ بچوں کی مائیں اور بڑی بوڑھیاں بچوں کے والد اور بڑے ان کو اسلام کے بنیادی معاملات سے باتوں باتوں میں واقف کرا دیتے تھے، انبیاء علیہم السلام اور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک امتی ہونے کا ربط و تعلق پیدا کر دیتے تھے اور ان کے دلوں میں یہ فخر پیدا کر دیتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان ہی معیاری انسان ہوتا ہے۔
لیکن یہ رواج تقسیم ملک کے بعد ہی سے کم ہوتا چلا گیا اور اب اس کی جگہ ریڈیو و ٹیلی ویژن کے پروگراموں نے اور کھیل کے ماہرین کے ناموں اور کارناموں نے لے لی ہے، آج ایک مسلمان بچہ سے انبیاء کے سلسلہ میں کچھ پوچھا جائے تو وہ ان سے ناواقف نکلے گا، لیکن کرکٹ کے کھلاڑیوں کے پورے حالات جانتا ہوگا۔ لکھی ہوئی چیزوں کو سامنے رکھ دیا جائے تو قرآن مجید عربی اور اردو الفاظ کے پڑھنے سے قاصر ہوگا اس کے بجائے وہ ہندی یا انگریزی کا حرف شناس پایا جائے گا۔ اب والدین کو اس کی فرصت نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے دماغ میں کوئی ایسی بات ڈال سکیں جو ان کو ان کے مذہب و تہذیبی اقدار سے روشناس کر ا سکے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ بچے جو اپنے گھروں سے اپنے مذہب اور اپنے تہذیبی اقدار سے بیگانہ نکلتے ہیں، قومی نظام تعلیم اور اپنے تہذیبی اقدار سے بیگانہ ہوتے ہیں، قومی نظام تعلیم کے دھارے میں پڑنے کے بعد کسی بھی تہذیبی و مذہبی رُخ کو اختیار کر سکتے ہیں۔
گھر کے دائرہ سے آگے بڑھ کر باقاعدہ تعلیم کا مرحلہ آتا ہے اس پر نظر ڈالی جائے تو اس کے سلسلہ میں بھی فضا بالکل تاریک نظر آتی ہے، کسی قوم کے اس کے اپنے اقدار پر قائم رکھنے کے لئے اس کے تعلیمی نظام میں سب سے اہم مسئلہ زبان کا اور ذہنی تشکیل کا فرض انجام دینے والے مضامین کا ہوتا ہے، انہیں سے فرد کی شخصیت بنتی ہے اور اس کے اخلاق کسی متعین سانچے میں ڈھلتے ہیں اور یہ مسئلہ کوئی جزوی یا محدود مسئلہ نہیں ہے، بلکہ بہت ہمہ گیر اور نتیجہ خیز مسئلہ ہے اس سے نہ کوئی اپنی مذہبی سوسائٹی اپنے کو مستغنی سمجھ سکتی ہے اور نہ کوئی نامذہبی سوسائٹی ،اس سے قوم کے افراد میں ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اپنے مقاصد پر ایمان اور ان کے لئے جدوجہد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے، یہ بے حد اہم اور بنیادی مسئلہ ہے، اقوام و ملل کے لئے اس کی حیثیت موت و زیست کے سبب کی ہوتی ہے۔ جہاں تک زبان کے مسئلہ کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت صرف یہی نہیں ہے کہ وہ اس کے بولنے اور استعمال کرنے والوں کے درمیان ایک مانوس اور پسندیدہ ذریعہ رابطہ ہے، بلکہ اس کی اہمیت اس کے استعمال کرنے والوں کے ذہنوں اور رجحانات پر اس کے اثر میں بھی خاصی ہے۔ زبان کے اثرات عام زندگی میں بھی پڑتے ہیں اور نظام تعلیم پر بھی پڑتے ہیں، نظام تعلیم میں زبان کی تعلیم اپنے الگ قسم کے اثرات اور فوائد رکھتی ہے، اسی لئے تمام زندہ قومیں زبان کی تعلیم اور زبان کے مسئلہ پر اصرار اپنی قومی و ملی زندگی کے لئے ضروری مسئلہ سمجھتی ہیں اور اس پر مفاہمت کے لئے تیار نہیں ہوتیں، ہاں اگر کسی نا گزیر حالات کے باعث زبان کی تبدیلی ہو جائے تو سب سے مقدم ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس نئی زبان کے اپنی تہذیب میں سما جانے سے اپنی زبان پر جو غلط اثرات پڑ سکتے ہیں ان کے تدارک وازالہ کے لئے خارجی یا اضافی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ میں اورنگزیب کو جس طرح بدنام کیا گیا اور مسلمان حکمرانوں کی جو خراب تصویر پیش کی گئی، اس سے عام پڑھے لکھے مسلمان کتنی بڑی تعداد میں متاثر ہوئے اور ان کو اپنے اسلاف کے اس طبقہ سے نفرت کا احساس ہونے لگا، اس میں قصور کس کا تھا، قصوردراصل خود مسلمانوں کا تھا کہ انہوں نے غیر مسلموں کی لکھی ہوئی تاریخ کو اپنی معلومات کا ذریعہ بنایا اور نئی نسل کے لئے اسی کو عملی سرمایہ بنایا، لیکن جب بعض مسلمان ماہرین تاریخ نے ان غلط فہمیوں کا پردہ چاک کیا تو بہت سے لوگوں کے ذہن درست ہوئے، لیکن پھر بھی کتنے ایسے ذہن ہیں جو ابھی اس نئے وضاحتی لٹریچر تک نہیں پہنچ سکے، اور جادوناتھ سرکار کی لکھی تحریروں کو آخری اور مستند ترین ماخذ سمجھتے ہیں۔
قسط اوّل

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *