نظریہ قوم پرستی ایک جائزہ

قوم کی تعریف :۔ لفظ قوم کا لغوی مفہوم بڑی حد تک واضح ہے۔ کسی ایسے مجموعۂ افراد کو ’’قوم‘‘ کہا جاتا ہے جس کے مابین کوئی رشتۂ اشتراک پایا جاتا ہو۔ خواہ وہ رشتہ عقیدہ و مسلک کا ہو، یا زبان و علاقہ کا ہو یا تاریخی و نسلی رشتہ ہو۔ انگریزی لغت میں بھی اس کو اسی طرح بیان کیا ہے۔ Congries of people either of divers, races of common descent, Language, History etc. اسی لئے نسلی بنیاد پر تاتاری ، آریہ، پٹھان وغیرہ قومیں وجود میں آئیں۔ چینی، مصری، ایرانی اور روسی دیونانی باشندوں کیلئے قوم کا لفظ استعمال ہوتا رہا۔ اسی طرح زبان کے رشتہ سے منسلک بنگالی ، پنجابی، عربی قومیت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ مسلمان ،عیسائی اور یہودی اقوام کو عقیدہ و مذہب کی بنیاد پر قوم کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اقدار و صفات کے لحاظ سے بھی مجموعہ افراد پر لفظ قوم چسپاں ہوتا ہے۔مثلاً مجرم قوم ،ظالم قوم یا پسماندہ اقوام اور ترقی یافتہ قوم وغیرہ۔

        قوم کل اور آج : خدا وند تعالیٰ نے قومیں اور قبیلے پہچان کیلئے بنائے اور حکمت بالغہ کے تحت جس طرح افراد کو رنگ و روپ اور جسمانی ساخت میں امتیاز بخشا اسی طرح سے افراد کے مجموعوں (قوموں )کو بھی صفات اور صلاحیتوں میں بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی ۔یا یوں کہئے جن صفات کے حامل جس قوم میں زیادہ لوگ پائے گئے وہ انکی قومی صفات کہلانے لگیں۔ حالانکہ علم کی طرح خصلتیں بھی افراد کو ہی عطا کی گئیں ہیں۔ بزدل اور کمینہ خصلت لوگ بھی ہر جگہ ہوتے ہیں اور بہادر شریف افراد بھی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں، فرق کم اور زیادہ کا ہی ہوتا ہے۔ سب انسان در حقیقت ایک خاندان کے افراد ہیں اور قومیت فی الجملہ پہچان کا وسیلہ ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ انسانی ضمیر نے کسی قوم کی فضیلت کے دعویٰ کو برضاء ورغبت کبھی تسلیم نہیں کیا جب کبھی طاقت و کثرت کے نشہ میں ایسا کوئی دعویٰ کیا گیا تو زور زبردستی ہی اس کو تسلیم کرایا جا سکا۔

        تاریخی طور پر قوم اور قومیت کا مفہوم بیشتر نسلی اشتراک پر مبنی رہا ہے دوسرے عناصر قومیت کی حیثیت ثانوی اور جزوی رہی ہے۔ مغل ،تاتار، برہمن اور جاٹ آج بھی ہم نسلیت کی بناء پر قائم ہیں۔ ایک نسل کے لوگ ابتداء ایک ہی زبان بولتے رہے اس لئے زبان قومیت کے عناصر ترکیبی کا لازمی حصہ بن گئی۔ اگر چہ بعد میں ایک نسل کے لوگ مختلف علاقوں میں پھیلتے چلے گئے اس کے باوجود ایک قوم کہلاتے رہے۔ آریہ وسط ایشیاء سے نکل کر ایران، ہندوستان اور یورپ کے علاقوں میں جا بسے مگر آج بھی آریہ ہی کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ قومیت، نسلیت اور قوم پرستی، نسل پرستی کا دوسرا نام ہے تو غلط نہ ہوگا۔

        کثرت استعمال کی بناء پر قوم کے بنیادی مفہوم میں دوسرے مفاہیم بھی شامل ہوتے چلے گئے اس زبان، علاقہ اور دوسری نسبتوں کا اشتراک بھی قوم کے مفہوم کا حصہ بن گیا۔ مگر یاد رہے کہ ماضی میں محض علاقہ و وطن کی بناء پر کوئی قومیت وجود میں نہیں آسکی۔ دنیا کے مختلف وسیع و عریض ملکوں میں بیک وقت متعدد قومیں رہتی رہیں اور آج بھی رہتی ہیں جب اور جہاں جس نسل کے لوگوں کو قوت و اقتدار میسر آیا اکثر وہ دور اسی نسلی قومیت سے منسوب کیا گیا۔ ہندوستان میں آریوں، راجپوتوں، ترکوں، پٹھانوں اور مغلوں کے ادوار مشہور ہیں۔ مگر یاد رہے کہ نسلی قومیت میں اتنی قوت و تاثیر نہ تھی کہ وہ تنہا کسی تہذیب کو جنم دے سکے۔ تہذیب کی بنیادیں ہمیشہ ان عقیدوں ، قدروں اور رویوں نے استوار کیں جو کسی غالب قوم ، نسل یا علاقہ کے لوگوں نے اپنائے۔ اس طرح ماضی کی قومیں ایک حد خاص سے بڑھ کر اپنی حیثیت و اہمیت تسلیم نہ کرا سکیں۔ اس کے بالمقابل مختلف قوموں نے مشترک طور پر یا علیحدہ علیحدہ مختلف تہذیبوں کو پروان چڑھایا۔ یہ الگ بات ہے کہ جو عقائد و افکار اور رسوم و رواج جس نے اپنائے وہ ان کی قومی پہچان بھی بن گئے۔ یہاں آکر قومیت تنگ دائروں سے نکل کر وسیع تر مفہوم کی حامل ہو گئی۔

        آج جن وسیع معنوں میں قوم اور قوم پرستی کے الفاظ کا استعمال ہو رہا ہے وہ ماضی کی قومیت کے تصور سے یکسر متصادم نہ ہو تو بھی بڑی حد تک مختلف ضرور ہے اگر چہ قومیت کے عناصر ترکیبی میں نسل، زبان اور علاقہ کا اشتراک آج بھی شامل ہے مگر موجودہ قومیت اور قوم پرستی کی کوئی مرتب مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ماضی اور حال کے درمیان جو فرق پیدا ہو گیا ہے اس کو سمجھنے اور پہچاننے کی سخت ضرورت ہے یہ فرق ایک مضبوط اور بلند دیوار کی طرح موجود ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کل قومیت ایک پہچان تھی یا زیادہ سے زیادہ تفاخر کا بے بنیاد دعویٰ۔۔۔۔۔۔ مگر آج قوم پرستی کو ایک اصول کی طرح اپنایا جا رہا ہے جو اپنے مزاج و مقصد کے اعتبار سے انسانیت اور دین فطرت کا حریف ہے۔ آج قوم پرستی (Nationalism)انسانوں کے نیک و بد دوستی و دشمنی اور نفع و نقصان کا پیمانہ بن کر رہ گئی ہے۔ وہ قوموں کے ارادے متعین کرتی ہے ا ور انہیں جنگ کے میدانوں یا صلح کے ایوانوں میں لے جاتی ہے۔

نظریۂ قوم پرستی کی حقیقت :اگر چہ آج بھی قوم اور قومیت کا استعمال ایک سے زیادہ معنوں میں ہوتا ہے مگر یا دہنا چاہئے ہر استعمال محدودیت کی جگہ وسعت لئے ہوئے ہے۔ قوم پرستی کے اصول نے اس کے تقاضوں میں شدت پیدا کر دی ہے بالخصوص وطنی قومیت نے ایک اصول موضوعہ اور عالمی صداقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے ۔ انسانیت قوموں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔ اور قومیں قومیت کے بت کی پوجا کرنے میں مصروف ہیں۔ قوم پرستی کے مداح جان بوجھ کر اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں۔ اگر چہ قوم پرستی کی لعنت دو عظیم عالمی جنگوں کے شعلوں میں انسانیت کو جھلس چکی ہے کوئی نہیں سمجھتا کہ آخر قوم پرستی اور فرقہ پرستی میں کیا فرق ہے؟ اگر فرقہ پرستی بری ہے تو قوم پرستی کیوں اچھی ہے اور قوم پرستی اچھی ہے تو فرقہ پرستی کیوں بری ہے؟ عصر حاضر کے ایک اسلامی مفکر نے کیا خوب کہا ہ کہ ’’قوم پرستی دراصل قومی غرضی کا دوسرا نام ہے۔‘‘

        یہ جاننے کے بعد کہ قومیت اور جدید نظریۂ قوم پرستی میں کیا اور کتنا فرق ہے قومیت نسل کی بنیاد پر ہو یا زبان اور علاقے کی بنیاد پر اس کا تعلق کسی عقیدہ سے یا کسی نظریہ سے ہو بہر حال ایک ذریعہ تعارف ہے، یا علامت امتیاز ہے۔ یہ اگر اپنی حدود پر قائم رہے تو بجائے خود کوئی بری چیز نہیں ہے اور باآسانی یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ قوم پرستی یعنی نیشنلزم انسانیت کا حریف ایک باطل نظریہ ہے۔ ایک خطرناک رجحان ہے، سراسر جاہلیت کی پکار ہے۔

        اسلام سے اصولی تصادم: قوم پرستی کے جاہلانہ رجحان کو اسلام عصبیت اور حمیت جاہلانہ قرار دیتا ہے اور عصبیت کی طرف بلانا اس کی خاطر جنگ کرنا اسی حال میں مر جانا اسلام سے بے تعلقی کا دوسرا نام ہے۔ حدیث شریف میں واضح طور پر آیا ہے’’جس نے عصبیت کی طرف بلایا ،اس کے لئے جنگ کی،اور عصبیت کی حالت میں مر گیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘(سنن ابی داؤد)یہ عصبیت کیا ہے اس کی تعریف بھی متعین فرمادی گئی۔ ایک صحابی ؓ نے پوچھا کیا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت ہے؟ رسولِ خدا ؐ نے ارشاد فرمایا’’نہیں‘‘ (بلکہ) عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کا ساتھ دے۔ (ابن ماجہ)

        اسلام کی دعوت بندگیٔ رب کی دعوت ہے اس دعوت کی اصل توحید کا عقیدہ ہے وہ خدا کی ذات و صفات اور حقوق اختیارات میں کسی کی شرکت تسلیم نہیں کرتا۔ ایسا کرنا اس کی نگاہ میں سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی جہالت ہے وہ خدا پرستی کے عقیدہ میں کسی کو شامل کرنے سے صاف انکار کرتا ہے۔ لہٰذا جس طرح بت پرستی خدا پرستی کی ضد ہے اسی طرح کسی اور کی پرستش بھی ناقابل قبول ہے۔ قوم پرستی (Nationalism)اور اسلام جمع نہیں ہو سکتے۔ اسلام کی حدود میں قوم اور قومیت کی جگہ صرف علامتِ تعارف اور فطری جذبہ کی حد تک ہے۔ لیکن اگر قوم قوم پرستی کا عقیدہ اور قومیت کا بت لیکر سامنے آتی ہے تو وہ اس کو توڑ پھینکنے کا حکم دیتا ہے۔

        انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے خدا وند قدوس نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں ان برگزیدہ پیغمبروں نے سب سے پہلے اپنی قوم کو حق کا پیغام سنایا، بندگیٔ رب کی دعوت دی تو ان کی کشمکش سب سے پہلے اپنی قوم سے ہوئی، ہر نبی اپنی قوم کا سچا خیر خواہ ہوتا تھا۔ مگر انبیائی تاریخ اور نبیوں کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ وہ قوم پرست ہر گز نہ تھے خدا پرست تھے اکثر و بیشتر ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ہی معرکہ آرائی ہوئی قوم کے شریر لوگوں نے ان کا انکار کیا اور خود ہی مخالفت نہیں کی بلکہ قوم کو بھی ان کے خلاف بھڑکایا۔ جب جب ایسا ہوا انہوں نے قوم سے بیزاری اور علاحدگی اختیار کر لی۔ اس کا بہترین ثبوت سیدنا حضرت ابراہیم ؑ نے پیش فرمایا جسے قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔

        ’’تمہارے لئے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے ساتھیوں کے طرز عمل میں ایک نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہمارے اور تمہارے ان معبود ان باطل سے جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو بے تعلق ہیں۔ اور ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی قائم ہو گئی جب تک کہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لے آؤ‘‘ (سورہ ممتحنہ )

        واضح رہے کہ یہ کوئی استثنائی صورت حال نہ تھی بلکہ سارے انبیاء اپنی قوم کے مجرموں کی دشمنی کا نشانہ بنتے رہے اور وہ اپنی قوم کی مرضی کے بر خلاف حق کا پیغام سناتے رہے اور کبھی بھی خدا کی رضاء کو قوم کی مرضی کا تابع نہیں بنایا۔ خدا کے آخری رسول ؐ نے تو اس دعوت کے بدلے قوم کی سرداری کی پیش کش کو بھی ٹھکرا دیا اور دعوت حق کی راہ میں جان دینے کے مصمم ارادہ کو دہرایا۔ کیا اس کے بعد بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج جس نیشنلزم کے چرچے ہیں اور جس قوم پرستی کو ترقی و نجات کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے جس قومی خود غرضی کو قومی مفاد کے نام سے جانا جا رہا ہے اور جس قومی مرضی کو خدا کی رضا کے مقام پر بٹھایا جا رہا ہے وہ اور اسلام ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں؟ کیا واقعی کوئی سچا خدا پرست قوم پرست بھی ہو سکتا ہے؟ کیا واقعی کوئی قوم پرست بن کر خدا پرستی کے دعویٰ میں مخلص ثابت ہو سکتا ہے؟ خدائی احکامات کی پابندی کرتے ہوئے جو قومی ہمدردی کی جاسکتی ہے اور قوم پروری کا جو جذبہ رکھا جا سکتا ہے کیا اسی کا نام قوم پرستی ہے؟   (جاری)

(قسط دوم)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *