رسول اکرم ﷺ کی عالمی نبوت

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کی تمام ضروریات اور ہدایت کا پورا انتظام کیا اسے مقصد زندگی سے آگاہ کیا ۔ کامیابی اور ناکامی کی راہ بتائی ۔ اس کے لئے اُس نے اپنی کتابیں اور نبی اور رسول بھیجے جنہوں نے ہر عہد اور ہر علاقے میں اِلٰہی تعلیمات کو عام کیا اور اُن کے مطابق خود عمل کرکے دکھایا اور لوگوں کے لئے بہترین عملی نمونہ پیش کیا۔
انسان اپنے بارے میں خواہ سب سے زیادہ جانتا ہو مگر اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ اُس کا خالق اُس کے بارے میں اُس سے کہیں زیادہ جانتا ہے اس لئے انسان کی فلاح وخسران اور لائف اسٹائل کے بارے میں اُس کے خالق کا بتایا ہوا طریقہ ہی زیادہ، صحیح، بہتر اور سود مند ہو سکتا ہے کسی اور کا نہیں۔
ہدایت انسانی کا الٰہی نظام: ہمارے خالق و مالک نے ابتدائے آفرینش سے ہی ہماری ہدایت کا پورا انتظام کیا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ زمین پر حضرت آدم ؑ کے ذریعہ انسانیت کا آغاز ہوتا ہے تو حضرت آدم ؑ ایک انسان ہی نہیں بلکہ اللہ کے پیغمبر بھی تھے ، جن کے ذریعہ ایک طرف نسل انسانی کے سلسلے کو آگے بڑھانا تھا تو دوسری طرف اس کی ہدایت و رہنمائی بھی کرنا تھا۔ اس لئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انسان اپنی ابتدا سے ہی انسان کی اولاد ہے نہ کہ بندر کی کوئی ترقی یافتہ شکل جیسا کہ ڈارون اور اُس کے ہمنواؤں کا خیال ہے۔ اسی طرح انسان نے اپنی زندگی کا آغاز ہدایت ربانی (توحید) کی روشنی میں کیا ہے نہ کہ شرک کی تاریکی سے جیسا کہ ناواقف لوگ سمجھتے ہیں ۔ بعد ازاں اللہ نے ہر دور میں اور ہر علاقے اور ہر قوم میں انسانوں کی ہدایت کے لئے اپنے نبی اور رسول بھیجے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ اور کوئی امت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔ ان کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے یہ سب اللہ کے برگزیدہ بندے تھے جنہوں نے اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے اور انہیں راہ راست کی طرف بلانے کا کام کیا۔ مگر پیغمبر کے دنیا سے وفات پا جانے کے بعد مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ لوگ ان کی تعلیمات سے دور ہوتے چلے جاتے تو پھر دوسرے نبی کا ظہور ہوتا۔ اس طرح یہ سلسلہ پیغمبر آخر الزماں ؐ تک پہنچا۔
انبیائے سابقین کی دعوت : تمام انبیاء کی دعوت کی بنیادی نکات توحید، رسالت، آخرت ہی تھے اِن میں حسب ضرورت کچھ فرق و امتیاز بھی رہا ہے۔ البتہ انبیائے سابقین کی دعوت کے مخاطب ان کی قوم ہی رہی ہے جب کہ نبی آخر الزماں ؐکے مخاطب ساری دنیا کے لوگ قیامت کے لئے ہیں۔ ’’اِس سلسلے میں دو باتیں سمجھ لینی چاہئیں تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔ اوّل یہ کہ ایک نبی کی تبلیغ جہاں جہاں تک پہنچ سکتی ہو وہاں کے لئے وہی نبی کافی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر ہر بستی اور ہر ہر قوم میں الگ الگ ہی انبیاء بھیجے جائیں۔ دوم یہ کہ ایک نبی کی دعوت و ہدایت کے آثار،اُس کی رہنمائی کے نقوشِ قدم جب تک محفوظ رہیں اُس وقت تک کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لازم نہیں ہے کہ ہر نسل اور ہر پشت کے لئے الگ نبی بھیجا جائے۔‘‘
پیغمبر آخر الزماں ؐ کی نبوت :۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ’’سراج منیر‘‘(روشن چراغ) بنایا تھا، چنانچہ بطن آمنہ سے جو نور پھوٹا اس نے اکناف عالم کو روشن کر دیا ۔اللہ نے آپ کا ذکر ایسا بلند کیا کہ یہ سلسلہ آج تک بڑھتا ہی جا رہا ہے اور انشا ء اللہ قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ بقول مولانا مناظر احسن گیلانی: ’’عرب کا وسیع صحرا اس کے لئے تنگ ہے، وہ بڑھنا چاہتا ہے، طوفان کی طرح بڑھنا چاہتا ہے، آندھی کی طرح بڑھنا چاہتا ہے اور دیکھو وہ بڑھ گیا، ساری دنیا پر پھیل گیا اور اب تک اسی آب و تاب ، جاہ و جلال کے ساتھ، ساری کائنات کے افق پر اُسی طرح چمک رہا ہے، جس طرح وہ اس وقت چمک رہا تھا جب وہ عرب سے نکلا تھا۔ یقین و قطعیت کی تیز اور ٹھنڈی روشنی میں اُس کو آج والے بھی اسی طرح پا رہے ہیں جس طرح کل والوں نے اُس کو دیکھا تھا، جس وقت وہ اُن کو، ان کی ایک بڑی جماعت کو اپنی زندگی کے عمیق سے عمیق، باریک سے باریک پہلوؤں کا کھلے بندوں علانیہ تجربہ کرا رہا تھا‘‘۔
آپ کی نبوت صرف عرب کے لئے نہیں، کسی خاص عہد و مقام اور قوم کے لئے نہیں، بلکہ سارے جہان کے لئے اور قیامت تک کے آنے والے سارے انسانوں کے لئے ہے۔ انسانوں ہی نہیں جنوں کے لئے بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک کی متعدد آیات اور احادیث مبارکہ سے اِس کی وضاحت اور توثیق ہوتی ہے۔
عالمی نبوت کا ثبوت قرآنی آیا ت سے: آپ کا ذکر چہار دانگ عالم میں بلند کیا گیا ہے۔ بلند کرنے والا اپنے اس نور کی روشنی کو پوری کرکے رہے گا۔ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناگوار گزرے۔
وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا وَّلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوْنَ ۔ اور (اے نبیؐ )ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لئے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔ ’’یعنی تم میں صرف اسی شہر یا اسی ملک یا اسی زمانے کے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے اور ہمیشہ کے لئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہو۔ مگر یہ تمہارے ہم عصر اہل وطن تمہاری قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے اور اُن کا احساس نہیں ہے کہ کیسی عظیم ہستی کی بعثت سے ان کو نوازا گیا ہے۔‘‘
نیز فرمایا وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ۔ اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔ بقول علامہ شبیر احمد عثمانی ’’وَمَنْ بَلَغَ‘‘ نے بتلادیا کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت تمام جن وا نس اور مشرق و مغرب کے لئے ہے‘‘۔
حضرت ربیع بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اب جس کے پاس بھی یہ قرآن پہنچ جائے اگر وہ سچا متبع رسول ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی لوگوں کو اللہ کی طرف اُسی طرح بلائے جس طرح رسول ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی اور اُسی طرح ڈرائے جس طرح آپ ؐ نے لوگوں کو ڈرایا (ابن کثیر)۔
سورہ اعراف میں فرمایا ۔ قُلْ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا۔اے نبی کہہ دو کہ اے انسانو! میں تو سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ یعنی آپ کی بعثت تمام لوگوں کو عام ہے۔ عرب کے امیین یا یہود و نصاریٰ تک محدود نہیں۔ جس طرح خدا وند تعالیٰ شہنشاہ مطلق ہے آپ ﷺ اس کے رسول مطلق ہیں۔ اب ہدایت و کامیابی کی صورت بجز اس کے کچھ نہیں کہ اس جامع ترین عالم گیر صداقت کی پیروی کی جائے جو آپ ؐ لے کر آئے ہیں۔ یہی پیغمبر ہیں جن پر ایمان لانا تمام انبیاء و مرسلین اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لانے کا مرادف ہے۔
ایک اور جگہ ارشاد ربانی ہے۔ وَمَا اَرْسَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ ۔ اور اے نبی ؐ ہم نے تو تم کو تمام دنیا والوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ کفار مکہ حضور ؐ کی بعثت کو اپنے لئے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس پر فرمایا کہ نادانو! تم جسے زحمت سمجھ رہے ہو یہ در حقیقت تمہارے لئے خدا کی رحمت ہے۔
مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں کہ ’’ یعنی آپ تو سارے جہان کے لئے رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں۔ اگر کوئی بد بخت اس رحمت عامہ سے خود ہی منتفع نہ ہو تو یہ اس کا قصور ہے۔ آفتاب عالم تاب سے روشنی اور گرمی کا فیض ہر طرف پہنچاتا ہے ، لیکن کوئی شخص اپنے اوپر تمام دروازے اور سوراخ بند کر لے تو یہ اس کی دیوانگی ہوگی، آفتاب کے عموم فیض میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا، اور یہاں تو رحمۃ اللعلمین کا حلقہ فیض اس قدر وسیع ہے کہ جو محروم القسمت مستفیذ ہونا نہ چاہے اس کو بھی کسی نہ کسی درجہ میں بے اختیار رحمت کا حصہ پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ دنیا میں علوم نبوت اور تہذیب انسانیت کے اصول کی عام اشاعت سے ہر مسلم و کافر اپنے اپنے مذاق کے موافق فائدہ اٹھاتا ہے۔‘‘
ایک اور مفسر نے اس آیت کے ضمن میں لکھا ہے کہ ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپؐ کی رسالت پر ایمان لائے گا اس نے گویا اِس رحمت کو قبول کر لیا اور انن کی اِس نعمت کا شکر ادا کیا۔ نتیجتاً دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہم کنار ہوگا اور چونکہ آپ ؐ کی رسالت پورے جہان کے لئے ہے اس لئے آپ ؐ پورے جہان کے لئے رحمت بن کر یعنی اپنی تعلیمات کے ذریعہ سے دین و دنیا کی سعادتوں سے ہم کنار کرنے کے لئے آئے ہیں۔‘‘
سورہ الفرقان میں ارشاد ہے۔ تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْرًا۔نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا ہے تاکہ سارے جہان والوں کے لئے خبردار کرنے والا ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی دعوت اور محمد ﷺ کی رسالت کسی ایک ملک کے لئے نہیں، پوری دنیا کے لئے ہے اور اپنے ہی زمانے کے لئے نہیں، آنے والے تمام زمانوں کے لئے ہے۔
بقول مولانا شبیر احمد عثمانی ’’یعنی قرآن کریم سارے جہان کو کفر و عصیان کے انجام بد سے آگاہ کرنے والا ہے چونکہ سورۃ ہٰذا میں مکذبین و معاندین کا ذکر بکثرت ہوا ہے شاید اسی لئے یہاں صفت ’’نذیر‘‘ کو بیان فرمایا ’’بشیر ‘‘ کا ذکر نہیں کیا اور ’’للعالمین‘‘ کے لفظ سے بتلادیا کہ یہ قرآن صرف عرب کے امیوں کے لئے نہیں اترا بلکہ تمام جن و انس کی ہدایت و اصلاح کے واسطے آیا ہے۔‘‘
احادیث مبارکہ سے : یہی مضمون نبی ﷺ نے خود بھی بہت سی احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً بُعِثْتُ اِلَی الْاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِمیں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ نیز فرمایا أمَّا أنَا فَاُرْسِلْتُ اِلَی النَّاسِ کُلِّھِمْ عَامَّۃً وَکَانَ مَنْ قَبْلِیْ اِنَّمَا یُرْسَلُ اِلٰی قَوْمِہٖ میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔ وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً۔ پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔ ایسے ہی فرمایا: بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنَ یَعْنِیْ اَصْبَعَیْنِ۔میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں۔ یہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔ مطلب یہ تھا کہ جس طرح دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی حائل نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے۔ میرے بعد بس قیامت ہی ہے اور قیامت تک میں ہی نبی رہنے والا ہوں۔
ایک حدیث میں آپ ؐ نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ۱۔ مہینے کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے سے میری مدد فرمائی گئی ہے۔ ۲۔ تمام روئے زمین میرے لئے مسجد اور پاک ہے، جہاں بھی نماز کا وقت آجائے میری امت وہاں نماز ادا کر لے۔ ۳۔ مال غنیمت جو میرے لئے حلال کر دیا گیا، مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں تھا۔ ۴۔ مجھے شفاعت کا حق دیا گیا ہے۔ ۵۔ پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا، مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لئے نبی بناکر بھیجا گیا ہے۔
آپ ؐ کی ولادت کے وقت آپ ؐ کی والدہ نے دیکھا کہ ان کے جسم سے ایک نور نکلا جس نے روئے زمین کو روشن کر دیا۔ یہ اشارہ تھا اس بات کا کہ آپ ؐ کا دین پورے عالم کے مشرق و مغرب میں پھیل جائے گا۔
آپ کا ایک نام الحاشر بھی ہے: قریش کے لوگ آپؐ کو ’’مذمم‘‘ (قابل مذمت) کہتے تھے اس کے دفاع میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو محمد ؐ (قابل تعریف)کے نام نامی سے نوازا۔ محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں۔ میں محمد اور احمد ہوں اور میں الماحی (مٹانے والا) ہوں میرے ذریعے اللہ تعالیٰ کفر کو مٹائے گا اور میں الحاشر (جمع کرنے والا) ہوں، یعنی میرے قدموں پر لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور میں العاقب (آخر میں آنے والا) ہوں، یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہاں الحاشر سے صاف ظاہر ہے کہ آپؐ کی نبوت سارے انسانوں کو جامع ہے۔
ایک نکتہ لطیف: ذرا غور کیجئے اللہ رب العالمین ،تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کا رسول، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنَ ، سارے جہان کے لئے رحمت ہے۔ اللہ کی کتاب قرآن، ذِکْرٌ لِّلْعَالَمِیْنَ، سارے جہان کے لئے نصیحت اور ھُدَی لِّنَّاسِ تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہے۔ اور اللہ کا گھر کعبہ :مُبَارَکً وَّ ھُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ، سب کے لئے برکت و ہدایت کا مرکز ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ دین اسلام بہر پہلو کسی ایک خطے یا زمانے یا گروہ تک محدود نہیں بلکہ اس کی حیثیت عالمی اور آفاقی ہے، اس کا پیغام سب کے لئے اور ہر زمانے کے لئے ہے۔
غیروں کی شہادتیں: وَالْفَضْلُ مَاشَہِدَتْ بِہٖ الْاَعْدَائٗ۔ بہت سے غیر مسلم دانشوروں اور عالموں نے آپ ؐ کے فضل و کمال اور نوع انسانی پر پڑنے والے آپؐ کے اثرات سے متعلق اپنے تاثرات کو نظم و نثر میں بڑے والہانہ انداز میں بیان کئے ہیں۔ ان میں سے چند تاثرات ملاحظہ ہوں:
ڈاکٹر آرتھر رقم طراز ہیں: ’’محمد صاحب گہرے سے گہرے معنوں میں ہر زمانہ کے لئے، ہر حیثیت سے، سچے سے سچے، زیادہ سے زیادہ صداقت رکھنے والی روحوں میں سے تھے، وہ صرف عظیم اور برتر آدمی نہ تھے بلکہ بنی نوع انسان میں بڑے سے بڑے یعنی سچے سے سچے آدمی کبھی پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک تھے‘‘۔
کارلائل کی گواہی بھی دیکھئے:’’ وہ زندگی کا ایک جگمگاتا ہوا نور تھا، جسے قدرت نے اپنے سینے سے پھاڑ کر دنیا کو روشن کرنے کے لئے چمکایا تھا۔۔۔ موجودات کا عظیم راز ، ہیبت ناک راز اس کی آنکھوں کے سامنے چمک اٹھا۔۔۔۔ اس کی اپنی روح کو جو خدا کی الہامی قوت اس کے اندر موجود تھی، اس نے اس کو جواب دیا‘‘۔
مذکورہ دانشور نے اپنے ایک لکچر میں پیغام محمدی کے پھیلاؤ اور اثرات و نتائج کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے: عرب قوم کے لئے اسلام اندھیروں سے اجالے کی طرف پیش قدمی کا پیغام تھا، اسی نے اہل عرب کو اصلی زندگی عطا کی۔ یہ غریب چرواہوں کی قوم تھی، جو مدت مدید سے صحراؤں میں آوارہ گردی کر رہی تھی، گم نام تھی جسے کوئی پوچھنے والا اور جس پر کوئی توجہ دینے والا نہ تھا۔ ایک عظیم پیغمبر ان کے پاس ایک ایسا پیغام لے کر آیا جو ان کی فہم سے مطابقت رکھتا تھا۔ اس پر ایمان لانے کے بعد گمنامی کی گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے انسان یک دم دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ یہ چھوٹی قوم دنیا بھر کی بڑی قوم میں ڈھل گئی۔ ایک صدی کے اندر اندر عرب ایک طرف غرناطہ، اور دوسری جانب سواحل ہند تک دستک دینے لگے۔ دنیا پر ان کی شجاعت و ذہانت کی دھاگ بیٹھ گئی۔ عرب سے نکلے والی روشنی نے پورے عالم کو منور کر دیا جو ایک حیات بخش پیغام ، عقیدہ اور عمل کا نام ہے۔ عرب قوم (حضرت) محمد ؐ اور ایک صدی کا عرصہ، کیا یہ آسمان سے نال ہونے والی ایک چنگاری نہ تھی؟ کہ جس نے سیاہ اور مہیب ریت کے ڈھیر پر گر کر اسے دھماکہ خیز بارود بنا دیا اور جو دہلی سے غرناطہ تک کے آسمان کو منور کر گیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ عظیم انسان ہمیشہ ایک برق آسمانی ہوتا ہے جو دنیا بھر کے دیگر انسانوں کو اپنی آمد کا منتظر پاتا ہے، اور وہ انہیں ساتھ ملاکر ایک شعلہ جوالہ بن جاتا ہے۔
حالیؔ مرحوم نے کیا خوب فرمایا ہے:
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی
نئی اک لگن دل میں سب کے لگادی اک آواز میں سوتی بستی جگادی
پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے
کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے
ہماری ذمہ داری: آپ ؐ کے بعد آپ کے پیغام کو دنیا والوں تک پہنچانے کے تعلق سے ہماری ذمہ داری ہے۔ اس سلسلے میں سورۃ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کے حوالے سے مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ : پھر یہ جو فرمایا کہ تمہیں ’’امت وسط‘‘ اس لئے بنایا گیا ہے کہ ’’تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘ ۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ آخرت میں جب پوری نوع انسانی کا اکٹھا حساب لیا جائے گا، اس وقت رسول ہمارے ذمہ دار نمائندے کی حیثیت سے تم پر گواہی دے گا کہ فکر صحیح اور عمل صالح اور نظام عدل کی جو تعلیم ہم نے اسے دی تھی، وہ اس نے تم کو بے کم و کاست پوری کی پوری پہنچا دی اور عملاً اس کے مطابق کام کرے دکھایا۔ اس کے بعد رسول کے قائم مقام ہونے کی حیثیت سے تم کو عام انسانوں پر گواہ کی حیثیت سے اٹھنا ہوگا اور یہ شہادت دینی ہوگی کہ رسول نے جو کچھ تمہیں پہونچایا تھا وہ تم نے انہیں پہونچانے میں، اور جو کچھ رسول نے تمہیں دکھایا تھا وہ تم نے انھیں دکھانے میں اپنی حد تک کوئی کوتاہی نہیں کی۔
اس طرح کسی شخص یا گروہ کا اس دنیا میں خدا کی طرف سے گواہی کے منصب پر مامور ہونا ہی درحقیقت اس کا امامت اور پیشوائی کے مقام پر سرفراز کیا جانا ہے۔ اس میں جہاں فضیلت اور سرفرازی ہے وہیں ذمہ داری کا بہت بڑا بار بھی ہے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ اس امت کے لئے خدا ترسی ، راست روی، عدالت اور حق پرستی کی زندہ شہادت بنے، اسی طرح اس امت کو بھی تمام دنیا کے لئے زندہ شہادت بننا چاہئے۔ پھر اس کے معنیٰ یہ بھی ہیں کہ جس طرح خدا کی ہدایت ہم تک پہونچانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری بڑی سخت تھی، حتیٰ کہ اگر وہ اس میں ذرا سی کوتاہی بھی کرتے تو خدا کے ہاں ماخوذ ہوتے، اسی طرح دنیا کے عام انسانوں تک اس ہدایت کو پہونچانے کی نہایت سخت ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اس میں کوئی کوتاہی کی تو کل بہت بری طرح پکڑے جائیں گے اور یہی امامت کا فخر ہمیں وہاں لے ڈوبے گا۔
ہر ملک کے مسلمان اپنے ملک کے غیر مسلموں کی طرف مبعوث ہیں۔ جیسا کہ مولانا مناظر احسن گیلانی رقم طراز ہیں: یہ امت مجتبیٰ و مبعوثہ ہر قوم میں ہے، پس جو جہاں ہے وہ وہیں مبعوث ہے، اس کی قوم اسی ملک کے باشندے ہیں، مصیبت کی گھڑی وہی تھی جب اپنی قوم کو ہم نے اپنی قومیت سے نکالا اسی کے ساتھ ان کا درد بھی دل سے نکالا، حالانکہ اگر حضرت نوح ؑ کے منکر ان کی قوم تھی، حضرت ہود ؑ کے کافر ان کی قوم تھی، قریش رسول خاتم ﷺ کے لوگ تھے تو کس نے کہا کہ ہندوستان کے ہندو ہندوستان کے مسلمانوں کی قوم نہیں۔ مصریوں کی قوم مصر کے قبط نہیں، یورپ کے عیسائی، یورپ میں رہنے والے ترکوں کی قوم نہیں ہیں، پس جب تک : حتی لاتکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ۔ نہ ہو تھک کر بیٹھنے کے کیا معنیٰ ہو سکتے ہیں۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسم محمد ؐ سے اجالا کر دے
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
(علامہ اقبال ؒ)

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *