علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ – میڈیا

روم کے تعلق سے یہ بات مشہور ہے کہ اگر اس زمانے میں میڈیا ہوتا تو روم کا زوال نہ ہوتا لیکن موجودہ دور کے لئے یہ بات زیادہ صحیح ہے کہ ہر زوال میں میڈیا کا اہم رول ہوتا ہے۔ کسی غیر اہم چیز کو کس طرح سے اہم بنایا جاتا ہے اور کسی اہم چیز کو کس طرح سے پس پشت ڈال کر غیر اہم بنا دیا جاتا ہے اس کا سلیقہ اور فن میڈیا کو بخوبی آتا ہے۔ بالخصوص ہندوستانی ذرائع ابلاغ اس میں مہارت رکھتا ہے۔
دہلی میں کامن ویلتھ گیمس (Common Wealth Games)کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ دہلی کی Blue live بسوں کو آنے والے غیر ملکی مسافر نہ دیکھیں اور Dtcکی لوفلور بسوں کو دہلی کی سڑکوں پر اترانے کے لئے میڈیا کے ذریعہ ایک سازشی مہم چلائی گئی۔ میڈیا نے اس بسوں (Buses) کو “Blue line killer”کی Vedio Clipsجاری کرتے تھے۔ جہاں کہیں پورے دہلی میں کوئی حادثہ ان بسوں کے ذریعہ سے رونما ہوتا فوراً Breaking Newsبنا دی جاتی اور دوسرے دن اخبار میں بڑی بڑی سرخیوں میں آتا۔ Blue line killerنے لی دو اور کی جان۔ ’’حالانکہ اس سے پہلے بھی بسوں اور کاروں کے ذریعہ دہلی میں حادثات ہوتے رہتے تھے لیکن جس منصوبہ بند طریقے سے ان کو دکھایا گیا عوام ان کے خلاف مشتعل ہو گئی اور ان بس اوپریٹرس Bus Operatorsکے خلاف مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کی وجہ سے ان بسوں کو حکومت اور عدالت نے بند (Seal)کردینے کا حکم جاری کر دیا۔
ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ اور بالخصوص علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ میڈیا کا جو متعصبانہ کردار رہا ہے وہ کو ئی ڈھکی چھپی چیز نہیں رہی ہے۔ جیسے ہی کوئی واقعہ یونیورسٹی میں اس کے اقدار اور اس کی تہذیبی شناخت کے خلاف ہوتا ہے، ہندوستانی ذرائع ابلاغ فوراً حرکت شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اسی یونیورسٹی کے طلبہ کے ذریعہ خون کا عطیہ دے کر کئی افراد کی جان بچا لی جاتی ہے اس کا میڈیا میں کہیں بھی ذکر نہیں ہوتا ہے۔ سیلاب زدہ متاثرین کا معاملہ ہو، فساد زدہ لوگوں کی رہائش کا معاملہ ہو، سردیوں میں غریبوں میں کمبل باٹنے کا معاملہ ہو ۔ یہ تمام سرگرمیاں یہاں کے طلبہ کے ذریعہ مختلف اوقات میں انجام دی جاتی ہیں ۔ مختلف طلبہ تنظیمیں طلبہ کی امداد کے ذریعہ ان کاموں کو انجام دیتی ہیں ۔ لیکن میڈیا (Media)میں کہیں ان کا ذکر نہیں ہوتا ہے۔ بالخصوص انگریزی اخبارات ان تمام خبروں کو جگہ دینے کو اپنے لئے جائز نہیں سمجھتے ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر جس وجہ سے میڈیا کی سرخیوں میں آئی وہ مولانا آزاد لائبریری (مرکزی) میں عبد اللہ کالج کی لڑکیوں کو داخلے کی اجازت کا معاملہ تھا۔ ۱۹۶۰ئ؁ میں جب مولانا آزادکی لائبریری کی تعمیر ہوئی اس کے بعد سے ہی اس مرکزی لائبریری میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ مسئلہ مختلف موقوں سے اٹھایا جا تا رہا اور ہر ایک نے اپنی دلچسپی کا مظاہرہ اپنے مفاد کے لئے کیا۔۲۰۱۱ئ؁ میں جب راجستھان کے گوپال گڑھ میں سینکڑوں لوگوں کو قتل کر دیا گیا تھا اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے تھے اس وقت بھی یہ مسئلہ زیر بحث تھا۔ The Hinduجیسے سنجیدہ اخبار کے لئے بھی گوپال گڑھ کا مسئلہ اہم نہ ہو کر ایک لائبریری میں طالبات کا داخلہ اہم تھا۔ اس لئے گوپال گڑھ کی خبروں اور اس پر مضامین کے بجائے اس سنجیدہ اخبار نے اس مسئلہ پر مستقل مضامین لکھے۔ اس کے چار سال بعد ایک بار پھر جن بوتل سے باہر آتا ہے اور ۱۰؍نومبر ۲۰۱۴ئ؁ کو طالبات کی نئی یونین کی حلف برداری کی تقریب میں وائس چانسلر سے اس چیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے جس کو وائس چانسلر جگہ کی کمی کی بات کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ اس خدشہ کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ اگر عبد اللہ کالج کی لڑکیوں کو اجازت دی گئی تو لڑکوں کی بھی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ بس پھر کیا تھا میڈیا کی کرم فرمائیاں شروع ہو جاتی ہیں اور ان کے داخلے کے انکار کو عورتوں کی آزادی کے خلاف تصور کر لیا جاتا ہے اس کو جنسی تفریق (Gender Discrimination)کے طور پر مشہور کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ دقیانوسی فرمان جاری کر دیا گیا ہے۔ اس کو عورتوں کے خلاف نا انصافی خیا ل کیا گیا ۔ پوری میڈیا نے اس پر واویلہ شروع کر دیا۔ اسی وقت میں چھتیس گڑھ میں نس بندی آپریشن کے درمیان ایک درجن سے زائد خواتین کی موت ہوئی اور تقریباً ۸۰ خواتین موت سے لڑ رہی تھیں لیکن ہندوستان ذرائع ابلاغ کے سامنے ان کی موت سے زیادہ ایک لائبریری میں لڑکیوں کے داخلہ کا مسئلہ اہم تھا۔ وائس چانسلر کے بیان کے دو گھنٹے بعد ہی تمام نیوز چینلز (News Channels)پر یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وائس چانسلر صاحب نے لڑکیوں کے داخلہ پر پابندی عائد کر دی حالانکہ یہ پابندی وائس چانسلر نے نہیں بلکہ جب سے لائبریری تعمیر ہوئی ہے اس وقت سے ان کو اجازت نہیں دی گئی۔ فروغ انسانی وسائل (HRD)کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے اپنے قیمتی وقت میں سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کو ترجیح دی اور اسے بیٹیوں کی توہین قرار دیا گیا۔ اس مسئلہ کو بیٹیوں کی توہین قرار دینے والوں کو حال ہی میں مظفر نگر میں ہوئے فساد کے دوران سینکڑوں لڑکیوں کے Gang rapeمیں لڑکیوں کی توہین نظر نہیں آتی۔ Man’s spray،Oil اور Fairness Creamکے اشتہارات میں کس طرح سے عورتوں کو بے عزت کیا جاتا ہے اور ان کو ذلیل کیا جاتا ہے ،لیکن کسی کو بھی اس میں بیٹیوں کی توہین معلوم نہیں ہوتی۔ انڈین ایکسپریس (The Indian Express)کے ۷؍دسمبر کے شمارے میں شائع ایک مضمون “Socially Disgracing women”میں مین گپتا نے اس مسئلہ پر بخوبی روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح اشتہارات کے نام پر عورتوں کو ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔
وائس چانسلر کے بیان کے بعد میڈیا کا جو رویہ سامنے آیا وہ مسلم اور مسلم یونیورسٹی کے لئے کوئی اجنبی نہیں تھا۔ ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت پوری خبروں سے ـ”Graduation”اور ’’عبد اللہ کالج‘‘ کو غائب کر دیا گیا۔ خبروں کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ لائبریری میں تمام ہی لڑکیوں کے داخلہ پر اچانک پابندی عائد کر دی گئی۔ ایک T.V. Ancherنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب لڑکیاں لائبریری کے قریب بھی نہیں جا سکتی۔ اس درمیان میں جو Panel discissionہوئے وہ بھی میڈیا کے عتاب کی بہترین مثال تھے۔ Aaj Takکے ایک Halla Boolپروگرام میں جب طلبہ یونین کے صدر سے پوچھا گیا اور انہوں نے اس پر کچھ تفصیل سے بات کی تو Ancherنے اپنے بغض کو ظاہر کرتے ہوئے کہا ’’زیادہ بھاشن مت دو جو پوچھ رہے ہیں وہ بتاؤ‘‘ گویا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے عدالت میں ایک مجرم سے جرم کے بارے میں ہاں یا نہیں میں سوال پوچھا جا رہا ہو اور وہ اس کی تفصیلات بتانا چاہ رہا ہو تو جج صاحب کہہ رہے ہوں کہ ’’تقریر مت کیجئے ہاں یا نہیں میں جواب دیجئے۔‘‘ یہ وہی Anchorہوتے ہیں جو ہندوتو ا کے لوگوں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے ہیں اور ان ہی کی خواہشات کے مطابق ان سے سوالات کرتے ہیں۔
اس پورے مسئلہ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کے پاس کافی وقت ہے اور ہر ایک مسئلہ پر اپنے اظہارِ خیال کو لازمی سمجھتا ہے اور یہ ہندوستان کا سب سے اہم مسئلہ ہے کہ اگر اس کو حل نہیں کیا جاتا ہے تو ہندوستان ایک بہت بڑی تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ اس لئے تمام ہی وزراء نے بالخصوص اقلیتی امور اور خواتین کے امور سے تعلق رکھنے والے ہر فرد اور ہر وزیر نے اس موضوع پر اظہار خیال کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ نجمہ ہپت اللہ نے اس کو خوفناک قرار دیا۔ قومی خواتین کمیشن کی چیر مین للتا کمارا منگلم نے کہا’’علی گڑہ مسلم یونیورسٹی کو اس بات کا حق کس نے دیا کہ وہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی تفریق کا سلوک رکھے۔ کرن تھاپر جو اہم اور سنجیدہ افراد میں سے مانے جاتے ہیں اور اہم شخصیات اور موضوع سے متعلق ہی انٹر ویو کرتے ہیں انہوں نے بھی وائس چانسلر کا انٹرویو اس موضوع پر کر ڈالا اور اس کوجنسی تفریق بتایا۔ وائس چانسلر نے یہ کہہ کر جنسی تفریق کو رد کیا کہ یہ جنسی تفریق نہیں ہے کیوں کہ دوسری طالبات کو Libraryمیں آنے کی اجازت ہے تو کرن تھاپر نے پوچھا تو صرف ان لڑکیوں کو کیوں داخلہ نہیں دیا جاتا ہے۔ کرن تھاپر سے کوئی یہ پوچھنے والا ہو کہ آپ کو صرف ان ہی لڑکیوں سے کیوں دلچسپی اور ہمدردی ہے؟
عدالت نے بھی اس اہم مسئلہ میں اپنے فرض کو فوری طور سے انجام دیا اور وہ عدالتیں جو کام کی سست رفتاری کے لئے مشہور ہیں انہوں نے اس مسئلہ کو ایک ہندسے پہلے ہی حل کر دیا۔ ایک PILکے جواب میں عدالت نے لڑکیوں کو داخلہ دینے کی بات کہی۔ عدالت نے ہندوستانی آئین کے دفعہ ۱۴ اور ۱۵ کو دلیل بناتے ہوئے کہا کہ ان کو داخلہ دینے سے انکار کرنا جنسی تفریق ہے ۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ جنسی تفریق کا سوال نہ ہوکر یہ سہولیات اور انتظامیہ کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ جنسی تفریق ہے تو میٹرو میں خواتین کے لئے اسپیشل کوچ اور ممبئی میں اسپیشل ٹرین جن میں مرد حضرات کا داخلہ ممنوع ہے کیا یہ مردوں کے ساتھ جنسی تفریق نہیں ہے؟ اگر یہ مسئلہ مسلم یونیورسٹی میں جنسی تفریق کا مسئلہ ہے تو دہلی یونیورسٹی کے اس کالج میں جس میں مسلم یونیورسٹی کی طرح وہاں کی گریجویشن کی طالبات کو مرکزی لائبریری میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے کیا وہاں جنسی تفریق نہیں ہے؟
عدالت کا فیصلہ آجانے کے بعد تمام ہی میڈیا کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لڑکیوں کی یونین میں بھی خوشی کو میڈیا نے بھی کافی Coverageدیا اور سب ہی لوگوں کی نگاہیں ۷؍دسمبر کی تاریخ پر جا ٹکیں کیوں کہ ایسا ۵۴ سال میں پہلی بار ہونے جا رہا تھا جب عبداللہ کالج کی لڑکیوں کو مرکزی لائبریری میں داخلہ کی اجازت ملی تھی۔ میڈیا کے تمام ہی نمائندے وہاں صبح صبح موجود تھے اور ان کو اندازہ تھا کہ تقریباً دونوں بسیں (Buses)لڑکیوں سے بھر کر آئیں گی لیکن اس دن صرف آٹھ لڑکیاں ہی پہنچی۔ اس کے بعد صرف اردو اور ہندی اخبارات میں اس پر کسی حد تک خوشی کا اظہار کیا گیا لیکن انگریزی اخبارات کے لئے صرف آٹھ لڑکیوں کا آنا شرم کی بات تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس خبر کو اپنے یہاں جگہ دینا مناسب نہیں سمجھا۔ ۱۴؍دسمبر کو پھر اتوار آیا اور اس مرتبہ صرف ۲ لڑکیاں آئیں۔ اب اردو اور ہندی اخبارات سے بھی یہ خبر غائب ہو چکی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ آگے ایک بھی لڑکی لائبریری نہ آئے۔ لڑکیوں کی تعداد سے مسئلہ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ واقعی اگر یہ اہم مسئلہ ہوتا تو اتنی کم تعداد میں وہاں لڑکیاں نہیں پہنچتی۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو ہمارے وزراء کو اور نہ ہی میڈیا کو اس بات سے کوئی مطلب تھا کہ کتنی لڑکیاں آتی ہیں یا نہیں بلکہ ان کو اس ہنگامہ سے غرض تھی جو ہو چکا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مسئلہ یہیں پر ختم ہو گیا ہے اور ہو جائے گا بلکہ یہ تو مہم کی ابتداء تھی کیوں کہ اب میڈیا کو ایک مناسب تعداد پوری کرکے عوام کے سامنے پیش کرنی ہے۔ اس لئے اس کے بعد یہ موضوع زیر بحث ہوگا کہ وقت اور دن میں تبدیلی کی جائے ۔وومن کالج کی طلبہ یونین کی صدر جو دونوں اتواروں میں سے ایک میں بھی لائبریری نہیں آئی، اس نے پھر مطالبہ کیا ہے کہ وقت صحیح نہیں ہے اس لئے اس میں تبدیلی کی جائے۔ یہ بات یہاں پر سمجھنے کی ہے کہ یہ مسئلہ صرف لائبریری میں داخلہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے جو ارادہ کارفرماں ہے وہ مسلم یونیورسٹی کے ماحول کو خراب کرنا ہے۔ جن لوگوں کا ماحول گندہ ہے وہ اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کس طرح یہاں کے ماحول کو بھی گندہ کیا جائے۔ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ دوسری یونیورسٹی کی طرح مسلم یونیورسٹی بھی تہذیبی اور اخلاقی اعتبار سے تباہ و برباد ہو جائے تاکہ پھر ان کو عیاشی کرنے کا خوب موقع مل سکے۔ یونیورسٹی میں left Patresکی بڑھتی سرگرمیاں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ ان کی طلبہ تنظیم کا یہاں پر افتتاح ہو چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے مسلم طلبہ اور انتظامیہ ان کے عزائم کو کس طرح سے دیکھتی ہے اور کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *