روپئے اور شوچالیہ۳۲

ساحر لدھیانوی نے تقریباً نصف صدی پہلے کہا تھا ۔۔۔اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر ۔ہم غریبوں کی محبت کااڑایا ہے مذاق کہا جا تا ہے کہ ان کا خاندانی پس منظر جاگیردارانہ تھا اور وہ اپنے ماحول کے باغی تھے۔آج ساحر لدھیانوی زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ غربت کا مذاق اڑانے کے لئے نہ شہنشاہیت کی ضرورت ہے اور نہ دولت کی ۔جمہوریت میں بھی غربت کا مذاق اڑایا جا سکتا ہے اور وہ بھی شہنشاہیت سے سنگین تر۔بادشاہ کی طرح کا کوئی فرد واحد ایسا ڈکٹیٹرنہیں جس نے بزور بازو حکومت حاصل کی ہو بلکہ آج غریبوں کا مذاق اڑانے میں ملک کی پوری پارلیمنٹ شامل ہے جو چنی تو غریبوں کے ووٹوں کی بھیک سے ہی جاتی ہے مگر منتخب ہونے کے بعد اتنی ڈھٹائی سے غریبوں کا مذاق اڑاتی ہے کہ کیا کسی شہنشاہ نے کیا ہوگا؟ہم سمجھتے ہیں کہ ساحر بھی جمہوریت کی نیلم پری کے عاشق تھے۔آج زندہ ہوتے توکیا کہتے ؟ ویسے آزادی کے بعد وطن عزیز کی روش کو دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا تھا ۔وطن کا کیا ہوگاانجام۔بچا لے اے مولا اے رام ۔قارئین کرام حیران نہ ہوں ہم اسی طرف آرہے ہیںکہ کس طرح غربت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔با خبر حضرات یہ تو جانتے ہوں گے کہ یو پی اے گورنمنٹ نے ایک بار ملک کی عوام کو یہ بتلایا تھا کہ وہ غریب کسے سمجھتی ہے۔۱۲؍۲۰۱۱میں نیشنل سیمپل سروے آفس نے ۲۰۱۰ کی ٹینڈولکر کمیٹی کے مشوروں کے تحت یہ طے کیا تھا کہ دیہی علاقوں میں 27.20 روپئے اور شہری علاقوں میں33.40 سے کم خرچ کرنے والا شخص غریب ہے مگر معلوم نہیں کیوں ہمارے دانشوروں کو حکومت کے یہ اعداد و شمار پسند نہیں آئے تھے۔اور انھوں نے اتنی’’غریب پرور‘‘ حکومت کو صلواتیںسنائی تھیں۔بڑی لے دے مچی تھی۔شاید اسی لئے ،غریبوں کے اچھے دن لانے کے لئے غریبوں نے ایک چائے والے کوتخت حکومت پر براجمان کر دیا۔اب تازہ تازہ آر بی آئی کے سابق گورنر سی رنگاراجن نے جو رپورٹ بی جے پی حکومت کو سونپی ہے اس کے مطابق دیہی علاقوں میں32 روپئے اور شہری علاقوں میں47روپئے سے کم خرچ کرنے والا یا دوسرے الفاظ میں اتنا کمانے والا غریب نہیں ہے یعنی اس کا شمار ہندوستان کے مالدار لوگوں میں کیا جائے گا۔غریبوں کو بدھائی ہو ۔چائے بیچنے والے مودی جی نے کتنی آسانی سے انھیںغریبوں کی فہرست سے نکال کر دولت مندوں میں شامل کر دیا ہے۔دروغ گو را حافظہ نہ باشد ۔

یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ ۱۹۷۸ میں بھی اسی طرح powerty line income فکس کی گئی تھی جو61.80 روپئے؍شخص؍ماہ دیہی علاقوں میں اورشہری علاقوں میں 71.30 تھی ۔ اب تک پیش کئے گئے تمام اعداد و شمار پر ایک نظر ڈال لیجئے ۔کیا تصویر بنتی ہے۔یہی نا کہ ۱۹۷۸ میں مہنگائی بہت تھی اور اب وہ کافی کم ہوگئی ہے ۔ہے نا دلچسپ بات۔آج کی آمدنی کے مقابلے میںدگنا آمدنی رکھنے والا شخص ۱۹۷۸ میں غریب تھا ۔کہا جا سکتا ہے کہ اس  زمانے میںگھروں میں نہ ٹی وی ہوتا تھانہ فرج ،نہ گھر میں لینڈ لائن ہوتی تھی نہ ہاتھوں میں موبائل۔اور ٹو وھیلر بھی خال خال نظر آتی تھی۔بات کو سمجھنے کے لئے اشیائے ضروریہ کی اس وقت کی قیمتوںکے انڈیکس اور آج کے انڈیکس پر نظر ڈالنا ضروری ہے ۔عام آدمی کو تو اشیائے ضروریہ کی قیمتون سے ہی غرض ہوتی ہے۔اب آج چونکہ ہر گھر میں ٹی وی بھی ہے اور فرج بھی ۔ہر ہاتھ میں موبائل بھی ہے اور ٹو وھیلر بھی ۔تو جن ہاتھوں میں اتنے سارے آلات تعیشات ہو ں وہ غرب کیسے ہو سکتا ہے ۔یہ حکومت کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہر گھر کو اتنے سارے آلات تعیشات سے بھر دیا ہے ۔اب اس کے بعد غریبوں کو کھانے کے لئے روٹی نہیں ہے تو کیا ۔ انھیں چلانے کے لئے بجلی کا بل بھرنے کی استطاعت نہیںہے اور غریب بجلی چوری کر رہے ہیں تو کیا؟اناج پیداکرنے والے ’’ان داتا‘‘خود کشی کر رہے ہیں تو حکومت اس کی فکر کیوں کرے؟دہائیوں پہلے کسی شاعر نے کہا تھا سب کچھ ہے اپنے دیش میں روٹی نہیں تو کیا۔اس وقت واقعی اپنے ملک میں اناج کم پیدا ہوتا تھا اور اناج درآمد کرنا پڑتا تھا مگر آج ۔۔۔آج تو مشہور ہے کہ دیش میں اناج بہ اہتمام سڑایا جاتا ہے ۔بڑی فیاضی سے چوہوںکو کھلایا جاتا ہے۔دودھ سمندر میں بہایا جاتا ہے ۔اب جہاں ہر چیز کی اتنی فراوانی ہو وہاں۳۰؍۳۵ روپیوں کو معیار ثروت مندی نہ بنایا جائے تو کیا کیا جائے۔اس کے باوجود بھی اگر مہنگائی بڑھ رہی ہو تو اس میں حکومت کا کیا قصور؟یہ تو دنیا جانتی ہے کہ مہنگائی حکومت نہیں بڑھاتی دھنّا سیٹھ بڑھاتے ہیں۔اسی لئے تو ساحر لدھیانوی نے کہا تھا ۔جھوٹے ٹکڑے کھا کے بڑھیا تپتا پانی پیتی تھی۔مرتی ہے تو مرجانے دو پہلے بھی کب جیتی تھی؟جے ہو پیسے والوں کی۔گیہوں کے دلالوں کی۔ان کا حد سے بڑھا منافع کچھ ہی کم ہے ڈاکے سے ۔برسو رام دھڑاکے سے ۔۔۔یہاں بڑھیا کی جگہ عوام کو رکھ لیجئے۔ اور یہ ہماری موجودہ حکومت کے اخلاص کا ثبوت ہی تو ہے کہ وہ بار بار کہہ رہی ہے کہ ہمیں اس وقت تک ووٹ دیتے رہئے اس وقت تک جتاتے رہئے جب تک ہم بیرون ملک سے دھناّ سیٹھوں کا جمع کیا ہوا کالا دھن غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے واپس ملک میں لے نہیں آتے۔یہ کتنی بڑی بے لوثی ہے جو کہتی ہے کہ کالا دھن ملک میں واپس آنے کے بعد بھلے ہی آپ ہمیں ووٹ نہ دیں۔

کچھ عرصہ پہلے وطن عزیز کی جنوبی ریاست کیرالہ نے ایک criteria بنایا تھا جس کے تحت کچھ نکات طے کئے گئے تھے اور کہا گیا تھا جس خاندان میں درج ذیل میں سے ۴ نکات نہیں پائے جائیں گے وہ غریب کہا جائیگا۔وہ نکات یہ ہیں۔(۱)جس کے پاس زمین نہ ہو(۲)جس کے پاس مکان نہ ہویا خستہ حالت میں ہو (۳)جس گھر میں رنگین ٹی وی نہ ہو(۴)گھر کے کسی فرد کی کہیں ریگولر ملازمت نہ ہو (۵)بیت الخلاء نہ ہو (۶)پینے کے صاف پانی تک رسائی نہ ہو (۷)گھر کی سربراہ عورت ہو ۔ گھر میں مطلقہ یا بیوائیں ہوں(۸)شڈیولڈ کاسٹ؍ٹرائب سے ہوں(۹)ذہنی یا جسمانی طور سے معذور افراد گھر میں ہوں۔ حیرت ہوتی ہے کہ ۲۵؍۳۰ روپئے آمدنی رکھنے والے مالداروں کے اس دیس میں ایسی ریاستیں بھی ہیں جو بہتر انداز میں سوچ اور سمجھ سکتی ہیں۔اس کے ذمے داران حکومت حساس دل بھی رکھتے ہیں۔مزید حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ۱۱۰ کروڑ کی آبادی پر حکومت کرنے والے ہمارے حکمراں اتنے بے شرم و بے غیرت ہیں کہ اپنے ہی ملک کی ایک چھوٹی سی ریاست سے سبق لینے کو تیار نہیں۔

اور اب مرے پہ سو درے کے مصداق ٹی وی کے ذریعے روزانہ غریبوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔بالی وڈ کی تمل اداکارہ محترمہ ودیا بالن ایک اشتہار میںجو ہر چینل پر دکھایا جا رہا ہے دیہی علاقے کے خاندانوں کو یہ تلقین کرتی نظر آرہی ہیںکہ وہ گھر میں شوچالیہ(بیت الخلائ)بنائیں۔اب کچھ دنوں سے اس مہم میںاشتہارات کی دنیا کے شہنشاہ جناب امیتابھ بچن بھی جٹ گئے ہیں۔ہم نے ابھی ابھی لکھا ہے کہ ۱۹۷۸ سے لے کر اب تک حکومت ہر گھر میں ٹی وی فرج موبائل اور ٹو وہیلر ساتھ میں ہیلمٹ بھی بھر چکی ہے ۔اب یہ چاہتی ہے کہ اگر دیہاتوں میںموبائل ہو سکتے ہیں تو بیت الخلاء بھی ہونا چاہئے۔ہمیں تو حکومت کی نیک نیتی پر شبہ نہیںمگر بد خواہوں کی کمی نہیں۔وہ کہتے ہیںکہ ہر بار کی طرح اس بار بھی شاید sanitary ware بنانے والوں نے حکومت کو مجبور کیا ہو ورنہ ۲۵؍۳۰ روپے کمانے والا مالدار تو ’’ننگی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا ‘‘ کی طرح ہوتا ہے۔اس کے لئے یہ شوچالیہ تو ٹی وی فرج موبائل سے بھی بڑی عیاشی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ اناجوں کو سڑانے والے دودھ کو دریا برد کرنے والے اس دور میں اڑیسہ جیسی ریاستیں بھی تو ہیں جہاں لوگوں کو ۲۵؍۳۰ روپئے بھی غالباً میسر نہیںاسلئے وہ گھاس کھا کر خودکشی کر رہے ہیں۔اہم خود کشی کرنا ہے گھاس کھانا نہیں گھاس اسلئے کھائی جا رہی ہے کہ حکومت کی face saving ہوجائے۔

ایسے لوگوں سے ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ مودی جی کو بہت under estimate  کر رہے ہیں ۔ملک میں بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں کہ قومی انتخابات میں مودی جی کی جیت سنگھ پریوار کا چمتکار ہے مگر خود پارٹی کے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ۲۷۲ پلس کا ’’آنکڑہ‘‘مودی جی کا چمتکار ہے ۔ہمیں اچانک یاد آیا کہ عامر خان کی فلم تھری ایڈیٹس میںایک تقریر میں چمتکار کو ایک دوسرے لفظ بلاتکار سے بدل دینے پر خود تقریر چمتکار بن جاتی ہے۔اور مودی جی بھی تقریروں کے ماہر ہیںاور چمتکاروں کے بھی ۔ ہمیں یقین ہے ان کا سوچھتا ابھیان۳۲ روپئے روزانہ کمانے والے مالداروں کے گھر وں میں بھی شوچالیہ بنانے کا چمتکار بھی دکھائے گا۔اگر اس بار ایسا نہ ہو سکے تو بار بار ووٹ دیتے رہئے جب تک کہ یہ چمتکار وجود میں نہ آجائے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *