تشدد کی وجہ مذہب یا بے اصول نظام زندگی!

پشاورکے خوفناک قاتلانہ حملہ کے بعد پردہ کے پیچھے سے ڈور ہلانے والوں نے اپنے دوسرے محاذوں کو پوری طرح حملہ آور کر کے نفس مذ ہب اور مذہب اسلام دونوں کی تشبیہ مسخ کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ حملہ اتنا ہمہ گیر ہے کہ بڑے بڑے علماء و فضلاء کی عقلیں گم اور حواس پراگندہ ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا میں تو مذہب کو لے کر ہی وبال اٹھا ہواہے کہ مذہب ہی دنیا میں تمام فتنہ وفساد کی جڑہے۔ امت مسلمہ کے دانشوروں کے خریدے ہوئے ضمیر اور قلم اپنے آقائوں کے ادا کی گئی قیمت کا خراج ادا کررہے ہیں اور آئیندہ کی امیدوں پر نہایت لغو اور غیر علمی و غیر حقیقی بیانات جاری کرارہے ہیں۔ پروفیسر اخترالواسع صاحب نے فرمایا ’’اسلام علوم عرفان کا مذہب ہے سیاست اور تشدد کا نہیں‘‘۔ مسلمانوں کو آج صوفیا کی روش کو اپنانے اور پھیلانے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ صوفی مذہب ذات ،علاقہ اور فرقہ کی بنیاد پر انسانوں کے ساتھ بھید بھائو نہیں کرتا۔
ایک اور بڑے دانشورمسلم آبزرور،امریکہ ایڈیٹر وامریکہ کی مسلم الیکٹوریٹ کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسلم عبداللہ علی گڑھ میں شعبہ دینیات کے زیر اہتمام منعقدہ سمپوزیم بعنوان’’ مذہبوں کے بیچ یکسانیت‘‘ میں یوں گوہر افشاں ہوئے’’ دنیا بھر میں جدید تاریخ میں تین ملین سے زائد لوگ مذہب کے نام پر قتل ہوچکے ہیں جسکی ذمہ داری مذہبی رہنمائوں پر عائد ہوتی ہے(صحافت دہلی 24/12/2014)
کیرالہ سے ایک اور غالباً مارکسی مسلم دانشور فرماتے ہیں ’’مذاہب کی تاریخ سوائے جہاد کروسیڈ ،قتل اور فرقہ وارانہ تشدد کے اور کیا ہے؟ اخلاقی اور سماجی اقدار جو مذہب کی طرف منسوب کی جاتی ہیں وہ تو انسانی سماج نے اپنے آپ کو باقی رکھنے کے لئے خود وضع کرلی ہے۔ پشاور مذہبی نشوء نماء و تربیت کا نتیجہ ہے۔ مذہب لوگوں میں خوف پیدا کرتاہے یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ خوبصورت دنیا برتنے کی جگہ نہیں بلکہ یہ تو دوسری دنیا کے لئے داخلہ امتحان ہے۔ اور یہ ذہنی دہشت گردی کے تاجر ہی نہیں بناتے بلکہ ہر مذہبی ادارہ یہی ذہن بناتاہے چاہے وہ معتدل ہو یا انتہا پسند(رفیق احمد انڈین ایکسپریس 12/12/2014)
مذہب کا دہشت گردی سے لینا دینا ہے ہمیں اب یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ مذہب دہشت گردی کا سبب ہے۔ ہم بار بار یہ سنتے ہیں کہ اسلام معصوموں کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک معصوم کا قتل اسلام کے نزدیک پوری انسانیت کا قتل ہے۔ ایسا کرنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے کیا یہ اس حقیقت سے ہاتھ دھونے کا آسان راستہ نہیں ہے کہ یہ قاتل ایک خاص مذہب کے ماننے والے ہیں۔ (جیوتی پنوانی انڈین ایکسپریس23/12/2014) نئی دہلی
اسلام کے خلاف جاری پروپیگنڈہ مہم میں غیر جانبداری دکھانے کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلافات کو ان کے حدود میں رکھا جائے۔ مگر مسئلہ اور دشمنان اسلام کی چالبازی یہ ہے کہ وہ اسی محاذ پر ہمیشہ سے سر گرم اور کامیاب رہا ہے۔جب سنگھی دانشور اور چانکیہ سبرامنیم سوامی نے کہا کہ ہمیں الیکشن جیتنے کے لئے مسلمانوں کو توڑنا ہوگااور ہندئوں کو جوڑنا ہوگا توان سے بہت پہلے سے تاریخ کے ہر دور میں مسلم امت اس محاذ پر سب سے کمزور اور ناکام ثابت ہوئی۔ حال ہی میں امت مسلمہ کے انتشار کو ایجنڈہ بناکر امریکی اینڈ کارپوریشن کا آپریشن جاری ہے، اس پلان کا اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ’’ مسلم امت کو فکری لحاظ سے روایتی ،صوفی ،سیاسی ،جہادی ،سیکولرترقی پسند کے خانوں میں بانٹ کر ہر ایک کو دوسرے سے لڑایا جائے اور سیکولر لبرل طبقہ کو دنیا بھرمیں منظم کرکے ان کی مالی اور افرادی ہر طرح کی مدد کرکے انہیں سیاسی اسلام(بمعنیٰ اسلام ضابطہ حیات) کے علمبرداروں سے لڑایا جائے۔ اوراس کے لئے پوری دنیا میں مربوط مہم خفیہ واعلانیہ چلائی جا رہی ہے ۔ہندی ، اردو و انگریزی میڈیا میں آپ دن رات تجزیہ اور مضامین دیکھیں صوفی اسلام ،سیاسی اسلام،وہابی،سلفی،سعودی اسلام ، جہادی اسلام، اور شاہ ولی اللہ اسلام وغیرہ کی تکرار آپ پائینگے ۔یہ سب کیا اچانک ہو رہا ہے؟ کیا اس امت میں اس سے پہلے یہ سب اختلافات نہیں تھے؟ اگر تھے تو تب یہ اتنا منظم کشمکش نہیں تھی اب کون اور کیوں پیدا کررہا ہے؟ کیا اس پر خاطر خواہ غور کئے بغیر ہمارے دانشوروں کو بیان بازی کرنی چاہئے؟ دوسروں کی کرتوتوں کی صفائی امت مسلمہ کو کیوں دینی ضروری ہے؟ کیا یہ کھلا ہو راز نہیں ہے کہ طالبان کو مرحومہ بے نظیر بھٹو کے ہوم منسٹر نصیراللہ بابر ،isi، اور امریکہ نے مل کر راتوں رات کھڑا کیا تھاکہ وہ سیاسی اسلام والوں یعنی حزب اسلامی گلبدین حکمت یار کو اقتدار حاصل کرنے سے روک سکیں ۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ حماس کو خود اسرائلی ہمدردی میں کھڑا کیاگیا کہ وہ فتح اور یاسر عرفات کے بدلے سودے بازی کے لئے استعمال کیا جاسکے؟یہ اور بات ہے کہ حماس ہی اب ان کے لئے بڑی مصیبت بن گئی ہے۔ آج بھی ترکی میں اسلام پسندوں کے مقابلے سیکولر اور مغرب پرست فتح اللہ گولن جیسوں کو کیوں پالاجارہاہے؟مصر میں جمہوری طریقہ سے منتخب اخوانی حکومت کو فوجی بوٹو ںسے کچلوایاگیا۔ نماز باجماعت اداکرتے بوڑھے ، بچے اور عورتوں پر گولیاں چلواکر کم سے کم ڈیڑھ ہزار لوگوں کو شہید کردیا گیا۔ اس پر عالمی میڈیا میں ہمدردی کا وہ سیلاب نہیں دیکھنے کو ملاجو پشاور سانحہ میں دیکھنے میں ملا۔ اس کا مطلب خونریزی بری نہیں ہے برا یہ دیکھ کر طے ہوتا ہے کہ کون خونریزی کررہاہے۔ میانمار میں ہزاروں مسلمان بدھ راہبوں کے ہاتھوں شہید ہوئے مکان و کھیت کھلیان جلائے گئے ہزاروں بے گھر رفیوجی ہوگئے مگر کیا ہندی و انگریزی میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے اس کو نمایاں طریقہ پر شائع کیا؟ آسام میں ہندو بوڈ و لینڈ کے حامیوں نے سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کیا، گائوں کے گائوں جلادئیے، ہزاروں لوگ مہاجر بنادئے گئے مگر کسی سے بھی بدھ مذہب کو طعنہ نہیں دیا ۔ ہمارے ملک سمیت تمام ملکوں کے سربراہ الٹا اس حکومت سے خصوصی تعلقات بنانے میں جٹے ہوئے ہیں ۔ کیوں؟ اس لئے کہ میانمار کے ذریعہ چین کو کنٹرول کرنے کے راستہ پر رسائی کرناہے اور میانمار سے پیٹرول لینا ہے۔ شام میں پچھلے تین سالوں کی عوامی جدوجہد کو کچلنے کے لئے ایران ، حزب اللہ وروس اعلانیہ طور پر اور باقی تمام منافق سیکولر طاقتیں درپردہ اسد کی ظالم بعثی علوی حکومت کے قتل عام ،تباہی ،بمباری کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔تین سال میں دو لاکھ سے زیادہ سنی مسلمان بچے اور عورتیں شہید کئے جاچکے ہیں۔ تیس لاکھ لوگ ترکی ، لبنان ، عراق وافریقہ تک میں بے خانماں بربادی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ مگر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بزعم خود دنیا کے امن کے ٹھیکدارنے کہا کہ کیمیاوی اسلحہ کااستعمال ریڈ لائن ہے اگر یہ اسلحہ استعمال ہوا تو ہم کاروائی کرینگے۔ پھر اسلحہ کا استعمال ہوگیاپھر یہ کہاگیا کہ اسکی تصدیق نہیں ہوئی چھ ماہ بعد UNO نے تصدیق کردی تو بجائے 1200شہداء کے قاتلوں اسد اور اسکے حمایتیوں کو سزادینے کے اس کے کیمیاوی ہتھیار تلف کرادئے اور یہ معاہدہ سب کی رضامندی سے ہوا بشمول روس تاکہ یہ ہتھیار اگر کبھی اسرائل کے خلاف استعمال ہوسکتے ہوں تو اس کے بھی امکان ختم کردئے جائیں۔ مگر ظالم پر کاروائی نہیں ہوئی۔ مگر اس سے ٹھیک الٹا جب انہیں سازشی طاقتوں کی پروردہ isis(جسکو ایرانی اثرات کو قابو کرنے کے لئے قائم کیا گیاتھا)نے یزدی مشرکین اور عیسائیوں کو نشانہ بنایاتو دنیا نے دیکھا کہ دس سے زیادہ عرب یوروپی ممالک کی طاقت isis کے خلاف جھونک دی گئی۔ isis اگر انسانیت خلاف جرائم کررہی ہے تو اسد حکومت تو اس سے بڑے پیمانہ پر زیادہ عرصہ سے قتل وخون کا بازار گرم کئے ہوئے ہے اس پر بمباری کیوںنہیں ہوئی؟ اسد کے کیمیائی حملوں میں شاید شیر خوار معصوم بچوں کی تصاویر ویسے شائع نہیں ہوئی جیسے یزیدیوں کی ،عراقی عیسائیوں کی یا پشاور سانحہ کے معصوم متاثر ین کی ہوئی۔ اور نہ سول سوسائٹی کا وہ رد عمل ہوا ۔ یہ رویہ کا تضاد ہی دراصل آج ساری دنیا میں فساد اور قتل و غارتگری کی وجہ ہے۔ ایک ہی جرم کے لئے الگ الگ پیمانہ کیوں؟ اسلامی انتہا پسندی جرم ہے مگر پورے یوروپ میں چل رہی عیسائی انتہا پسندی اور مسلمانوں کے خلاف نسلی جرائم جرم نہیں ہیں؟ خود ہمارے ملک میں تو نفرت پسندوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے کہ وہ جسکے خلاف جتنا چاہیں زہر اگلیں کوئی کاروائی نہیں ہوگی۔ حد تو یہ بابائے قوم کے قاتل کی حمایت کی جارہی ہے مندر بنایا جارہا ہے اور میڈوحکومت خاموش ہیں۔ جبراً مذہب تبدیل کرائے جارہے ہیں راشن کارڈ ،آدھار کارڈ کا لالچ دیا جارہا ہے مگر دنیا بھر سے کوئی احتجاج نہیں ہورہا ہےNDFB کے بوڈو غنڈوں نے پہلے مسلمانوں کے قتل عام کے بعد اب قبائلوں کو قتل و غارتگری کا نشانہ بنایا مگر میڈیا ان کی مذہبی شناخت نہیں بتاتا۔ حکومت بھی نہیں بتاتی کہ ان کی قیادت کے نام کیا ہیںمقاصد کیا ہیں؟وغیرہ وغیرہ
پشاور سانحہ کو اس طرح پیش کرنا کہ یہ گویا عین اسلام کے اصولوں کے مطابق ہواہے اور میانمار و اسرائیل اور شام میں جاری ظلم اور ظالم امریکی فوجوں کے ذریعہ گوانتانامو بے،ابوغریب ،بگرام کے عقو یت خانوں پر 80 لاکھ ڈالر کے ٹھیکہ پر مصر ،شام ،پولینڈ،بلغاریہ سمیت درجنوں ملکوں میںچلائے گئے عقویت خانوں اور تفتیشی مراکز میں جو انسانیت سوز مظالم ہوئے وہ کیوں نہیں ہائی لائٹ ہوئے ۔اس کے لئے عیسائیت یا سیکولرزم یا نیشنلزم کیوںذمہ دار نہیں ہے ؟آج جب وکی لیکس اور خود امریکی کانگریس کی رپورٹ کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوںکے خلاف گھناؤنی اور ظالمانہ خفیہ کاروائیوںکی رپورٹ سامنے آرہی ہے تو طالبان ،بوکو حرام ،ISISکیساتھ ان سازشی طاقتوںکے رول پر بھی بحث ہونی چاہئے جو ان طاقتوں کو پیدا کرتے ، پرورش کرتے اور کا م نکالتے ہیں ۔کانٹے سے کانٹا نکالتے ہیں اور کانٹا اسلام کے دامن میں چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اس کا حساب دیں ۔اخترالواسع صاحب اسلم عبداللہ صاحب نجانے کس اسلام اور مذہب کی بات کر رہے ہیں جس میں سیاست نہیں ہے ۔اگر حضور خاتم النبین ﷺہمارے لئے نمونہ ہیں تو کیا انھوںنے سیاست نہیں کی تھی ؟اور یہ 3ارب لوگ مذہب کے نام پر ہلاک کب ہوئے یہ اعدادو شمار کہاں سے آئے ؟جب سے دنیا بنی تب سے اب تک کے اعدادوشمار ہیں تو یہ اسلم عبداللہ صاحب جیسے لوگ یہ بھی بتادیں کہ قوم ،ملک ،نسل ،رنگ بازار ومنڈیوں کے لئے پچھلے صرف 300سالوں میںکتنے لوگ ہلاک وغلام بنائے گئے ؟اس کی جوابدہی کرنے والے مجرمین اپنی انسانیت کش کرتوتوںکا ملبہ اسلام کے اوپر ڈالکر بگلابھگت بن رہے ہیں ۔آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ انصاف کا عدم حصول ہے ۔آج اصولوں کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔آزادی ،حقوق انسانی ،حقوق نسواں اور رواداری کے بڑے بڑے دعویدار اپنی پالیسیا ں اصولوںکے بجائے منڈی ،بازار اور اسٹریٹیجک Strategicمفادات سے طے کرتے ہیں ۔ایک آدمی پر آج پابندی لگاتے ہیں کل اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو منڈی کی خاطر وہ آپکا سب سے چہیتا ہو جاتا ہے ۔اسرائیل 47سالوں سے لگاتار اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو ٹھینگا دکھا رہا ہے کوئی انصاف نہیں کیا جاتا ۔اسکولوںپر بم باری ہوئی ہسپتالوں پر بم باری ہوئی کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ہاں صدام حسین ،غدافی اور ملا ّعمر پر ایک دم کاروائی ہو جاتی ہے ۔جب تک صدام ،غدافی ،طالبان ان کی ہاںمیں ہاںملاتے رہے ان کو ہر طرح سے مسلح کیا گیا مدد کی گئی مگر جیسے ہی وہ اپنی مرضی سے کام کرنے لگے مجرم بتا کر قابل گردن زدنی ہوئے ۔یہ کیسا انصاف ہے ؟آپ ایل سلواڈورکی خانہ جنگی میںوہاںکے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے کے ماہر کرنل جیمس ایٹلی کو 2003-2006میں عراق لاتے ہیں وہ عراقیوں میں شیعہ سنی ّمشترکہ معاشرہ کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔بم دھماکہ شیعہ سنیّ مساجد اور رہائشی علاقوں میں ہوتے ہیں ۔8-8لوگوںپر مشتمل شیعہ ۔امریکی تفتیشی گروپ بناکر سنیّ مزاحمت کاروںکو اذیت دی جاتی ہے ۔پھر ان کو T.V.پر پیش کیا جاتا ہے ۔پھر یہ تفتیشی گروہ ہی ’’موت کے دستوں‘‘میں بدل گئے اور عراق کے شہروںمیں سڑکوں پر نامعلوم ملنے والی لاشوںکی تعداد 100روزانہ ہو گئی ۔(دی ہندومیںگارجین لندن کی رپورٹ 8.3.2013)
خود ہمارے ملک میں سبرا منیم سوامی کے ایجنڈہ کے تحت مسلمانوںکے خلاف تشدد بھڑکا کر ہندؤںکو متحد کیا گیا ،اور مسلمانوں کو مسلکی بنیادوں پر لڑانے کے لئے نا معلوم طاقتوں نے کئی قسم کے پرسنل لاء بورڈ اور علماء کی مشائخ کی تنظیمیں اور بورڈتشکیل کرادیئے ۔ہر بورڈ اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کے خلاف زہر اگل رہا ہے ۔کوئی سعودی ،وہابی ،قطری کو گالی دے رہا ہے کوئی بدعتی کو اور کوئی رافضی اور تحریکی کو خارج از اسلام قرار دے رہا ہے ۔23.04.2013کو دہلی کے روزنامہ ہمارا سماج نے خبر شائع کی ’’مسلک کے نام پر بہنے والی ہیں ملک میں خون کی ندیاں۔بھارتی مسلمانوںمیں مسلکی ہم آہنگی کو سبو تاز کرنے کے لئے صیہونی طاقتیں ،بھگوا تنظیم اور ایمان فروش علماء نے دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹل میں کئی راؤنڈ میٹنگ کی ہے ۔اور مسلکی نفرت پھیلانے کا کام شروع کر دیا ہے ۔‘‘

اب یہ فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ یہ کٹھ پتلیاںبڑے مجرم ہیں یا ان کو نچانے والے امن و آزادی کے منافق شیطان صفت ٹھیکیدار زیادہ بڑے مجرم ہیں ۔جو خود کئی کئی واسطوںسے ان ایمان فروشوں کو اکٹھا کر کے ان کو ٹارگٹ بناتے ہیں اور پھر شروع ہو جا تا ہے میڈیا کا محاذ ،اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ ۔یہ زہریلا پرو پیگنڈہ ان طاقتوں کے خلاف شروع نہیں ہوتا جب امریکہ میں کیمپس فائرنگ میں بے گناہ طلباء مارے جاتے ہیں ۔جب ناروے میں عیسائی دہشت گرد جو ہندودہشت گردوں سے بھی متائثر تھا اندھا دھند فائرنگ کر کے متعدد حکمراںپارٹی کے نوجوان ورکرزکو مار دیتا ہے ۔جب میانمار میں ،آسام میں ،مظفر نگر میں بے گناہوں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا جاتا ہے جب یوروپ میں مسلم خواتین کے نقاب نوچے جاتے ہیں ۔جرمنی میںمسلم خاتون کو کورٹ کے اندر صرف نقاب پہننے پر چھرے کے 17وار کر کے شہید کر دیا جاتا ہے اور اس کا معصوم بچہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔انصاف کا معیار کیا ہے یہ اسی بات سے واضح ہے کہ جنرل مشرف پر حملہ کے ملزموں کو سب سے پہلے پھانسی دی گئی کیا اس سے پہلے پاکستان میں مسجدوں ،مزاروں ،بارگاہوںپرحملے نہیں ہوئے تھے ان کے مجرموں کو پھانسی پہلے دی جانی چاہئے تھی عوام اور ملٹری کے خون کی قیمت الگ الگ لگانا کیسا انصاف ہے ؟ایسے حالات میں علماء کرام ،عوام اور دانشوروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جب کہ دشمن قتل بھی کرے وہی ثواب لے الٹا کی شاطرانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ملت کو مومنانہ فراست اور حکمت سے کا م لے کر دوست اور دشمن کی تمیز پیدا کرنی ہوگی ۔تاکہ امت مسلمہ اللہ کی زمین پر عدل ،انصاف اور امن و ترقی کے حوالہ سے اپنا کردار ادا کرے ۔حالانکہ شیطانی طاقتیں امن کے اسی تعمیری کردار کو داغدار اور ناکام کرنے کے لئے خفیہ اور اعلانیہ کوشش کر رہے ہیں مگر وے انشاء اللہ اللہ کی مرضی پر غالب نہیں آپائینگیں اور اللہ بندوں کے لئے بھلائی ہی چاہتا ہے ۔

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *