دارالقضاء اور سپریم کورٹ کا فیصلہ دارالقضاء اور فتویٰ پر کوئی امتناع نہیں

        سپریم کورٹ کے ججس چندرا مولی پرساد اور پنا کی چندر ا گھوش نے دارالقضاء اور فتویٰ کی اجرائی کے تعلق سے ۷؍جولائی ۲۰۱۴ئ؁ کو ایک فیصلہ سنایا اس فیصلہ کے بارے میں میڈیا نے جس طرح کی خبر نشریا جاری کی اس سے عام تاثر یہ پیدا ہوا کہ دارالقضا کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔

        جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اب ملک میں دارالقضا کام نہیں کر سکتے اور قائم نہیں کئے جا سکتے۔ سپریم کورٹ نے جو بات کہی ہے اس کا مطلب کچھ اور ہے یہ کہ دارالقضاء کے فیصلوں کو عدالت کے فیصلوں کی طرح نافذ نہیں کیا جا سکتا اور کسی کو ان فیصلوں کی تعمیل قانون کی طاقت کے ذریعہ نہیں کروایا جا سکتا۔ اس کو کہتے ہیں بات کا بتنگڑ بنانا۔ ہمارے ملک میں خبر رسانی کرنے والوں میں ان لوگوں کا بڑا حصہ ہے جو ہندوتوا ذہن کے ہیں اور سیکولر ہیں بھی تو وہ مسلمانوں کی مذہبی ،تمدنی اور تہذیبی انفرادیت کو پسند نہیں کرتے بلکہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر سارا ملک یک رنگی ہو جائے اور مختلف رنگوں کے پھولوں کا گلدستہ نہ رہے تعجب اور انتہائی افسوس اس بات کا ہے کہ میڈیا نے اس حقیقت کو بالکل چھپا دیا کہ سپریم کورٹ نے رٹ گزار کی دارالقضاء اور فتویٰ پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کو رو کر دیا ہے۔ وشوالوچن مدن نامی ایک ایڈوکیٹ نے سپریم کورٹ میں رٹ داخل کرکے یہ درخواست کی تھی دستور کے آرٹیکل 25میں مذہبی ٓزادی کے حق سے قطعاً یہ مطلب نہیں نکالا جاسکتا کہ مسلمان سرکاری عدالت کو چھوڑ کر اپنے لئے الگ شرعی عدالتیں یادارالقضاء قائم کرسکتے ہیں اور دستور کے آرٹیکل 26میں جہاں مذہبی امور کے اداروں کے قیام کی آزادی کا ذکر ہے وہاں اس سے دار القضاء جیسے ادارے کی قیام کی آزادی مراد نہیں لی جا سکتی ہے۔ مغلوں کی حکومت کے خاتمہ کے بعد قاضی کے مقدمات میں فیصلے دینے کا اختیار ختم کر دیا گیا لیکن مسلم پرسنل لاء بورڈ ملک کے طول و عرض میں دارالقضاء قائم کر رہا ہے اس لئے کہ دارالقضاء کو متوازی عدالت قرار دے کر غیر قانونی، ناجائز اور غیر دستوری قرار دیا جائے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، دارالعلوم دیوبند اور دیگر دارالعلوم کو دارالقضاء جاری رکھنے اور قائم کرنے سے منع کر دیا جائے اور ان اداروں سے فتووں کی اجرائی پر بھی امتناع عائد کر دیا جائے اور ان اداروں سے بھی فتووں کی اجرائی پر بھی امتناع عائد کر دی جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں وشو الوچن مدن کی اس استدعا کو رد کر دیا ہے اور کہا کہ فتویٰ کی اجرائی پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا چاہے وہ کسی مذہبی مسئلہ میں دیا گیا یا کسی اور مسئلہ میں جب تک کہ اس سے کسی شخص کے ان حقوق پر ضرب نہیں پڑتی جن کی قانون نے ضمانت دی ہے۔ اسی طرح دارالقضاء کے تعلق سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کے بعض نکات کو پیش کیا ہے۔

        سپریم کورٹ کے ان ججس نے البتہ پوری طرح فتویٰ اور دارالقضاء کی کارروائی کے فرق کو محسوس نہیں کیا اور دونوں کو خلط ملط کر دیا۔ اور یہ باور کرکے فیصلہ سنایا کہ دارالقضاء بھی فتویٰ دیتے ہیں رٹ گزارنے فتویٰ کے تعلق سے عمرانہ کے معاملہ میں دارالعلوم دیوبند کے دئیے گئے فتویٰ کو ایک مسئلہ بنا کر اٹھایا تھا اس لئے جج صاحبان نے فتووں کی اجرائی پر ہی زیادہ توجہ دی ہے اور کہا ہے کہ ایک غیر متعلقہ شخص کسی اور کے معاملہ کے بارے میں فتویٰ پوچھے تو فتویٰ دینے سے احتراز کیا جائے عمرانہ کے کیس میں فتویٰ کے لئے عمرانہ کے خاندان یا اس کے شوہر کے خاندان کا کوئی شخص رجوع نہیں ہوا تھا بلکہ ایک صحافی نے دارالعلوم دیوبند سے یہ سوال پوچھا تھا ۔ یہ پابندی فیصلہ میں دارالقضاء پر لگائی گئی ہے ۔ حالانکہ دارالقضاء فتویٰ جاری نہیں کرتے اور نہ فتوے جاری کرنا دارالقضاء کا کام ہے۔

        سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رٹ گزار وشوالو چن مدن کو عمرانہ کے کیس نے رٹ داخل کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ جس میں اس کے خسر کے اس کے ساتھ زنا کرنے کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند نے فتویٰ دیا تھا کہ اب عمرانہ اپنے شوہر کی بیوی نہیں رہی۔ اس نوعیت کے اور فتوؤں کا ذکر رٹ میں ہے اور فیصلہ میں حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس رٹ میں ججس نے حکومت ہند کے موقف کا ذکر کیا ہے کہ دارالقضاء فوجداری جھگڑوں کی سنوائی نہیں کرتا۔ خاندانی اور دیگر دیوانی نوعیت کے نزاعات میں ثالث و مصالحت کار کی نوعیت سے کام انجام دیتا ہے حکومت ہند کی نظر میں دارالقضاء فصل خصوصات کا متبادل نظام ہے جہاں عدالت کے باہر کم خرچ پر اور زیادہ وقت ضائع کئے بغیر تنازعات کا تصفیہ کیا جا تا ہے اس وقت دنیا کے تقریباً زیادہ تر ممالک میں عدالتوں میں مقدمات کے بوجھ دیکھتے ہوئے فصل خدمات کے متبادل نظام Alternate Dispute (Resolution Mechanism)کی ہمت افزائی کی جارہی ہے جس کا مخفف ADRہے۔ دارالقضاء کو حکومت ہند نے ایسا ادارہ قرار دیا ہے چونکہ دارالقضاء کو اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے اس لئے اس کو متوازی نظام عدالت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

        آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اس موقف کا بھی فیصلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ خاندانی نزاعات کا دارالقضاء دونوں فریقوں کے درمیان تصفیہ کرتے ہیں ۔یہ تصفیہ قرآن اور سنت کے احکامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور مسلمان اپنے عقیدہ کی وجہ سے ان فیصلوں کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں لیکن اپنے فیصلہ کو نافذ کرنے کی قانونی طاقت دار القضاء نہیں رکھتے اس لئے ان کو متوازی نظام عدالت قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یہ بات بھی پیش کی تھی کہ ۱۸۶۴ء کے قاضی ایکٹ کی رو سے قضا کے کام انجام دینے والوں کو طلاق، خلع، ترکہ اور وراثت جیسے تنازعات میں حتیٰ کہ فسخ النکاح کے اختیار کو تسلیم کیا گیا تھا یہ قانون آج تک منسوخ نہیں ہوا ہے اور اس کے ذریعہ بھی دارالقضاء کو نزاعات میں فیصلہ کرنے کا اختیار ملتا ہے۔ ۱۸۸۰ء میں جو قاضی ایکٹ بنا اس میں حکومت کو یہ اختیار دیا گیا کہ کسی مقام کے مسلمان خواہش کریں تو حکومت کسی کو قاضی مقرر کر سکتی ہے مگر اس قاضی کو انتظامی یا عدالتی کوئی اختیار نہیں ہوگا حتیٰ کہ نکاح کے موقعہ پر اس کی موجودگی بھی ضروری نہیں ہے یہ قانون ۱۸۶۴ء کے قانون پر اثر انداز نہیں ہوتا لیکن ججس نے بورڈ کے اس استدلال پر کوئی توجہ نہیں دی ،نہ اس کو قبول کیا اور نہ ہی اس کو رد کیا بس فتوؤں پر ہی ساری توجہ مرکوز رکھی۔

        اس فیصلہ میں ججس نے کہا ہے کہ ایک قاضی یا مفتی کو اپنی رائے کسی پر مسلط کرنے یا قوت کے ذریعہ منوانے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ آزاد ہندوستان میں دستور کی اسکیم کے اندر فتوے کو کوئی قانونی جواز حاصل نہیں ہے جس کے خلاف فتویٰ دیا گیا ہے یا دارالقضاء نے تصفیہ کیا ہے کہ وہ شخص چاہے تو اسے نظرانداز کر سکتا ہے اور اس کے لئے عدالت میں آکر فتویٰ یا تصفیہ کو چیلنج کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی فتویٰ یا تصفیہ کو مسلط کرنے کی کوشش کرے تو یہ عمل خلاف قانون ہوگا۔ دارالقضاء کے بارے میں اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ ایسے اداروں کا قیام قابل تعریف ہے مگر ان کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ یہ غیر رسمی طور پر انصاف رسائی کا سسٹم ہے تاکہ فریقین کے درمیان امن و ہم آہنگی سے تصفیہ کیا جائے۔ یہ فریقین پر منحصر ہے کہ اس کو قبول کریں، نظر انداز کریں یا رد کریں۔ یہی اصل مفہوم ہے سپریم کورٹ کے اس کہنے کا دارالقضاء کو قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔

        یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی یہ نہیں کہا کہ دارالقضاء کوئی قانونی موقف یا قانونی جواز رکھنے والا ادارہ ہے اور یہ بھی نہیں کہا کہ اس کے فیصلوں کو سرکار یا پولیس کے ذریعہ نافذ کیا جا سکتا ہے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ جو فیصلہ قرآن اور حدیث کے احکامات کی بناء پر دیا گیا ہے ان کو قبول کرنا مسلمان کے لئے لازم ہے اور اس لئے وہ اس کو قبول کرتے ہیں۔ ان تفصیلات کے بعد یہ بات واضح ہو جائے گی کہ سپریم کورٹ نے دارالقضاء کو غیر قانونی قرار دے کر بند کرنے کی بات نہیں کی ہے اور فتوؤں پر پابندی نہیں لگائی ہے جیسا کہ تاثر اس فیصلہ کی خبر سے پیدا ہوتا ہے۔            (سہ ماہی خبر نامہ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *