انصاف

۳۰؍ستمبر ۲۰۱۰ء ! الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ بابری مسجد ملکیت مقدمے کا عجیب وغریب فیصلہ سنا چکی تھی۔ ثبوت پر اعتقاد کو فوقیت دیتے ہوئے جج صاحبان نے ایک ایسا فیصلہ سنادیا تھا جس سے ایک فریق اور اس کے ہمنوائوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے تھے ۔ٹی وی چینلوں پر فیصلے کو لے کر تنقیدی نشریات جاری تھیں۔ شہر کے گنجان آبادی میں واقع ایک گھر میں کئی دوست چائے کی چسکیوں کے درمیان ٹی وی پر نظریں گڑائے تھے۔

’’حدہوگئی یہ تو‘‘۔ احسان نے مایوسی کے عالم میں کہا۔

’’یہ بھی بھلا کوئی فیصلہ ہے ۔‘‘ منجیت سنگھ بھی بولے بنا نہ رہ سکا۔

’’کیوں بھئی اس فیصلے میں کیا برائی ہے ۔ تینوں فریقین کوبرابر جگہ تومل گئی ہے نا۔‘‘ ارجن تیاگی نے فیصلے کی حمایت میں ووٹ دیا۔

’’کیا اعتقاد کی بنیاد پر عدالتیں فیصلہ کر سکتی ہیں ‘‘۔ احسان نے بری طرح جھنجھلا تے ہوئے کہا۔’’اگر آئین اور ثبوت کو نظر اندا زکر کے فیصلے دیئے جانے لگے تو کتنا بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے کسی نے سوچا بھی ہے ‘‘۔

’’بیشک عدالتوں کو ثبوت کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ تو آئین کا نفاذ مشکل ہوجائے گا اور ہر طرف بدامنی پھیل جائے گی ‘‘۔منجیت نے چائے کاکپ میز پررکھتے ہوئے کہا۔

’’جس طرح اعتقاد کی بنیادپر فیصلہ ہندوئوں کے حق میں کیاگیا ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ فیصلے کے پس پشت مذہبی تعصب کارفرما ہے ۔‘‘مائیکل نے بھی بحث میں حصہ لیا ۔

’’اگر ہمارے فاضل جج صاحبان خودکو مذہب سے بالاتر نہیں رکھ سکتے تھے تو بہتر تھاکہ وہ ججی کے فرائض سے خودہی ہٹ جاتے اور کسی دیگر کو یہ ذمہ داری دے دیتے۔ ‘‘منجیت سنگھ نے کہا تو تینوں اس کا منھ دیکھنے لگے۔

’’یہ بھلا کیسے ہوسکتا تھا۔‘‘ارجن نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔

’’دنیا میں کون سا کام ناممکن ہے دوست۔ ‘‘احسان نے منجیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔

’’ہمارے پیارے نبی ؐ نے توخود ایسا کیاتھا جب کہ ان کے سامنے ان کے داماد کا مقدمہ پیش ہواتھا۔‘‘

’’چلودوست تم ہمیںسنائو کہ کیسے تمہارے نبی ؐ نے مثال قائم کی تھی ۔‘‘تینوں ہمہ تن گوش ہوگئے ۔

٭

’’زینب ؓ…خیریت تو ہے بیٹی‘‘

حضرت خدیجہؓ نے زینبؓ کو پسینے میں شرابور وحشت زدہ ہرنی کی طرح گھر میںداخل ہوتے ہوئے دیکھا تو بے اختیار ان کی طرف لپکیں۔ زینبؓ کو بانہوں میں بھر کر محبت بھرے لہجے میں بولیں:

’’کیاہوا بیٹی… تم اس قدر بدحواس سی کیوں ہو؟‘‘

’’اماں… نے دین اسلام میں مکمل شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے ۔‘‘زینبؓ نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا اور اپنے اندر طویل عرصہ سے جاری کفرو ایمان کی جنگ کی پوری داستان خدیجہؓ کے گوش گزار کر دی۔

خدیجہؓ زینبؓ کو ساتھ لے کر حضور اکرمؐ کے پاس پہنچی۔ انھیں زینبؓ کے دل کاحال کہہ سنایا۔ زینبؓ کے فیصلے پر حضور ؐ بہت خوش ہوئے اور ان کی آنکھ سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔

’بیٹی میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی اور نہیںکہ تم داخل اسلام ہوجائو ۔مگر بیٹی …‘‘

’’مگر کیا ابّا جان‘‘

’’یہ راہ بڑی پرخار ہے بیٹی ‘‘۔حضورؐ نے آگاہ کیا۔

’’مجھے علم ہے ابا جان‘‘۔ زینبؓ پر عزم تھیں۔

’’داخل اسلام ہوتے ہی تمہارا سسرال سے رشتہ بھی منقطع ہوجائے گا۔‘‘

’’لیکن اللہ سے تو رشتہ جڑ جائے گا۔‘‘

’’اور ابوالعاص… اس کے بارے میں بھی تم نے سوچ لیا ہے ‘‘۔

زینبؓ حضورؐ کی بات مکمل ہوتے ہی زاروقطار رونے لگیں۔ شوہر کی محبت اورتڑپ ان کے چہرے سے عیاں تھی ۔زینبؓ بے حد جذباتی ہوگئی تھیں۔

’’اب تک ان ہی کی وجہ سے مجبور تھی ورنہ دل تو کب کا اللہ کی وحدانیت پر ایمان لا چکا تھا۔‘‘زینبؓ کا گلا رندھ گیا تھا۔ ’’میں جانتی ہوں ابا حضور ؐ کہ ہمارا جدا رہنا مشکل ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ بھی جلد اسلام میں داخل ہوجائیں گے ۔ تب میں ایک مرتبہ پھر ان کی خدمت کر سکوں گی۔‘‘

حضور ؐ بیٹی کے جذبۂ ایمان سے بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے زینبؓکو ڈھیروں دعائیں دیں۔’’اللہ تم پر رحمت کی بارش فرمائے اور وہ دن جلد آئے کہ ابوالعاص بھی راہ حق پر آجائے۔ ‘‘

٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملے زیادہ عرصہ نہیںہوا تھا ۔نئے دین میں کم ہی لوگ شامل ہوئے تھے لیکن اس نے مکہ میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ مشرکین حضورؐ کے خلاف لام بند ہونے لگے تھے۔ نئے دین میں حضورؐ کی بیٹی زینب ؓ اور ان کے داماد ابوالعاص ابن الربیع بقیط بھی شامل نہیں تھے۔ ان کی شادی حضورؐ کی نبوت سے قبل ہوچکی تھی۔ ابوالعاص حضرت خدیجہؓ کی سگی بہن ہالہ کے بیٹے تھے۔ حضورؐ نے ابوالعاص کو ان کی نیک فطرت اور پاکیزہ خصلت کے سبب زینبؓ کے لیے منتخب کیا تھا ۔ جبکہ ہالہ بھی زینبؓ کی عادات اور اخلاق میں شائستگی کی وجہ سے انھیں پسند کرتی تھیں۔دونوں شادی کے بعد اپنی ازدواجی زندگی سے پوری طر ح مطمئن تھے۔

بعد نبوت جب زینبؓ مائکے جاتیں تو اپنے والدکی ایمان سے بھری باتیں سن کر دم بخود رہ جاتیں۔ دھیرے دھیرے ان کے اندر بھی ایمان کی شمع روشن ہونے لگی تھی۔لیکن ابوالعاص کو کسی مذہب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اپنے کاروبار اور زینبؓ کی قربت میں ہی خوش تھے۔ زینبؓ نے نئے دین کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کسی سے نہیںکیا تھا۔وہ ابوالعاص کے مذہب کے متعلق خیالات سے واقف تھیں اس لیے انھیں بھی اپنے جذبات سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ ان کے اندر کفر و ایمان کے درمیان جنگ جاری تھی ۔زینبؓ کو جب محسو س ہوا کہ اب اللہ پر ایمان اس قدر مضبوط ہوچکا ہے کہ بد عقیدہ شوہر کی محبت بھی ان کے قدموں کو نہیں روک سکتی تو انھوں نے دین اسلام میں داخل ہونے کا حتمی فیصلہ کر لیا اور وہ سسرال کو خیربادکہہ کر مائکے چلی آئیں ۔

حضورؐ نے اگلے ہی دن زینبؓ کو کلمہ پڑھا کر مشرف بہ اسلام کر لیا۔ یہ خبر اہل مکہ پر بجلی بن کر ٹوٹی۔ خبر نے اہل مکہ کو بے حد متفکر کر دیا تھا۔ وہ فکر مند تھے کہ اب اسلام نے بڑے گھرانوں پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔

حضورؐ کی دو بیٹیاں رقیہؓ اور ام کلثومؓ ابولہب ہاشمی کے بیٹوں عتبہ اور عتیبہ سے منسوب تھیں۔ حضورؐ کے ذریعہ اعلان حق بلند کرنے اور بتوں کی پوجا ترک کرنے کو کہنے پر ابولہب سخت ناراض ہوگیا تھا۔ابو لہب نے اپنے دونوں بیٹوں کو غضبناک لہجے میںحکم دیا ۔

’’میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ تم رقیہؓ اور ام کلثومؓ سے اپنا رشتہ منقطع کر لو۔‘‘

دونوں والد کے احکام پر بہت حیران ہوئے اور ایک دوسرے کے چہرے کو تکنے لگے۔

’’لیکن ابّا … ‘‘عتبہ نے کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا۔

’’میرا حکم ہے تم ایسا کرو۔‘‘ابو لہب نے سخت لہجے میںکہا۔

’’لیکن کیوں …؟‘‘عتیبہ نے جاننا چاہا۔

’’ اس لیے کہ ان کے باپؐ نے ہمارے بتوں سے بغاوت کی ہے ۔‘‘

’’مگر اس میں رقیہؓ اور ام کلثومؓ کا کیا قصو ر …‘‘ عتیبہ نے احتجاج کیا۔

’بھلے ہی نہ ہو…لیکن اس سے ان کی حوصلہ شکنی توہوگی۔‘‘ ابو لہب کا لہجہ مزید تیز ہوگیا تھا۔ ’’اور مجھے یقین ہے کہ تم میرے حکم کو ضرور مانوگے ۔‘‘

ابو لہب نے بہ غور دونوں بیٹوں کو باری باری دیکھا۔ دونوںبیٹوں نے فوراً اپنے سر خم کردیئے۔ ابو لہب کاچہرہ مسرت سے کھل اٹھا۔ بیٹوں پر فتح کی روداد سنانے   ابو لہب کفار مکہ کے پاس دوڑ گیا۔ کفار مکہ نے ابو لہب کے کارنامے کو بہت سراہا۔ نتیجہ یہ کہ ابو لہب کفار مکہ کی جماعت لے کر ابو العاص کے گھر بھی جا دھمکا۔

ابو لہب نے اپنے بیٹوں کے کارنامے کو فخریہ انداز میں بیان کرتے ہوئے ابوالعاص سے کہا ’’تمہیں بھی اب زینبؓسے رشتہ توڑ لیناچاہیے۔‘‘

’’میں ایسا نہیں کرسکتا ۔‘ ‘ابو العاص نے دو ٹوک انداز میں منع کر دیا ۔ ابوالعاص زینبؓ کے چلے جانے سے رنجیدہ تو تھے لیکن بیوی سے محبت ابھی سرد نہیں ہوئی تھی۔

’’توہم سمجھ لیں کہ تم بھی نئے مذہب کے دامن گیرہوگئے ہو۔‘‘

’’بالکل نہیں۔ میں کسی مذہب کا پرستار نہیں ۔‘‘

’’تو پھر وعدہ کرو کہ تم زینب ؓ کو محمد ؐ کے گھر ہی چھوڑ دوگے۔ اسے واپس نہ لائو گے۔‘‘

’’میں آپ سے اجازت چاہوں گا کہ مجھے زینبؓ کوگھر واپس لانے دیا جائے۔ ‘‘ابوالعاص نے ابو لہب سے مودبانہ گزارش کی۔

’’اب یہ ممکن نہیں ابوالعاص۔‘‘ ابو لہب غصے سے بے قابو ہورہاتھا ۔ مصلحتاً ضبط کے ساتھ بولا۔ ’’قبیلہ قریش میں خوبصورت اور خوب سیرت  لڑکیوں کی کمی نہیں ہے ابوالعاص۔ ہم تمہاری شادی ان میں سے کسی سے بھی کرادیں گے جسے تم پسند کروگے۔‘‘

’’میری پہلی اور آخری پسند زینبؓ ہے ۔‘‘

’’زینبؓ …زینبؓ…زینبؓ میں ایسا کیا ہے جو تم اپنے قبیلے سے بغاوت پر …‘‘

’’زینبؓ میری بیوی ہے اور اس جیسا خلوص ،محبت اور خدمت گزاری اہل قریش کی کسی اور لڑکی میںممکن نہیں۔ بے شک زینبؓ کابدل ممکن نہیں ۔‘‘

ابوالعاص نے ابو لہب کو مزید غصہ دلا دیا تھا۔ وہ تیز لہجے میں بولا۔

’’تم جس کے لیے مرے جا رہے ہو وہ خود تمہیں چھوڑ کر جا چکی ہے ۔ اسے تمہاری فکر ہوتی تو وہ تمہیں یوں چھوڑ کر نہیں چلی جاتی۔ ‘‘ابو لہب نے ایک اور دائو کھیلا۔

’’مجھے زینبؓ کے جانے کاملال نہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے ساتھ رہی۔ ‘‘

’’صاف کیوں نہیں کہتے کہ تم نے بغاوت کاپورا ارادہ کر لیا ہے ۔ ‘‘

’’نہیں …بلکہ میں زینبؓ کی واپسی کا مطالبہ…‘‘

’’خاموش ابوالعاص کہ تمہارے منھ سے بغاوت کی بو آرہی ہے ۔ خبردار ہو کہ اب تم ہمارے دشمن ہو۔‘‘ ابو لہب غصے سے پاگل ہوگیاتھا ۔وہ ابواالعاص کو دھمکاکر واپس چلاگیا۔

ابوالعاص نے بھلے ہی اسلام قبول نہیں کیا تھا لیکن وہ حضورؐ کی بے حد عزت و احترام کرتے تھے۔ ابوالعاص کو یقین تھا کہ وہ زینبؓ کی واپسی کا مطالبہ نہیں ٹھکرائیں گے ۔ اسی یقین کے سہارے ابوالعاص حضورؐ کے گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔

ابوالعاص جب اپنی سسرال پہنچے تو حضورؐ صحابہ ؓ کے ساتھ نماز میں مشغول تھے ۔ ابوالعاص انھیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے لگے۔ انھیں بھی اس روح پرور منظر نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ انھیں محسوس ہوا کہ ایک عجیب سا سکون ان کے اندر اتر آیا ہے ۔ نماز کے بعد جب صحابہؓ رخصت ہوگئے تو ابوالعاص نے حضورؐ سے زینبؓ کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

’’کیا تمھیں معلوم نہیں کہ زینبؓ اب دین اسلام میں داخل ہوچکی ہے ۔‘‘ حضورؐ نے ابوالعاص سے سوال کیا۔

’’مجھے معلوم ہے جنابؐ۔‘‘

’’اسلام کے مطابق اب اس کی واپسی ممکن نہیں ۔‘‘

’’پھر بھی میرا مطالبہ ہے کہ آپؐ زینبؓ کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں ۔‘‘

’’لیکن کیوں…؟‘‘

’’اس لیے کہ آپ ؐ کے اعلان حق        اور بتوں کی پرستش ترک کرنے کے اعلان سے اہل مکہ ناراض ہیں او زینبؓ کے قبول اسلام نے انھیں مزید ناراض کردیا ہے ۔‘‘

’’پھر…‘‘

’’اگر زینبؓ یہاںرہیں گی تو یہ لوگ آپؐ اور آپ کے صحابہؓ سے دشمنی کریں گے۔‘‘

’’لیکن میں ان سے لڑنانہیں چاہتا۔‘‘

ابوالعاص نے فوراً کہا۔ ’’ اگر آپ ؐ زینبؓ کو میرے ساتھ جانے دیں گے تو ان کا عتاب مجھ پر نازل ہوگا۔ آپ ؐ اور آ پکے صحابہ ؓ محفوظ رہیں گے۔ ‘‘

حضورؐ سوچ میں پڑ گئے۔ ’’مجھے اپنی فکر نہیں لیکن صحابہؓ کے لیے مجھے تمہاری تجویز کو ماننا ہوگا۔‘‘حضورؐ نے مزید ارشاد فرمایا ۔’’مجھے امید ہے کہ تم زینبؓ کو اس کے دین سے غافل کرنے کی کوشش نہیں کروگے۔‘‘

’’میں بھلے ہی کسی دین کا پیروکار نہیں لیکن کسی کے مذہب میں مداخلت بھی میرا اصول نہیں۔‘‘

حضورؐ جانتے تھے کہ ابوالعاص کتنا بھی بدمذہب کیوں نہ ہو لیکن وہ بات کا سچا اور پکّا ہے ۔  انھوںؐ نے زینبؓ کو ابوالعاص کے ساتھ وداع کر دیا۔

٭

مکہ میں حضورؐکے ذریعے نئے دین کی آمد نے جو ہلچل مچائی تھی اس کی وجہ سے حضورؐ اور مسلمانوں پر مشرکین نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔ حضورؐ صحابہ ؓکے لیے فکر مند تھے کہ اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم صادر ہوا۔ مسلمانوں کا قافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ مدینہ پہنچ کر مسلمان دین کی تبلیغ میں بے خوف و خطرمصرو ف ہوگئے۔

ہجرت کے دوسرے ہی سال مشرکین بڑے کروفر کے ساتھ مکہ سے بڑا لشکر لے کر تحریک اسلامی کو کچلنے کی غرض سے مدینہ پر حملہ آور ہوئے۔ مجبوراً حضورؐ کو بھی جنگ کے لیے تیار ہونا پڑا ۔کفار نے حضور ؐ کے چچا عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے بڑے بھائی عقیلؓ کو تو اپنے ساتھ ملا ہی لیا تھا ساتھ ہی ابوالعاص کو بھی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے آمادہ کر لیاتھا۔ تین سو تیرہ جہادیوں کا اسلامی لشکر جنگ بدر میں اپنے جوش و جذبے اور اللہ کی مدد سے فتح یاب ہوا۔ بہت سے مشرکین قیدی بنا لیے گئے۔ ابوالعاص بھی ابن جبیر ؓ انصاری کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔

سبھی جنگی قیدیوں کو حضورؐ کے سامنے پیش کیاگیا ۔بہت سے قیدی ایمان لے آئے تھے اور بہت سے قیدیوں کے گھروں سے فدیہ آچکاتھا اس لیے انھیں رہائی مل گئی تھی ۔زینبؓ کو جب ابوالعاص کی گرفتاری کاعلم ہوا تو انھوں نے اپنے دیور عمرو بن الربیع کے ہاتھ وہ بیش قیمتی ہار بطور فدیہ بھجوادیا جوکہ حضرت خدیجہؓ نے انھیں جہیز میں دیا تھا۔

ابوالعاص کو جب حضور ؐ کے سامنے پیش کیاگیا تو وہ ؐ بہت دیر تک ابوالعاص کو دیکھتے رہے۔ حضورؐ نے جب فدیہ بطور بھیجا گیا ہار دیکھا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں ۔ حضورؐ نے صحابہ سے کہا ’’میں ابوالعاص کا فیصلہ تم لوگوں پر چھوڑتا ہوں ۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ ؐ گھر کے اندر تشریف لے گئے ۔ صحابہؓ نے جب حضورؐ کواشکبار دیکھا تو وہ خودبھی رنجیدہ ہوگئے۔ انھوں نے سمجھا کہ ہار دیکھ کر حضورؐ اپنی بیٹی کو دیکھنے کے لیے تڑپ اٹھے ہیں۔

صحابہؓ نے فیصلہ دیا’’ابوالعاص کو رہا کر دیا جائے گا لیکن انھیں وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ مکہ پہنچ کر زینبؓ کو حضورؐ کے پاس بھیج دیں گے اور فدیہ بطور بھیجا گیا ہار بھی واپس کر دیا جائے گا۔ ‘‘

ابوالعاص رہا ہو کر اپنی قوم میں واپس لوٹ گئے ۔لیکن زینبؓ کو مدینہ بھیجنے کا وعدہ نبھانانہیں بھولے ۔زینب ؓ کی جدائی میں وہ غمگین رہنے لگے تھے۔ غم ہلکا کرنے کے لیے انھوں نے خود کو کاروبار میں بری طرح مصروف کر لیا ۔ادھر زینبؓ بھی ابوالعاص سے جدائی کا غم برداشت نہیں کر پار ہی تھیں ۔انھوں نے بھی خود کو دین کی خدمت میںاس طرح غرق کر لیا کہ ابوالعاص کی جدائی کا غم بھول جائیں۔ لیکن دونوں کو پور ی طرح قرار میسر نہیں ہوا۔

ابوالعاص کاروباری سلسلہ میں مشرکین کے قافلے کے ساتھ ملک عراق روانہ ہوئے تھے کہ راستہ میں اسلامی لشکر سے اس قافلے کی مڈبھیڑ ہوگئی ۔ایک مرتبہ پھر اسلامی لشکر کامیاب ہوا اور مشرکین کو گرفتار کر لیا گیا۔ صرف ابوالعاص ہی کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوسکے۔ اتفاق سے وہ زینبؓ سے جا ملے اور زینبؓ نے انھیں اپنی پناہ میں لے لیا۔

جب حضورؐ کے سامنے تمام قیدیوں کو پیش کیاگیا تو زینبؓ نے ابوالعاص کے سلسلہ میں انکشاف کیا کہ وہ ان کی پناہ میں ہیں۔ حضورؐ کو اس با ت کا قطعی علم نہ تھا ۔ا س لیے انھیں تعجب ہوا۔

حضورؐ نے صحابہؓ سے ارشاد فرمایا۔

’’آپ سب نے سنا کہ زینبؓ نے کیا کہا‘‘

’’ہاں رسول ؐ اللہ ہم نے خوب سنا۔‘‘صحابہؓ نے عرض کیا۔

حضورؐ نے مزید فرمایا ’’قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے زینبؓ کے بتانے سے قبل مجھے کچھ علم نہ تھا کہ ابوالعاص کہا ںہے ۔‘‘

حضورؐ نے آگے کہا’’اگر کوئی ادنیٰ مسلمان بھی کسی کو پناہ دے تو سب پر لازم ہے کہ وہ اسے پناہ دیں۔‘‘

حضورؐ نے فوراً منصف کی حیثیت کو تر ک کر دیا۔اور فرمایا ’’میں ابوالعاص کا معاملہ صحابہؓ کے سپرد کرتا ہوں کہ وہ فیصلہ کریں۔ ‘‘اتنا کہہ کر حضوؐر گھر کے اندر تشریف لے گئے ۔ جہاں زینبؓ ان کی منتظر تھیں۔

’’بابا جان …ابوالعاص …‘‘

’’بیٹی ابوالعاص تمہاری پناہ میں ہے اس لیے اس کی خاطر تواضع کا خاص خیال رکھنا لیکن اس سے باہمی ربط و ضبط بھی نہ بڑھانا۔‘‘

’’بابا جان …ابوالعاص اپنا وہ مال واپس چاتے ہیں جو کہ لشکر نے ا ن سے لیا تھا ۔‘‘زینبؓ نے عرض کیا ۔

حضورؐ نے بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا’’بیٹی اب یہ صحابہؓ کے درمیان کا معاملہ ہے کہ میں یہ اختیار انھیں دے چکا۔اگر وہ واپس دینا چاہیں گے تو ابوالعاص کو مل جائے گا ورنہ میں مجبور ہوں۔ ‘‘

زینبؓ نے جب یہ سنا کہ حضورؐ نے ابوالعاص کامعاملہ صحابہؒ پر چھوڑ دیا ہے توو ہ شدت جذبات سے رو پڑیں ۔

’بابا جان …آپ نے کتنے ہی قیدیوں کو رہا کر دیا۔ پھر کیا ابوالعاص ان سے بھی گئے گزرے ہیں کہ آپ نے انھیں صحابہؓ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔‘‘زینبؓ کا شکوہ زبان پر آہی گیا تھا۔

حضورؐ بیٹی کے شکوہ پر تڑپ اٹھے۔ انھوں نے زینبؓ سے کہا ۔

’’بیٹی میں نے کہا نہ تھا کہ دین کی راہ میں بہت کانٹے ہیں ۔‘‘

’’لیکن بابا…‘‘

’’اسلام اور اللہ کی راہ میں ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا بیٹی۔‘‘

’’پر ابوالعاص کا فیصلہ بھی تو آپ خود کر سکتے تھے۔‘‘

’’ کیا تم نہیں جانتیں کہ ابوالعاص مجھے بھی عزیز ہے لیکن اس کا فیصلہ اگر میں خود کرتا تو طرفداری کے جرم کا مرتکب ہوسکتاتھا۔ کیونکہ ابوالعاص آخر کو میرا داماد ہے ۔ اس لیے میں نے اسے صحابہؓ کے حوالے کر دیا کہ وہ اسلام کی روح کے مطابق فیصلہ کر لیں۔‘‘

٭

تینوں دوست احسان کی زبان سے نکلے الفاظ کو سن کر مبہوت ہوگئے تھے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *