دہشت گردی۔ بنام۔ دہشت گردی

دہشت گردی ، غنڈہ گردی ، آوارہ گردی اور کوچہ گردی جیسے الفاظ ہمیشہ ہی ناپسندیدہ مفہو م کے حامل رہے ہیں۔ اس لئے کوئی بھی سلیم العقل اور شریف آدمی ان الفاظ کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا مگر جب کوئی لفظ لغت کے دائرے سے باہر نکل کر محاورہ و اصطلاح کے طور پر استعمال ہونے لگتا ہے تو اس کا ایک خاص مفہوم لیا جانے لگتا ہے۔ یہی حال ’’دہشت گردی ‘‘ کا بھی ہے۔ مغرب کے شاطر سیاست دانوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں لفظ ’’دہشت گردی‘‘ کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا اور کثرت استعمال سے اس کے ایک خاص معنیٰ لئے جانے لگے۔ حتیٰ کہ اس لفظ کو جہاد کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ لفظ جہاد ایک مقدس فریضہ کے مفہوم میں بولا اور سمجھا جاتا رہا ہے۔ اصلاً تو یہ ایک دینی (قرآنی) اصطلاح ہے مگر اس کے اصل مفہوم کی پسندیدگی کا عالم یہ ہے کہ اجتماعی جدو جہد کی اہمیت اور پاکیزگی ثابت کرنے کے لئے اس کا استعمال عام ہو گیا۔ اس گئے گزرے دور میں جب کہ مغربی زبانوں خاص طور پر انگریزی اور فرانسیسی کا رواج زیادہ ہوتا جارہا ہے ۔ ہندی اخبارات بھی ’’جہادی پیمانے پر فلاں کام انجام دیا جا رہا ہے‘‘ جیسے جملے استعمال کرتے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کو بھی مجاہد آزادی کے القاب سے نوازا گیا۔لغت کے اعتبار سے بھی جہاد کے معنیٰ میں کوئی ایسی خامی نہیں پائی جاتی جسے منفی مفہوم کے طور پر لیا جا سکے ۔ حد یہ ہے کہ روس کے خلاف لڑنے والے افغانوں کے لئے ’’مجاہدین‘‘کا لفظ نہ صرف استعمال کیا جاتا رہا بلکہ امریکی اور یوروپی ذرائع ابلاغ نے بطور ’’مجاہدین ‘‘ان کا تعارف پوری دنیا سے کرایا ۔آج انہیں کو قذاق ، منشیات کے خفیہ تاجر (Drugs Smuggler)اور دہشت گرد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ چونکہ کل ان کی لڑائی امریکہ اور اس کے کسی حریف سے نہ ہوکر آنجہانی روس کی سوشلسٹ یونین (U.S.S.R)سے تھی۔
اب عام طور پر ہر حکومت مخالف عسکری تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کو کچلنے کا جواز حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سعودی عرب ،عراق، شام، پاکستان جہاں بھی دیکھیں یہی حال ہے۔ مصر میں سارے جمہوری معیارات پورا اترتے ہوئے اخوان المسلمین سے واضح اکثریت حاصل کی مگر ایک بے ضمیر فوجی کی ڈکٹیٹر کو پورے ملک پر مسلط کر دیا گیا اور اخوان کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے ہر جھوٹ اور ہر ظلم جائز ٹھہرا دیا گیا۔ سعودی عرب کے بادشاہ سلامت اپنے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ہی دہشت گرد نہیں کہا بلکہ اخوان کو بھی عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دے دیا۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے خلاف وہاں کی ’’جمہوری ‘‘حکمراں نے اپنے آقاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے 90 سال کے اسلام قائد پروفیسر غلام اعظم کو 90سال قید کی سزا سنائی۔اور ایک دوسرے رہنما ملا عبد القادر کو سزائے موت دے ڈالی۔ ہندوستان بھی دہشت گردی کی جنگ میں کسی سے پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ بس اتنا غنیمت ہے کہ وہ پاکستانی دہشت گردوں کے علاوہ دوسرے جنگجوؤں کو دہشت گرد نہ کہہ کر نیکسلائٹ اور انتہا پسند وغیرہ کہتا ہے۔
دہشت گردی تشہیری جنگ (Propaganda War)کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر حد درجہ پسندیدہ اور مؤثر ہونے کے باوجود ابھی تک اپنے کسی واضح مفہوم کی محتاج ہے۔ اگر اس کی کوئی حقیقت ہے تو لازماً اس کی تعریف بھی ضروری ہے۔ ورنہ ہر طرح کی دہشت گردی کسی دوسری دہشت گردی کا جواز پیدا کرتی رہے گی۔ ہماری رائے میں دہشت گردی کی ہر صورت مسترد کرنے کے قابل ہے۔ اگر مجرموں اور ڈاکوؤں کی دہشت گردی غلط ہے تو سیاسی پارٹیوں کی دہشت گردی بھی غلط ہے۔ مگر اسی کے ساتھ کسی حکومت و پولیس کی دہشت گردی کو بھی جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور کسی مسلہ گروہ کی طرف سے بے قصوروں کو نشانہ بنانا دہشت گردی ہے مگر اس کو ختم کرنے کے لئے بلا ثبوت اور داد رسی کا موقع دئیے بغیر حکومت کا کسی کو پھانسی پر چڑھا دینا یا قید بند کے حوالے کر دینا بھی ایک قابل نفرت دہشت گردانہ فعل ہی ہے۔
گذشتہ دنوں فرانس میں ایک ایسے اخبار کے دفتر پر حملہ ہوا جو توہین رسالت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی حیوان نما انسانیت میں یہ بھی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اپنے جرم و خطا کا اعتراف اور احساس کر سکے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ مسلسل عظیم ترین پیغمبر (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخیوں کو آزادی اظہارِ رائے کے نام پر مشغلہ بنائے ہوئے ہے ۔ اگر یہ آزادی ہے تو آوارگی رہانت اور دل آزاری کس چیز کا نام ہے؟ اگر اس کو آزادی کا نام دیا جا سکتا ہے تو کس دلیل سے حملہ آوروں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟ پوپ فرانسسکو نے بڑی ہمت دکھائی اور صاف صاف کہہ دیا کہ اگر یہ ذلیل حرکت ہوتی رہے گی تو ان حملوں کو بھی روکا نہیں جا سکے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ دل آزاری اور پیغمبر کی شان میں گستاخی کے رد عمل میں ان ’’دہشت گردانہ‘‘ حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سچ یہ ہے کہ اگر طاقت کے زعم میں ایک طرح کی دہشت گردی کی تائید کی جائے گی تو لازماً کسی جوابی دہشت گردی کا موقع بھی فراہم ہوتا رہے گا۔ اگر کسی جرم کی تائید میں دلیل کے بجائے ڈنڈے کو دلیل بنایا جائے گا تو یقینا کو ئی دوسرا بھی اسی دلیل کو استعمال کرے گا۔ کیونکہ جرم جرم ہے کالا کرے یا گورا ، مشرقی کرے یا مغربی ۔
حال میں کئی مثالیں پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ 9/11میں امریکن ٹاور گرانے کا ذمہ دار کون ہے؟ ابھی تک یہ ثابت نہیں کیا جا سکا۔ کوئی کہتا ہے کہ یہودیوں کی سازش سے یہ کام انجام پایا۔ کسی کا خیال ہے کہ جاپانیوں نے ہیروشما ناگاسا کی پر ایٹم بم گرانے کا انتقام لیا ہے۔ کوئی اسامہ بن لادن کو خطا کار گردانتا ہے۔حقیقت جو بھی ہو انصاف کے تقاضوں کی تکمیل کے بغیر کسی بھی دعوے کو تسلیم کرنا انسانی ضمیر کے لئے قابل قبول نہیں۔ مگر امریکہ اور اس کے حریفوں نے ایک طرفہ کارروائی کے لئے افغانستان کو منتخب کیا اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے الزام میں پورے افغانستان کو تاراج کرنے کے لئے لاکھوں بے قصوروں کے خلاف سنگین اقدامات کر ڈالے۔ کون جواب دے گا کہ کسی ایک شخص یا تنظیم کو بلا ثبوت مجرم قرار دے کر ایک قوم اور ملک پر یلغار کا کیا جواز ہے۔ دوسری مثال عراق کی ہے جس پر کیمیائی ہتھیاروں کی ذخیرہ اندوزی کا الزام عائد کیا گیا ،اس الزام کی اصل حقیقت کیا تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اعلانیہ اقرار کیا کہ اس کی اطلاعات جھوٹ اور بے بنیاد تھیں۔اس کے باوجود عراق کے ذرائع و وسائل اور بے قصور عوام کو ایک ایسے الزام کی آڑ میں برباد کر دیا گیاجو خلاف واقعہ تھا ۔ تیسری مثال مصر کی ہے جہاں سارے جمہوری اور عوامی تقاضوں کی تکمیل کے بعد اخوان بر سرِ اقتدار آئے۔ بین الاقوامی مشاہدین نے بھی تسلیم کیا کہ صدر مرسی کی حکومت آزادانہ اور منصفانہ (Free & Fair)انتخابی عمل کے ذریعہ وجود میں آئی ۔ ایک سال تک اس سچ کو تسلیم کرنے کے بعد جب اخوانی صدر نے عالمی استعمار کے پھندے میں پھنسنے پر آمادگی نہیں دکھائی تو اچانک انہیں دہشت گردی کا مرتکب ٹھہرا دیا گیا اور ایک منتخب صدر کو مصر کے تخت اقتدار سے محروم کرکے ہزاروں ساتھیوں سمیت دار و رسن کا سزاوار قرار دے دیا گیا۔ اور اس کی جگہ ایک بد باطن فوجی ڈکٹیٹر کو مصر کا مختار کل بنا دیا گیا۔ اگر امن عالم کے خود ساختہ ٹھیکے داروں اور جمہوریت کے علمبرداروں کے یہ بے بنیاد الزامات جائز اور درست سمجھے جا سکتے ہیں تو ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو کس دلیل سے روکا جا سکتا ہے؟ اگر مغرب کے حکمراں اپنے کالے کارناموں پر نادم ہونے کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں تو بے قصور شہریوں کو تختۂ مشق بنانے والوں کے خلاف کون سی دلیل کارگر ہو سکتی ہے؟ اور اگر طاقت ہی دلیل ہے تو پھر کسی دلیل کی ضرورت کیا رہ جاتی ہے؟
آج مغربی استعمار کے مقابلہ میں کسی قوم کے پاس قوت مزاحمت نظر نہیں آتی۔ بیشتر حکمراں اسی توقع پر جی رہے ہیں اور اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ New World Orderکے سایہ ٔ عاطفت میں اپنا وجود برقرار رکھیں اور نام نہاد آزادیوں کے بدلے اپنا وقار ،اپنی قومی غیرت ،اپنے ملکی وسائل اور جائز مفادات ،سب کچھ بطور نذرانہ استعمال کے دربار عالی وقار کی خدمت میں پیش کرتے رہیں۔ جدید فرعونیت ،قارونیت اور ہامانیت کے مرکب خاص کی راہ میں اگر کوئی مزاحم قوت ہے تو اسلام اور اس پر یقین رکھنے والے ہی ہیں۔ اس لئے سارا زور اس پر دیا جا رہا ہے کہ کسی طرح ان کو راستہ سے ہٹا دیا جائے ۔ مسلم دنیا کو باہم لڑاکر ،مسلم حکومتوں کے سیاسی عدم استحکام، معاشی استحصال اور معاشرہ کو انتشار میں مبتلا کر کے ہمیشہ کے لئے ہر طرح ناکام بنا دیا جائے۔ صیہونی اور صلیبی اتحادی اور ان کے دوسرے حلیف اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ مسلمانوں کی قوت کا سرچشمہ ان کی تعداد ، ان کا جغرافیائی محل وقوع ، اور ان کے قدرتی وسائل اور ذخائر نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ثانوی درجہ میں ہے۔ ان کی اصل قوت ان کے ایمان اتحاد ، ان کے جذبۂ صبر و جہاد اور داعیانہ کردار میں ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انہیں زیر نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لئے مسلمانوں کے عقیدۂ توحید اور جذبۂ اخوت ،قرآن سے وابستگی اور رسول خاتم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کے رشتہ کو ختم کرنے پر پورا زور صرف کیا جا رہا ہے۔ ان کی نظر میں ہر راسخ الایمان شخص اور جماعت دہشت گرد یا دہشت گردوں کی مددگار ہے ۔وہ کالے ہوں یا گورے ،مشرقی ہو یا مغربی، عربی ہوں یا عجمی-

جو
؎ آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثلِ بلال حبشی ؓ رکھتے ہیں
والسلام

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *