بنی اسرائیل کاعروج و زوال قرآن اورتاریخ کے آئنہ میں

        روز اول سے اللہ تعالیٰ کا یہ اصول رہا ہے کہ جو قوم نظام دنیا کے چلانے کے قابل ہوتی ہے اسی کو زمین کی نیابت ملتی ہے۔ اس اصول خدا وندی میں اگر مومنین صالحین اس قابل ہوں تو بدرجہ اتم وہی اس لائق ہوتے ہیں کہ بنی نوع انسان کی قیادت کریں،لیکن میدان عمل میں وہ نہ ہوں تب عالم انسانی میں جو زمینی و انسانی ضرورتوں کے زیادہ قابل ہوگا وہی اس نیابت کا حقدار ہوگا۔چنانچہ جب تک بنی اسرائیل انبیائی تعلیمات کی روشنی میں ہدایت و ضلالت کی تمیز کے ساتھ خود بھی زندگی گزارتے رہے اور اوروں کو بھی اس کا درس دیتے رہے،اللہ نے انہی کو زمین کی خلافت و نیابت دی اور ان کی تاریخ میں ایسے برگزیدہ انبیاء و سلاطین بھیجے جن کی حکومت کی نظیر تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ارشاد ربانی ہے:

بنی اسرائیل کا دور عروج:

وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہِ یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآئَ وَجَعَلَکُمْ مُلُوْکًاوَ اٰتَٰکُمْ مَا لَمْ یُوْتَ اَحْدًا مِنَ الْعٰلَمِیْنَ۰(سورۃ المالدہ:۲۰)

 ’’اور یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا ’’اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں دی تھی۔اس نے تم میں نبی پیدا کیے ،تم کو فرماروابنایا ،اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میںکسی کو نہ دیا تھا۔‘‘

        اس آیت کے ذیل میں امام ابن جریر ؒ نے حضرت قتادہ ؒ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ ہم یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ بنو اسرائیل پہلے لوگ ہیں جن کے لیے انسانوں میں سے خادم میسر کیے گئے اور وہ دوسرے لوگوں کے مالک بنے۔حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کے بعد سے بنی اسرائیل کی نسل میں نبوت رہی۔یہ سب انبیاء علیہ السلام انہیں دعوت توحید و اتباع دیتے رہے۔یہ سلسلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ پر ختم ہوا۔مراد اس سے یہ ہے کہ اپنے زمانوں والوں پر انہیں فضیلت دی گئی۔نبوت و بادشاہت کو اپنی خاص نعمت کے اظہار کے طور پر قرآن مجید نے بیان کیا گویا نبوت و بادشاہت اللہ کے دو زبر دست انعام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو افتخار بخشا تھا ۔اعمال صالحہ کے نتیجہ میں اللہ رب العزت نے یہود کو دین ود نیا دونوںکی اعلی نعمتوں سے سرفراز کیا تھا ،واضح رہے کہ دینی مناصب میں سب سے بڑا منصب نبوت اور دنیوی اقبال کی آخری حد آزادی اور بادشاہت ہے یہ دونوں چیزیںمرحمت کی گئیں۔اللہ نے بنی اسرائیل کی اصلاح و تربیت کے لیے جس کثرت سے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے کسی اور امت میں اتنے انبیاء مبعوث نہیںفرمائے ۔ساتھ ہی ان میں بادشاہ بنائے ۔انبیاء کی کثرت کے ساتھ جو بادشاہوں کا تذکرہ کیا گیا یہ سلاطین بنی اسرائیل کثرت سے فرعون کے غرق ہونے کے بعد ہوئے ۔اسی طرح قوم فرعون نے بنی اسرائیل کو جس طرح اپنا غلام بنا لیا تھا فرعون کی غرق آبی کے بعد انہیں اس غلامی سے رہائی ملی ،یہ آزادی بھی اللہ کی جانب سے ایک بڑی نعمت گنوائی گئی۔اسی لیے بعض مورخین آیت ذیل میں جو ’’وَجَعَلَکُمْ مُلُوْکًا‘‘آیا ہے اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ یہاں ملک کا لفظ بادشاہ کے معنیٰ میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ آزاد اور خود مختار کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔مقصد انہیں یہ جتانا ہے کہ پہلے تم فرعون کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔اب وہ کاٹ دی گئیں اور تمہیں آزادی اور حریت کی نعمت سے سرفراز کردیاگیا ۔مفسرین کرام ابن جریر، رازی،قرطبی وغریرہ نے اسی معنی کو پسند فرمایا ہے۔

        بنی اسرائیل کی تاریخ میں حضرت دائود علیہ السلام نبی کے ساتھ ساتھ بادشاہ بھی ہوئے ہیں۔انہوں نے نہ صرف فلسطین و شرق اردن ،بلکہ شام کے بھی بڑے حصے پر اسرائیلی حکومت قائم کی۔اس قیام حکومت و استحکام میں لوہے کے ہتھیاروں کا استعمال بڑی اہمیت کا حامل تھا۔کیوں کہ اس وقت تک لوہے کے ہتھیاروں کا استعمال عام نہیں ہوا تھا۔اللہ نے حضرت دائود ؑ کو زرہ بنانے کا ہنر سکھایاتھا،آپ سے قبل جن معدودِ چند اقوام میں لوہے کا استعمال ہوتا تھا وہ  زرہیں سیدھی بناتی تھیں سب سے پہلے جنہوں نے زرہ کو حلقوں اور کڑیوں والی بنایا وہ حضرت دائود ؑ ہی تھے۔

وَعَلَّمْنٰہُ صَنْعَۃَ لَبُوْسٍ لَّکُمْ لِتُحْصِنَکُمْ مِنْ بَأْسِکُمْ ج فَھَلْ اَنْتُمْ شٰکِرُوْنَ۰(سورۃ الانبیائ:۸۰)

اور ہم نے اسے(دائودؑ )کو تمہارے لیے زرہ کی صنعت سکھائی تھی ،تاکہ تمہاری لڑائی (کی تکلیف)سے تمہیں بچائے،پھر کیا تم شکر کرنے والے ہو؟

اس صنعت داودی کی مزید تفصیل سورہ سبا میں اس طرح آئی ہے:

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَائُوْدَ مِنَّا  فَضْلاً ط یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہُ وَالطَّیْرُج وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ۰اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِی السَّرْدِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًاط اِنِّی بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۰(سورۃالسبا:۱۰)

’’اور یقینا ہم نے دائودکو اپنی طرف سے فضیلت عطا کی،(ہم نے حکم دیا)پہاڑوں !اس کے ساتھ تسبیح دہرائو،اور(اے)پرندو!(تم بھی)اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔کہ تو کامل کشادہ زرہیں بنا اور کڑیاں جوڑنے میں (مناسب)اندازہ رکھ اور تم(سب)نیک عمل کرو ،جو تم کرتے ہو بلا شبہ میں اسے خوب دیکھ رہا ہوں۔‘‘

یٰدَائُوْدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعَ الْھَوٰی فَیُضِلُّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ(سورہ ص:۲۶)

’’(ہم نے کہا)اے دائود!بے شک ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے ،لہٰذا تو لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا اور نفسانی خواہشات کی پیروی نہ  کرنا کہ وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی ،بلا شبہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے شدید عذاب ہے،اس لیے کہ وہ یوم عذاب کو بھول گئے۔‘‘

 حضرت دائود علیہ السلام کے بعد تاریخ بنی اسرائیل میں سب زیادہ جنہیں طاقت وشوکت اور غلبہ و تمکنت سے نوازا گیا وہ حضرت سلیمان علیہ السلام ہیں۔

وَوَرِثَ سُلَیْمَانُ دَاء ُوْدَ وَقَالَ یٰآیُّھَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ اِنَّ ھَذَا لَھُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ(النمل:۱۶)

اور دائود کا وارث سلیمان ہوا اور اس نے کہا۔لوگو!ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں بے شک یہ (اللہ کا)نمایا ں فضل ہے۔‘‘

        امام ابن ابی شیبہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ:’’حضرت سلیمان ؑ کے لیے چھ لاکھ کرسیاں لگائی جاتی تھیں ،پہلے انسانوں میں سے سرکردہ لوگ آتے۔وہ آپ کی قریب والی کرسیوں پر بیٹھتے۔پھر جنوں میں سے اشراف آتے،وہ انسانوں کے قریب بیٹھتے۔پھر آپ پرندوں کو بلاتے وہ حاضرین  مجلس پر سایہ کرتے ۔پھر آپ ہوا کو بلاتے ،وہ تمام کو اٹھا لیتی اور ایک صبح میں ایک ماہ کی مسافت طئے کرتی۔‘‘(مستدرک حاکم) حضرت سلیمان علیہ السلام کے اسی وسیع اقتدار کو قرآن مجید نے یوں بیان کیا:

وَلِسُلَیْمَانَ الرِّیْحَ عَاصِفَۃً تَجْرِیْ بِأَمْرِہِ اِلٰی الْاَرْضِ الَّتِی بٰرَکْنَا فِیْھَا طوَکُنَّا بِکُلِّ شَیْئٍ عٰلِمِیْنَ۰وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَہُ  وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلاً دُوْنَ ذَلِکَ ج وَکُنَّا لَھُمْ حٰفِظِیْنَ۰(سورئہ الانبیائ:۸۲/۸۱)

اور (ہم نے) سلیمان کے لیے تیز و تند ہوا مسخر کردی،وہ اس کے حکم سے اس سر زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی ،اور ہم ہر چیز کو خوب جانتے ہیں۔اور کچھ شیاطین بھی (تابع کیے تھے)جو اس کے لیے(سمندر میں)غوطہ لگاتے،اور اس کے علاوہ بھی کئی کام کرتے تھے ،اور ہم ہی ان کے نگران تھے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت کی وسعت کو دوسرے مقام پر یوں بیان کیا:

’’ہوا کو سلیمان کے (تابع کیا)،اس کا صبح کا چلنا ایک ماہ (کی مسافت تھا)اور اس کا شام کا چلنا بھی ایک ماہ(کی مسافت)تھا،اور ہم نے اس کے لیے ایک پگلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور کچھ جن(اس کے تابع کردیے)جو اس کے سامنے اس کے رب کے حکم سے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرکشی کرتا تو ہم اسے خوب بھڑکتی آگ کا مزا چکھا تے۔‘‘(سورئہ سبا:۱۲)

ہوائوں پر حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس اختیار کی مزید تفصیل سورہ ص میں اس طرح آئی ہے :

فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیْحَ تَجْرِی بِأَمْرِہِ رُخَآئً حَیْثُ یَشَآئُ

’’پس اس کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا جو اس کے حکم سے بسہولت چلتی تھی جدھر وہ جانا چاہتا۔‘‘

ان آیات ، بائیبل اور جدید تیریخی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے اپنے دور حکومت میں بہت بڑے پیمانے پر بحری تجارت کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

امام بیہقی  ؒ نے یہ روایت نقل کی ہے طیور کی بولی سمجھنے کے علاوہ حضرت سلیمان ؑ دوسری تمام مخلوقات کی بولی سمجھنے کی خدا کے حکم سے قدرت رکھتے تھے اور انہیں ان پر اختیار تھا ۔(تاریخ ابن کثیر)

وَحُشِرَ لِسُلَیْماَنَ جُنُوْدُہُ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَھُمْ یُوْزُعُوْنَ ۰(سورۃالنمل:۱۷)

’’اور سلیمان کے پاس اس کے سارے لشکر ،جنوں،انسانوں اور پرندوں میں سے جمع کیے گئے اور ان کی درجہ بندی کی جا رہی تھی۔‘‘

یہود کا فساد اور انبیائی تنبیہات:

        اس عالم اسباب میں اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ زمین کا اقتدار اسی کو دیا جاتا ہے جو اس کے قابل ہو۔جب تک انسانی قافلہ کا کوئی حصہ ان اصولوں کو پورا کرتا ہے ،من جانب اللہ اسے حکومت و اقتدار سے نوازا جاتا ہے اور جب ان خدائی اصولوں کو پامال کیا جاتا ہے تو اصل مالک کی طرف سے فیصلہ کردیا جاتا ہے اور کسی اور قوم کو نیابت ارضی کا موقع دیا جاتا ہے۔چنانچہ یہی معاملہ بنی اسرائیل کے ساتھ بھی ہوا۔وہ جب تک انبیائی تعلیمات کے پابند رہے خلافت ارضی کا شرف انہیں بخشا گیا لیکن جب بنی اسرائیل اپنے اس منصب کو بھول گئے تو انہیں اس ذمہ داری سے ہٹادیاگیا۔ نہ ہٹایا گیا بلکہ غیر اقوام کو ان پر مسلط کیا گیا جنہوں نے بنی اسرائیل کو ذلیل کیا اور انہیں معبد خانہ تک کو مسمار کردیا۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَقَضَیْنَا اِلٰی بَنِی اِسْرَائِیْلَ فِی الْکِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا۰فَأِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰھُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَا  اُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلاَلَ الدِّیَارِطوَکاَنَ وَعْداً مَفْعُوْلاً۰ثُمَّ رَدَدْنَا لَکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْھِمْ وَاَمْدَدْنٰکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ جَعَلْنٰکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا۰(سورہ بنی اسرائیل:۴/۶)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب (تورات) میں فیصلہ سنا دیا کہ تم زمین میں دو بار ضرور فساد کروگے اور بہت بڑی سرکشی ضرور کروگے۔پھر جب دونوں میں سے پہلا وعدہ آیاتو ہم نے تم پر اپنے سخت جنگجو بندے مسلط کردیے چنانچہ وہ(فساد انگیزی کے لیے)شہروں کے درمیان پھیل گئے۔اور یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔پھر ہم نے تمہیں ان پر غلبہ دیا اور تمہیں مال اور بیٹوں کے ساتھ مدد دی اور ہم نے تمہیں نفری میں زیادہ کر دیا۔ ‘‘

        بنی اسرائیل کا پہلا فساد حضرت زکریا علیہ السلام کا قتل تھا۔اس قتل کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان پر نبط کا بادشاہ مسلط کیا ۔اس دوران ان میں بخت نصر مسکین بن کر نکلا ۔وہ کھانے کی تلاش میں تھا حتی کہ شہر میں داخل ہوا۔وہ بنو اسرائیل کی مجالس کے پاس آیا تو وہ کہہ رہے تھے اگر ہمارے دشمن جان لے کہ ہمارے دلوں میں ہمارے گناہوں کی وجہ سے کتنا خوف ڈال دیا گیا ہے تو ہمارے دشمن ہم سے جنگ کا ارادہ ترک کردیں۔جب بخت نصر نے اس کی یہ بات سنی تو وہ شہر سے باہر نکلا اور اس نے سخت قسم کے لشکر تیار کیے ۔پھر وہ لوٹ آئے یعنی حملہ کردیا۔(تفسیر درمنثور آیت ذیل)پہلی مرتبہ جب انہوں نے فساد کیا تو اللہ تعالیٰ نے جالوت کو ان پر مسلط کردیا ،پس اس نے انہیں قتل کیا۔اور دوبارہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرکے فساد کیا تو اللہ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کیا۔جالوت نے ان پر تسلط کے بعد خراج اور ذلت کو لازم کیا۔بخت نصر نے مساجد کو خراب کیا ،ان پر قابو پایا اور انہیں برباد کردیا۔انہیں قتل کیا ،قیدی بنا کر بابل لے گیا اور انہیں سخت عذاب دیا۔بخت نصر فارس کا بادشاہ تھا۔ستر ہزار لوگوں کو قتل کیا،بیت المقدس کے زیورات چھین لیے۔بخت نصر کے ذریعہ بنی  اسرائیل پر جو ذلت مسلط کی گئی اس کی شکل یہ تھی ، حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیںمیں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ!بیت المقدس تو اللہ کے نزدیک بہت عظیم ہے؟فرمایا:’’ہاں،اسے سلیمان بن دائود علیہما السلام نے سونے،موسی،یاقوت اور زبر جد سے بنایا تھا اور اس میں سونے اور چاندی کی ٹائلیں فرش پر لگوائی تھیں اور اس کے ستون بھی سونے کے تھے …… یہ تمام چیزیں بخت نصر لے گیا۔(تفسیر درمنثور)اس حدیث میں بیت المقدس کے جن زیورات کا ذکر آیا ہے کہ بخت نصر اسے لوٹ کر لے گیا تھا اس باب میں آخری زمانے کے تعلق سے یہ حدیث بھی ملتی ہے کہ :

        رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’یہ بیت المقدس کے زیورات کی صفت ہے انہیں مہدی علیہ السلام بیت المقدس کی طرف لوٹائیںگے۔(تفسیر طبری)

        ان آیات کی تفسیر میں امام ابن جریر نے حضرت ابن زید ؒ سے اس آیت کے تحت روایت کیا ہے کہ دوسرا وعدہ پہلے کی نسبت زیدادہ سخت تھا۔کیوں کہ پہلی سزا  میں صرف شکست تھی اور دوسری سزا میں تباہی تھی،بخت نصر نے تورات کو بھی جلا دیا تھا کہ اس نے ایک حرف بھی نہ چھوڑا تھا اور بیت المقدس کو خراب کردیا تھا۔اس حملہ میں بنی اسرائیل کا سب سے بڑا نقصان بیت المقدس اور تورات کا ضیاء تھا۔چنانچہ جب حضرت شموئیل علیہ السلام کے دور میں سرداران یہود نے اپنے نبی سے جہاد کے لیے بادشاہ کا مطالبہ کیا تو اللہ کی جانب سے طالوت کو منتخب کیا گیا اور یہ خوش خبر ی د ی گئی کہ اسی کے ذریعہ انہیں اپنی  مقدس  باقیات واپس ملیں گی:

انبیائے بنی اسرائیل کی تنبیہات:

        حضرت دائود علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے جرائم کا ذکر اس طرح کیا:’’انہوں نے ان قوموں کو ہلاک نہ کیا جیسا کہ خدا وند نے انہیں حکم دیا تھا،بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو ان کے لیے پھندا بن گئے۔بلکہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو  شیاطین کے لیے قربان کیا اور بیٹوں کا خون بہایا……اس لیے خدا وند کا قہر ان لوگوں پر بھڑکا اور اسے اپنی میراث سے نفرت ہوگئی۔‘‘

        حضرت یسعیاہ نبی نے قریب آلگی تباہی کی خبر اس طرح دی:’’آہ،خطاکار گروہ،بدکرداری سے لدی ہوئی قوم،بد کرداروں کی نسل،مکار اولاد،جنہوں نے خدا وند کو ترک کیا،اسرائیل کے تقدس کو حقیر جانا اور گمراہ و بر گزشتہ ہوگئے ۔‘‘

        ’’وفادار بستی کیسی بد کار ہوگئی!وہ تو انصاف سے معمور تھی اور راست بازی اس میں بسی تھی لیکن اب خونی رہتے ہیں……تیرے سردار گردن کش اور چوروں کے ساتھی ہیں۔ان میں سے ہر ایک رشوت دوست اور انعام طلب ہے۔وہ یتیموں کا انصاف نہیں کرتے اور بیوائوں کی فریاد ان تک نہیں پہنچتی۔اس لیے خداوند رب الافواج اسرائیل کا یوں فرماتا ہے کہ آہ ،میں ضرور اپنے دشمنوں سے انتقام لوںگا۔‘‘

        ’’تیرے بہادر تہ تیغ ہوںگے اور تیرے پہلوان جنگ میں قتل ہوںگے۔ان کے پھاٹک ماتم اور نوحہ کریں گے اور وہ اجاڑ ہوکر خاک پر بیٹھیںگے۔‘‘

        ’’وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑڈالے گا ۔اسے بے دریغ چکنا چور کرے گا۔اس کے ٹکڑوںمیں ایک ٹھیکرا بھی ایسا نہ ملے گا جس پر چولہے میں سے آگ یا حوض سے پانی لیا جائے۔‘‘

حضرت یرمیاہ کی آخری تنبیہ:

        ’’ان کو میرے سامنے سے نکال دے کہ چلے جائیں اور جب وہ پوچھیں کہ ہم کدھر جائیں تو تو ان سے کہنا کہ خدا وند یوں فرماتا ہے کہ جو موت کے لیے ہیں وہ موت کی طرف،جو تلوار کے لیے ہیں وہ تلوار کی طرف اور جو کال کے لیے ہیں وہ کال کو اور جو اسیری کے لیے ہیں وہ اسیری میں۔‘‘

        جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کی وجہ سے رومی حکومت کے اہل کار صلیب دینے کے لیے لے جا رہے تھے اور لوگوں کی بھیڑ جس میںعورتیں بھی تھیں روتی پیٹتی اس جلوس میں شریک تھیں،ان سے خطاب فرماتے ہوئے حضرت عیسیٰ نے یوں خطاب فرمایا:’’یروشلم کی بیٹیو!میرے لیے نہ روئو بلکہ اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روئو،کیوںکہ دیکھو،وہ دن آتے ہیں جب کہیں گے کہ مبارک ہیں وہ بانجھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور وہ چھاتیاں جنہوں نے دودھ نہ پلایا ۔اس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گر پڑو اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپا لو۔‘‘

        دیکھو ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی کرتوتوں کے باعث کیسی ذلت کا مزا چکھایا تھا کہ دشمنوں نے ان کے مظہردین وعزت ……مسجد اقصیٰ……کو مسمار کردیا تھا۔کسی قوم کی عبادت گاہیں اس کی عزت و افتخار کا باعث ہوتی ہیں۔وہ اپنی عبادت گاہوں کی اپنے جان سے زیادہ نہ صرف یہ کہ حفاظت کرتی ہیں بلکہ انہیں محبوب بھی رکھتی ہیں۔لیکن جب کسی قوم کی عبادت گاہیں تباہ و برباد کی جانے لگیں ،ان پر قبضہ کیا جانے لگے وہ مسمار کی جانے لگیں ان کے ناموس پامال کیے جانے لگے تو اس قوم کے لیے یہ انتہائی بدبختی اور ذلت کا دور ہوتا ہے ۔   (جاری)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *