خدارا بچائیے اپنی ملت کو انتشار سے

فرمانِ الٰہی کے مطابق ’’تمہاری یہ امّت ایک امت ہے‘‘ (المؤمنون ۵۲) یہ ایک متحد امت ہے، پوری دنیا کے مسلمان سب ایک ہیں، سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں، کلمے کی بنیاد پر پوری امت مسلمہ ایک جسم کے مانند ہے، جسم کے کسی ایک حصہ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے، اسی طرح دنیا کے کسی بھی حصہ میں امت پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پوری امت مسلمہ کو اس کا درد محسوس ہوتا ہے۔ اسے ملکی اور جغرافیائی حدود میں بانٹا نہیں جا سکتا ۔ اس میں حبش کے بلالؓ ، روم کے صہیب ؓ، فارس کے سلمانؓ سب ایک رشتۂ اخوت میں بندھے ہوئے ہیں، یہاں عربی و عجمی اور گورے و کالے میں کوئی بھید بھاؤ نہیں۔ ایک نبی، ایک کتاب، ایک کلمہ اور ایک قبلہ کی بنیاد پر سب ایک ہیں۔ بقول شاعر:

اپنی ملت کو قیاس اقوام مغرب پرنہ کر                 خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

اُن کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار      قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

          اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے کہ جس طرح اللہ سے طاقت و ر کوئی ہستی نہیں، اللہ کے دین اسلام سے طاقت ور اور مبنی برحق کوئی مذہب نہیں ۔ اسی طرح اسلام کو ماننے والی امت مسلمہ سے طاقت ور، مضبوط اور مستحکم کوئی امت نہیں، اس کا مضبوط سہارا اللہ رب العٰلمین کی ذات ہے۔ قرآن و سنت سے اس کا اٹوٹ رشتہ ہے۔ اسے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقہ میں نہ پڑنے کا حکم ہے۔ اسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر رہنا ہے۔ اس کا کلمہ توحید ہے جس میں وحدت و اتحاد کا مفہوم شامل ہے۔ اس لئے اہل توحید کو متحد رہنا چاہئے۔ یہی توحید کا تقاضا ہے اور یہی اللہ و رسول کا حکم بھی ہے۔ جب کہ شرک وحدت کے منافی ہے اس میں اشتراک و افتراق ہے، تشتت ہے، انتشار ہے، بکھراؤ ہے۔

          ارشادِ ربانی ہے ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو۔ یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (انفال ۴۶) ’’ہوا اکھڑ جائے گی‘‘ کا مطلب ایک مفسر نے بتایا ہے کہ ’’پس نامرد ہو جاؤ گے۔‘‘

          اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امت کو انتشار سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا ’’کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔‘‘ (آل عمران ۱۰۵)

          ہمارے باہمی اختلافات اور آپسی چپقلش ہماری ہلاکت کے موجب ہیں جیسا کہ ارشاد ہے ’’کہو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے یا تمہیں دو گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ پر طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔‘‘ (الانعام ۶۵)

          ہمیں تلقین کی گئی ہے کہ ’’سب رجوع ہو کر اس کی طرف پلٹو اور اس سے ڈرتے رہو اور قائم رکھو نماز اور مت ہوؤ شرک کرنے والوں میں جنھوں نے پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہو گئے ان میں بہت فرقے۔ ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اسی میں خوش ہے۔‘‘ (الروم ۳۱)یہاں صاف طور سے دیکھا جا سکتا ہے کہ پھوٹ ڈالنا شرک کرنے والوں کا کام ہے۔ اس لئے یہ اہل توحید کا کام نہیں ہو سکتا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر فرقہ کے پاس جو اس کا عقیدہ اور عمل ہے اسی کو وہ سب سے اچھا مان کر اس میں مگن ہے۔ مگر یاد رکھئے اللہ نے جو سننے، دیکھنے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دی ہے ان کا بھی حساب ہوگا۔ اس لئے صحیح اور غلط کو پرکھنابھی ہماری ذمہ داری ہے۔ جو دین ومسلک قرآن و سنت کے مطابق ہوگا وہی حق ہوگا اور جو اس کے خلاف ہوگا وہ عند اللہ مقبول نہیں ہوگا۔

          امت مسلمہ کی طاقت کا راز اس کا اتحاد ہے۔ انتشار و تنازع اس طاقت کو پارہ پارہ کردے گا ۔ دیکھئے اللہ کے رسول نے افراد امت کو کس طرح آگاہ فرمایا ہے۔’’ تم پر تفرقہ سے بچنا، جماعت سے جڑے رہنا فرض ہے۔ کیونکہ اکیلے انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے اور دو سے وہ دور بھاگتا ہے تو تم میں سے جو جنت کی خوشبو اور روشنی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ جماعت سے لازماً جڑا رہے۔‘‘ (ترمذی)

          رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو باہم مربوط اور متحد رکھنے کے لئے اس کو ایک جسم قرار دیا اور ایک عمارت سے تشبیہ دی ۔ جس طرح عمارت کی اینٹ دوسری اینٹ کو قوت دیتی ہے اسی طرح افراد امت کو بھی باہم مربوط ہونا چاہئے۔ حضور نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ایک پنجے کو دوسرے پنجے میں ڈال لیا کہ اس طرح افراد امت باہم مربوط ہیں۔ جس میں انتشار کا شائبہ تک نہیں ۔ (بخاری، مسلم، ترمذی)

امت کے اسی ربط وار تباط کو شاعر مشرق نے یوں بیان کیا ہے :

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں       موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

          آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے اندر پیدا ہونے والے اختلافات و انتشار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو لوگ میرے بعد زندہ ہوں گے وہ امت میں بہت سارے اختلافات دیکھیں گے۔ ایسے وقت میں تمہارے لئے ضروری ہو گا کہ میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے (دانتوں سے پکڑے) رہو۔‘‘ (ابوداؤد)

          ایمان کا رشتہ خون کے رشتہ سے بھی زیادہ مضبوط اور گہرا ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایمان کے رشتے کو خون کے رشتہ پر ترجیح دینے کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔ اس لئے ایمانی رشتہ اخوت کی حفاظت اور اس کے نہ ٹوٹنے اور بکھرنے کی فکر ہر حال میں ہونی چاہئے۔ صحابہ کرام ؓ نے اس کا حد درجہ خیال رکھا۔ ان کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوتا تھا۔ مگر اس سے نہ تو ان کے دل میں کوئی نفرت پیدا ہوتی نہ ہی اسلامی وحدت پارہ پارہ ہوتی۔ فقہی اختلافات میں ان کا موقف یہ تھا کہ جس کا دل جس رائے پر مطمئن ہو وہ اس پر عمل کرے اور دوسری رائے پر عمل کرنے والے پر طعن نہ کرے جیسا کہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ : ’’ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے تو سفر میں روزہ رکھنے والا نہ افطار کرنے والے پر تنقید کرتا، نہ ہی افطار کرنے والا روزہ رکھنے والے پر تنقید کرتا۔‘‘(صحیح بخاری)

          اس طرح کے اختلافات صحابہ، تابعین اور ان کے بعد کے ائمہ سلف کے درمیان بھی تھے مگر اس سلسلے میں ان کا طرز عمل یہ تھا کہ ’’ان میں سے بعض لوگ (نماز میں قرأت سے پہلے) بسم اللہ پڑھتے، بعض نہیں پڑھتے تھے، کچھ لوگ زور سے پڑھتے کچھ آہستہ سے۔ بعض لوگ نمازِ فجر میں دعاء قنوت پڑھتے بعض نہیں پڑھتے تھے۔ اگر ان میں ایک جماعت ایسی تھی جو قے کرنے یا پچھنے لگوانے یا نکسیر ٹوٹنے کے بعد تجدید وضو کو ضروری خیال کرتے تھے تو ایک جماعت ایسی تھی جو اس کی مطلق ضرورت نہ سمجھتی تھی۔ کچھ لوگ شرم گاہ کے چھو دینے یا عورت کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگا دینے کو ناقضِ وضو سمجھتے تھے تو کچھ کا مسلک اس کے خلاف بھی تھا۔ بعض لوگ آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد از سرِ نو وضو کرنا ضروری خیال کرتے تھے تو بعض ایسا خیال نہیں رکھتے تھے۔ اونٹ کا گوشت کھانا اگر کسی کے نزدیک وضو کا ناقض تھا تو دوسروں کے نزدیک ناقض نہیں تھا۔ یہ اور اسی قسم کے بیسیوں اختلافات موجود تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ سب ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے (کسی نے کسی کی اقتداء سے کبھی انکار نہیں کیا) مثلاً امامِ ابو حنیفہ ؒ اور ان کے تلامذہ اور امام شافعی وغیرہ اہل مدینہ کے پیچھے نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ اہل مدینہ نماز میں سرے سے بسم پڑھتے ہی نہیں تھے نہ آہستہ نہ زور سے۔ امام ابو یوسف نے ہارون الرشید کے پیچھے نماز پڑھی اور پھر دہرایا نہیں۔ حالانکہ اس نے پچھنے لگوانے کے بعد وضو کی تجدید نہیں کی تھی۔ جس کا فتویٰ اسے امام مالک نے دیا تھا۔ (اور ابو یوسف کے نزدیک پچھنے لگوانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) اسی طرح امام احمد بن حنبلؒ پچھنے اور نکسیر کو ناقض وضو مانتے تھے، لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے جس نے بدن سے خون نکلنے کے بعد پھر سے وضو نہ کیا ہو؟ تو آپ نے جواب دیا’’ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ امام مالک اور سعید بن المسیب کے پیچھے میں نماز نہ پڑھوں؟ جن کی نزدیک یہ چیزیں نواقض وضو میں سے نہیں ہیں۔‘‘ (اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ از افادات حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ مترجم صدر الدین اصلاحیم مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی ۱۹۸۱ئ؁ ص ۱۳۱)

          مشہور واقعہ ہے کہ امام شافعی ؒنے امام ابو حنیفہ ؒ کے مقبرے کے قریب فجر کی نماز پڑھی تو محض ان کے لحاظ اور ادب سے دعاء قنوت کو ترک کر دیا اور فرمایا بھی کہ ’’بسا اوقات ہم اہل عراق کے مسلک پر بھی عمل کر لیتے ہیں۔‘‘ (حوالہ مذکور)

          یہ اور اس طرح کے دیگر اختلافات دین میں وسعت کے مظاہر ہیں مگر آج انہی مسلکی اور فروعی اختلافات کی بنیاد پر فرقہ بندیوں کا جو محاذ جنگ برپا ہورہا ہے اس سے ہر حال میں بچنا ضروری ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کے بقول : اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر بہتر انداز سے کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔ ان آثار اور آراء کو اختلافات کے باوجود اس کی ہر جہت جائز مانی گئی ہے۔ فرق صرف فضیلت کا ہے۔ یہ بہتر ہے اور یہ کچھ زیادہ بہتر ہے۔‘‘ (بحوالہ وحدت جدید، جنوری، فروری ۲۰۱۴ء ص ۳۷) اس سلسلے میں ڈاکٹر حمید اللہ صاحب رقم طراز ہیں : ’’اللہ نے اپنے نبی کی ہر ادا کو قیامت تک کے لئے امت کے عمل میں محفوظ کر دیا ہے۔ نبی کی ہرا دا کو پورا کرنے والے امت میں موجود رہیں گے۔ اسی پر تمام جزوی اختلافات کو قیاس کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (ایضاً)

          اس سے معلوم ہوا کہ مسالک عمل کی ترجیح کے لئے ہیں نہ کہ تبلیغ کے لئے۔ تبلیغ تو اصل دین کی ہونی چاہئے۔ کوئی بھی مسلک دین سے بالا نہیں اسی طرح کوئی بھی جماعت یا تنظیم امت سے بالاتر نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اصل دین کی تبلیغ و ترویج اور امت کا تحفظ ہی اصل کام ہے اور امت کا تحفظ منحصر ہے امت کے اتحاد پر۔ اتحاد نہیں ہوگا تو امت نہیں رہے گی اور امت نہیں رہے گی تو ہمارا وجود بے معنیٰ ہو کر رہ جائے گا۔

          قرآنی اشارے کے مطابق مسلمانوں کی ہلاکت ان کے باہمی اختلافات اور آپسی چپقلش کی راہ سے ہوگی۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: کہو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں دو گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھ ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔‘‘ (الانعام ۶۰)

          نیز فرمایا: ’’جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے اور گروہ گروہ بن گئے ، یقینا ان سے تمہارا کوئی واسطہ نہیں ۔‘‘ (الانعام ۱۵۹) اس کی تفسیر میں مولانا جوناگڑھی فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’یہ بات ہر اس قوم پر صادق آتی ہے جو دین کے معاملے میں مجتمع تھی لیکن پھر ان کے مختلف افراد نے اپنے کسی بڑے کی رائے کو ہی مستند اور حرف آخر قرار دے کر اپنا راستہ الگ کر لیا۔‘‘

          آج امت مسلمہ (دنیا کی سب سے طاقت ور امت) کو ہر سطح پر کمزور کرنے کی سازشیں اور کوششیں جاری ہیں۔ اپنوں کی سادگی اور اوروں کی عیاری کے نتیجے میں ہماری وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے تمام حربے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

          ہمارے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ کبھی نبی پاک ﷺکی ذات اقدس کو اور کبھی قرآن مقدس کو نشانہ بناکر شک و شبہ میں مبتلا کرنے اور ہمارے ایمانی گراف کی جانچ کی جاتی ہے۔ سلمان رشدی ،تسلیمہ نسرین، ڈنمارک کے کارٹونوں، ٹیری جونس، فلم فتنہ، انوسنس آف مسلمس جیسی فلمیں بناکر اسی سازش کو رو بعمل لانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

          عیار دشمنوں نے امت واحدہ کو میدانِ جنگ میں شکست دینے کے بجائے ایک داخلی محاذ کھول دیا ہے۔ اس کے لئے امت مسلمہ کی کالی بھیڑیں منافقین اور زرخرید ایجنٹوں نیز علماء سوء کو استعمال کیا جا رہا ہے، جن کے ذریعہ امت کو شکست دینے کی شیطانی مہم جدید ترین وسائل اور دولت کے بدولت پوری شدت کے ساتھ چلائی جا رہی ہے۔ یہ تسلسل ہے ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کے زمانے سے آج بلیک واٹر آرگنائزیشن ،رینڈ کارپوریشن، فورڈ فاؤنڈیشن اور دین دیال اپادھیا انسٹی ٹیوٹ تک۔ یہ لوگ ملت اسلامیہ کو ہر سطح پر کمزور کرنے اور اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اپنے ایجنٹ ہماری صفوں میں بھیج کر منافرت پھیلاتے ہیں اور اپنی سوچ اور آئیڈیا لوجی سے ہمیں مسلکی بنیادوں پر لڑاتے ہیں۔ ہماری اب تک کی جو تقسیم ہے اس سے آگے انہوں نے سیاسی اسلام، روایتی اسلام، ماڈرن اسلام، لبرل مسلم، کٹر پنتھی مسلم جیسی اصطلاحات وضع کی ہیں اور اسی کے مطابق مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے ساتھ ان کا الگ الگ رویہ بھی ہوتا ہے۔ تاکہ سب کو الگ الگ رکھا جا سکے۔ ایسے ہی ذات پات کی بنیاد پر بھی ہمیں بانٹا جا رہا ہے۔

          شیطانی سازشوں کے نتیجے میں ہمارے اختلافات اور نزاعات کس انتہا کو پہونچے ہوئے ہیں ایک کا اندازہ ’’ہمارا سماج ،دہلی ‘‘کے شمارہ ۲۳؍۴؍۲۰۱۳ئ؁ میں پہلی خبر کی سرخی سے لگایا جا سکتا ہے جو اس طرح ہے ’’مسلک کے نام پر بہنے والی ملک میں خون کی ندیاں۔ بھارتی مسلمانوں کے مابین مسلکی ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنے کے لئے صیہونی طاقتوں نے بنایا خفیہ منصوبہ۔ وزارت داخلہ کے پاس خفیہ اطلاعات موجود۔‘‘ پوری رپورٹ میں نامہ نگار سلیم خاں نے نہایت تفصیل سے بتایا کہ بھگوا تنظیم کی شمولیت کے ساتھ یہ مہم شروع کی گئی ہے۔ راجدھانی دہلی میں کئی خفیہ میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ ملک کے حساس مقامات کی نشاندہی کرکے مہروں نے نفرت پھیلانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ دہلی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں کئی راؤنڈ میٹنگیں ہو چکی ہیں۔۔۔۔۔ وغیرہ۔ (ملاحظہ ہو وحدت جدید جنوری۔فروری ۲۰۱۴ئ؁ ص ۲۰۹)

          اس طرح کی سازشوں کا اثر صاف دکھائی پڑ رہا ہے۔ ملت اسلامیہ میں تفریق و انتشار روز افزوں ہے۔ اللہ کے گھر بنٹے ہوئے ہیں۔ یہ فلاں کی مسجد ہے اور وہ فلاں کی۔ جب کہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے ’’مسجدیں سب کی سب اللہ کی ہیں‘‘ (ان المسجد للہ) پھر ہم کون ہوتے ہیں ان کو بانٹنے والے اور کسی بھی بندۂ خدا کو ذکر و عبادت سے روکنے والے۔ یاد رکھئے ایسا کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں۔

          مدرسوں میں تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے۔ ملی جماعتوں اور تنظیموں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ٹوپیاں تک بنٹی ہوئی ہیں۔ سب کی الگ الگ پہچان ہے۔ جیسے ہر ملک کے جھنڈے الگ الگ ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ملت ابراہیمی کے پیرؤوں کی ایک پہچان ہوتی ’’اننی من المسلمین‘‘ بیشک میں مسلمان ہوں۔ اور بس ۔ مگر صد حیف کہ ہم اپنی الگ الگ پہچان کے ساتھ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں جس کا انجام ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ یہی ہمارے دشمنوں اور طاغوت کی منشا بھی ہے۔

          جہاں تک مسلکی اختلافات کی بات ہے جن کی بنیاد پر خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اختلافات دین میں وسعت اور رحمت کا ذریعہ ہیں ان کی بنا پر ایک دوسرے سے قطع تعلق کرنا، سلام و کلام بند رکھنا، لعن طعن کرنا، الزام تراشیاں کرنا، لڑنا جھگڑنا یہاں تک کہ کافر اور خارج از دین قرار دینا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں امام ابو حنیفہ ؒ کا قول بہت اہم ہے کہ ’’ہم کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کریں گے۔‘‘ اسی طرح امام احمد رضا خاں صاحب فرماتے ہیں کہ ’’ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل لاالٰہ الا اللہ کی تکفیر سے منع فرمایا ہے۔ جب تک وجہ تکفیر آفتاب سے زیادہ روشن نہ ہو جائے اور کلمہ اسلام کے لئے اصلاً کو ئی ضعیف سے ضعیف محمل بھی باقی نہ رہے۔‘‘ (کتاب تمہید الایمان، طبع اوّل بحوالہ وحت جدید جنوری فروری ص ۴۱)

          مولانا مودودی ؒ کے بقول: مختلف مذاہب (مسالک) کے اعتقادی اختلافات تو نہ دور کئے جاسکتے ہیں اور نہ ان کو دور کرنا ضروری ہے۔ صرف اتنی بات کافی ہے کہ ہر گروہ اپنے عقیدے پر قائم رہے اور سب ایک دوسرے کے ساتھ رواداری برتیں۔ اس کے لئے ہم مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔‘‘(تصریحات)

          علامہ ناصر الدین البانی رقم طراز ہیں: شریعت کے مقاصد میں سے ایک مقصد لوگوں کے اندر اتحاد پیدا کرنا۔ ان کی صفوں کو یکجا کرنا اور ان کو ہر اس چیز سے دور رکھنا ہے جو ان کی مجموعی اجتماعیت کو توڑ دے۔‘‘ (رمضان اجتماعیت کی یاد دہانی بحوالہ مذکور ص ۴۱)

          امام خمینی ؒ کا قول ملاحظہ ہو: ’’وہ لوگ جو ہمارے سنی اور شیعہ بھائیوں میں اختلافات و نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو دشمنانِ اسلام کے ساتھ باہم مل کر سازش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے مسلمانوں پر غالب آنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ امریکہ اور روس کے آلۂ کار ہیں۔ مسلمان دنیا کے اس سرے پر رہتے ہوں یا دوسرے سرے پر ان کے درمیان پیدا کئے جانے والے افتراق سے ہمیں بیدار رہنا چاہئے۔‘‘ (ایضا)

          مفتی اعظم مولانا شفیع عثمانی ؒ، مفسر معارف القرآن کی رائے بھی انتہائی اہم اور قیمتی ہے: ’’ ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یا ارشاد و تلقین یا دعوت و تبلیغ اور اصلاح معاشرہ کے لئے قائم ہیں، اور اپنی اپنی جگہ مفید خدمات بھی انجام دے رہی ہیں ان میں بہت سے علماء و صلحاء اور مخلصین کام کر رہے ہیں۔ اگر یہی متحد ہو کر تقسیم کا ر کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر اور امکانی حد تک باہم تعاون کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری کو اپنا دست و بازو سمجھے اور دوسروں کے کام کی ایسی ہی قدر کریں جیسی اپنے کام کی کرتے ہیں تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں اور ایک عمل کے ذریعے اکثر دینی ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہیں۔‘‘ (وحدت امت دارالکتاب دیوبند ص ۲۶۔۲۷)

          محترم جنا ب ضیاء الدین صدیقی صاحب معتمد عمومی وحدت اسلامی کے مخلصانہ احساسات بھی ہمیں اصلاح حال کی تلقین کرتے ہیں: ’’عجیب بات ہے کہ وندے ماترم کہنے اور کہلانے والوں کے ساتھ تو ہم اٹھ بیٹھ سکتے ہیں لیکن سلام پڑھنے والوں، آمین بالجہر کہنے والوں، نماز کی دعوت دینے والوں، قرآن وحدیث کی بات کرنے والوں، دین کے غلبہ کی بات کرنے والوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا خوب ہو اگر ہم میں سے ہر شخص امت کے تئیں تواضع اور خاکساری برتے۔‘‘ (وحدت جدید جنوری فروری ص ۳۹)

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *